Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 37 de 56

Shawls, Shoes and Women's Dress

شال، جوتے اور عورتوں کا لباس

Abdul Halim Sharar

Escritura
Tamaño

(۳۶)

انگرکھے یا چپکن وغیرہ کے اوپر اگلے دنوں دوشالے کا رواج زیادہ نظر آتا ہے، اور یہی شاہی درباروں سے خلعت میں عطا ہوا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ شالی رومال اوڑھنے کا بھی ایک معمولی حد تک رواج تھا۔ یہی دونوں چیزیں دہلی سے لکھنؤ میں آئیں، مگر لکھنؤ میں زیادہ رواج رومال اوڑھنے کا تھا۔ جاڑوں میں اکثر شالی رومال اور سردی کے اوقات میں دوشالہ اوڑھا جاتا۔ لکھنؤ میں دربار قائم ہونے کے بعد جب گرمیوں کے لیے لباس میں نفاست و لطافت اور سبکی کو ترقی ہونے لگی تو بارلیٹ اور چکن کے رومال ایجاد ہوئے، اور تمام سفید پوش شریفوں کا یہ لباس ہو گیا کہ سر پر قالب چڑھی چکن کی چوگوشیہ ٹوپی، بدن میں انگرکھا، پاؤں میں عرض کے پائنچوں کا پائجامہ، اور کندھے پر ہلکا چکن یا جالی کا رومال۔ شرفائے لکھنؤ کی یہ پہلی عام وضع تھی جس کو میر انیس مرحوم کا خاندان انھیں اگلے تکلفات کے ساتھ آج تک نباہ رہا ہے۔

لباس میں سب سے آخری اور بڑی اہم چیز جوتا ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں جوتے کا مطلق رواج نہ تھا، اس لیے کہ چمڑے کے استعمال سے ہندو لوگ مذہباً احتراز کرتے تھے، بلکہ جوتے کے عوض یہاں لکڑی کے کھڑاؤں پہنی جاتیں، جو آج کل کے بعض فقیروں اور مرتاض رشیوں کے علاوہ قدیم راجاؤں میں بھی مروج تھیں۔ مسلمان اپنے ساتھ یہاں محیط لباس کے ساتھ چمڑے کے جوتے بھی لائے۔

مسلمانوں کا پہلا جوتا عربوں میں فقط ایک چمڑے کا تلا تھا جو پٹے یا بندھنوں کے ذریعے سے پاؤں میں اٹکا لیا جاتا۔ عجمیوں اور رومیوں کا چمڑے کا موزہ جوتے سے پہلے عرب میں پہنچ گیا تھا۔ پھر جب عربی دربار شام و عراق یعنی روم کے آغوش میں قائم ہوئے تو چمڑے کے جوتوں کا رواج شروع ہوا۔ مگر وہ پہلے جوتے بظاہر سیدھی سادی زیرپائیاں تھے۔ انھیں کو پہنے ہوئے مسلمان ہندوستان میں آئے۔

دہلی کے امرا اور بادشاہ اگلے دنوں اپنی تصویروں میں اونچی ایڑی کی کفش نما جوتیاں پہنے نظر آتے ہیں۔ دہلی کے آخر عہد میں چڑھواں جوتا ایجاد ہوا، جس کی ابتدائی وضع یہ تھی کہ آدھا پنجہ اور گٹے سے نیچے تک پاؤں اس میں چھپ جاتا۔ اس کے سرے پر چوڑی نوک پنجے پر جھکا کے بٹھا دی جاتی۔ یہ پہلا دلی وال جوتا تھا، جس کا پچاس سال پیشتر زیادہ رواج تھا۔ اس کے بعد سلیم شاہی جوتا نکلا، جو غالباً جہانگیر کے زمانے میں ایجاد ہوا۔ اس کی نوک آگے نکلی اور اٹھی ہوئی ہوتی، اور نوک کا تھوڑا سا باریک سرا اوپر موڑ دیا جاتا۔ ایجاد کے بعد اس پر کلابتوں کا مضبوط کام بننے لگا، جو بالکل سچا اور قیمتی ہوتا۔ اگرچہ یہ کام دلی وال اور سلیم شاہی دونوں وضع کے جوتوں پر بنایا جاتا، مگر سلیم شاہی جوتے کا بہت زیادہ رواج ہوا، اور اس نے چند روز میں پرانے دلی وال کو مٹا دیا، اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اب جبکہ انگریزی وضع و قطع نے ہمارے سارے لباس اور ہماری تمام چیزوں کو مٹا دیا وہ آج تک باقی اور مقبول عام ہے، اور اکثر ہندوستانی وضع پسند کرنے والے وضعدار بھاری سے بھاری لباس پر اسی کو پہنتے ہیں، اور فی الحال لکھنؤ میں بھی بہت سے لوگ اس کو پہنتے ہیں۔

