Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 36 sur 56

Trousers and the Lower Garment

پائجامے اور نیچے کا لباس

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۳۵)

سر اور درمیانی حصۂ جسم کے لباس کا حال تفصیل و وضاحت سے ہم بیان کر چکے۔ اب اسفل جسم کے لباس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد دیگر زوائد لباس اور مختلف گروہوں کی خاص خاص وضعوں کا، اور ان کے بعد عورتوں کے لباس کا تذکرہ کریں گے۔

نشیبی حصۂ جسم کے لیے عربوں میں سوا تہمت کے کچھ نہ تھا۔ عربی تہمت اور ہندوؤں کی دھوتی دونوں بےسی ہوئی پتلی چادریں ہوتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ تہمت صرف کمر میں لپیٹ کے اٹکا لیا جاتا ہے۔ دھوتی ہندوستان کی مختلف قوموں میں خاص خاص بندشوں سے باندھی جاتی ہے۔ اس کا ایک سرا بیچ سے پھیر دے کے پیٹھ کے نیچے گھرس لیا جاتا ہے، اور دوسرے کو بعض لوگ کمر میں لپیٹ لیتے ہیں، بعض چنٹ دے کے اور اوپر سے ناف کے پاس گھرس کے آگے لٹکا لیتے ہیں۔ عربوں کے تہمت نے بعد کے زمانے میں یہ ترقی کی کہ اس کے دونوں سرے سی کے ایک حلقہ بنا لیا جاتا ہے، اور اس میں دونوں پاؤں ڈال کے اور کمر کے پاس اسے سمیٹ کے بندش کر دی جاتی ہے۔

ظہور اسلام کے وقت اور اس سے مدتوں پیشتر عربوں کا قومی لباس زیریں یہی تھا۔ امیر و غریب، بادشاہ و وزیر سب تہمت باندھتے۔ فرق اس قدر تھا کہ امرا و متکبرین عرب اپنی نخوت اور اپنے غرور کا اظہار اس طرح کرتے کہ یہ تہمت بہت نیچا اور زمین سے ملا ہوا ہوتا، جس میں سارے پاؤں چھپ جاتے، اور اس کے دونوں سرے زمین پر لوٹتے اور رگڑتے ہوئے چلتے۔ چونکہ اس وضع میں کبر و نخوت کی بو آتی، اور جو شخص ایسا نیچا تہمت باندھ کے نکلتا دوسروں کو اپنے سامنے ذلیل و حقیر خیال کرتا، اس وجہ سے اسلام نے اس وضع کی سخت ممانعت کی، حکم دے دیا کہ ازار (تہمت) ٹخنوں سے نیچی نہ رہے۔ علما نے اسی حکم کی بنا پر فی الحال یہ فتوے دے رکھا ہے کہ پائجامہ یا ٹانگوں کا کوئی لباس ٹخنوں سے نیچا نہ ہو۔ حالانکہ پائجامہ نہ ان دنوں تھا اور نہ اس حکم میں شامل ہو سکتا ہے، اس لیے کہ نیچی اور زمین پر لوٹتی ہوئی ازار باندھنے سے جو کبر و نخوت کا خیال امرائے عرب میں پیدا ہوتا تھا ہندوستان کے نیچے پائجامہ پہننے والوں میں ہرگز نہیں ہوتا۔

حضرت رسول خدا صلعم کے زمانے ہی میں پائجامہ دیگر ممالک و اقوام سے عرب میں پہنچ گیا تھا، اور بعد کے زمانے میں بغداد کے دربار کا اور ان عربوں کا جو عرب سے نکل کے دیگر ممالک میں متوطن ہو گئے تھے قومی لباس بن گیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے پہلے دھوتی کے سوا پائجامہ نہ تھا۔ مسلمان فاتح اسے اپنے ساتھ ہندوستان میں لائے، جن میں ملے ہوئے چند ایسے عابد و زاہد اور مقتدایان دین تھے جو سنت نبوی کی پیروی میں تہمت ہی باندھے ہوئے اس سرزمین پر آ گئے۔ تہمت چونکہ سنت ہونے کی وجہ سے ایک خالص دینی لباس تھا اس لیے بےنفس اور دیندار مسلمانوں یا طالب علموں ہی کے ساتھ مخصوص رہا۔ مگر پائجامہ یہاں کی سوسائٹی میں اس قدر عام ہو گیا کہ مسلمان درکنار ہندوؤں اور یہاں کی دوسری قوموں میں اس کا رواج ہو گیا۔

