
Chapitre 48 sur 56
Wedding Ceremonies: Dowry, Nikah and Chauthi
شادی کی رسمیں: جہیز، نکاح اور چوتھی
(۴۷)
اسی اثنا میں جہیز کا سامان نکالا جاتا ہے۔ اس کی فرد لا کے دولھا والوں کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے، جس میں وہ تمام زیور، جوڑے، ظروف، [illegible] دی جائیں درج ہوتی ہیں۔ تمام چیزوں کا فہرست سے مقابلہ کر لیا جاتا ہے، اور اب دلھن رخصت ہونے کے لیے بالکل تیار ہوتی ہے۔ اس کا لباس کوئی بھاری کامدار جوڑا نہیں ہوتا ہے، بلکہ ایک سوہے یعنی ٹول پر کی تنزیب کا کرتا اور سادہ ریشمی پائجامہ پہنے ہوتی ہے۔ اور اس میں بھی سادگی کا اس قدر لحاظ رہتا ہے کہ گوٹ تک نہیں لگائی جاتی، اور ناڑے کا ازاربند پڑا ہوتا ہے۔
اس کے سنگار اور کپڑے پہنانے کے وقت ڈومنیاں "بابل" یعنی میکا چھوٹنے کا راگ گاتی رہتی ہیں، جو نہایت ہی پرحسرت اور جگر گداز ہوتا ہے۔ ایک عجیب رنج و الم کا سماں بندھ جاتا ہے۔ ہر شخص ملول و حزین ہوتا ہے۔ تمام اعزا، ملنے والے اور خاندان کے دوست احباب مل مل کے اور سوز و گداز کے الفاظ کے ساتھ لڑکی کو رخصت کرتے ہیں۔ وہ خود زار و قطار روتی ہوتی ہے۔ اور فینس ڈیوڑھی میں لگا دی جاتی ہے۔ اس وقت دولھا پھر اندر بلایا جاتا ہے کہ آ کے اپنی دلھن کو لے جائے۔ وہ آتا اور دلھن کو اپنی گود میں اٹھا کے فینس میں بٹھا دیتا ہے۔
رخصت سے پہلے زنانے میں دولھا کو سلام کرائی دی جاتی ہے، اور تمام اعزا و اقارب، دوست احباب بقدر حیثیت دیتے ہیں۔ اسی وقت باہر شربت پلائی ہوتی ہے، جس میں شربت کا کنٹر اور گلاس فقط رسم کے طور پر لایا جاتا ہے، پیتا کوئی نہیں، مگر تمام حاضرین محفل شربت کی تھالی میں حسب حیثیت و توفیق روپیہ ڈالتے ہیں۔ اور اس طرح اندر باہر جو کچھ روپیہ سلام کرائی اور شربت پلائی میں جمع ہوتا ہے دولھا کو دے دیا جاتا ہے۔
اب برات اسی دھوم دھام اور اسی شان و شوکت سے دولھا کے گھر کی طرف واپس روانہ ہوتی ہے۔ واپسی کے اس جلوس میں جو اضافہ ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے تو دلھن کی فینس ہے، جو دولھا کے گھوڑے کے آگے رہتی ہے اور نہایت ہی ممتاز ہوتی ہے۔ پرتکلف چھپکا پڑا ہوتا ہے۔ دونوں جانب کہاریاں چھپکے کو پکڑے ہوئے ساتھ رہتی ہیں۔ اور گرد دولھا کے ملازموں یا مخصوص لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اور دولھا کے بعد پھر اور سب ساتھ والی عورتوں کی فینسیں رہتی ہیں۔
