
الفصل 35 من 56
Turbans
عمامے اور پگڑیاں
(۳۴)
اگرچہ ہندوستان خصوصاً لکھنؤ میں سر کا قومی لباس ٹوپی ہے، مگر یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہاں کی نزاکت پسندی نے پگڑی کو فنا کر دیا۔ دربار میں علی العموم پگڑیوں کا رواج تھا۔ وہ دہلی کی باوقعت امیرانہ دستاریں تو بیشک یہاں نہیں باقی رہیں، اور امرا و اعزائے شاہی کے سروں پر فقط ٹوپیاں رہ گئیں، مگر دربار کے لیے پگڑیاں آخر عہد تک مخصوص تھیں، اور عام ملازمین کا اخلاقی فرض تھا اور اب بھی بڑی وسیع حد تک ہے کہ آقا کے سامنے جائیں تو سر پر پگڑی باندھ کے جائیں۔
خود حکمرانوں کے سروں پر پرانی دستار نواب سعادت علی خان کے زمانے تک رہی۔ نواب برہان الملک، نواب شجاع الدولہ اور نواب آصف الدولہ کے سروں پر وہی دہلی کے عہدہ داران سلطنت کی سی سفید دستار ہوا کرتی، جس پر بڑے درباروں کے موقعوں پر جواہرات کی کلغیاں، مرصع جیغے اور سرپیچ لگا لیے جاتے۔ مگر فی نفسہ وہ دستاریں سادی اور سفید ہوتی تھیں۔ مگر نواب سعادت علی خان کے سر پر ہمیں ایک نئی قسم کی پگڑی نظر آتی ہے جس کو اہل لکھنؤ اپنی زبان میں شملہ کہتے تھے۔ یہ شملہ یہاں اس طرح بنایا جاتا کہ بھراؤ میں کپڑے کا ایک چوڑا اور پتلا گردار حلقہ سر کی ناپ کے برابر بنایا جاتا، جو بیچ میں خالی اور کھلا رہتا۔ پھر کسی نفیس ریشمی یا شالی کپڑے کی پتلی پتلی بہت لمبی بتی بنا کے اس کے بیسیوں پیچ اس کپڑے کے حلقے پر نیچے اور اوپر برابر برابر لپیٹ کے ٹانک دیے جاتے۔ اس حلقے میں اوپر کی جانب ایک چوڑی پٹی ویسے ہی ریشمی یا شالی کپڑے کی جوڑ دی جاتی، تاکہ وہ اس حلقے کو نیچے اترنے سے روکے رہے۔ مگر اس سے پوری چندیا ڈھنک نہ سکتی تھی، اس لیے اس کے نیچے کوئی معمولی دوپلڑی یا چوگوشیہ ٹوپی ضرور رہتی۔ یہ تھا لکھنؤ کا اصلی شملہ جس کو پہلے پہل نواب سعادت علی خان نے پہنا۔ اور غالباً وہ وسط ہند کے ہندو اور مسلمان درباروں کی ان پگڑیوں سے ماخوذ تھا جو کسی باریک رنگین کپڑے کی صدہا گز کی بتیوں کو خاص خاص ترتیبوں سے لپیٹ کے بنائی جاتی تھیں۔ نواب سعادت علی خان نے اس شملے کو خود ہی نہیں پہنا بلکہ معززین دربار اور عمائد سلطنت اور وزرا کو بھی وہی عطا ہوا۔
غازی الدین حیدر کو دولت انگلشیہ نے بادشاہ بنا کے تاج پہنا دیا، جو دراصل ہندوستان اور ایشیا کا تاج شاہی نہ تھا بلکہ ایک قسم کا یورپ کا تاج تھا۔ اس وقت سے فرمانروایان لکھنؤ نے شملے یا دستار کو بالکل چھوڑ دیا، اور ان کے ساتھ تمام شاہزادوں، نوابزادوں اور عمائد شہر نے بھی پگڑی کو خیرباد کہہ دی۔ شاہزادے خاص موقعوں پر تو تاج، مگر علی العموم مسالے دار بھاری کام کی نکے دار ٹوپیاں پہنتے، اور انھیں کی تقلید شہر کے دیگر معززین بھی کرتے۔