مگر لکھنؤ میں بعہد شاہی ایک نئی قطع کا خوردنوکا جوتا ایجاد ہوا، جس کو یہاں کے وضعداروں نے ابتداءً بہت پسند کیا تھا۔ اس میں نوک بالکل نہ ہوتی، بلکہ جو نوک دلی وال اور سلیم شاہی میں اوپر نکالی جاتی اس میں سینے کے بعد الٹ کے اندر کر دی جاتی۔ نوک کے پاس فقط ایک ذرا سا ابھار رہتا۔ یہ جوتے لال نری کے نہایت ہی سبک اور صاف بنائے جاتے، اور نفاست و سبکباری کے اگلے مذاق نے اس کو یہاں تک سبک کیا کہ بعض موچیوں کے ہاتھ کا جوڑا چار پانچ پیسوں بھر سے زیادہ نہ ہوتا۔ اگرچہ عوام اور دیہاتیوں کے لیے اسی وضع کے چمرودھے جوتے اتنے بھاری ہوتے کہ سیر سیر ڈیڑھ ڈیڑھ سیر سے کم نہ ہوتے، اور پھر کڑوا تیل پلا پلا کے اور بھاری کر لیے جاتے۔

تھوڑے دنوں بعد لکھنؤ میں اس خوردنوکے جوتے کی آرائش و زیبائی کی طرف توجہ ہوئی۔ پہلے جاڑے گرمیوں کے خشک موسم کے لیے کاشانی مخمل کے اور برسات کے لیے کیمخت کے بننا شروع ہوئے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بانات کا جوتا نہایت ہی نفیس، سادہ، سبک اور خوشنما ہوتا۔ کیمخت سبز زنگاری رنگ کا ہوتا جو گھوڑے یا گدھے کی کھال سے بنتا، اور اس میں کٹھل کے خاروں کی طرح دانے ابھار کے پیدا کیے جاتے، اور تعریف یہ تھی کہ برسات میں چاہے کتنا ہی بھیگے اس کے رنگ و روپ میں فرق نہ آتا۔ خود کیمخت کے بنانے کا فن اگرچہ باہر سے آیا تھا مگر لکھنؤ میں اس کے بہت سے کارخانے جاری ہو گئے، اور سب جگہ سے اچھا بننے لگا۔

چند روز بعد جوتوں کی آرائش میں اور ترقی ہوئی، اور سلمے ستارے کے کارچوبی کام کے جوتے بننے شروع ہوئے، جن میں مقیش کے پھندنے لگا کے عجب چمک دمک اور آب و تاب پیدا کر دی جاتی۔ اس کے بعد جب جھوٹا سلمہ اور کلابتوں آیا تو جھوٹے کام کے چڑھویں جوتے بننے لگے، جو بہت سستے داموں میں عجب بہار دکھا دیا کرتے۔

