
Глава 42 из 56
Deportment
نشست و برخاست
(۴۱)
(۵) معاشرت میں پانچویں چیز نشست و برخاست ہے۔ ہر متمدن قوم میں نشست و برخاست کے مختلف قوانین اور اصول موضوعہ ہوا کرتے ہیں، اور انھیں سے اس قوم کی ترقی و تہذیب کا درجہ قائم ہوا کرتا ہے۔ اگر آپ عیسائیوں کے متمدن شہروں پیرس، لندن اور برلن میں یا مسلمانوں کے مہذب بلاد قسطنطنیہ، طہران اور شیراز میں جائیے اور وہاں کے مہذب لوگوں کی صحبت میں شریک ہو جیے تو نظر آئے گا کہ ان میں نشست و برخاست کے اخلاقی قوانین کس قدر سخت ہیں۔ مگر ہندوستان کے بڑے تاجرانہ شہروں میں آپ جائیں اور وہاں کے امرا و معززین سے ملیں تو آپ کو اخلاقی قوانین تہذیب کا بالکل پتہ نہ چلے گا۔ مگر ان شہروں میں جہاں کوئی خاص دربار قائم ہے یا رہ چکا ہے، مثلاً حیدرآباد دکن، بھوپال اور رامپور وغیرہ، معززہ وطنی درباروں کے قائم ہونے کی برکت سے عوام و خواص سب میں حفظ مراتب کے قواعد نظر آئیں گے۔ بخلاف تاجرانہ شہروں کے، جہاں تمیزداری، ادب اور حفظ مراتب کا نام و نشان بھی نہ ہوگا۔
دہلی میں اگلے دنوں یہ اخلاقی اصول یقیناً سب جگہ سے زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے، اس لیے کہ وہاں کا دربار سب سے بڑا تھا اور صدیوں سے قائم چلا آتا تھا۔ مگر وہاں تجارت پیشہ اقوام کے سوسائٹی پر غالب آنے کی وجہ سے اگلی ساری تہذیب خاک میں مل گئی۔ نشست و برخاست کی بنیاد امارت، ریاست اور حکومت سے پڑتی ہے۔ حکومت و ریاست بتاتی ہے کہ چھوٹوں کو بڑوں سے اور بڑوں کو چھوٹوں سے کیونکر ملنا چاہیے، اور برابر والوں سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔ مگر تجارت کو ان امارت کے چوچلوں اور اخلاقی تکلفوں سے دشمنی ہے۔ وہ معاملت اور خودغرضی کے آغوش میں پلتی ہے، اور سلف سیکری نا کسر یعنی اپنے وقت اور اپنے روپیے، اپنے ہنر اور اپنی دولت کو بےوجہ کسی پر قربان کر دینے کو حماقت اور لغویت بتاتی ہے۔ بخلاف اس کے ریاست کا جوہر یہ ہے کہ بےغرضی کے ساتھ اپنے طرفداروں یا قابل لوگوں سے مراعات کی جائے۔ اور اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جہاں تجارت کو فروغ ہوگا اور تاجروں کی معاشرت خوش باش امیروں اور شریفوں کی معاشرت پر غالب آ جائے گی وہاں کوئی اخلاقی قانون نہیں باقی رہ سکتا۔ چنانچہ اس چیز نے دہلی کے اگلے عظیم الشان درباروں کی ساری آن بان مٹا کے رکھ دی، اور وہ بات نہیں باقی رہی جو اس کی ناموری کی تاریخ کے شایان تھی۔
