
Chapitre 41 sur 56
Hair, Beards and Personal Style
بال، ڈاڑھی اور وضع
(۴۰)
مردوں کی وضع مسلمانوں میں قدیم الایام سے یہ چلی آتی تھی کہ سر پر بال، کتری ہوئی مونچھیں اور ڈاڑھی گول اور مقطع۔ مذہبی لوگ، علما و زہاد ڈاڑھی کو حسب سنت نبوی بالکل چھوڑ دیا کرتے تھے، اور مونچھوں کے قصر میں کبھی اتنا مبالغہ کرتے کہ منڈوا ڈالتے۔ لیکن امرا و شرفا کی وضع یہ تھی کہ ڈاڑھی کے لیے نیچے گلے کے پاس اور اوپر گالوں پر حدیں قائم کی جاتیں، اور جو بال زیادہ بڑھ جاتے ان کو کاٹ کے ڈاڑھی میں گولائی پیدا کر کے اس کی درازی کی ایک حد مقرر کر دی جاتی۔ سب سے پہلے شہنشاہ اکبر نے ڈاڑھی کو خیرباد کہی، اور اس کے بعد جہانگیر کے منہ پر بھی ڈاڑھی نہ تھی۔ اکبر و جہانگیر کے درباریوں پر اس کا چاہے کسی حد تک اثر پڑ گیا ہو، مگر امرائے اسلام کی عام وضع وہی رہی جو پہلے سے چلی آتی تھی۔
لکھنؤ میں دربار قائم ہونے کے بعد ڈاڑھی میں قصر شروع ہوا، اور ہوتے ہوتے اکثر کے منہوں پر سے ڈاڑھیاں غائب ہو گئیں۔ غالباً اس کا یہ اثر ہو کہ ہم مذہبی کی وجہ سے یہاں کے دربار پر ایرانیوں کا اثر پڑ رہا تھا، اور وہاں ہی شاہان صفویہ کے عہد سے بادشاہوں اور امیروں میں ڈاڑھی کی وہ اہمیت نہیں باقی رہی تھی جو آغاز اسلام سے چلی آتی تھی۔ یا تو مسلمانوں میں کسی کی ڈاڑھی مونڈ دینا سزا دینے یا اس کی تذلیل و تحقیر کرنے کے لیے تھا، یا ایران میں ڈاڑھی نہ رکھنا شان امارت و حکومت میں داخل ہو گیا۔ لکھنؤ کے خاندان نیشاپوری کے پہلے بانی نواب برہان الملک کے منہ پر مقطع ڈاڑھی تھی۔ شجاع الدولہ نے ڈاڑھی منڈائی، اور اس کے بعد سے یہاں کے تمام امرا اور بادشاہ ڈاڑھیاں منڈاتے رہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ عام شیعوں سے ڈاڑھی کا رواج اٹھ گیا۔ پھر بعد کے زمانے میں بہت سے سنیوں نے بھی ڈاڑھیاں کتروائیں یا منڈا ڈالیں۔ ڈاڑھی منڈانے کا شوق پیدا ہونے کے بعد طرح طرح کی وضعیں نکلنے لگیں۔ کسی نے کانوں کے نیچے چھوٹی چھوٹی قلمیں نکالیں، کسی نے گلمچھے رکھوائے، کسی نے بڑے بڑے گلمچھے رکھے۔ اطراف و جوانب لکھنؤ کے قصباتیوں اور بعض شہر کے سنیوں نے بھی یہ وضع اختیار کی کہ ڈاڑھی رکھتے، مگر راجپوتوں اور ہندی پٹھانوں کے مذاق کے مطابق ڈاڑھی کے بیچ میں ٹھڈی کے پاس مانگ نکال کے دونوں طرف کے بالوں کو کانوں کی طرف چڑھاتے، اور اس وضع پر ڈاڑھی کے قائم رکھنے کے لیے گھنٹوں ڈھاٹا باندھے رہتے۔ پھر اس چڑھی ہوئی ڈاڑھی کے ساتھ مونچھیں بھی کنگھی کر کے اور باندھ کے اوپر کے رخ پر چڑھائی جاتیں۔
چنانچہ یہی وضع یہاں اور سارے ہندوستان میں سپہگری اور شجاعت کی علامت تصور کی جاتی۔
