Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 39 de 56

Social Life: Houses

معاشرت: مکان

Abdul Halim Sharar

Escritura
Tamaño

(۳۸)

کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی بحث ختم کر کے اب ہم ان چیزوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جن کو سوسائٹی اور میل جول سے خصوصیت ہے، اور جن پر شاہ اور اپنے مذاق کا تصرف کر کے لکھنؤ نے انھیں اپنا بنا لیا۔

دنیا کے ہر ملک میں میل جول اور معاشرت کا ایک تمدن قائم ہو جاتا ہے، جس میں زیادہ تر تعلق وضع قطع، اخلاق و عادات، نشست و برخاست، طرز کلام، طریقۂ مذاق، مکان اور فرنیچر وغیرہ کو ہوتا ہے۔ اور ان باتوں کے بعد اس سامان زندگی کو جس کی اس سوسائٹی کو ضرورت ہو۔ فطری طور پر یہ چیزیں ہر گروہ، ہر طبقے اور ہر شہر و قریے میں پیدا ہو جاتی ہیں، اور آج بھی دنیا میں پھر کے دیکھیے تو ہر جگہ سوسائٹی کی خاص نوعیت اور اس کے خصوصیات نظر آ جائیں گے۔ مگر جن مقاموں میں کوئی معزز دربار قائم ہو جاتا ہے اور علم و ادب کو ترقی ہوتی ہے وہاں کی سوسائٹی ایک بڑے حصۂ ملک کو اپنا تابع بنا کے اس کے ہر شہر و قریے کی معاشرت کا مرجع اور اصول تہذیب کا مرکز بن جاتی ہے۔

ہندوستان میں تہذیب و تمدن اور آداب سوسائٹی کا اصلی مرکز یقینی طور پر دہلی تھی، اس لیے کہ بہت سی صدیوں تک وہ ہندوستان میں حکومت کا مرکز اور علم و فضل کا منشا و مستقر رہ چکی ہے۔ سارا ہندوستان اس کے زیر نگین تھا، اور وہاں کی صحبت کے تربیت یافتہ تمام صوبوں کے حاکم اور ادب آموز ہوا کرتے تھے۔ لکھنؤ کے لیے اس کے مقابل میں نہ کوئی خصوصیت ہے اور نہ اسے کوئی امتیاز حاصل ہو سکتا ہے۔ مگر اس محل پر لکھنؤ کا نام لیا جانے کی اگر کوئی وجہ ہو سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ زمانے کے اتفاق سے پچھلی صدی میں وہی دہلی کی معاشرت پوری پوری لکھنؤ میں منتقل ہو آئی، اور وہیں کے امرا و شرفا، علما و شعرا، اتقیا و صلحا سب کے سب لکھنؤ میں چلے آئے۔ اور جو دربار دہلی میں اجڑتا تھا لکھنؤ میں آ کے جمع ہوتا، اس لیے کہ وہاں کے تمام وضعدار لوگ ایک ایک کر کے سب یہیں چلے آئے، اور یہاں اطمینان حاصل ہو جانے کی وجہ سے اپنی ترقی یافتہ معاشرت پر اور ترقیاں کرنے لگے۔ اور پھر لطف یہ کہ دہلی والوں کی جو معاشرت اودھ میں آ کے قائم ہوئی تھی اس میں سوا دہلی والوں کے کوئی غیر شخص نہ تھا، حتیٰ کہ لکھنؤ کے پرانے معزز باشندوں کو بھی اس میں بالکل جگہ نہیں ملی۔

لہٰذا لکھنؤ کی معاشرت دراصل دہلی کی معاشرت اور وہیں کی ترقی یافتہ سوسائٹی کا آخری نمونہ ہے۔ اس پچھلی صدی میں دہلی کے پرانے تمدن کے دو اسکول ہو گئے تھے: ایک وہ جو خاص دہلی میں موجود تھا، اور دوسرا وہ جو لکھنؤ میں منتقل ہو آیا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ زوال سے پیشتر کی آخری صدی میں اس اسکول کے لیے جو دہلی میں تھا، دربار مغلیہ کے کمزور پڑ جانے اور دولتمندی کے مٹ جانے کی وجہ سے میدان ترقی میں آگے قدم بڑھانے کا ویسا موقع نہیں نصیب تھا جیسا لکھنؤ والے دہلی کے اسکول کو حاصل تھا۔ اور یہی وجہ ہوئی کہ اس زمانے میں لکھنؤ کا تمدن ترقی کر رہا تھا اور دہلی کے قدیم تمدن کی ترقی رک گئی تھی۔ الغرض یہی ترقیاں لکھنؤ کی سوسائٹی کے خصوصیات ہیں۔ بلکہ غور کرنے سے یہ نظر آتا ہے کہ دہلی میں تمدن و معاشرت کو قدیم شہنشاہی دربار کی برکتوں سے جو ترقی حاصل ہوئی تھی پچھلے دور میں تجارت پیشہ جاہل قوموں کے غلبے اور قدیم خاندانی شرفا کے دیگر بلاد میں منتشر ہونے یا خانہ نشین ہو جانے کے باعث وہ بھی تشریف لے گئی۔ اور سچ یہ ہے کہ اودھ کے شاہی دربار کے ٹوٹ جانے کے بعد سے بیرونی لوگوں کے میل جول اور پرانے مہذب خاندانوں اور ان کے اثر کے مٹ جانے کی وجہ سے جو تہذیب لکھنؤ میں پیدا ہوئی تھی وہ بھی روز بروز رخصت ہوتی جاتی ہے۔