سب سے زیادہ نمایاں چیز اس جلوس میں جہیز کا سامان ہوتا ہے۔ یہ سب سامان سارے جلوس اور باجے والوں کے پیچھے اور دلھن کی فینس کے آگے اس ترتیب سے جاتا ہے کہ تانبے کا ایک ایک برتن ایک ایک چنگیر میں رکھا ہوتا ہے اور ایک مزدور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ چینی اور شیشے کے ظروف کشتیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ … … اس کے بعد صندوق وغیرہ ہوتے ہیں جن میں دلھن کے جوڑے ہوتے ہیں۔ ان کے بعد پلنگ ہوتا ہے، جس میں ریشمی توشک، لحاف، تکیے، چادر، سب سامان تیار موجود ہوتا ہے، اور بچھونا ریشمی ڈوریوں سے پایوں میں بندھا ہوتا ہے، اور ڈوریوں کے دونوں سروں پر خاص وضع کے نقرئی گچھے لٹکتے ہوتے ہیں۔ لڑکی کو معاشرت کا تمام سامان دیا جاتا ہے: آئینہ، کنگھی، سنگھار کی ضروری چیزیں، تیل، عطر۔ اور اگر استطاعت ہو تو چاندی کا پاندان، خاصدان، لوٹا، کٹورا، اور بعض اور چیزیں دی جاتی ہیں۔ بہرحال یہ سب سامان باجوں اور برات کے جلوس اور دولھا کے درمیان میں رہتا ہے۔ اور سب کے پیچھے ڈولیوں پر کھانے کی دیگیں ہوتی ہیں۔ یہ بھوڑے کا کھانا کہلاتا ہے، جس کو عموماً لڑکی والے دولھا کو دیتے ہیں۔
اس شان سے جب برات دولھا کے گھر پہنچتی ہے تو خوشی کے شادیانے بجتے ہیں۔ ڈومنیاں پہلے سے پہنچ کے بنڑے گانا شروع کرتی ہیں، جو خاص شادی کے گیت ہیں۔ اور اس مبارک سلامت کے زور و شور میں دلھن اتاری جاتی ہے۔ بعض خاندانوں میں یہاں بھی اسے دولھا ہی گود میں لے کے اتارتا ہے، اور بعض گھرانوں میں دولھا کی ماں بہنیں آ کے اتارتی ہیں۔ اندر اسے لے جا کے بٹھاتے ہی دولھا سے اس کے دامن پر نماز شکرانہ پڑھائی جاتی ہے۔ دلھن کے پاؤں دھلا کے پانی مکان کے چاروں کونوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ رونمائی ہوتی ہے، جس میں تمام عورتیں اور عزیز مرد جی کھول کھول کے روپیہ یا زیور دیتے ہیں، اور منہ کھول کھول کے اس کی صورت دیکھتے ہیں۔
اس نئے گھر میں یہ پہلی رات دلھن کے لیے نہایت سخت پابندیوں اور شرمیلے پن سے بسر کرنے کی رات ہوتی ہے۔ نہ وہ کسی سے بول سکتی ہے، نہ باتیں کر سکتی ہے، نہ کسی کو آنکھ بھر کے دیکھ سکتی ہے۔ سوا اپنے کی ساتھ والیوں کے اور کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ اور اسی مصیبت سے بچانے کے لیے صبح ہوتے ہی اس کا بھائی یا اور کوئی رشتہ دار چوتھی لینے کو آ پہنچتا ہے، اور جہاں تک بنتا ہے سویرے ہی سوار کرا لے جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی دلھن اگرچہ امتیاز اور شان سے جاتی ہے، مگر جلوس اور باجے کی ضرورت نہیں۔ دولھا بھی دلھن کے ساتھ جاتا ہے، اور اس کے ساتھ سات طرح کی ترکاریاں اور سات قسم کی مٹھائیاں جاتی ہیں۔
دن گزر کے اسی رات کو دلھن کے گھر میں چوتھی کھیلی جاتی ہے۔ دلھن کو وہ بر کا جوڑا اتار کے چڑھاوے کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، جو سب جوڑوں سے زیادہ بھاری کامدار اور نہایت ہی پرتکلف ہوتا ہے۔ یہ جوڑا پہنا کے اس کا خوب بناؤ چناؤ کیا جاتا ہے۔ دولھا کی طرف سے اس کی بہنیں اور رشتہ دار عورتیں بھی آ جاتی ہیں، اور اس مجمع میں دولھا دلھن مٹھائی سے، اور دولھا کی ساتھ والیاں اور دلھن والیاں ترکاری اور پھولوں کی چھڑیوں سے باہم لڑاتی ہیں، یعنی مٹھائی اور ترکاریاں ایک دوسرے کے کھینچ کھینچ کے مارتی، اور چھڑیوں کے ہاتھ رسید کرتی ہیں۔ کبھی دل لگی دل لگی میں لڑائی تیز بھی ہو جاتی ہے، اور بعض عورتیں خفیف سی چوٹ بھی کھا جاتی ہیں۔