سر کے متعلق حضرت سرور کائنات صلعم کے مبارک عہد میں عام مذاق تھا کہ سر پر بڑے بڑے بال ہوتے، جو حج کے زمانے میں منڈا یا کتروا دیے جاتے۔ مگر عرب ہی میں ظہور اسلام کے چند روز بعد سر منڈانے کا عام رواج ہو گیا، اور یہی رواج ایران میں معلوم ہوتا ہے۔ اور مسلمان ابتداءً جب ہندوستان میں آئے ہیں اس وقت ان کی وضع عموماً یہی تھی کہ منڈے ہوئے سر اور ان پر عمامے۔ ہندوؤں میں مسلمانوں کے آنے کے وقت سر پر بال رکھنے کا رواج تھا۔ یہی وضع یہاں کے مسلمانوں کو پسند آئی۔ چنانچہ آخر عہد میں علما و اتقیا اور مشائخ و صوفیہ کے سوا دہلی کے شریف و وضیع کی عام وضع یہ تھی کہ سر پر بال ہوتے جو کانوں تک رہا کرتے۔ سوا بانکوں کے، جو نئی نئی دھجیں نکالا کرتے۔
اسی وضع میں شرفائے دہلی لکھنؤ میں آئے۔ یہاں آ کے نازک مزاجیاں بڑھیں، خود آرائی کے شوق میں ترقی ہوئی، اور نہایت نزاکت اور صفائی سے کنگھی کر کے ماتھے پر عورتوں کی طرح پٹیاں جمائی جانے لگیں۔ اور ایسی دھج پیدا ہو گئی کہ نوخیز لڑکوں میں عورتوں کی سی دلکشی پیدا ہو گئی۔ پھر چند روز کے بعد جب انگریزوں سے سیکھ کے عورتوں نے ماتھا خوب کھول کے بال الٹنا شروع کیے تو یہ وضع بھی بعض بعض مردوں نے اختیار کر لی۔
اب غدر کے بعد جب انگریزی وضع قطع اختیار کی جانے لگی تو سارے ہندوستان کے لوگوں کی طرح یہاں بھی بال کٹ کے انگریزی فیشنوں کے ہو گئے، اور جتنے منہوں پر ڈاڑھیاں باقی رہ گئی تھیں وہ بھی تشریف لے گئیں۔
عورتوں کے بالوں کی وضع غالباً لکھنؤ میں وہی ہو گی جو دہلی میں تھی۔ لیکن یہاں شاہی میں دلھنوں اور بناؤ چناؤ کرنے والی عورتوں کی چوٹیوں میں بڑے بڑے رنگین دوپٹوں کے موباف ہوتے، جو خوب بیچ دے کے مؤخر دماغ سے کمر تک بٹ کے لٹکا دیے جاتے۔ اور زیادہ تکلف کرتے وقت ان میں جوڑا لپیٹ دیا جاتا، اور معلوم ہوتا کہ بڑی بھاری موٹی چوٹی سرتاپا چاندی کی ہے۔ ماتھے پر محراب دار پٹیاں جمائی جاتیں، اور ان کے بیچ میں چاند ٹیکلی کے گرد سنہری یا روپہلی افشاں اور ستاروں سے نقش و نگار بنائے جاتے۔
ہاتھوں پاؤں میں مہندی عورتوں کے لیے لازمی تھی۔ مگر ان کے ساتھ رنگین مزاج مردوں نے بھی کثرت سے مہندی لگانا شروع کر دی تھی، جس کو دیکھ کے باہر والے لکھنؤ کے مردوں میں زنانہ پن پاتے اور ان کا نام رکھتے۔
(۴) معاشرت میں چوتھی چیز اخلاق و عادات ہیں۔ اس بات میں لکھنؤ والوں نے خصوصیت کے ساتھ نمود حاصل کی۔ یہی چیز لکھنؤ میں خاص طور پر قابل لحاظ ہے، اور اسی پر بحث کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ دراصل لکھنؤ میں ایشیائی تہذیب کو انتہائی ترقی ہو گئی، اور کسی مقام کے لوگوں میں معاشرت کے وہ قواعد نہیں ملحوظ خاطر رہتے جن کے اہل لکھنؤ عادی ہو گئے ہیں۔
تہذیب دراصل ان اخلاقی تکلفات کا نام ہے جن کو کوئی قوم تقاضائے شرافت سمجھنے لگے۔ آج کل ہم اکثر لوگوں کو یہ کہتے دیکھتے ہیں کہ ملنے جلنے میں چناں و چنیں اور معاشرت کے تکلفات ایک قسم کی فضول ریاکاری ہیں۔ مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ یوں تو فضول ریاکاری لباس اور بود و باش کا انتظام بھی ہے، اور بہیمیت کی زندگی کو چھوڑ کے انسانیت کی زندگی اختیار کرنے کے تمام امور فضول ریاکاری کہے جا سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جن لوگوں کو انسانی تہذیب نہیں آتی اور مہذب لوگوں سے ملنے کا سلیقہ نہیں ہوتا انھوں نے اپنے لیے عذرداری کا بہانہ اس بات کو قرار دے لیا ہے کہ ہمیں شہر والوں یا مہذب لوگوں کی ایسی دکھاوے کی باتیں نہیں آتیں۔ مگر غور کرو تو انسانیت ہی دکھاوا ہے۔ اچھا پہننا، اچھا سامان معیشت رکھنا، اچھا کھانا، اور ہر کام میں صفائی کا خیال کرنا، سب دکھاوا ہے۔
تہذیب اخلاق کا پہلا اصول یہ ہے کہ میل جول میں دوسرے کو ہر لطف اور نفع کی بات میں اپنے اوپر فوقیت دی جائے، اور آپ کو اس کے پیچھے اور اس سے ادنیٰ درجے پر رکھا جائے۔ کسی کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑا ہونا، اس کے لیے صدر کی جگہ کو خالی کرنا اور اسے صدر میں بٹھانا، اس کے سامنے ادب سے دو زانو بیٹھنا، اس کی باتوں کو توجہ سے سننا اور عاجزی کے لہجے میں جواب دینا، یہ سب باتیں دوسرے کو اپنے اوپر فوقیت دینے کی ہیں۔ اور یہ جس درجے تک وضعدار شرفائے لکھنؤ میں مروج تھیں لکھنؤ کے عہد شباب کے زمانے میں اور کہیں نہ تھیں۔
یہ تو وہ باتیں ہیں جن کو ملنے جلنے کے طرز عمل سے تعلق ہے۔ مگر یہی چیزیں جب اخلاق و عادات میں پوری طرح پیدا ہو جاتی ہیں تو انسان میں ایثار نفس کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ آمادہ ہو جاتا ہے کہ دوستوں کے ساتھ ہر طرح کی رفاقت اور ہر بات میں ان کی اعانت کرے۔ عہد شاہی میں یہ چیز اہل لکھنؤ میں پورے کمال کے ساتھ پیدا ہو گئی تھی۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے تھے جن کا بظاہر کوئی ذریعۂ معیشت نہ تھا۔ ان کے احباب ایسے مخفی طریقوں سے ان کی کفالت کرتے کہ کسی کو کبھی پتہ بھی نہ چل سکتا۔ اور ذرائع معاش کے مخفی رہنے کے باعث وہ سفید پوشی اور امیرانہ وضع کے ساتھ بڑے بڑے امیروں کی صحبتوں میں شریک ہوتے، اور کسی کے سامنے ان کی آنکھ نیچی نہ ہوتی۔ لکھنؤ ایسے لوگوں سے بھرا ہوا تھا کہ انقلاب سلطنت ہو گیا، اور یک بیک ان کے بسر کرنے کے ذریعے مفقود ہو گئے۔
امرا کے ایثار کی اس شان نے یہاں شرافت کا یہی معیار قرار دے دیا تھا کہ دوسروں کے ساتھ ایسے اخلاق سے پیش آئیں اور ان کی خاطرداشت میں ایسی فیاضی دکھائیں جس میں احسان رکھنے کا نام کو بھی شائبہ نہ ہو۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں بڑے بڑے تاجر اور دولتمند موجود ہیں، جو لاکھوں روپیہ مستحقوں کو دے ڈالتے ہیں، مگر ان کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پیسہ بھی انھوں نے بےغرضی سے نہیں صرف کیا۔ بخلاف اس کے لکھنؤ والوں کی دوست پروری اور شریف نوازی ایسی تھی کہ دنیا کو دینے اور لینے والے میں کوئی فرق نہ نظر آتا۔