لیکن عہدہ داران سلطنت، وزرا اور اہل کاروں کو حکم تھا کہ شملہ پہن کے سلاطین و وزرا کے دربار میں آئیں۔ غازی الدین حیدر کے زمانے سے امجد علی شاہ کے عہد تک تمام عہدہ داروں کے سر پر وہی شملہ رہا کرتا تھا جس کی تصویر اپنے ناظرین کو ہم نے لفظوں میں دکھا دی ہے۔ واجد علی شاہ نے جب اپنے دربار کی مخصوص ٹوپی عالم پسند (جھولا) ایجاد کی تو معمول ہو گیا کہ جن لوگوں کو زیادہ تقرب حاصل ہوتا اور "دولہ" کے خطاب سے سرفراز ہوتے ان کو عالم پسند بھی عطا ہوتی۔ ان کا فرض تھا کہ عالم پسند پہن کے دربار میں آئیں۔ ان سے کم درجے کے باریابان حضور جو کسی کارخانے یا محکمے کے داروغہ ہوتے ان کو داروغگی کے خطاب کے ساتھ شملہ عطا ہوتا، اور وہ وہی پرانا شملہ پہن کے حاضر ہوتے جو پہلے پہل نواب سعادت علی خان کے سر پر لوگوں کو نظر آیا تھا۔ باقی تمام لوگوں کو حکم تھا کہ کسی قسم کی پگڑی باندھ کے دربار میں آئیں، اور پگڑی نہ ہو تو ٹوپی اتار لیں۔ اہل کاروں کے جس شملے کا ہم نے ذکر کیا ہے اسی قسم کا شملہ غالباً مرشدآباد کے دربار میں بھی تھا، اور اسی کا اثر تھا کہ آج سے پچاس برس پہلے ہم کلکتہ ہائی کورٹ کے بنگالی وکیلوں کو اسی طرح کا شملہ پہنتے دیکھتے تھے، لیکن وہ شملہ دربار اودھ کے شملوں سے سبک اور ہماری نظر میں ذرا اوچھا ہوتا۔
اب پگڑی کو سوا عہدہ داروں کے تمام خوش باش لوگوں اور معززین شہر نے مطلقاً ترک کر دیا تھا۔ لیکن اس پر بھی دربار میں اور نیز عوام میں پگڑی کی جو عزت دلوں میں قائم تھی اور ہے اس کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہو گا کہ شادیوں کے موقع پر ہر ادنیٰ و اعلیٰ طبقے میں دولہا کے سر پر پگڑی ہی ہوا کرتی ہے، اور لکھنؤ کے شرفا میں تو عموماً بھاری کمخواب کے شملے کا رواج ہے۔
یہاں کے دربار نے مذکورہ پگڑیوں کے علاوہ ملازمین کے مختلف طبقوں کے لیے جدا جدا وضعوں کی پگڑیاں بھی مخصوص کر دی تھیں۔ اہل قلم یعنی محرروں کے لیے اسی مذکورہ شملے کی سی سفید ململ کی پگڑی مخصوص تھی۔ دربار کے ہرکارے اور چوبدار بھی اسی قطع کی پگڑیاں پہنتے (اس لیے کہ وہ پگڑیاں باندھی نہیں بلکہ ٹوپی کی طرح پہنی جاتی تھیں)۔ فرق یہ تھا کہ ہرکاروں کی پگڑیاں سرخ ہوتیں اور چوبداروں کی سفید براق، جن پر آگے داہنی جانب مقیش کا ایک پھول بھی ٹنکا ہوتا۔ ہرکاروں کی پگڑیوں سے ملتی جلتی پگڑیاں کہاروں کی ہوتیں۔ ان کی پگڑیوں میں داہنی جانب کی کور پر چاندی کی مچھلیاں ٹنکی ہوتیں، اور جسم پر سرخ بانات کے ڈھیلے ڈھالے چغے ہوتے۔
ان کے علاوہ تمام فوجوں اور معزز لوگوں کے خدمتگاروں میں بھی پگڑیوں کا رواج تھا جو اپنی وضع پر جدا اور خودرو سی ہوتیں۔
