Urdu in Translation
搜索

第 46 章,共 56 章

Ceremonies from Birth to Betrothal

ولادت سے منگنی تک کی رسمیں

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۴۵)

جن شادی کی تقریبوں کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور ان کی زنانی محفلوں کی ایک عام تصویر گزشتہ موقع پر دکھا دی ہے، ان کی مفصل تشریح یہ ہے کہ چھٹی اس تقریب کا نام ہے جبکہ زچگی کے بعد ماں اور بچے کو پہلی دفعہ نہلایا جاتا ہے۔ زچہ کو تیز گرم پانی سے نہلانا ایک طبی علاج ہے، مگر یہ غسل ولادت چونکہ ایک خوشی کے موقع پر ہوتا ہے اس لیے اس کو نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ اور چونکہ عموماً زچگی کے چھٹے روز یہ پہلا نہان ہوتا ہے اس لیے اس کا نام ہی چھٹی پڑ گیا۔ اور اس میں زچہ بڑے اہتمام سے نہلائی جاتی ہے، پھر بچہ نہلایا جاتا ہے، اور ان کے بعد تمام عورتیں جو نہان ہوتی ہیں یکے بعد دیگرے سب نہاتی ہیں۔ زچہ اور بچے کے لیے نئے بھاری جوڑے حسب حیثیت تیار کیے جاتے ہیں، اور ساتھ ہی سب عورتیں کپڑے بدلتی ہیں۔ اس نہان میں جو طرح طرح کی رسمیں برتی جاتی ہیں وہ بےحد و بےشمار ہیں، اور غالباً ہر شہر و قریے بلکہ ہر خاندان میں کلیتہً یکساں اور جزءً مختلف اور نئی ہیں۔

دلھن کے میکے یا دیگر اعزا کی طرف سے اس موقع پر زچہ اور بچے کے جوڑے، طوق، ہنسلی اور کڑے، ننھے بچے کے قابل کھلونے، جھنجھنے، چٹوے، ان کے ساتھ مرغیاں اور خدا جانے کیا کیا چیزیں بڑی دھوم دھام، جلوس اور باجوں کے ساتھ آتی ہیں۔ زنانے میں رقص و سرود کی محفلیں گرم ہوتی ہیں، اور اتنی استطاعت نہ ہو تو خود گھر والی عورتیں ڈھول سامنے رکھ کے گا بجا لیتی ہیں۔

یہی شان بعد کے دو نہانوں یعنی بیسویں اور چلے کے نہانوں کی ہوتی ہے۔ اگر خدا نے اطمینان دیا ہے تو دونوں موقعوں پر محفل عیش و نشاط گرم ہوتی ہے، ورنہ فقط چلے کے نہان میں زیادہ دھوم دھام ہوتی ہے، اور بیسویں کے نہان کی تقریب معمولی ہوتی ہے۔

عقیقہ مسلمانوں کی خالص مذہبی رسم ہے، جس کا آغاز بنی اسرائیل کے زمانے سے آل ابراہیم میں چلا آتا ہے۔ یہود پیدائش کے آٹھویں دن بچے کو مسجد اقصیٰ میں لے جا کے اس کا سر منڈاتے اور قربانی کرتے تھے، اور ان کا مقتدا خاص طریقوں سے اس کے لیے برکت کی دعا کیا کرتا تھا۔ یہی طریقہ مسلمانوں میں بھی رسم ابراہیمی اور سنت محمدی کی حیثیت سے آج تک جاری چلا آتا ہے۔ اگرچہ اب ولادت کے بعد آٹھویں دن عقیقے کی قید اٹھ گئی ہے، مگر اکثر بچے کی عمر کے پہلے ہی سال میں ہو جایا کرتا ہے۔ اس میں بچے کو نہلا کے نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں، اور اس کے بعد اعزا و احباب کے مجمع میں نائی اس کا سر مونڈتا ہے۔ اور جیسے ہی وہ سر میں استرا لگاتا ہے، بچہ اگر لڑکا ہے تو دو، اور لڑکی ہے تو ایک بکرا قربانی کیا جاتا ہے۔ منڈ جانے کے بعد سر میں صندل لگایا جاتا ہے۔ اعزا و اقارب حسب حیثیت بچے کو کچھ رونمائی دیتے ہیں۔ قربانی کا گوشت غربا اور اعزا میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، اور گھر میں خوشی کا جلسہ ہوتا ہے، اور اسی قسم کی محفل مرتب ہو جاتی ہے جیسی کہ اور تقریبوں میں ہوتی ہے۔