اس میں شک نہیں کہ جب بعد انقلاب سلطنت بڑے بڑے امرا مفلس و نادار ہو گئے، اور وہ گروہ جو مخفی ذرائع معاش پر بسر کر رہا تھا فاقے کرنے لگا، تو امرا فیاضی و ایثار نفس کا جوہر دکھانے سے معذور ہو گئے۔ مگر ظاہری اخلاق جو سرشت میں داخل ہو گیا تھا ویسا ہی باقی رہا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ اپنی باتوں سے تو اعلیٰ درجے کی مہمان نوازی کی امید دلاتے ہیں، مگر ان کے مہمان ہو جائیے تو اس کے خلاف ظاہر ہوتا ہے۔ اسی کو اکثر لوگوں نے ریاکاری و لفاظی سمجھ رکھا ہے۔ مگر افسوس یہ ریاکاری نہیں بلکہ حوصلہ مندی ہے جس کی استطاعت نہیں۔ ایسے لوگوں پر اعتراض نہ کیجیے بلکہ ان کی حالت پر ترس کھائیے۔
لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دولتمندی کے زمانے میں چونکہ شہر کی آبادی کا زیادہ حصہ امرا و شرفا اور احباب کی مخفی دستگیری پر بسر کر رہا تھا، اس کی وجہ سے محنت، جفاکشی اور وقت کی قدر و قیمت جاننے کا مادہ علی العموم اہل لکھنؤ میں فنا ہو گیا۔ اور جو مشاغل انھوں نے اختیار کیے وہ ان کو ترقی قومی کی شاہراہ سے روز بروز دور کرتے گئے۔ ان کے مشغلے لہو و لعب کے سوا کچھ نہ تھے۔ بےفکری اور فکر معاش سے سبکدوش ہونے نے انھیں کبوتربازی، بٹیربازی، مرغ بازی، چوسر، گنجفے اور شطرنج کا شائق بنایا، جن کاموں پر وہ آمدنی کا زیادہ تر حصہ صرف کرنے لگے۔ اور "اندیشۂ فردا" کے لفظ سے ساری آبادی ناآشنا تھی۔ کوئی امیر نہ تھا جو ان مزخرف کاموں میں سے کسی ایک کا دلدادہ نہ ہو، اور اس کے شوق نے اوروں کو بھی اس کام میں نہ لگایا ہو۔
عیاشی اور تماشبینی سے دنیا کا کوئی شہر خالی نہیں، خصوصاً یورپ کی سی بدتمیزی اور بدسلیقگی کی عیاشی خدا نہ کرے کہ ہمارے شہروں میں پیدا ہو۔ لیکن لکھنؤ میں شجاع الدولہ کے زمانے میں رنڈیوں سے تعلقات پیدا کرنے کی جو بنیاد پڑی تو روز بروز اسے ترقی ہی ہوتی گئی۔ امیروں کی وضع میں داخل ہو گیا کہ اپنا شوق پورا کرنے یا اپنی شان دکھانے کے لیے کسی نہ کسی بازاری حسن فروش سے ضرور تعلق رکھتے۔ حکیم مہدی کا سا قابل، ہوشیار اور مہذب و شائستہ شخص جو وزیر اعظم کے رتبے تک پہنچ گیا تھا، اس کی ترقی کی بنیاد پیارو نام ایک رنڈی سے پڑی، جس نے دستور کی رقم اپنے پاس سے ادا کر کے اسے ایک صوبے کی نظامت کا عہدہ دلوایا تھا۔ ان بےاعتدالیوں کا ایک ادنیٰ کرشمہ یہ تھا کہ لکھنؤ میں مشہور تھا کہ "جب تک انسان کو رنڈیوں کی صحبت نہ نصیب ہو آدمی نہیں بنتا۔" آخر لوگوں کی اخلاقی حالت بگڑ گئی۔ اور ہمارے زمانے تک لکھنؤ میں بعض ایسی رنڈیاں موجود تھیں جن کے گھر میں علانیہ اور بےحیا کیے چلا جانا اور ان کی صحبت میں رہنا معیوب نہ سمجھا جاتا۔ بہر تقدیر اس چیز نے ایک بڑی حد تک ان کے عادات و خصائل بگاڑ دیے، گو کہ اس کے نتیجے میں انھیں نشست و برخاست کا سلیقہ بھی آ گیا۔