چوتھی کے دو چار روز بعد پھر دلھن دولھا کے گھر میں آتی ہے، اور اس کے بعد علی العموم چار چالے ہوا کرتے ہیں۔ چالے کا لفظ چال اور چلنے سے نکلا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دلھن اپنی سسرال سے بلائی جاتی ہے، مگر یہ بلانا خود اس کے میکے میں نہیں بلکہ میکے والیوں میں ہوتا ہے۔ یعنی اس کی خالائیں، پھوپھیاں، ممانیاں ہمت کر کے باری باری اسے اپنے یہاں بلاتی ہیں، جہاں وہ مع دولھا کے جاتی ہے۔ اور اس نئے جوڑے کے رکھ رکھاؤ کے لیے خاص اہتمام اور انتظام کیا جاتا ہے۔ فقط ایک رات دن دولھا دلھن مہمان رہتے ہیں، اور رخصت کرتے وقت انھیں جوڑا، سلام کرائی، اور زیور وغیرہ بقدر ہمت و و استطاعت دیے جاتے ہیں۔
یہ ہے لکھنؤ والوں کی شادی، جس کی بہت سی رسموں کو چھوڑ کر اس کا ایک اجمالی خاکہ ناظرین گلگداز کو دکھا دیا گیا۔ دیہات والوں کی شادی کا طریقہ بجز عقد نکاح کے اور تمام باتوں میں بدلا ہوا ہے۔ وہاں بھی مانجھا ہوتا ہے، مگر دولھا کے لیے مانجھے کا زرد جوڑا اس کی بہنیں اور عزیز عورتیں لاتی ہیں۔ دلھن کے گھر سے دھوم دھام اور جلوس اور باجے کے ساتھ مانجھا نہیں آتا۔ نہ دولھا کے یہاں سے ساچق آتی ہے، اور نہ دلھن کے گھر سے مہندی آتی ہے، بلکہ ساچق اور مہندی کا مقصد برات ہی کے دن ایک اور طریقے سے پورا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ برات جب دلھن کے وہاں پہنچتی ہے تو اس کے مکان سے ذرا فاصلے پر ٹھہر جاتی ہے۔ وہاں سے بجائے ساچق کے، بری کے نام سے دلھن کا جوڑا اور اس کے ساتھ اور بہت سے جوڑے اور سہاگ کی چیزیں جو ضروری سمجھی جاتی ہیں، کچھ شکر، کچھ کھیلیں خوانوں پر لگا کے باجے کے ساتھ دلھن کے دروازے پر بھیجی جاتی ہیں۔ دولھا کے اعزا و احباب ساتھ جاتے ہیں، جو ان سب چیزوں کو دلھن والوں کو علانیہ دکھاتے اور ان کے سپرد کرتے، شربت پینے کے بعد واپس آتے ہیں۔
اس کے تھوڑی دیر بعد اسی طریقے سے دلھن کی طرف سے بری آتی ہے، جس میں دولھا کا جوڑا ہوتا ہے۔ یہ بری دیہاتیوں میں مہندی کی قائم مقام ہے۔ اس کے بعد وہ جوڑا پہن کے، جس میں جامہ، نیمہ، پگڑی، مقنع، سہرا، پھولوں کی بدھیاں اور جوتا وغیرہ ہوتا ہے، روانہ ہوتا ہے۔ اب برات دلھن کے دروازے پر جاتی، اور اس مقام میں ٹھہرتی ہے جو محفل نکاح کے لیے منتخب کیا گیا ہو۔ یہاں رات بھر نغمہ و سرود اور ناچ گانے کی محفل گرم رہتی ہے۔ پچھلے پہر اس وقت کے حسب قاضی صاحب آ کے نکاح پڑھاتے ہیں۔ نکاح کا وہی طریقہ ہے جو شہر والوں میں بیان کیا گیا۔ عقد کے بعد لڑکی والے برات کا کھانا دیتے ہیں۔ شہر میں بجز بھوڑے کے کھانے کے برات کو کھانا دینا لازمی نہیں ہے، بلکہ دولھا خود کھلا پلا کے لے جاتا ہے۔ مگر دیہات میں لڑکی والوں کا اہم ترین فرض برات کو کھلانا ہے، جس میں ذرا بھی کمی رہ جائے تو ان کے خیال میں برادری میں ناک کٹ جاتی ہے۔