لیکن چڑھویں کے ساتھ ہی ساتھ یہاں ایک گھیتلا جوتا مروج تھا، جو دراصل پرانے کفش نما جوتوں سے ماخوذ تھا، اور عالی مرتبہ امیروں اور اکثر اعلیٰ طبقے کے شریفوں میں علی العموم پہنا جاتا تھا۔ دراصل یہی ہندوستان کا پرانا قومی جوتا تھا، اور اسی کی یادگار حیدرآباد کی چپل اور دیگر مقامات کے دیسی جوتے ہیں، اور یہی اگلے اہل دربار اور وطنی بزرگان سلف کے پاؤں میں نظر آتا ہے۔ گھیتلے میں اتنی ترقی ہوئی کہ اس کی نوک بجائے مختصر رہنے کے ہاتھی کی سونڈ کی طرح بہت بڑھا کے اور پھیلا کے پنجے کے اوپر ایک بڑے حلقے کی صورت میں لپیٹ دی گئی۔ یہ جوتا اودھ کے اگلے بادشاہوں اور وزرا و امرا سب کے پاؤں کی زینت ہوا کرتا۔ چڑھویں جوتے نے ایجاد ہونے کے بعد اس کی جگہ لینا شروع کی، یہاں تک کہ غدر ہوتے ہوتے گھیتلا فقط عورتوں کے پاؤں میں رہ گیا، جن کے نازک پاؤں کا وہ عام لباس تھا، اور مردوں کی پوشاک سے وہ بالکل خارج ہو گیا۔ لیکن کفشیں اپنی اصلی صورت پر آج تک باقی ہیں، جو شیعیان علی کے اتقیا و علما خصوصاً مجتہدین کے ساتھ مخصوص ہیں۔

گھیتلے جوتوں، کفشوں اور ان پر جو کارچوبی کام بنایا جاتا ہے اس نے مسلمانان لکھنؤ میں دو خاص پیشے پیدا کر دیے، جن پر بہت سے لوگوں کی معاش کا دار و مدار ہو گیا۔ پہلے تو مسلمان موچی، جن کی یہاں ایک مستقل قوم اور برادری ہے۔ یہ لوگ سوا گھیتلے جوتے بنانے کے اور کسی قسم کا جوتا بنانا اپنی شرافت کے خلاف جانتے ہیں۔ لکھنؤ میں ان لوگوں کے بہت سے گھر تھے، اور سب سچے مسلمان، سفید پوش، اور بمقابل دوسرے ادنیٰ طبقے والوں کے ممتاز تھے، اور اگلے دنوں نہایت فارغ البالی سے بسر کرتے تھے۔ لیکن اب قدیم وضع و لباس کے بدلنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مردوں کے بعد عورتوں نے بھی گھیتلا جوتا بالکل چھوڑ دیا، اور بازار جو اعلیٰ درجے کے گھیتلے جوتوں سے بھرا رہتا تھا اس میں اب اگر کسی دوکان پر اس وضع کا ایک آدھ جوڑا مل بھی جاتا ہے تو بہت ہی ذلیل و حقیر، پرانا، ماند اور میلا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان موچیوں کا گروہ بالکل تباہ ہو گیا۔ ان کے بیسیوں گھر اجڑ گئے، اور جو باقی ہیں قعر فنا کے بالکل کنارے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی وضعداری کی داد دینا چاہیے کہ لٹ گئے اور تباہ ہو گئے، مگر یہ نہ گوارا کیا کہ گھیتلے جوتوں کے عوض سلیپریں یا بوٹ بنائیں، اور رفتار زمانہ کا ساتھ دے کے پہلے سے زیادہ ترقی کریں۔

دوسرا گروہ اہل حرفہ جو انھی جوتیوں کے صدقے میں پیدا ہوا، جوتوں کی جھوٹی آوکھیاں بنانے والوں کا ہے۔ آوکھی کارچوبی کام کے ان مختلف قطع کے ٹکڑوں کو کہتے ہیں جو زنانے یا مردانے جوتوں پر لگائے جاتے ہیں۔ آوکھیاں یہاں بہت ہی نفیس، زرق برق، اعلیٰ درجے کی ایسی نفیس بنتی تھیں جیسی کہیں نہ بن سکتی تھیں۔ اور ان کی مانگ اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ آبادی کا ایک معتدبہ حصہ انھیں کی تیاری پر زندگی بسر کر رہا تھا۔