رہے عورتوں کے اخلاق و عادات، اس بارے میں ہمارا عام دعویٰ ہے کہ جن لوگوں میں زناکاری کا شوق ہو ان کی عورتیں پارسا نہیں ہو سکتیں۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لکھنؤ میں عورتوں کے اخلاق اتنے خراب نہیں ہوئے جتنے کہ مردوں کے خراب ہوئے تھے۔ ملنساری اور اپنی ملنے والیوں کے ساتھ ادب و تعظیم سے ملنا عورتوں میں بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ مردوں میں تھا۔ کسی زمانے میں چرخہ کاتنا شریف عورتوں کا شریفانہ مشغلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب اگرچہ سوت کی کلوں نے اس مشغلے کو بالکل بیکار اور بےنتیجہ کر دیا، مگر شوقینی و امارت نے اس سے پہلے ہی یہ مشغلہ یہاں کی عورتوں سے چھڑا دیا تھا۔ یہاں اس کے عوض عورتوں کو سینے پرونے، کاڑھنے، گھروں کی صفائی کا انتظام کرنے، ماماؤں، لونڈیوں اور پیش خدمتوں سے کام لینے اور بننے سنورنے کا زیادہ شوق تھا۔ اور بیویوں کو گھر کے کاموں اور شوہر اور بچوں کے کپڑوں سے اتنی فرصت نہ ملتی تھی کہ جن لہو و لعب کے کاموں میں مرد مبتلا ہو گئے تھے ان میں وہ بھی مبتلا ہوں۔ درحقیقت اس دور میں مرد گھروں میں بیٹھے کھیلا کرتے تھے، گھربار اور دنیا کا سارا کارخانہ فقط عورتوں کے دم سے چل رہا تھا۔
مگر امیروں کے محلوں میں جب سارا کاروبار ماماؤں، مغلانیوں، پیش خدمتوں اور اناؤں کے ہاتھ میں ہو گیا تو عالی مرتبہ بیگموں کے سامنے مجرا کرنے کے لیے ڈومنیوں کے طائفے ملازم ہوئے۔ اور جن محلوں میں مستقل طور پر ڈومنیاں نوکر نہ تھیں وہاں شہر کی عام ڈومنیوں کی جلد جلد آمد و رفت رہتی، اور آئے دن وہ طبلہ سارنگی لیے ڈیوڑھی پر کھڑی ہی رہتیں۔ اس لیے ان کے سیکڑوں طائفے شہر میں موجود تھے۔ ڈومنیوں کا مذاق جہاں تک مجھے معلوم ہے نہایت فحش اور بیہودہ ہوا کرتا ہے، اور ان کی صحبت عورتوں پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈال سکتی ہے۔ چنانچہ جس طرح مردوں کی بداخلاقی کی باعث رنڈیاں تھیں، عورتوں کا اخلاق بگاڑنے کی باعث ڈومنیاں ہو گئیں۔
لیکن شرفا کے خاندان ڈومنیوں کی صحبت سے بچے ہوئے تھے، اور اس لیے ان کی عورتیں اس مضرت سے بچی رہیں، جو عمدہ خصائل و اخلاق کا بہترین نمونہ ہیں۔ لکھنؤ کی عورتوں کا کیرکٹر ہے کہ وہ شوہر پر اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کو تیار رہتی ہیں، اپنی ہستی کو شوہر کی ہستی کا ایک ضمیمہ تصور کرتی ہیں۔ اور بعض اور شہروں کی عورتوں کی طرح جو خانہ داری کے سلیقے میں لکھنؤ والیوں سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہیں، یہاں کی عورتوں کو کبھی یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ اپنا روپیہ شوہر سے چھپا کے الگ جمع کریں، اور شوہر کی بیماری میں بھی اپنی دولت صرف کرنے میں تامل کریں۔ لکھنؤ کی عورتیں وہاں کی عورتوں کی سی ہنرمند نہیں، اور گھر گرستی کے کام میں ان کے مقابل پھوہڑ ہیں، حد درجے کی مسرف ہیں، چٹوری ہیں، مگر شوہر کا ساتھ دینے اور اس پر اپنی جان قربان کر دینے میں سب سے اول ہیں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.