مگر ہمیں اس بدتمیزی کی سوسائٹی اور ان متمردانہ اخلاق و آداب سے بحث نہیں جو غدر کے بعد سے لکھنؤ میں پیدا ہونا شروع ہوئے اور ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہماری غرض محض اس تہذیب کو بتانا ہے جو لکھنؤ کے شاہی دربار کے آغوش میں پرورش پا کے یہاں کی صحبتوں میں پیدا ہو گئی تھی۔

یہاں کی معاشرت کے متعلق اپنے اس مضمون کے سلسلے میں ہم مندرجۂ ذیل امور کو بیان کرنا چاہتے ہیں: (۱) مکان، (۲) فرنیچر، (۳) وضع قطع، (۴) اخلاق و عادات، (۵) نشست و برخاست، (۶) صاحب سلامت و مزاج پرسی، (۷) طرز کلام، (۸) طریقۂ مذاق، (۹) شادی و غمی کی محفلیں، (۱۰) مجلسیں، (۱۱) مولد شریف کی محفلیں۔ پھر ان کے بعد ہم ان چیزوں کو بیان کریں گے جو لوازم صحبت اور سامان معاشرت ہیں۔

(۱) مکان۔ دہلی اور لکھنؤ میں مکانوں کے متعلق پرانا مذاق یہ تھا کہ ظاہری نمائش اور شانداری صرف شاہی قصروں اور ایوانوں کے لیے مخصوص تھی۔ امرا و تجار اپنے رہنے کے لیے جو مکان تعمیر کراتے وہ اندر اندر سے چاہے کیسے ہی وسیع اور نفیس ہوں مگر ان کی ظاہری حالت بالکل معمولی مکان کی سی ہوتی۔ اور اس میں مصلحت یہ تھی کہ جو مکان ظاہر میں شاندار ہوتے اکثر بادشاہوں کو پسند آ جاتے، اور بنوانے والوں کو ان میں رہنا بہت کم نصیب ہوتا۔ ساتھ ہی یہ بھی تھا کہ رعایا میں سے کسی کا تعمیر مکان میں شاہانہ اولوالعزمی دکھانا تمرد و سرکشی پر محمول کیا جاتا، اور اسے سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنا دشوار ہو جاتا۔

اسی وجہ سے آپ کو دہلی میں مقبروں کے سوا قدیم الایام کی ایک بھی ایسی عمارت نہ نظر آئے گی جو عالیشان ہو اور رعایا میں سے کسی عالی مرتبہ امیر یا دولتمند تاجر کی بنوائی ہوئی ہو۔ لکھنؤ میں بھی ابتداءً یہی حال تھا۔ نواب آصف الدولہ اور نواب سعادت علی خاں کے زمانوں میں دولتمند فرانسیسی تاجر مسیو مارٹن نے دو ایک عالیشان عمارتیں تعمیر کیں، مگر ان کی تعمیر میں اصلی منشا یہ تھا کہ فرمانروائے شہر کو پسند آئیں اور اس کے ہاتھ فروخت کر ڈالی جائیں۔ انھیں عمارتوں میں لا مارٹینیر کالج ہے، جس پر نواب سعادت علی خاں کی جزرسی کی وجہ سے اسٹیٹ کا قبضہ نہ ہو سکا۔ یہ وہی کوٹھی ہے جو فی الحال عوام میں "مارکین صاحب کی کوٹھی" کے نام سے مشہور ہے۔

اس کے بعد یہاں کے ایک وزیر روشن الدولہ نے اپنے رہنے کے لیے ایک عمدہ عمارت بنوائی تھی، جس کا انجام یہ ہوا کہ سلطنت کے حکم سے ضبط کر لی گئی، اور انتزاع سلطنت کے وقت اس کا شمار مقبوضات شاہی میں تھا۔ چنانچہ انگریزی دور میں وہ سرکاری جائداد ہونے کے باعث گورنمنٹ کے قبضے میں آ گئی، اور روشن الدولہ کے ورثا کو نہیں دی گئی۔ مگر آج تک وہ روشن الدولہ کی کوٹھی کہلاتی ہے، گو کہ اس میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر اور ان کے اسسٹنٹ اجلاس کرتے ہیں۔

