Urdu in Translation
搜索

第 45 章,共 56 章

Wit, and Women's Celebrations

مذاق، اور عورتوں کی خوشی کی محفلیں

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۴۴)

(۸) آداب معاشرت میں آٹھویں چیز طریقۂ مذاق ہے۔ عرب کا پرانا مقولہ بلکہ مشہور حدیث نبوی ہے کہ "کلام میں ظرافت ویسی ہی ہے جیسے کھانے میں نمک"۔ سچ یہ ہے کہ شوخی و ظرافت کے بغیر نہ کلام میں مزہ پیدا ہوتا ہے اور نہ صحبت میں جان پڑتی ہے۔ مگر اسی ظرافت میں اگر بےاحتیاطی ہو جائے تو وہی سخت فتنہ و فساد کا باعث ہو جاتی ہے۔ ظرافت نے باتوں باتوں میں اکثر تلوار چلوا دی ہے، اور پرانے جانی دوستوں کو گھڑی بھر میں دشمن بنا دیا ہے۔ غور سے دیکھو تو صاف نظر آ جائے گا کہ ان خرابیوں کا باعث ظرافت نہیں بلکہ ظرافت میں بےاحتیاطی کرنا یا اعتدال سے باہر ہو جانا ہوا کرتا ہے۔

جو زبان جتنی زیادہ ترقی کرتی ہے اسی قدر اس میں مذاق و ظرافت کے پہلو بڑھتے جاتے ہیں۔ کلام میں ظرافت جن طریقوں سے پیدا ہو جاتی ہے ان کا محصور کرنا بہت دشوار ہے۔ صدہا طریقے ہیں جن سے ایک فصیح البیان شخص اجتہادی طور پر فائدہ اٹھا لیا کرتا ہے، اور ان کے متعلق تفصیلی بحث کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب چاہیے۔ ہمیں اس موقع پر فقط اس قدر کہنا ہے کہ زیادہ تر بنائے ظرافت ایسے الفاظ ہوا کرتے ہیں جو مختلف معنی رکھتے ہوں، اور بعض معنوں سے کسی پر تعریض ہوتی ہو۔ اور کبھی ظرافت میں ایسے الفاظ سے بھی کام نہیں لیا جاتا، بلکہ کسی انسان یا چیز کو کسی ایسی شے سے تشبیہ دی جاتی ہے جو باوجود غیر متناسب ہونے کے مشابہ ہو، پھر اس تشبیہ کو ایسے عنوان اور پہلو سے ادا کرنا کہ اس میں بعوض تشبیہ کے استعارے کی شان پیدا ہو جائے۔ علیٰ ہذا القیاس کبھی اپنے آپ کو یا کسی اور کو اس قدر بڑھانا یا اتنا گھٹانا کہ اصلی درجے سے بہت دور ہو جائے۔ ان سب باتوں کے لیے سلیقے کی ضرورت ہے۔ اچھا سلیقہ رکھنے والا سخت سے سخت تعریض کر جاتا ہے اور ناگوار سے ناگوار تشبیہ دے دیتا ہے، مگر کسی کا دل میلا نہیں ہوتا، یا کسی کو اظہار ناگواری کی گنجائش نہیں ملتی۔ بخلاف اس کے اگر کسی بدسلیقہ شخص نے یہ کام کرنا چاہا تو لوگ بگڑ کھڑے ہوتے ہیں اور عداوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کا جیسا اچھا سلیقہ لکھنؤ کے عوام الناس کو ہے اور جگہ کے خاص لوگوں میں بھی نہیں نظر آتا۔

