
第 40 章,共 56 章
Furniture, Style and Appearance
آرائش خانہ اور وضع قطع
(۳۹)
معاشرت میں دوسری چیز مکانوں کا فرنیچر یعنی وہ سامان ہے جس سے مکان آراستہ کیے جاتے ہیں۔ ان دنوں آج کل کی سی میز کرسیاں نہ تھیں، بلکہ خاص ہندوستانی اور اسلامی مذاق کا سامان تھا۔ مکانوں میں تختوں کے چوکے ہوتے، پلنگ ہوتے، یا تختوں کے اوپر بچھانے کے لیے نازک اور خوشنما پلنگڑیاں ہوتیں۔ غریبوں اور متوسط حیثیت والوں کے یہاں بانوں کے پلنگ ہوتے، اور امرا کے گھروں میں علی العموم نواڑ کے پلنگ ہوا کرتے۔
نفیس طبع لوگوں کے گھروں کی یہ شان ہوتی کہ جھاڑو دی ہوئی ہے، دیواروں پر سفیدی پھری ہے، چھت پر اجلی سفید چھت گیری کھنچی ہوئی ہے جس کے چاروں طرف چنٹ دی ہوئی جھالر لٹک رہی ہے۔ دالان کمرے یا صحن میں تختوں کا چوکا ہے، اس پر دری ہے، اور دری پر سفید براق چاندنی جو اس نفاست سے کھینچ کے بچھائی گئی ہے کہ شکن کا کہیں نام نہیں۔ چاروں کونوں پر سنگ مرمر کے گنبد نما میر فرش فرش کے کونوں کو دبائے ہوئے ہیں، تاکہ ہوا میں چاندنی اڑنے نہ پائے یا اس میں شکنیں نہ پڑیں۔
اوپر اجلا فرشی پنکھا ہے۔ اس کا بھی بعد کے زمانے میں رواج ہوا، ورنہ دراصل ان مکانوں کی زینت دستی پنکھوں سے ہوتی، جو حسب مرتبہ اور درجۂ رتبہ بڑے تکلف و اہتمام سے بنا کے جاتے۔ اور ان کا حال ہم آئندہ کسی موقع پر بیان کریں گے۔ اس چوکے اور فرش پر، خواہ کمرے کے اندر ہو یا باہر، ایک جانب جو صدر مقام قرار پا جاتا، نواڑ کا نفیس اور خوبصورت پلنگ بچھا ہوتا۔ پلنگ کے اوپر گرمیوں میں دری اور جاڑوں میں توشک ہوتی، اور اس کے اوپر ایک اجلی چادر بچھی رہتی۔ پلنگ کی چادروں میں شاہی محلوں یا ان کے ہم رتبہ محلسراؤں میں ایک نیچی، زمین کے قریب تک کی چنٹ دار جھالر چاروں طرف ٹنکی ہوتی، جو پلنگ میں ایک خاص شان پیدا کر دیتی۔ چاروں پاؤں پر بچھونے کے چاروں کونے ریشم کی رنگین ڈوریوں سے ایک خوشنما بندش سے باندھ دیے جاتے، تاکہ لیٹنے اور کروٹیں بدلنے میں بچھونا کھنچنے اور اپنی جگہ سے سرکنے اور ہٹنے نہ پائے۔
سرہانے پلنگ کے عرض کے برابر مربع مستطیل قطع کے پتلے پتلے چار نہایت ہی نرم تکیے ہوتے۔ یہ تکیے اکثر شالباف (ٹول) کے ہوتے، اور ان پر تنزیب یا باریک ململ کے سفید غلاف چڑھے ہوتے، جن میں ٹول کی سرخی اپنی جھلک دکھاتی، اور وہ پراٹھے کی پرتوں کی طرح تلے اوپر رکھے جاتے۔ پھر ان کے اوپر ادھر ادھر اسی کپڑے کے دو ننھے ننھے نرم گل تکیے ہوتے، تاکہ کروٹ سے لیٹنے میں گالوں کے نیچے رہیں۔ یہ گل تکیے ہاتھ کی ہتھیلی سے زیادہ بڑے نہ ہوتے۔ اس کے بعد بچھونے پر دونوں جانب دونوں پٹیوں کی جانب دو گول تکیے یا لمبی تکیاں رہتیں جن کو کروٹ سے لیٹتے وقت رانوں کے نیچے دبا لینے میں آرام ملتا۔ پائنتی دولائی، رضائی یا لحاف موسم کے مناسب لگا دیے جاتے۔ اور دن کو جب کوئی لیٹنے والا نہ ہوتا سارے پلنگ پر ایک پلنگ پوش پڑا رہتا۔
چوکے پر پلنگ کے آگے صدر نشینی کے لیے فرش کے اوپر ایک قالین سندل کی وضع میں بچھا دیا جاتا، اور قالین پر پلنگ سے ملا ہوا گاؤ ہوتا، جس پر روز کے استعمال کے لیے تو سفید غلاف رہتا مگر اعلیٰ تقریبوں کے موقعوں پر نہایت قیمتی ریشمی اور اکثر کارچوبی کام کے غلاف چڑھا دیے جاتے۔
اور اگر چوکے پر پلنگ نہ ہوتا تو اس کے کسی ایک رخ پر جو مناسب معلوم ہو مسند تکیہ ہوتا اور اسی پر نشست ہوتی۔
دیواروں پر اگرچہ کبھی کبھی تصویریں ہوتیں، مگر تصویروں کا جس قدر اب رواج ہے ان دنوں نہ تھا، بلکہ تصویروں کے عوض عمدہ قطعات جن پر بڑی نفاست سے نقش و نگار بنائے جاتے، فریم میں جڑ کے دیواروں پر لگا دیے جاتے۔