کھیر چٹائی۔ اس تقریب سے بچے کو دودھ کے علاوہ اور غذاؤں کے دینے کا آغاز ہوتا ہے، جو اکثر اس وقت ہوا کرتی ہے جب بچہ چار پانچ مہینے کا ہو چکتا ہے۔ اکثر گھروں میں غذا کا آغاز کھیر سے کیا جاتا ہے، جو خاص اہتمام سے پکائی جاتی ہے، اور خاص طور پر قرابتدار خاتونوں کی موجودگی میں بچے کو چٹائی جاتی ہے، جبکہ وہ نئے کپڑے پہنے ہوتا ہے۔ اور سب بیویاں ترقی عمر کی دعاؤں کے ساتھ اس کے ہاتھ میں روپیہ دیتی ہیں، اور وہی محفل طرب قائم ہو جاتی ہے جو ہر تقریب میں نظر آتی ہے۔

دودھ بڑھائی۔ یہ تقریب اس موقع پر ہوتی ہے جب بچے کا دودھ چھڑایا جاتا ہے۔ اس میں عموماً کھجوریں پکائی جاتی ہیں، تاکہ بچہ اگر دودھ کے لیے ضد کرے تو بہلانے کے طور پر اس کے ہاتھ میں دے دی جایا کریں۔ مگر عموماً رواج ہے کہ اتنی مقدار میں پکائی جاتی ہیں کہ جن جن گھروں سے حصہ داری ہے ان میں تقسیم بھی ہو سکیں۔ دودھ کے چھڑانے کا عام طریقہ یہ ہے کہ ماں یا مرضعہ کی چھاتیوں میں پانی میں گھول کے ایلوا یا اور کوئی کڑوی چیز لگا دی جاتی ہے، جس کی کڑواہٹ سے گھبرا کے بچہ دودھ چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب پینے کے لیے ضد کرتا اور بہلانے نہیں بہلتا تو پھر یہی کارروائی کی جاتی ہے۔ اور دو ایک دفعہ میں اسے دودھ سے نفرت ہو جاتی ہے۔ دودھ بڑھائی کا زمانہ علی العموم اس وقت ہوتا ہے جب بچہ دو سال کا ہو جائے۔ حنفیوں میں مدت رضاعت اڑھائی برس ہیں، یعنی اڑھائی برس کے بعد دودھ چھڑانا لازمی ہے، لیکن رواج اس سے کم ہی زمانے کا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض عورتیں تین تین چار چار سال دودھ پلاتی رہتی ہیں، مگر یہ بات عموماً نفرت کی نظر سے دیکھی جاتی ہے، اس لیے کہ شرع کے خلاف ہے۔ اس تقریب میں بھی جن گھروں کو خدا نے استطاعت دی ہے ان میں بہت اچھی چہل پہل ہو جاتی ہے، اور رقص و سرود کی محفل گرم ہوتی ہے۔