ایک بنگالی عالم ڈاکٹر اگھورناتھ نے، جو بڑے عالم و فاضل، فلسفے میں یکتائے روزگار، لٹریچر کے ڈاکٹر اور اردو کے اچھے ماہر تھے، زبان اردو پر اعتراض کرنے کے عنوان سے مجھ سے کہا: "صاحب یہ کون سی زبان کی خوبی ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک صحبت میں کہا 'ہم آج کل دودھ پیا کرتے ہیں'، اس پر سب لوگ بےساختہ ہنس پڑے"۔ میں نے کہا: "اردو کا یہی اعلیٰ درجے کا حسن ہے۔ آپ چونکہ اس زبان میں ناقص ہیں اس لیے آپ کو بجائے اپنے عیب کے یہ زبان کا عیب نظر آیا۔ ہر زبان میں ذو معنی لفظ ہوا کرتے ہیں، اور زباندانوں کا کام یہ ہے کہ تمام ذم کے پہلوؤں کو بچا کے لفظوں کو استعمال کیا کریں۔ انگریزی میں لفظ 'کنسیو' کے معنی خیال کرنے کے بھی ہیں اور حاملہ ہونے کے بھی۔ ایک مشہور لاٹ صاحب نے پارلیمنٹ میں تین بار کہا 'آئی کنسیو'، اور آگے سوچنے لگے۔ کسی نے پکار کے کہہ دیا: 'جناب نے تین بار آئی کنسیو کہا اور ہوا کچھ نہیں'، یعنی تین بار حمل رہا اور پیدا کچھ نہ ہوا۔ اس پر سب نے قہقہہ لگایا اور وہ لاٹ صاحب جھینپ گئے۔ اسی طرح اردو میں ہزارہا الفاظ ہیں جن میں مختلف پہلو نکلتے ہیں۔ بولنے والا ان کے استعمال کا صحیح سلیقہ نہ رکھتا ہوگا تو بات بات پر ہنسا جائے گا"۔

یہی مذکورۂ بالا "دودھ پینے" کا جملہ ہے۔ ہندوستان میں "دودھ پینا" شیرخوار بچوں کا کام ہے، اور کسی عاقل بالغ کے لیے کہنا کہ "یہ دودھ پیتے ہیں" عیب ہونے کے علاوہ ان معنوں میں مستعمل ہوتا ہے کہ یہ ابھی ناسمجھ اور نادان ہیں۔ اس پہلو کے بچانے کے خیال سے اہل لکھنؤ یہ کبھی نہ کہیں گے کہ "میں دودھ پیتا ہوں"، بلکہ اس مضمون کو یہ عیب کا پہلو بچا کے مختلف عنوانوں سے ادا کریں گے۔ کہیں گے کہ "میں آج کل دودھ کو استعمال کرتا ہوں"، "آج کل میری غذا دودھ ہے"، "دودھ چاول کھاتا ہوں"۔ لکھنؤ والوں کی ان احتیاطوں کو دیکھ کے آگرے کے ایک قابل و زباندان شاعر کو دھوکا ہوا کہ لکھنؤ کی زبان دودھ کھاتا ہے، دودھ پینا نہیں۔ لکھنؤ کے ایک صاحب سے ان سے اس بارے میں اختلاف ہوا، اور حکم کے طور پر مجھ سے دریافت کیا گیا۔ میں نے کہا: "دودھ پینے کی چیز ہے، کوئی اس کی نسبت کھانے کا لفظ کیسے استعمال کر سکتا ہے؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ ذم کا پہلو بچانے کے لیے اہل لکھنؤ دودھ پینے کا لفظ اپنی نسبت استعمال نہ کریں گے"۔

ایک اسی محاورے پر منحصر نہیں، اردو میں صدہا الفاظ میں مختلف محاوروں اور معنوں کی وجہ سے ذم کے پہلو پیدا ہو گئے ہیں، اور ہر اہل زبان کا کام ہے کہ ان سے بچے۔ یا کوئی شخص کسی کی نسبت مذاقاً استعمال کر جائے تو اس کا فرض ہے کہ سمجھے اور جواب دے، ورنہ سمجھ لیا جائے گا کہ وہ زبان سے ناواقف ہے۔

اہل لکھنؤ میں شوخی و ظرافت بہت ہے۔ وہ اپنے کلام میں صدہا عنوانوں سے ظرافت پیدا کر دیا کرتے ہیں، اور جو اس فن میں جتنا زیادہ کمال رکھتا ہے اتنا ہی زیادہ اہل سخن کی محفلوں میں چمکتا اور ممتاز ثابت ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اور مقامات کے لوگوں میں یہ ملکہ نہیں ہے۔ اور کثرت سے ہے، اور اب اردو زبان سارے ہندوستان میں اس طرح ترقی کر رہی ہے کہ ہر جگہ اعلیٰ درجے کے ظریف پیدا ہوتے جاتے ہیں، اور سخن دانی و سخن فہمی کا شعور بڑھ رہا ہے۔ مگر لکھنؤ والوں میں یہ ملکہ طبیعت ثانویہ بن کے ان کی فطرت و جبلت بن گیا ہے، اور لطافت کلام کے ساتھ بذلہ سنجی و ظرافت میں جیسا بےتکلف اور ستھرا مذاق ان کا نظر آئے گا اوروں کا نہیں ہو سکتا۔