رعایا کے عام مکانوں کی وضع یہاں یورپ کے کوٹھی نما مکانوں سے بالکل جداگانہ ہوتی ہے۔ یورپ میں مکان کے اندر صحن کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی پردہ نہ کرنے کی وجہ سے باہر جا کے کھلی فضا میں ہوا کھا لیتی ہیں۔ لہٰذا وہاں کے خلاف یہاں ضرورت ہے کہ مکان کے اندر صحن ہوا کرے، تاکہ عورتیں گھر کے اندر ہی کھلی فضا کا لطف اٹھا سکیں۔

اس ضرورت اور یہاں کی معاشرت کے دیگر تقاضوں نے یہاں کے مکانوں کی عام قطع یہ کر دی ہے کہ بیچ میں صحن، اس کے گرد عمارت۔ اس عمارت میں ایک رخ صدر قرار دے دیا جاتا ہے، اور ادھر اینٹ چونے کے ستونوں پر کم از کم تین اور کبھی اس سے زیادہ محراب دار در قائم کیے جاتے ہیں۔ محرابیں عموماً شاہجہانی محرابوں کے نمونے کی ہوتی ہیں، یعنی ان میں چھوٹی چھوٹی قوسوں کو خوشنمائی سے جوڑ کے بڑی محراب بنائی جاتی ہے۔ صدر میں اکثر ایسی محرابوں کے دوہرے تہرے ہال ہوا کرتے ہیں۔ پچھلا ہال کبھی دروازے لگا کے ایک بڑا کمرہ بنا دیا جاتا ہے، اور اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ تقریباً کمر کمر تک اس کی کرسی بلند کر کے وہ شہ نشین بنا دیا جاتا ہے۔

ان بڑے ہالوں کے دونوں پہلوؤں پر کمرے ہوتے ہیں، اور ہال کی چھت اتنی اونچی ہوتی ہے کہ پہلو میں تلے اوپر دو کمرے ہال کی ایک چھت کے اندر آ جاتے ہیں۔

اب صحن کے دونوں پہلوؤں پر اس کے طول کے مناسب دالان، کمرے اور کوٹھریاں بنا دی جاتی ہیں، جن میں باورچی خانہ، پائخانہ، سودی خانہ، زینہ، کنواں اور ماما اصیلوں کے رہنے کے مقامات ہوتے ہیں۔ صدر دالان کے مقابل جانب بھی اگر ضرورت معلوم ہوئی یا استطاعت ہوئی تو ویسے ہی عالیشان دالان ادھر بھی بنا دیے جاتے ہیں جیسے کہ صدر جانب ہوتے ہیں۔ دروازہ اکثر پہلو میں یعنی ان سمتوں میں ہوتا ہے جدھر باورچی خانہ اور شاگرد پیشہ کے رہنے کے کمرے ہوتے ہیں، جس کے سامنے اندر کے رخ پر مقابل اور ایک پہلو میں قدم سے ذرا بلند ایک دیوار قائم کر دی جاتی ہے، تاکہ دروازے سے اندر کا سامنا نہ رہے۔

غریبوں اور اوسط درجے والوں کے مکانوں میں اکثر پختہ محرابوں کے عوض اسی وضع کے چوبی سہ درے قائم کر کے دالان بنا دیے جاتے ہیں، جن میں صدر میں اور کبھی اس کے مقابل جانب بھی دالان در دالان ہوتے ہیں۔ اس قسم کے جو مکان زیادہ مکمل ہوتے ہیں ان میں چاروں طرف سہ درے اور دالان ہوتے ہیں، اور ان کے پہلوؤں میں ایک ایک دروازے کی کوٹھریاں نکلتی ہیں جو مختلف ضروریات کا کام دیتی ہیں، اور انھیں میں سے کسی میں باہر کا دروازہ ہوتا ہے۔

یہ یہاں کے مکانوں کا ایک عام خاکہ تھا۔ مگر اسی مجموعی وضع کو قائم رکھ کے اکثر مکانوں میں نیچے اور ہر جگہ ایسی حکمت اور خوش اسلوبی سے کمرے اور کوٹھریاں نکالی جاتی ہیں کہ تعجب معلوم ہوتا ہے، اتنی تھوڑی سی جگہ میں اتنی مکانیت کیونکر آ گئی۔