بہرحال گھیتلے جوتوں کے فنا ہونے سے ان دونوں گروہوں کو نقصان پہنچا۔ اب گھیتلے کے عوض عورتوں میں عموماً سلیپروں کا، اور خاص گھرانوں یا خاص موقعوں کے لیے تمام شریف بیبیوں میں اعلیٰ درجے کے پمپ شوز کا رواج ہے۔ دولتمند گھرانوں میں گھیتلا جوتا چھوڑ کے ٹاٹ بافی (یعنی کارچوبی کام کے) بوٹ پہننا شروع کیے تھے۔ ان کے چند ہی روز بعد چمڑے کے بوٹ جو بغیر کھولے پاؤں سے اتر سکیں پہنے جانے لگے۔ اور اب تو علی العموم پمپ شوز، اور جن لوگوں نے پوری انگریزی وضع اختیار کر لی ہے ان کی بیگمیں تو ہر قسم کے لیڈیز شوز پہننے لگی ہیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی سلسلے میں عورتوں کے عام لباس کو بھی بیان کر کے ہم وضع و لباس کی بحث کو ختم کر دیں۔

ہندوستان میں عورتوں کا قدیم لباس صرف ایک بے سی ہوئی لمبی چادر تھی، جو آدھی کمر سے لپیٹ کے باندھ لی جاتی، اور آدھی کندھے یا سر پر ڈال کے اوڑھ لی جاتی۔ اس کے ساتھ سینے کا ایک لباس بھی ہندوؤں کے پرانے زمانے سے چلا آتا ہے، جو بلندی ہند میں "انگیا" اور جنوبی ہند میں "چولی" کہلاتا ہے۔

یہ لباس سری کرشن جی کے زمانے میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود تھا۔ آخر زمانے میں چولی اور انگیا کی تفریق یوں ہوئی کہ دکھن میں ایک جھول دار پٹی سے پیچھے سے آگے کی طرف لا کے دونوں چھاتیوں کے درمیان میں گرہ دے کے یا بوتام لگا کے کس دی جاتی ہے، اور دونوں چھاتیاں اس جھول میں کسی قدر ابھار کے ساتھ دبی اور کسی رہتی ہیں۔ یہی دکھن کی چولی ہے۔ بخلاف اس کے بلندی ہند میں انگیا یوں بنتی ہے کہ پستانوں کے مناسب ناپ کے کپڑے کی دو کٹوریاں بنائی جاتی ہیں، جو دو تین انگل تک باہم سی کے جوڑ دی جاتی ہیں، اور ان کے بالائی کونوں پر جالی کی دو چھوٹی چھوٹی آستینیں لگا دی جاتی ہیں، اور ان آستینوں کے نیچے دونوں پہلوؤں پر دو دو بند لگا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح طیار کر کے اور دونوں ہاتھوں کو آستینوں میں ڈال کے یہ انگیا پہن لی جاتی ہے۔ آستینیں بہت ہی چھوٹی، آدھے بازوؤں سے بھی کم رہتی ہیں۔ اور چھاتیوں کی کٹوریوں میں ڈال کے پیٹھ پر بند کھینچ کے نیچے اوپر دو بندشیں دے دی جاتی ہیں۔ بخلاف چولی کے انگیا چھاتیوں کو اصل سے زیادہ ابھار کے نمایاں کر دیتی ہے۔

بہرحال یہ پرانا ہندو لباس ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ مرور زمانہ سے اس میں کیا اصلاحیں یا ترقیاں ہوئیں۔ بادی النظر میں انگیا زیادہ ترقی یافتہ اور بعد کی اصلاح معلوم ہوتی ہے۔