دہلی کی تہذیب کو جب تاجروں کا ہجوم تباہ کرنے لگا تو اس نے اپنے قدیم وطن سے بھاگ کے لکھنؤ کے چھوٹے دربار میں پناہ لی، جو اگرچہ چھوٹا تھا مگر اس کی سواد میں داخل ہونے کے بعد کسی کو نہ نظر آ سکتا تھا کہ دنیا میں یہاں سے بڑا کوئی اور دربار بھی ہے۔ پھر یہاں آزادی سے بیٹھ کے شرفائے دہلی نے اپنے قوانین نشست و برخاست کو برتنا شروع کیا تو چند ہی روز میں یہ حالت ہو گئی کہ اکیلا لکھنؤ ہی سارے ہندوستان میں تہذیب و شائستگی اور آداب نشست و برخاست کا مرکز تھا، اور تمام شہروں کے مہذب لوگ اہل لکھنؤ کی تقلید اور پیروی کر رہے تھے۔ ان مراتب کا قائم کرنا کہ کس شخص کا استقبال دروازے تک آ کے کرنا چاہیے، کس کے لیے فقط کھڑے ہو جانے کی ضرورت ہے، کس کے لیے نیم خیز ہو کے، اور کس کے لیے اپنی جگہ پر بیٹھے ہی بیٹھے "آئیے تشریف لائیے" کہہ دینا کافی ہے، زیادہ تر اپنے دلی فیصلے اور اجتہاد پر موقوف ہے، اور اس اجتہاد کا جیسا ملکہ لکھنؤ کے مہذب شرفا کو حاصل ہے کسی کو نہیں۔
یہاں کوئی برابر والا آئے گا تو کھڑے ہو کے تعظیم دیں گے، اس کے لیے بہترین جگہ خالی کریں گے، اور جب تک وہ بیٹھ نہ جائے گا خود نہ بیٹھیں گے۔ اس کے سامنے ادب اور تمیزداری سے بیٹھیں گے، چہرہ بشاش رکھیں گے تاکہ اس کو کسی قسم کا تنغص نہ ہو۔ جب وہ کوئی چیز دے گا تو ادب سے تسلیم کر کے لیں گے۔ اس کا پورا خیال رکھیں گے کہ ہماری کوئی حرکت اسے ناگوار نہ ہو۔ اور اس کی صحبت میں کسی اور ضروری کام کی طرف توجہ کریں گے تو اس سے معذرت خواہ ہو کے اور معافی مانگ کے توجہ کریں گے۔ کہیں اٹھ کے جانے کی ضرورت پیش آئے گی تو اس سے اجازت لے کے جائیں گے۔ اگر اس کے ساتھ جانے کی نوبت آئے تو راستے میں اس کے پیچھے رہیں گے اور اسے آگے بڑھائیں گے۔ اصول تہذیب کی پابندی میں وہ بھی اصرار کرے گا کہ "پہلے آپ تشریف لے چلیں"۔ لیکن ادھر سے بار بار یہی کہا جائے گا کہ "جناب آگے تشریف لے چلیں، میں کس قابل ہوں"۔ اور اگر وہ کسی طرح نہ مانے اور مجبور ہی کر دے تو شکرگزاری میں آداب بجا کے آگے قدم بڑھائیں گے بھی تو اس انداز سے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ ہو۔
اکثر لوگ ان آداب کا مضحکہ اڑاتے ہیں، اور ضرب المثل ہو گیا ہے کہ دو لکھنؤ والے "پہلے آپ"، "پہلے آپ" کہتے رہے اور ریل چھوٹ گئی، چنانچہ دونوں اسٹیشن پر پڑے رہ گئے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر چیز کا اعتدال سے گزر جانا برا اور مضر ہو جاتا ہے۔ مگر کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آداب معاشرت کی نگہداشت اہل لکھنؤ کے اخلاق میں اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کے برتنے میں انھیں ضرر پہنچ جانے کا بھی خیال نہیں رہتا؟ جو لوگ تہذیب و شائستگی سے معریٰ ہیں جو اعتراض چاہیں، لیکن ایک مہذب و شائستہ آدمی ان باتوں کو بجائے عیب کے اخلاقی جوہر تسلیم کرے گا۔
اب تو سب شہروں کی طرح یہاں بھی میز کرسیوں اور انگریزی فرنیچر کا رواج ہو گیا ہے، مگر پہلے نشست فرش کی تھی جو حسب حیثیت و دولت قیمتی اور پرتکلف ہوا کرتا۔ اگر کوئی ہم رتبہ غیر یا بزرگ اور واجب التعظیم شخص آ جاتا تو اسے گاؤ کے آگے بٹھا کے سب لوگ حاضرین صحبت کی تعداد کے مطابق چھوٹا یا بڑا حلقہ باندھ کے مؤدب اور دو زانو بیٹھ جاتے۔ جس کسی سے وہ بات کرتا وہ شخص ہاتھ جوڑ کے نہایت ہی فروتنی سے جواب دیتا، اور اس کے سامنے زیادہ باتیں کرنا یا اپنی آواز کو اس کی آواز پر بلند کرنا اخلاقی جرم خیال کرتا۔
