Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 38 sur 56

Cloths, Fashions and Jewellery

کپڑے، وضعیں اور زیور

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۳۷)

لباس کے متعلق لکھنؤ میں تراش و خراش اور کپڑوں کی نوعیت میں روز بروز ترقی ہوتی رہی۔ گرم ملک ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے ادنیٰ طبقے والے سوا ستر پوشی کے اپنا سارا پنڈا برہنہ رکھتے ہیں۔ یہ صرف ان کے افلاس اور اہل ملک کی کم مائگی کے باعث نہیں بلکہ موسم اور آب و ہوا کے تقاضے سے ہے۔ اس کا اثر دہلی میں بھی یہ تھا کہ بجائے گندہ اور گراں کپڑوں کے سبک اور نازک کپڑے اختیار کیے گئے۔ یہاں اس سے بھی زیادہ ترقی ہوئی۔ اور چونکہ اب سپہگری و جنگجوئی کی بہت ہی کم ضرورت باقی تھی، عیش پرستی اور عورتوں کی صحبت بہت بڑھتی جاتی تھی، اس لیے مردوں پر عورتوں کی وضع کا اثر پڑنے لگا، جو اعتدال سے باہر ہو گیا، اور جس قسم کی زینت و آرائش عورتوں کے لیے موزوں ہے مردوں نے اپنی وضع اور اپنے لباس میں اختیار کرنا شروع کر دی۔

خصوصاً اس زمانے سے جبکہ یہاں کے حکمرانوں نے اپنے لیے نواب کا لفظ چھوڑ کے بادشاہ کا لفظ اختیار کیا، نیشاپوری اور سالار جنگی خاندان کے لوگ جو معتدبہ وثیقے اور پنشنیں پاتے تھے بالکل خانہ نشین کر دیے گئے، تو ان کو سوا عورتوں کے کسی کی صحبت ہی نہ نصیب ہوتی تھی۔ اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ ان کے وضع و لباس ہی میں زنانہ پن نہیں پیدا ہوا بلکہ ان کی زبان بھی عورتوں کی سی ہو گئی۔ اور چونکہ وہی شہر کے رئیس اور وضعدار تصور کیے جاتے، لہٰذا اکثر عوام نے بھی انھیں کی پیروی شروع کر دی۔ اور بخلاف دیگر مقامات کے رئیسوں کے یہاں لکھنؤ میں یہ عام وضع ہو گئی کہ سر پر مانگ، اس پر مسالے کی کامدار ٹوپی، کانوں تک بال جن کی کنگھی کرنے میں ماتھے پر دونوں جانب پٹیاں جمائی جاتیں، منہ میں پان، ہونٹوں پر لاکھا، پنڈے میں تین تین کرتیوں کا چست انگرکھا، اس کے نیچے گلبدن کا ریشمی کھنچا ہوا گھٹنا، ہاتھوں میں مہندی، پاؤں میں ٹاٹ بافی یعنی کامدار بوٹ۔ جاڑوں میں انگرکھے کی جگہ نیلے، زرد یا سبز و سرخ اطلس یا گرنٹ کا روئی دار دگلا۔

جاڑوں میں یہاں کے بعض معزز لوگ عموماً شال کی قبائیں پہنتے، مگر دوشالے اور شالی رومال کو سب پسند کرتے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسا شال لکھنؤ والوں میں اب بھی کہیں کہیں نکل آتا ہے ویسا شال ہندوستان کیا معنی شاید خود کشمیر میں بھی اب نصیب نہ ہو سکے گا۔

شال کا شوق یہاں تک بڑھا کہ بہت سے شال بننے والے اور ہزاروں رفوگر اور شال کے دھونے والے کشمیری اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کے لکھنؤ میں آ بسے، جن کا گزشتہ پچاس سال میں اب نام و نشان بھی نہ باقی رہا۔ ان میں سے کوئی بچا بھی تو اس نے کوئی اور پیشہ اختیار کر لیا۔