بسم اللہ۔ یہ تقریب اس دن ہوتی ہے جس روز لڑکے کو پہلے پہل پڑھنے کے لیے بٹھاتے ہیں۔ اور اس کا زمانہ ازروئے رسوم مروجہ وہ خیال کیا گیا ہے جب بچہ چار سال چار مہینے اور چار دن کا ہو جائے۔ اور اس چار کے عدد نے اس تقریب میں اس قدر خصوصیت پیدا کر لی ہے کہ چار سال چار مہینے چار دن کے بعد چار گھنٹے اور چار منٹ کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔ وقت مقررہ پر کوئی محترم مولوی صاحب یا کوئی بزرگ خاندان لڑکے کو جو نہلا دھلا کے اور نئے کپڑے پہنا کے دولھا بنایا جاتا ہے، پڑھانے کے لیے لے کے بیٹھتے ہیں۔ الف بے کی کتاب اس کے سامنے رکھتے ہیں، اور بسم اللہ کہلا کے عربی کے دعائیہ الفاظ "رب یسر ولا تعسر وتمم بالخیر" کہلاتے ہیں، جن کے معنی یہ ہیں کہ "خداوندا آسان کر اور دشوار نہ کر، اور خیریت سے ختم کر"۔ پھر الف بے کہلا کے مٹھائی تقسیم ہوتی ہے۔ عزیز و قریب لڑکے کو حسب توفیق دیتے ہیں، اور اس دن سے اس کی تعلیم شروع ہو جاتی ہے۔

ختنہ۔ یہ بھی سنت ابراہیمی اور آل ابراہیم کی پرانی اور ضروری رسم ہے، اور چونکہ ہندوستان میں صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد سے لڑکا مسلمان ہو جاتا ہے، اس لیے اس رسم کا عام نام ہی "مسلمانی" پڑ گیا ہے۔ اس میں بچے کے عضو مخصوص کے منہ پر کی کھال کاٹ لی جاتی ہے، جس کا کاٹنا طبی اور ڈاکٹری اصول سے بھی بعض امراض و شکایات سے بچنے کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ ایک قسم کا اپریشن ہے جس کو ہمارے قدیم سرجن (جراح) جو عموماً نائی ہوتے ہیں نہایت خوبی اور غیر معمولی پھرتی سے انجام دیتے ہیں۔ ان کو اچھا معاوضہ اور انعام دیا جاتا ہے۔ اور اس رسم کے انجام دیتے وقت مردانے میں اکثر اعزا و احباب بلا کے بٹھا لیے جاتے ہیں، اور زنانے میں مہمان بیویوں کا مجمع ہوتا ہے۔ ختنہ ہوتے ہی مٹھائی تقسیم ہوتی ہے۔ جن کو استطاعت ہوتی ہے دعوت کرتے ہیں۔ اور پھر اس روز خوشی کی تقریب ہوتی ہے جب زخم اچھا ہونے کے بعد لڑکا غسل صحت کرے۔ اکثر خاندانوں اور منت مراد والے گھرانوں میں اس روز لڑکا دولھا بنا کے گھوڑے پر چڑھایا جاتا ہے، اور برات بڑے جلوس اور دھوم دھام کے ساتھ کسی درگاہ میں جاتی ہے، جہاں چادر اور مٹھائی چڑھا کے لڑکا اسی شان سے گھر واپس آتا ہے، جہاں خوشی کے چہچہے اور عیش و شادمانی کے جلسے نظر آتے ہیں۔ اس رسم کے ادا ہونے کا زمانہ مختلف ہے۔ بعض لوگ چھٹی یا چلے ہی میں بچے کا ختنہ کرا دیتے ہیں، مگر عام رواج اس وقت ہے جب لڑکا چھ سات برس کا ہو جائے۔

ایک اور تقریب روزہ کشائی کی بھی ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب لڑکا یا لڑکی نو دس برس کی عمر کو پہنچ جائے، اور اسے پہلے پہل روزہ رکھوایا جائے۔ اس میں علی العموم بہت سے روزہ داروں کی دعوت کی جاتی ہے، جن کے لیے کثرت سے افطاریاں تیار کی جاتی ہیں، اور لڑکا ان کے ساتھ بیٹھ کے افطار کرتا ہے۔ اور لڑکی ہے تو زنانے میں مہمان روزہ دار بیویوں کے ساتھ روزہ کھولتی ہے۔ اس میں گانا بجانا کم ہوتا ہے، مگر شوقین اور رنگین مزاج لوگوں کے لیے یہ بہانہ بھی محفل رقص و سرود گرم کرنے کے واسطے کافی ہو جاتا ہے۔