لیکن غور طلب یہ امر ہے کہ مسلمانوں کا پہلا اور اصلی پائجامہ کس وضع کا تھا؟ غالباً وہ تنگ مہری کا اٹنگا پائجامہ جو شرعی پائجامہ کہلاتا ہے اور اتقیائے اہل سنت میں مروج ہے مسلمانوں کا پہلا پائجامہ ہے۔ یہی بغداد میں مروج تھا، اسی کا رواج ایران و ترکستان میں ہوا، اور اسی کو پہنے ہوئے مسلمان ہندوستان میں آئے۔

ہندوستان کے آخر عہد میں اس کی قطع میں اتنا تغیر ہوا کہ پائنچے یا مہری پنڈلی سے لپٹی رہتی، مگر اوپر کا گھیر قریب قریب اتنا ہی ہوتا جتنا کہ پرانے شرعی پائجامے کا تھا۔ چند روز بعد مہری کسی قدر لمبی اور نیچی ہو گئی، مگر ٹخنوں سے آگے نہیں بڑھی۔ دہلی کے آخر عہد تک وہاں اور سارے ہندوستان کے مسلمانوں کا یہی پائجامہ تھا۔ اگرچہ ادنیٰ طبقے کے مسلمان ہندو عوام کی آمیزش سے دھوتیاں باندھتے تھے، اور معزز درجے کے ہندو اپنے گھروں میں چاہے دھوتیاں باندھے رہیں مگر مہذب صحبتوں میں آتے تو پائجامہ پہن کے آتے۔

انھیں دنوں کابل و قندھار میں دو متضاد قسموں کے پائجامے مروج تھے۔ کابل والوں کا پائجامہ نیچے مہری کے پاس تنگ اور اوپر گھیر کے پاس اتنا ڈھیلا ہوتا کہ نیچے کا جسم ایک بہت بڑے جھولدار غبارے میں غائب ہو جاتا، اور ایک ایک پائجامے میں ایک ایک اور دو دو تھان خرچ ہو جاتے۔ یہ آج بھی افغانیوں کی ٹانگوں میں نظر آ سکتا ہے۔ بخلاف اس کے قندھار والے ایسا پائجامہ پہنتے جس کا اوپر کا گھیر تو زیادہ نہ ہوتا مگر دونوں پائنچے کلیاں جوڑ جوڑ کے اتنے بڑے اور اتنے گھیر کے بنا دیے جاتے کہ جب تک انسان اس کو گھرس نہ لے یا ہاتھ سے سنبھالے نہ رہے چلنا دشوار تھا۔

دربار دہلی میں بکثرت قندھاری آ کے فوج میں نوکر ہوئے۔ وہ لوگ چونکہ بڑے بہادر سمجھے جاتے اس لیے یہاں کے عام سپہگروں میں ان کے وضع و لباس اور عادات و خصائل رواج پانے لگے۔ اور یہ انھیں کی برکت اور انھیں کی [illegible] کا اثر تھا کہ دہلی میں بانکے بڑے بڑے کلیوں دار پائنچوں کے پائجامے پہنتے۔ دہلی کے [illegible] عہد میں بانکوں کی وضعداری و شجاعت اس قدر پسندیدہ ہو گئی کہ صدہا شریف زادوں نے بانکوں میں داخل ہو کے ان کی وضع اختیار کر لی، اور شرفا جن میں اکثر اپنی اصلی وضع پر تھے، اور بہت سے بانکے بنے ہوئے تھے، لکھنؤ میں آ گئے۔

لکھنؤ میں آ کے یکایک ایک ڈھیلا عرض کے پائنچوں کا پائجامہ پیدا ہو گیا۔ شجاع الدولہ، آصف الدولہ اور سعادت علی خان کے زمانے تک تو اس کا پتہ نہیں چلتا، مگر معلوم ہوتا ہے غازی الدین حیدر یا ان کے فرزند نصیر الدین حیدر کے زمانوں میں جبکہ یہاں لباس و معاشرت میں تغیر ہو رہا تھا اسی بانکوں کے کلیوں دار پائجامے سے مختصر کر کے یہ پائجامہ بنا لیا گیا، جو نہ اتنا ڈھیلا تھا کہ ایک ایک پائجامے میں ایک ایک تھان صرف ہو جائے، اور نہ تنگ اور چست مہری والے پرانے پائجامے کی طرح اتنا تنگ کہ پائنچے اوپر چڑھانا غیر ممکن ہو۔ یہ نیا پائجامہ ہلکا پھلکا اور ہندوستان کی گرمیوں میں نہایت آرام دہ تھا۔ چند ہی روز میں امرا و مہذب لوگوں میں اس قدر مقبول ہو گیا کہ سوا ان لوگوں کے جو بانکپن کا دعوے رکھتے تھے تمام اہل فضل و علم، زہاد و اتقیا اور سارے شرفا و امرا کی وضع میں یہی پائجامہ داخل تھا۔