محرم چونکہ لکھنؤ میں ایک بڑی اہم چیز اور عزاداری کا زمانہ تھا، اس لیے سوگواری اور نفاست و نزاکت کا لحاظ رکھ کے یہاں محرم کے لیے خاص لباس اور خاص زیور ایجاد ہو گیا۔ سیاہ اور نیلے رنگ غم و سوگواری کے رنگ سمجھے گئے۔ اور سبز رنگ اس لیے کہ بنی عباس کے عہد میں ان کے سیاہ رنگ کے مقابل بنی فاطمہ کا رنگ سبز تھا۔ چنانچہ آج بھی ایران و ہند کے بعض فاطمی اپنے سبز عماموں سے سیدوں کی اس قدیم وضع کا ثبوت دے دیا کرتے ہیں۔ بہر تقدیر محرم میں سرخ رنگ ممنوع قرار پایا۔ سبز، نیلا اور سیاہ رنگ، اور ان کے ساتھ زرد رنگ بھی اس موسم کے لیے مناسب سمجھے گئے۔ چنانچہ یہاں محرم میں تمام عورتوں کا لباس انھیں مذکورہ رنگوں سے مناسب جوڑ لگا کے منتخب کیا جاتا۔ سارا زیور بڑھا دیا جاتا، حتیٰ کہ چوڑیاں تک اتار ڈالی جاتیں، جن کے عوض کلائیوں کے لیے ریشم کی سیاہ و سبز پہونچیاں اور کانوں کے لیے سیاہ و زرد ریشم کے کرن پھول ایجاد ہوئے، جو سونے چاندی کے زیور سے بھی زیادہ نفاست کے ساتھ ان کی زیبائی و رعنائی بڑھا دیا کرتے ہیں۔

محرم تو نہایت ہی اہم مہینہ تھا۔ یہاں ہر موسم اور ہر زمانے کے مناسب ایسی ایسی ایجادیں عورتوں کے لباس میں روز ہوتی رہتی تھیں جن کو سارا ہندوستان حیرت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ اور سچ یہ ہے کہ آج سے پچاس سال پیشتر لکھنؤ میں عورتوں کے لباس کی تراش خراش اور روز روز کی تازہ جدتوں کو جو دیکھتا وہ فرانس اور لندن کے فیشن بدلنے کو بھول جاتا۔ اور اسی بنا پر اکثر زبانوں پر جاری ہو گیا کہ لکھنؤ مشرق کا پیرس ہے۔ آج بہت سے سادگی پسند اور ترقی یافتہ معاشرت سے محروم رہنے والے ان تکلفات پر اعتراض کرتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھتے کہ جن درباروں اور شہروں میں تمدن ترقی کرتا ہے وہاں معاشرت و صحبت کے ہر شعبے میں ایسی ہی باتیں پیدا ہو جایا کرتی ہیں، جو ایک فلسفی کی نظر میں چاہے لغو و فضول ہوں مگر وضعداروں کی صحبتیں اور شائستہ لوگوں کی محفلیں ان کو نہایت ہی اہم اور ضروری تصور کرتی ہیں۔

مردوں پر عورتوں کی وضع کے غالب آنے کا اثر اگر کپڑوں کی نزاکت اور تیز اور بھڑکیلے رنگوں تک محدود رہتا تو بہت غنیمت ہوتا۔ یہاں تو بہت سے لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ میاں بیوی کے دگلوں، دوپٹوں، دولائیوں، [illegible] اور پائجاموں میں کسی قسم کا فرق ہی نہیں رہا، بجز اس کے کہ گوٹا پٹھا اور زیور عورتوں کے ساتھ مخصوص تھا۔ مرد شوخ رنگوں کے نازک ریشمی کپڑے بغیر گوٹے پٹھے کے پہنتے۔ مگر یہ مذاق غدر کے بعد انگریزی اثر سے گھٹنے لگا، اور اب صرف چند گنتی کے لوگوں کے سوا کسی میں نہیں باقی رہا۔

مرد خدمتگاروں اور ان کے مختلف طبقات کی طرح یہاں عورتوں کے مختلف طبقوں کی بھی خاص خاص وضعیں قرار پا گئیں۔ انگریزوں کے خانساماں، کوچبان اور سائیس مختلف وردیوں میں رہتے ہیں، مگر وہ وردیاں ان کا اصلی لباس نہیں قرار پا سکیں کہ اپنے گھروں میں بھی وہ ان کو پہنا کرتے ہوں۔ بخلاف اس کے لکھنؤ میں زنانے اور مردانے نوکروں اور اندر باہر کے تمام ملازموں کے لیے جو خاص خاص لباس مقرر ہو گئے تھے وہی ان کی اصلی وضع قرار پا گئے۔ مثلاً جیسے ڈیوڑھیوں کے پہرے والے سپاہیوں اور چوبداروں، ہرکاروں وغیرہ کی خاص اور جدا جدا وضعیں تھیں، ویسے ہی زنانی محلسراؤں میں محلداروں، مغلانیوں اور کہاریوں کی وضعیں اس قدر ممتاز تھیں کہ دور سے دیکھتے ہی انسان سمجھ جائے گا کہ یہ عورت محلدار ہے، یہ خواص ہے، یہ مغلانی ہے اور یہ کہاری ہے۔ اور پھر لطف یہ کہ ان کے لباس میں وردی کی شان نہیں پیدا ہونے پائی۔