اس کے سوا ہندو زمانے میں عورتوں کا اور کوئی لباس نہیں معلوم ہوتا۔ سیے ہوئے کپڑے اور کرتا پائجامہ مسلمان اپنے ساتھ لائے۔ مسلمانوں کی عورتیں ممالک عجم سے عرض کے ڈھیلے پائنچوں کے پائجامے پہنے ہوئے یہاں آئیں، جو ٹخنوں پر چنٹ دے کے باندھ دیے جاتے تھے۔ چند روز بعد وہ پائجامے تنگ مہری کے گھٹنے ہو گئے، جن کا گھیرا اوپر سے ڈھیلا ڈھالا ہوتا۔ رفتہ رفتہ ان میں کھنچاؤ کا شوق بڑھتا گیا، یہاں تک کہ اوپر کا گھیر بھی کم ہو گیا، اور پائنچوں کی مہریاں تو اس قدر تنگ ہو گئیں کہ پہننے کے بعد کس کے سی لی جائیں، اور اتارتے وقت مہری کے ٹانکے توڑنے کی ضرورت لاحق ہوتی۔ جیسے پائجامے آج بھی بہت سے شہروں میں مروج ہیں۔

لکھنؤ میں مسلمان بیگموں کی وضع ابتداءً تو یہی تنگ مہری کا کھنچا ہوا پائجامہ، سینے پر چھوٹی اور تنگ آستینوں کی کھنچی ہوئی انگیا، اور پیٹ اور پیٹھ چھپانے کے لیے ایک عجیب و غریب کرتی، جو آگے کی طرف اس حد تک کاٹ دی جاتی جہاں تک جسم پر انگیا کا تصرف رہتا۔ اس میں نہ آستینیں ہوتیں اور نہ سینے پر اس کا کوئی حصہ رہتا۔ دو لمبے بندوں کے ذریعے سے جو شانوں پر سے ہو کے آتے، پیٹ اور پیٹھ پر معلق ہوتی۔ اس کے اوپر تین گز کا چنا ہوا باریک دوپٹہ جو سر سے اوڑھا جاتا، لیکن آخر میں فقط شانوں پر پڑا رہنے لگا۔

ہندوستان کے موسم اور مزاجوں کی نزاکت نے محرم، کرتی اور دوپٹے سب کو روز بروز سبک کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ لاہی کی انگیا اور کریب کے دوپٹے وضعدار امیرزادیوں کے فیشن میں داخل ہو گئے۔ نصیر الدین حیدر بادشاہ کے زمانے سے گھٹنے رخصت ہو گئے، اور ان کی جگہ بڑے بڑے گھیردار پائنچوں کے کلیوں دار پائجامے، جو کمر کے پاس بہت ہی تنگ ہوتے اور چور کلی یعنی میانی خوب کھنچی رہتی، علی العموم رواج پا کے عورتوں کی خاص وضع قرار پا گئے۔ یہ پائنچے آگے کی طرف ایک نفاست و خوشنمائی کے انداز سے ناف کے نیچے گھرس لیے جاتے، تاکہ چلنے پھرنے میں زمین پر لوٹ کے خراب اور میلے نہ ہوں۔ غدر کے قریب زمانۂ بادشاہی کے عہد آخر میں باریک کپڑوں اور آدھی آستینوں کے تنگ شلوکوں کا رواج ہو گیا، جو کرتی کے عوض پہلے تو محرم کے اوپر پہنے جانے لگے، اور چند روز بعد انھوں نے محرم کی ضرورت بھی اڑا دی۔ مگر اب بھی بہت ہی باریک کپڑوں کے استعمال کیے جانے کی وجہ سے یہ لباس ننگا معلوم ہوتا، خصوصاً اس لیے کہ باہیں بالکل ننگی رہتیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شلوکوں کے عوض کسی قدر ڈھیلے کرتوں کا رواج ہونے لگا۔ لیکن اب یک بیک کرتوں کی جگہ انگریزی جاکٹ اور باڈس پہنے جانے لگے۔