ان قطعات کا اس زمانے میں رؤسا کو اس قدر شوق تھا کہ انھیں کے لکھنے اور تیار کرنے پر خوشنویسوں کی زندگی بسر ہوتی۔ اور سچ یہ ہے کہ اسی شوق نے اس زمانے میں وہ نامور و باکمال خوشنویس پیدا کر دیے جو سوا قطعات لکھنے کے کتابت کو اپنے لیے ننگ اور اپنے معمولی شاگردوں کا کام سمجھتے۔
تختوں کے علاوہ صحن، ڈیوڑھی اور دروازے کی باہر کی نشست کے لیے مونڈھے ہوتے، جو اگرچہ اب بھی کہیں کہیں نظر آ جاتے ہیں، مگر ان دنوں شریفوں کا کوئی گھر ان سے خالی نہ تھا۔ یہ سینٹھے اور بانس سے بنائے جاتے، اور جن گھروں میں ان کا زیادہ اہتمام ہوتا ان میں ان مونڈھوں پر بکری کی خشک کھال جس میں بال موجود ہوتے چڑھا دی جاتی، یا مضبوطی کے لیے وہی بالدار چمڑا فقط ان کے کناروں پر چڑھا ہوتا۔ یہ مونڈھے ان دنوں بڑی بکار آمد چیز تھے۔
امرا کے سوا جو زنانے اور مردانے دو مکان رکھتے تھے، عوام اور اکثر متوسط طبقے والے فقط ایک ہی مکان پر زندگی بسر کرتے۔ اب علی العموم کوشش کی جاتی ہے کہ ہر مکان میں دروازے کے پاس کوئی بیرونی کمرہ ضرور موجود ہو۔ ان دنوں اس کا چنداں خیال نہ تھا، بلکہ ڈیوڑھی میں، اور اس میں گنجائش نہ ہوتی تو دروازے کے باہر ہی مونڈھے ڈال کے لوگ احباب سے ملتے، اور اس میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا جاتا۔
کمروں اور دالانوں کے اندر اکثر طاقوں پر خوشنمائی و زیبائش کے لیے کاغذ کے گلدستے رکھ دیے جاتے۔
دالانوں کی محرابوں کے لیے عموماً پردے ضروری سمجھے جاتے، مگر آج کل سینٹھوں، سرکیوں یا ٹاٹ کے پردوں کا جو رواج ہے ان دنوں نہ تھا، بلکہ اس قسم کے پردے معیوب سمجھے جاتے۔ اور ان کی جگہ ٹول یا جاجم کے روئی دار پردے تیار کرائے جاتے، جو اکثر بندھے رہتے، فقط ضرورت کے اوقات میں کھول کے لٹکا دیے جاتے۔ زنانی محلسراؤں کے بیرونی دروازوں پر بھی اسی قسم کے پردے ہوتے، جس کے پاس کوئی ماما یا کہاری اکثر کھڑی نظر آتی۔
(۳) وضع قطع۔ اس کا ذکر لباس کے سلسلے میں آ چکا ہے۔ مگر اس موقع پر ہمیں یہ بتانا ہے کہ ان دنوں شرفا کے مذاق میں اپنے گھر پر اندر یا باہر پورے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، بلکہ سر سے پاؤں تک برہنہ رہنا اور فقط ایک ٹول کی غرقی یعنی مختصر سی لنگی باندھے رہنا معیوب نہ تھا۔ یہ غرقی اس قطع کی ہوتی کہ جانگھیا کی طرح بجز ستر پوشی کے ٹانگیں بھی ننگی رہتیں۔ فی الحال ہمارے شرفا اپنے گھر پر بھی اندر یا باہر بنیائن، کرتا اور پائجامہ پہنے رہنا لازمی سمجھتے ہیں۔ مگر جس عہد کا ہم ذکر کر رہے ہیں ان دنوں بیٹھے بٹھائے ہر گھر میں اتنے کپڑے پہنے رہنا وضعداری کے خلاف تھا۔ اس وقت بہت سے ایسے لوگ تھے جو فقط گھر سے نکلتے وقت انگرکھا پائجامہ پہن لیتے، اور اس طریقے سے ایک جوڑا کو مہینوں تک نباہ لے جاتے، اور کپڑوں کی یہ حالت ہوتی کہ معلوم ہوتا آج ہی دھل کے آئے ہیں۔ معمول تھا کہ دھوبی کے وہاں سے آیا ہوا انگرکھا پہنا جاتا تو اس کی دامن، گوٹ اور آستینیں چنی جاتیں، اور اس چنا وٹ کے نشان مہینوں اسی طرح برقرار رہتے۔
ہاں عورتوں کے لباس میں البتہ کوئی فرق نہ آتا۔ وہ اپنے گھر میں اتنے ہی کپڑے پہنے رہتیں جتنے کہیں مہمان جانے میں پہنتیں۔ یہ اور بات ہے کہ آنے جانے کا جوڑا بھاری اور قیمتی ہوتا، اور گھر میں پہننے کا معمولی۔ کسی کے وہاں مہمان جانے کی صورت میں مرد اور عورت دونوں عمدہ نفیس اور بھاری پوشاکیں پہن کے جاتے، اور لباس کی عمدگی کی وجہ سے مردانی و زنانی دونوں صحبتیں بہت صاف ستھری اور بارونق رہتیں۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。