(۹) آداب معاشرت میں نویں چیز شادی اور غمی کی محفلیں ہیں۔ مسلمانوں کی اگلی دولتمندی و حکومت نے ان کی عورتوں کی ارمانیں بمقابل اکثر مقامات کے یہاں بہت بڑھا دی ہیں۔ ولادت سے لے کے شادی تک لڑکے کی ہر خوشی و کامیابی ایک تقریب بن جاتی ہے۔ پیدائش کے بعد ہی چھٹی، چلہ، اور درمیان کے نہان، عقیقہ، کھیر چٹائی، دودھ بڑھائی، بسم اللہ، ختنہ، اور سب سے بڑھ کے عقد نکاح۔ یہ سب بجائے خود شادی کی تقریبیں ہیں۔ اکثر بچوں کی سالگرہ ہوا کرتی ہے۔ مذکورہ تقریبوں کے علاوہ غسل صحت یا کسی خاص مقصد کے پورے ہونے پر بھی خوشی کی غیر معمولی تقریبیں ہو جاتی ہیں۔

ان سب تقریبوں میں قرابت والی بیویاں اور پاس پڑوس کی بہت سی شناسا عورتیں جمع ہو جاتی ہیں۔ زنانی محفلیں مرتب ہوتی ہیں، جن میں تختوں کے چوکوں پر، اور زیادہ مہمان ہوئے تو زمین پر، دری چاندنی کا اجلا فرش بچھا ہے۔ دولتمند گھروں میں چاندنی پر تین طرف، یا فقط صدر میں، پرتکلف قیمتی قالین بچھتے ہیں۔ کنول اور مردنگیں روشن ہوتی ہیں۔ اور ڈومنیوں کا طائفہ سامنے بیٹھ کے مجرا کرتا ہے۔ ناچنے والی ڈومنی گھونگھرو باندھ کے ناچتی اور بھاؤ بتاتی ہے۔ مجرے کے درمیان میں وقتاً فوقتاً ڈومنیاں ہنسانے والی نقلیں کرتی ہیں۔ بہرحال مسرت کے ولولے اور خوشی کے چہچہے ہوتے ہیں۔ اور ڈومنیاں اگرچہ مجرے میں اکثر بےاعتدالیاں کرنے لگتی ہیں اور صحبت میں بےحیائی و بےشرمی کو بڑھا دیتی ہیں، مگر نشست و برخاست کے سلیقے، بیویوں کے باہمی ربط و ضبط اور اس کے ساتھ حفظ مراتب میں کوئی فرق نہیں آنے پاتا۔ ہر تقریب کے متعلق صدہا رسمیں ہیں جن کا انجام پانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان رسموں کی محافظ اور برقرار رکھنے والی بڑی بوڑھی عورتیں اور ان کے ساتھ ڈومنیاں ہوا کرتی ہیں، جن کو ان رسموں کے بہانے بہت کچھ مل جاتا ہے۔

اکثر تقریبوں میں رتجگا ضرور ہوا کرتا ہے، اور یہی ایک چیز ہے جو ہندوستانی عورتوں کے اعتقاد میں خالصتاً لوجہ اللہ ہے، اور جس میں ڈومنیاں "اللہ میاں کی سلامتی" کا نغمہ گاتی ہیں۔ شب زندہ داری ہوتی ہے، مگر عبادت کے لیے نہیں بلکہ گانے بجانے، رات بھر دھاچوکڑی مچانے اور صبح ہوتے مسجد میں جا کے اللہ میاں کا طاق بھرنے کے لیے، جن کی نذر کے لیے گلگلے اور خدا رحم مخصوص چیزیں ہیں۔ ان تقریبوں میں یہی کارروائی دیہات میں بھی ہوا کرتی ہے، مگر وہاں بدتمیزی و بدسلیقگی ہوتی ہے تو شہر والیوں میں نفاست، صفائی، خوش ترتیبی اور شائستگی۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。