یہ کھانا پورا توڑا ہوتا ہے، جس میں پلاؤ، زردہ، قورمہ، خمیری روٹیاں، شیرمال لازم ہیں۔ اور ہر ادنیٰ و اعلیٰ کو بلا استثنا و امتیاز پورا توڑا دیا جاتا ہے۔ کھانا لیتے وقت لڑکے والے نہایت بےحمیتی اور بےشرمی سے چونٹی چونٹی کے لیے کھانا مانگتے ہیں، گھوڑوں اور بیلوں کے لیے دانہ چارہ ضرورت سے بہت زیادہ طلب کرتے ہیں۔ اور لڑکی والوں پر فرض ہے کہ زبان سے "نہیں" نہ نکلے۔ کسی چیز کے دینے سے انکار کیا اور آبرو خاک میں مل گئی، اور سب کیا دھرا برباد ہو گیا۔
اس کے بعد رخصتی اور واپسی کا قریب قریب وہی طریقہ ہے جو شہر والوں میں ہے۔ ہاں ایک رواج یہ بھی ہے کہ دیہات میں برات کے ساتھ عورتیں نہیں جاتیں، اور نہ دلھن کے ساتھ کوئی معزز خاتون آتی ہے۔ دائی اور خادمہ کی حیثیت سے دو ایک ادنیٰ درجے کی عورتیں البتہ چلی آتی ہیں۔ ماسوا اس کے دیہات میں دلھن پر بھی بہت زیادہ سختیاں ہوتی ہیں۔ اس کا فرض ہے کہ چوتھی میں ایک آنے کی گھڑی تک سسرال میں جس طرح رکھ دی جائے رکھی رہے۔ نہ کھائے، نہ پیے، نہ پیشاب پاخانے کو جائے، نہ بولے نہ چالے، نہ چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے، اور نہ آنکھیں کھولے۔ اس لیے کہ یہ سب باتیں بےحیائی و بےشرمی میں داخل ہیں۔ اور اس اندیشے سے کہ دلھن کو سسرال میں جا کے پاخانے پیشاب کی ضرورت نہ پیش آئے، دو دو دن پہلے سے اس کا کھانا پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ اور زیادہ مصیبت یہ ہے کہ دیہات کی دلھن اکثر دوسرے گاؤں میں بیاہ جاتی ہے، اور آمد و رفت میں دو دو تین تین منزلیں طے کرنا ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں دلھن بیچاری پر کیسی سخت مصیبتیں گزرتی ہوں گی۔
دیہات میں ساچق اور مہندی کے ترک ہو جانے اور برات کھلانے میں سختیاں ہونے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ زیادہ تر برات سفر کر کے ایک بستی سے دوسری بستی میں جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ایک دن ایک جلوس یہاں سے جائے اور دوسرے دن دوسرا جلوس وہاں سے یہاں آئے، اور پھر تیسرے روز برات روانہ ہو۔ علیٰ ہذا القیاس براتیوں کو گو کہ دولھا اکثر اپنے گھر سے کھلا کے لے جاتا ہے، مگر لڑکی والے کے گھر پہنچتے پہنچتے سارے براتی بھوکے بنگالی ہوتے ہیں اور کنگلوں کی سی شان دکھانے لگتے ہیں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.