اسی قسم کی کارروائیاں غسل صحت کی تقریبوں اور منت مراد پوری ہونے کے موقعوں پر ہوا کرتی ہیں۔ اور سوا ان خاص باتوں کے جو اس تقریب سے تعلق رکھتی ہوں باقی سب باتیں ان میں بھی وہی ہوتی ہیں جو اور تقریبوں میں بیان کی گئیں۔

سب سے بڑی اور اہم تقریب شادی یا عقد نکاح ہے۔ یہ وہ ضروری تقریب ہے جس کی بےاعتدالیوں کی بدولت سیکڑوں خاندان تباہ و برباد ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور وجہ یہ کہ خوشی کے جوش اور شاہد آرزو سے ہمکنار ہونے کی محویت میں کسی کو نہ اپنی حالت و استطاعت کا خیال رہتا ہے نہ اپنے انجام و مآل کار کا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرض لے کے، جائداد بیچ کے، دوستوں اور عزیزوں سے مانگ کے، یا جس طرح کوئی رقم مل سکے فراہم کر کے ارمانیں پوری کی جاتی ہیں، اور شادی کے ختم ہوتے ہی یہ حالت ہوتی ہے کہ اکثر گھروں میں فاقے کی نوبت آ جاتی ہے۔

شادی اور نکاح چونکہ انسانی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہے اس لیے اس کو ہم ذرا زیادہ تفصیل و تشریح سے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ شادی کی نسبت اکثر مشاطاؤں کے ذریعے سے ٹھہرتی ہے۔ ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں، خصوصاً ان میں جہاں اگلے تمدن نے ترقی کی تھی، عورتوں کا ایک خاص پیشہ ہے مشاطہ گری۔ شعرا کے کلام اور لغت میں مشاطہ اس عورت سے مراد ہے جو عالی مرتبہ خاتونوں کے کنگھی چوٹی کرتی، کپڑے اور زیور پہناتی، اور دلھنیں بنا چنا کے سنوارتی اور آراستہ کرتی ہے۔ مگر سوسائٹی میں مشاطہ ان عورتوں کو کہتے ہیں جو شادی کے پیام لے جاتی، نسبتیں ٹھہراتی اور شادیاں کراتی ہیں۔ غالباً اس پیشے کی ابتدا انھیں عورتوں سے پڑی جو حسینوں کو بنایا سنوارا کرتی ہیں، اور آخر میں شادی ٹھہرانے والی عورتوں کا نام مشاطہ پڑ گیا۔ یہ بڑی چالاک اور مکار عورتیں ہوا کرتی ہیں۔ ہر لڑکے کا پیام جب کسی گھر میں لے جاتی ہیں تو اس کی دولتمندی، تعلیم، سعادتمندی، خوش اخلاقی اور خوبصورتی کی اس قدر تعریف کرتی ہیں کہ لڑکی والوں کی نظر میں اسے مثنوی میر حسن کا شاہزادہ بےنظیر ثابت کیے بغیر دم نہیں لیتی ہیں۔ اسی طرح جب کسی لڑکی کی بات لڑکے والوں کے یہاں لے جاتی ہیں تو اس کے حسن و جمال، ناز و انداز اور خوبی و رعنائی کے بیان میں ایسے قلابے باندھ دیتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے جس لڑکی کا ذکر کر رہی ہیں وہ انسان نہیں، کوہ قاف کی پری یا شاہزادی بدر منیر ہے۔