لیکن اگر سب برابر والے حریفان صحبت اور یاران ہم مذاق ہوتے تو نشست میں بےتکلفی رہتی، اور باوجود ہم رتبہ و ہم سن ہونے کے بےتکلفی پر بھی سب ایک دوسرے کا ادب کرتے۔ اس کا خیال رہتا کہ کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو، اور کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے جس سے کسی کی سبکی یا اس کی عزت کرنے سے بےپروائی ثابت ہو۔ نوکر اور خدمتگار پاس یا اس فرش پر نہ بیٹھ سکتے جس پر یاران صحبت بیٹھے ہوتے۔ وہ تعمیل احکام کے لیے سامنے ادب سے کھڑے ہوتے یا نظر سے غائب کسی قریب ہی ایسے مقام پر ٹھہرتے جہاں تک آواز پہنچ جائے۔ اور ان کا ہر وقت کھڑا رہنا یا زیادہ باتیں کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا۔
وہ خاصدان یا حقہ لا کے لگاتے تو صاحب خانہ اپنے ہاتھ سے دوستوں کے سامنے بڑھاتا، اور وہ اٹھ کے اور تسلیم کر کے لیتے۔ بےتکلفی کی صحبتوں میں خردوں کا بےضرورت آنا نامناسب تھا۔ اگر کبھی ضرورت سے وہ آ جاتے تو باپ کے آگے دوستوں کو نہایت ہی ادب سے جھک کے آداب بجا لاتے، اور ان کے آتے ہی بزرگوں کی صحبت بےتکلف سے مہذب بن جاتی۔ اور جس طرح وہ خرد سب کی بزرگی کا ادب کرتا اسی طرح بزرگ اس کی خردی کا پاس کر کے اپنی بےتکلفیاں چھوڑ دیتے۔
یہاں کی صحبت میں روز کے ملنے والوں سے مصافحے یا معانقے کا رواج نہ تھا۔ مصافحہ مقتدایان قوم کی دست بوسی تک محدود تھا، اور معانقہ صرف ان دوستوں کے لیے تھا جو کسی سفر سے واپس آئیں یا مدت کے بعد ملیں۔
زنانے میں مرد جاتے تو عورتوں کا احترام کرتے۔ ان کے سامنے ممکن نہ تھا کہ وہ زیادہ بےتکلفی برتیں یا ان میں زیادہ نشست رکھیں۔ میاں بیوی میں بےتکلفی لازمی تھی، لیکن گھر کی بزرگ عورتوں کے سامنے وہ بھی ہرگز بےتکلف نہ ہوتے۔ دیہات کے شرفا میں معمول تھا کہ نئی دلھن جب تک چار پانچ بچوں کی ماں نہ ہو جائے گھر کی تمام عورتوں کے سامنے شوہر سے پردہ کرتی، اور مجال نہ تھی کہ کوئی عزیز مرد یا عورت اسے شوہر کے پاس یا شوہر کو اس کے پاس جاتے دیکھ لے۔ یہ سختی شہر کے شرفا میں نہ تھی۔ شہر کے خاندانوں میں میاں بیوی ابتدا ہی سے ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے، مگر یہ معیوب تھا کہ ماماؤں اور پیش خدمتوں کے سامنے بھی باہم بےتکلفی اختیار کریں۔
عورتوں کی باہمی صحبت سوا بڑے بڑے امیروں کے گھرانے کے نسبتہً بےتکلف رہتی۔ ان میں مہمان آنے والی بیویوں کے ساتھ ایک معتدل درجے تک تکلف رہتا، مگر اس تکلف کے ساتھ خلوص اور یکجہتی کا اظہار زیادہ ہوتا۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.