فن عمارت کی تاریخ پر نظر ڈالیے تو نظر آئے گا کہ ابتداءً پست عمارتیں بنتی تھیں، پھر بلند اور مضبوط مگر سادی عمارتیں بننے لگیں۔ اس کے بعد زیب و زینت کے لیے ان پر نقش و نگار بننے لگے، پچی کاری کی ایجاد ہوئی، اور عجیب و غریب طریقے سے رنگ آمیزیاں کی جانے لگیں۔ لیکن باوجود ان سب کمالوں کے اب تک بڑے بڑے چوڑے آثاروں کی دیواریں ہوتیں، اور ان میں بڑے بڑے ہال اور دیوان خانے بنا دیے جاتے۔

سب سے بعد کا کمال ہندوستانی عمارت میں یہ تھا کہ درزی کی سی کتر بیونت کر کے تھوڑی سی زمین میں بہت زیادہ مکانیت نکال دی جائے۔ عمارت کا یہ کمال خاص دہلی سے شروع ہوا، وہیں اس نے بڑے اعلیٰ درجے تک ترقی کر لی، وہاں سے سب جگہ پھیلا، اور لکھنؤ میں اس نے سب مقامات سے زیادہ ترقی کی۔

آج کل بڑے بڑے استاد انجینیر موجود ہیں، جنھوں نے بڑی بڑی عالیشان عمارتیں بنائی ہیں۔ وہ نمائشی طور پر عمارت کی ایک نہایت ہی خوبصورت اور شاندار شکل قائم کر دیں گے، لیکن یہ کام فقط پرانے کاریگروں کا حصہ ہے کہ زمین کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر عالیشان عمارت بنا کے کھڑی کر دیں، اور اس میں ہندسانہ کمال سے اتنے دالان، کمرے، کوٹھریاں اور صحنچیاں نکال دیں کہ دیکھنے والے کی عقل چکر میں آ جائے۔ اندرونی پردے کی دیواریں اتنی پتلی، نازک، سبک اور اس کے ساتھ مضبوط ہوں کہ معلوم ہو اینٹ چونے کی دیواریں نہیں، لکڑی کی اسکرینیں ہیں۔

عمارت میں لکھنؤ کی یہی خصوصیت تھی جس کو اگلے دربار نے نشو و نما دیا۔ مگر اب انگریزی عہد میں یہ کمال ناقدری کی وجہ سے مٹتا جاتا ہے۔ پرانے کاریگر فنا ہو گئے، اور جو دو ایک باقی ہیں ان کی قدر نہیں۔

مگر پرانے ہی زمانے سے ہندو مسلمانوں کے مکانوں میں ایک بین فرق چلا آتا ہے جو آج تک موجود ہے۔ ہندو اپنے مکانوں میں صحن بہت چھوٹا اور تنگ رکھتے ہیں، اور بلا لحاظ اس کے کہ ہوا اور روشنی کا گزر ہوگا یا نہیں مکانیت بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ بخلاف اس کے مسلمان کھلے ہوادار مکان چاہتے ہیں، اور مکانیت اسی درجے تک بڑھاتے ہیں جہاں تک کہ ہواداری اور روشن رہنے میں فرق نہ آئے۔ لیکن باوجود مسلمانوں کے اس مذاق کے اگلے کاریگروں نے ان کے ہوادار مکانوں میں بھی اس قدر مکانیت نکالی ہے کہ دیکھنے والے عش عش کر جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس زمانے کے باکمال معمار دروازوں، کمروں کی محرابوں اور دالانوں اور کمروں کی دیواروں پر مختلف رنگوں سے ایسے نفیس اور اعلیٰ درجے کے نقش و نگار بناتے تھے جیسے اب مشکل سے بن سکتے ہیں۔ اور آج کل مصوری کا فن بےشک ترقی کر گیا ہے، مگر معمار جیسی نقاشی در و دیوار پر کیا کرتے تھے وہ مٹ گئی، اور عہد جدید کی سادگی پسندی کی وجہ سے روز بروز مٹتی جاتی ہے۔ تاہم اب بھی یہاں اس کام کے بعض استاد معمار ایسے پڑے ہیں کہ ان کی سی نقاشی شاید کسی شہر کے معمار نہ کر سکیں گے۔ نقش و نگار ہی نہیں، وہ چھتوں اور دیواروں پر اعلیٰ درجے کی تصویریں بھی بنا سکتے ہیں۔

معماروں ہی پر منحصر نہیں، اس وقت کے بڑھئیوں کو بھی یہی کمال حاصل تھا۔ وہ چاہے اعلیٰ درجے کی میزیں، کرسیاں اور الماریاں یا ریلوے ٹرین کی گاڑیاں نہ بنا سکیں، مگر ستونوں، محرابوں اور دروازوں کے چوکھٹ بازوؤں پر ایسے نفیس و نازک نقش و نگار کھود کے بنا دیا کرتے تھے جیسے آج مشکل سے بن سکیں گے۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.