مشاطہ کی پیام رسانیوں کے بعد اگرچہ تحقیق و جستجو مرد ہی کرتے ہیں، مگر نسبت ٹھہرنے میں زیادہ دخل دونوں گھروں کی عورتوں ہی کو ہوا کرتا ہے، جو اپنا اطمینان کر کے مردوں کی رضامندی حاصل کرتی ہیں، اور نسبت ٹھہر جاتی ہے۔ دونوں خاندانوں میں بچوں کے پیدا ہوتے ہی ارمان بھری مائیں نسبت ٹھہرا لیا کرتی ہیں، ان کے لیے مشاطہ کی ضرورت نہیں پیش آتی، بلکہ دولھا کو بےشغل و عشق کھکھیڑے کی منگی دلھن مل جاتی ہے، اور شادی سے پیشتر کی رسمیں جن کو نسبت ٹھہرنے سے تعلق ہے ان کی نوبت نہیں آتی۔ گویا پیدا ہوتے ہی منگنی ہو جاتی ہے۔

نئے گھروں میں جب پیام جاتا ہے تو اکثر لڑکا اپنے چند عزیزوں اور مخصوص دوستوں کے ساتھ "بردکھوا" کے نام سے دلھن والوں کے وہاں بلایا اور ایسی جگہ بٹھایا جاتا ہے جہاں سے عورتیں بھی اسے تاک جھانک کے دیکھ سکیں۔ گھر والے مرد جمع ہو کے اس سے ملتے اور حسب حیثیت خاطر مدارات کرتے ہیں۔ اسی طرح لڑکے کی ماں بہنیں ایک مقررہ تاریخ پر دلھن کے گھر میں جاتی، اور مٹھائی کھلانے یا کسی اور بہانے سے دلھن کا چہرہ دیکھتی ہیں، جو عام طور پر ان سے چھپائی اور پردے میں رکھی جاتی ہے۔ مگر بعض شریف گھروں میں دولھا نہیں بلایا جاتا، بلکہ خاندان کے مرد کسی نہ کسی عنوان سے لڑکے کی لاعلمی میں اسے دیکھتے اور اس کا حال دریافت کر لیتے ہیں۔ اور یونہی لڑکی کی حالت کا بھی پتہ لگا لیا جاتا ہے۔

ان طریقوں سے جب لڑکے والے لڑکی کو اور لڑکی والے لڑکے کو پسند کر لیتے ہیں، جس میں صورت شکل، حالت و حیثیت کے علاوہ شرافت خاندان کو بھی بہت کچھ دخل ہوتا ہے، تو منگنی کی رسم عمل میں آتی ہے۔ اس میں دولھا کی طرف سے مٹھائی جاتی ہے، پھولوں کا گہنا جاتا ہے، اور ایک سونے کی انگوٹھی جاتی ہے جسے بعض گھرانوں میں دولھا کی عزیز عورتیں خود جا کے پہناتی ہیں۔

منگنی کی رسم ادا ہو جانے کے بعد سمجھا جاتا ہے کہ نسبت ٹھہر گئی، اور اس وقت سے دونوں جانب معمول ہو جاتا ہے کہ جب کوئی تقریب ہو تو سمدھیانے میں خاص اہتمام سے حصے جائیں، اور جو حصہ لڑکے یا لڑکی کے لیے ہوتا ہے وہ بڑا ہوتا ہے، اور خصوصیت کے ساتھ مشتمل و باوقعت بنا دیا جاتا ہے۔ اسی اثنا میں اگر محرم آ گیا تو دونوں جانب سے اہتمام اور تکلیف کے ساتھ گوٹا، الائچیاں، چکنی ڈلیاں اور اعلیٰ درجے کے کارچوبی اور ریشمی بٹوے سمدھیانے میں بھیجے جاتے ہیں۔