اب لکھنؤ میں صرف دو پائجامے تھے: ایک تو وہی بانکوں کا کلیوں دار پائجامہ، دوسرا عرض کے پائنچوں کا پائجامہ جو سارے شہر کے مہذب لوگوں کی وضع میں داخل ہو گیا تھا، اور اس شان کے ساتھ کہ اکثر مہذب و تعلیم یافتہ لوگ بھی گلبدن اور مشروع کا سلواتے، اور اس کے پائنچوں میں چوڑی گوٹ لگائی جاتی۔ بانکوں والے اول الذکر پائجامے کو خود نصیر الدین حیدر نے اپنی وضع میں داخل کر لیا۔ ان کو انگریزی لباس کا بھی شوق تھا، اس لیے یا کوٹ پتلون پہنتے یا کلیوں دار پائجامہ، جس کو فی الحال پنجاب والے غرارے دار پائجامہ کہتے ہیں۔ نصیر الدین حیدر کو یہ پائجامہ اس قدر عزیز تھا کہ انگریزوں کی گون کے مشابہ دیکھ کے انھوں نے اسے اپنے محل کی بیگموں کو بھی پہنانا شروع کیا، اور محل کی وضع میں داخل ہو جانے کا یہ اثر ہوا کہ شہر کی [illegible] عورتیں اسی کو پہننے لگیں، جس کا ذکر عورتوں کے لباس کے بیان میں آئے گا۔

شاہی میں اودھ کی فوج فتح پنجاب کے موقع پر انگریزوں کے ساتھ جا کے سکھوں سے لڑی تھی۔ سکھ لوگ ایک نئی قسم کا اوریبی یعنی ترچھی کاٹ کا تنگ اور چست پائجامہ پہنتے تھے جو گھٹنا کہلاتا ہے۔ بہت سے پنجاب جانے والوں نے اس وضع کو بہت پسند کیا، اور گھروں میں واپس آئے تو وہی آڑی کاٹ کے گھٹنے پہنے تھے۔ یہاں کے اکثر لوگوں نے یہ پائجامہ بہت پسند کیا، اور یکایک ایسا رواج ہوا کہ لکھنؤ کے تمام بانکے ترچھے شوقین اور امیرزادے گھٹنا پہننے لگے جو خوب چست اور خوب کھنچا ہوتا، اور گٹے پر اس کی شکنوں کی بہت سی چوڑیاں رکھی جاتیں۔

لکھنؤ میں یہی تین پائجامے تھے کہ انگریزی ہو گئی۔ بڑے پائنچوں کا کلیوں دار پائجامہ تو بانکوں اور اسلحہ کے ساتھ سارے مردوں میں سے فنا ہو گیا۔ نصیر الدین حیدر کی عنایت سے فقط عورتوں میں باقی ہے۔ مردوں میں فقط دو پائجامے تھے، یعنی عرض کا پائجامہ اور گھٹنا، یا سنی اہل اتقا میں سے بعض بعض پرانا شرعی پائجامہ پہن لیا کرتے۔ انگریزی دور نے پہلا اثر یہ کیا کہ پائجاموں کی وضع قطع تو وہی رہی مگر اطلس، گلبدن اور مشروع کے یا رنگین سوتی پائجامے مردوں سے بالکل چھوٹ گئے۔ چند روز بعد علی گڑھ کالج کے سوشل اسکول سے انگریزی پتلون کی نقل کے پائجامے ایجاد ہوئے، جو نہ اتنے تنگ ہوتے ہیں کہ پنڈلی سے لپٹے رہیں اور نہ اتنے ڈھیلے کہ پائنچہ اوپر نہ چڑھا لیا جا سکے۔ انگریزی تعلیم پانے والوں اور سارے ہندوستان کے اکثر شریف زادوں میں اب اسی پائجامے کا رواج بڑھتا جاتا ہے۔ اگرچہ اکثر تعلیم یافتہ جو تہذیب جدید کے ملا اعلیٰ تک پہنچ گئے ہیں اپنا سارا لباس چھوڑ کے کوٹ پتلون پہننے لگے ہیں، لیکن لکھنؤ میں آج بھی بعض گنتی کے ایسے ثقہ لوگ نظر آ سکتے ہیں جو پرانی قطع کے عرض کے پائجامے پہنتے ہیں اور اپنی وضع نہیں چھوڑتے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.