اب ہر صوبے اور ہر شہر کی وضعوں کا مقابلہ اور اس کے ساتھ باہمی اختلاط ہونے لگا ہے، اور بعض مسلمانوں یا خود خاتونوں کو ساری زیادہ خوشنما نظر آنے لگی، جس کی وجہ سے لکھنؤ کی عورتیں آدھے کے قریب پرانی وضع چھوڑ کے ساریاں باندھنے لگی ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ اس میں زیادہ سادگی ہے۔ میں اگرچہ اس کے خلاف نہیں ہوں کہ عورتیں اپنے حسن میں جدت اور تازگی پیدا کرنے کے لیے مختلف لباسوں کو پہنیں، اور مصداق «ع ہر لحظہ بوضع دگر آن یار برآمد» نئی نئی دھجوں سے اپنے شوہروں کی دلداری کریں، لیکن میں اس کے سخت خلاف ہوں کہ اپنی قومی وضع بالکل چھوڑ دی جائے، اور اپنے معاشرتی خصائص بالکل فنا کر دیے جائیں۔ ساری ایک غیر مخیط کپڑا اور تمدن انسانی کے بالکل ابتدائی اور غیر متمدن زمانے کی یادگار ہے۔ سادگی بےشک دلکش چیز ہے، مگر بہت سی قیدوں اور خصوصیتوں کے ساتھ، ورنہ پوری سادگی تو عریانی میں ہے۔ خود لباس فطرت انسانی کو اپنے تفنن کا جامہ پہناتا ہے۔ اس لیے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ساری میں کیا خاص خوبی و خوبصورتی ہے۔

جس طرح مرد کی طبیعت کا خاصہ ہے کہ اپنی حسین ترین منکوحہ سے اکتا کے دوسری جوان عورتوں کی طرف مائل ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے نوجوان اپنی بیبیوں کی وضع سے سیر ہو کے دوسری قوموں کی عورتوں کے لباس پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ مگر خوب یاد رکھیے کہ جس طرح آپ ان کے لباس پر فریفتہ ہیں اسی طرح دوسری قوموں کے مرد آپ کی عورتوں کے ترقی یافتہ لباس میں زیادہ دلکشی و رعنائی پاتے ہیں۔ نفسانی خواہشات کا ایک مغالطہ ہے جو فی الحال آپ کی نظر میں اپنی عورتوں کے لباس کو معیوب ثابت کر کے بار بار ملک میں یہ بحث پیدا کراتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی بیبیوں کے لیے مناسب کیا ہے۔

ہم اس مسئلے پر اچھی طرح بحث کرتے اگر ہمیں یقین ہوتا کہ خالص عورتوں کی اخلاقی و معاشرتی اصلاح کی غرض سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ دراصل یہ مسئلہ اسی تقاضائے طبع سے پیدا ہوا ہے جس نے نوجوانوں کو کوٹ پتلون پہنایا، ہیٹ سے ان کے سروں کو زینت دی، اور سوا رنگت کے ان میں کوئی چیز اپنی نہیں باقی رکھی۔ لہٰذا ہم کو یقین ہے کہ یہ مسئلہ فقط اس جوش میں پیدا ہوا ہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی انگریزی لباس اختیار کریں۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ اس بارے میں لکھنا پڑھنا اور کہنا سننا سب بیکار ہے، اس لیے کہ جب تک انگریزی سائے اور اسکرٹ اور بانٹ (انگریزوں کی ٹوپی) پہننے کا فیصلہ نہ کر دیا جائے گا ہمارے مصلحان معاشرت اور نقال موجدان فیشن کو چین نہ آئے گا۔ اس کے سوا چاہے اور کیسی ہی اچھی اصلاح و ترمیم کی جائے گی ان کا اطمینان نہ ہوگا۔

غرض اس انجام کو سوچ کے اس بارے میں اخباروں اور رسالوں کے صفحے سیاہ کرنے کا کوئی نتیجہ نہیں۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.