خدمتگاروں اور انھیں کی طرح پیش خدمتوں کا البتہ وہی لباس تھا جو خود میاں بیویوں کا لباس تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں گروہ اپنے مالک یا مالکہ کا اُتارن یعنی ان کے اترے ہوئے کپڑے پہنا کرتے ہیں۔

لباس کے بعد عورتوں کے لیے سب سے اہم چیز زیور ہے، اور عورتیں اکثر اپنی مخصوص دولت و جائداد اپنے زیور کو سمجھتی ہیں، جس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ اکثر صوبجات ہند میں بھدے اور بھاری زیور کا زیادہ رواج ہے، تاکہ وہ قیمت میں زیادہ ہوں۔ زیور کے بھاری ہونے کا شوق اودھ کے دیہات میں اور عموماً ہندوستان کے تمام شہروں میں روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ مگر لکھنؤ میں دہلی کے شریف خاندانوں کی معزز خاتونیں آئیں تو ابتداءً وہی زیور جس کا سارے ہندوستان اور خود دہلی میں رواج تھا پہنے ہوئے تھیں، مگر یہاں آنے کے چند روز بعد جب یہاں کی ترمیم شدہ مخصوص معاشرت قائم ہوئی تو زیور میں فقط زینت و آرائش کا خیال باقی رہ گیا، اور ہر قسم کا زیور روز بروز سبک، ہلکا، نازک اور خوشنما ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آخر عہد میں امرا اور دولتمند گھرانوں کی بیویوں کی یہ وضع ہو گئی کہ سادے بغیر مسالے اور گوٹے پٹھے کے کپڑے پہنتیں، اور زیور کی قسم کی دو ہی ایک چیزوں پر جو بہت ہی نازک، سبک اور قیمتی ہوتیں کفایت کرتیں۔ اور اگر گلے اور ناک کان میں متعدد چیزیں پہنتیں بھی تو وہ بہت ہی ہلکی ہوتیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسا سبک اور ہلکا زیور لکھنؤ میں بننے لگا کہیں نہ بن سکتا تھا۔

ناک میں نتھ ہندوؤں کے عہد سے نہایت ہی ضروری زیور اور سہاگ کی نشانی سمجھی جاتی تھی، جو خیال باہمی میل جول سے مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گیا۔ چنانچہ دیہات والیاں آج بھی اس کے بھاری کرنے میں یہاں تک مبالغہ کرتی ہیں کہ چار چار پانچ پانچ تولے کی نتھیں پہن لیتی ہیں، جن سے اکثر نتھنے پھٹ جاتے ہیں، مگر دوبارہ ناک چھدوائی جاتی ہے تاکہ ناک نتھ سے خالی نہ رہے۔ لکھنؤ کی بیویوں نے نتھ کو اڑا ہی دیا، اور اس کی جگہ سونے کی مرصع کیلیں پہننے لگیں، جو بہت ہی نفیس اور خوبصورت زیور ثابت ہوئی۔ اور نزاکت پسندی سے ان کیلوں کو بھی اتنا مختصر اور سبک کر دیا کہ ویسی سبک ناک کی کیلیں لکھنؤ کے سناروں اور سادہ کاروں کے سوا اور کہیں کے کاریگر نہیں بنا سکتے۔

اب ادھر پچیس تیس سال سے بلاق کا رواج بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی پسندیدہ مذاق نہیں، مگر زیور کے اختصار اور عام پسندی نے اسے اس قدر ترقی دی ہے کہ اب بہت کم عورتیں ہیں جو بلاق نہ پہنتی ہوں۔

فی الحال مختلف شہروں کے باہمی میل جول سے زیور بنانے کے فن میں ہر جگہ ترقی ہو رہی ہے، اور خاص خاص زیوروں کے لیے خاص خاص شہر مشہور ہو گئے ہیں۔ مگر غدر سے پیشتر جب ریلوے نے بلاد ہند میں یہ باہمی مؤانست و یکرنگی نہیں پیدا کی تھی، لکھنؤ سے اچھے سنار اور کاریگر کہیں نہ مل سکتے تھے۔ لیکن اب بہت سے شہر اس فن میں لکھنؤ سے بڑھتے جاتے ہیں۔ خصوصاً شہر دہلی مغشوش چاندی کے سبک زیور بنانے میں ہندوستان کے تمام شہروں سے سبقت لے گیا ہے۔ مگر پھر بھی اکثر مقامات کے نفیس مزاج گھرانے لکھنؤ ہی کے بنے ہوئے زیور اور یہاں کے چاندی کے ظروف کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یہ بحث لکھنؤ کی صنعتوں میں ہمیں بار بار چھیڑنا پڑے گی، اس لیے یہاں اسی پر قناعت کرتے ہیں۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.