برات یعنی نکاح کے دن سے چند روز پہلے دلھن مانجھے بٹھا دی جاتی ہے، جبکہ اسے مانجھے کا زرد جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ اس وقت سے روز اس کے ابٹنا لگتا ہے، اور بجز خاص ضرورتوں کے وہ پردے سے باہر نہیں نکلتی۔ جس دن وہ مانجھے بیٹھتی ہے اسی روز رسم ہے کہ اس کا جھوٹا ابٹنا، اس کی جھوٹی مہندی، مصری کا کوزہ اور بہت سی ہنڈیاں ایک شاندار جلوس اور باجے کے ساتھ دولھا کے گھر بھیجی جاتی ہیں۔ جو ہنڈیاں خاص دولھا کے لیے ہوتی ہیں وہ جدا گانہ خوانوں میں ممتاز و مخصوص ہوتی ہیں۔ انھیں کے ساتھ دولھا کے لیے مانجھے کا زرد بھاری جوڑا، ایک رنگی ہوئی منقش چوکی، اور لوٹا کٹورا بھی ہوتا ہے۔ لوٹا کٹورا چوکی پر ناڑے سے کس کے باندھ دیے جاتے ہیں۔ اور جلوس میں یہ چیزیں اس ترتیب سے ہوتی ہیں کہ باجے والوں اور جلوس کے بعد سب کے آگے چوکی ہوتی ہے۔ اس کے بعد خوانوں میں دولھا کی مخصوص چیزیں ہوتی ہیں، جو عموماً سنگین طباقوں میں رکھی جاتی ہیں۔ اور ان کے بعد بہت سے خوانوں میں عام قسم کی ہنڈیاں ہوتی ہیں۔ دلھن کی چھوٹی بہنیں اور ڈومنیاں فینسوں اور ڈولیوں میں سوار ہو کے جاتی ہیں، جو دولھا کے گھر پہنچ کر ایک پنڈی اور مصری کے سات سات ٹکڑے کر کے وہ سب ٹکڑے دولھا کو ڈھکا ڈھکا کے کھلاتی ہیں۔

اس رسم کی نسبت قیاس کیا جاتا ہے کہ خالص ہندی رسم ہے، جس کو نہ عرب سے تعلق ہے نہ عجم سے، اس لیے کہ مانجھے اور اس کے ساتھ کنگنے کی ابتدا ہندوستان کے سوا اور کسی جگہ نہیں ثابت ہوتی۔

مانجھے کے دس بارہ روز سے زیادہ زمانہ گزرنے کے بعد اسی شان و شوکت اور جلوس کے ساتھ دولھا کے گھر سے دلھن کے یہاں ساچق جاتی ہے۔ ساچق ترکی لفظ اور ترکی رسم ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ ترک و مغل اس رسم کو اپنے ساتھ ہندوستان میں لائے۔ اس میں دولھا کے یہاں سے دلھن کے لیے چڑھاوے کا جوڑا جاتا ہے جو عموماً بہت بھاری اور کارچوبی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ دلھن کے لیے سنہری منقش کا سہرا، چاندی کا چھلا، سونے کی انگوٹھی، دو ایک اور چیزیں ہوا کرتی ہیں، اور وہ زیور ہوتا ہے جس کو پہنا کر دلھن رخصت کی جائے گی۔ اور پھولوں کا گہنا ہوتا ہے۔ جوڑے کے ساتھ شکر کے نقل، شکر کے قرص اور میوہ جاتا ہے۔ ساچق کے لیے خاص اہتمام سے منقش اور رنگین گھڑے تیار کرائے جاتے ہیں۔ پھر بانس اور کاغذ کے رنگا رنگ تختوں میں چار چار گھڑے لگا کے چوگھڑے بنا دیے جاتے ہیں۔ اور دولتمندی و امارت کی شان کے مناسب ان چوگھڑوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، اور اکثر سو سو دو دو سو کے شمار کو پہنچ جاتے ہیں۔ مگر ان کے اندر چند گنتی کے نقلوں یا پاؤ آدھ سیر شکر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے منہ گھڑوں پر عموماً سوہے کا کپڑا ناڑے سے بندھا ہوتا ہے۔ اور جلوس میں ان سب گھڑوں کے آگے چاندی کی ایک دہی کی مٹکی رہتی ہے جس میں دہی بھرا ہوتا ہے، اور اس کے منہ پر بھی سوہا ناڑے سے باندھ دیا جاتا ہے، اور اس کے گلے میں مبارک فالی کے لیے دو ایک مچھلیاں بھی بندھی ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں جب دلھن کے گھر پہنچتی ہیں تو اعزا و اقارب میں تقسیم ہوتی ہیں۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。