سب سے زیادہ معزز و محترم عمامے علما کے تھے، اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر پگڑیوں کے سلسلے میں ہم علمائے کرام و مقتدایان امت کے عماموں کے ساتھ پورے زی علما سے بحث کریں۔ لکھنؤ میں مسلمانوں کے دو فرقوں کے علما ہیں: اول علمائے اہل سنت، دوسرے مجتہدین و افاضل شیعہ۔ ان دونوں کی وضع جداگانہ ہے۔ سنیوں کو تقدس اور ثقاہت کی شان اہل عرب کے لباس میں نظر آتی ہے، اور شیعوں کو علمائے فارس و عجم کی وضع میں۔ اسی مذاق و رجحان کے مطابق دونوں گروہوں کے علما کا لباس بھی ہے۔
آنحضرت صلعم کے عہد مبارک میں عربوں کا عمامہ صرف اس قدر تھا کہ کوئی مختصر سا کپڑا سر پر لپیٹ لیا جائے، جس کو نہ کسی قطعداری سے علاقہ تھا اور نہ وضعداری سے۔ مگر جب خلفائے عباسیہ کے عہد میں عراق مستقر خلافت قرار پایا تو عجمی و ساسانی لباس عمائد و اکابر عرب کی وضع میں داخل ہو گیا۔ بہرحال جو بڑے بڑے شاندار عمامے اور طیلسان وغیرہ عہد خلافت کے علمائے عرب نے اختیار کیے ان کو عربی لباس مشکل سے کہا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کے علمائے اہل سنت نے اگلے دنوں وہ عربی لباس چھوڑ کے دہلی کی درباری وضع اختیار کر لی تھی، اور اس وضعداری کے ساتھ اس لباس کو نباہا کہ آج ہندوستان کے سارے ابنائے وطن نے اسے چھوڑ دیا مگر وہ ابھی تک اس پر قائم ہیں۔
چنانچہ آج تک علمائے فرنگی محل کی اصلی وضع یہ ہے کہ ایک سیدھا گول عمامہ باندھتے ہیں، جس کی بندش میں بالکل اس کی کوشش نہیں کی جاتی کہ پیشانی پر محراب کی قطع پیدا ہو۔ جسم میں اگلے زمانے کا جامہ ہوتا ہے جو اب ہر جگہ بالکل خواب و خیال ہو گیا۔ پاؤں میں چوڑے اور عرض کے پائنچوں کا ٹخنوں سے اونچا پائجامہ ہوتا ہے، اور گلے میں ایک پتلا سا دوپٹہ پڑا ہوتا ہے۔ اس وضع میں ہمارے دو ایک بزرگان فرنگی محل آج بھی جمعے کی نماز پڑھانے کو آتے ہیں۔ مگر گھروں میں وہ معمولی سادی دوپلڑی یا چوگوشیہ ٹوپی، لمبا کرتا جس میں گریبان کا چاک بیچ میں ہو یا انگرکھا، اور عرض کے پائنچوں کا پائجامہ پہنتے ہیں۔ فی الحال حدیث العمر علمائے فرنگی محل نے اب اس وضع کو چھوڑ کے علمائے حرمین اور مقتدایان شام و مصر کی وضع اختیار کرنا شروع کر دی ہے، جسے آخر میں مولانا شبلی نعمانی نے بھی قومی اور سرکاری درباروں کے لیے منتخب کیا تھا۔ ان بزرگوں کا جوتا بھی اگلے دنوں گھیتلا تھا، مگر اب یا تو زیرپائیاں ہیں اور یا لکھنؤ یا دہلی کا چڑھواں جوتا۔
علمائے شیعہ کی وضع اس سے بالکل جدا ہے۔ وہ اول تو سر پر دوپلڑی ٹوپی پہنتے ہیں، مگر عام لوگوں کے خلاف اس کی سیون بجائے آگے سے پیچھے کی طرف رہنے کے آڑی، یعنی ایک کان سے دوسرے کان تک رہتی ہے۔ اس پر بلند اور اونچے قبے کا عمامہ اہل عجم کے عمامے کی بندش سے ملتا ہوتا ہے۔ بدن میں لمبا کرتا، مگر اس کے گریبان کا چاک بجائے اس کے کہ سینے کے بیچ میں ہو بائیں شانے کے پاس ہوتا ہے۔ اگلے دنوں علمائے شیعہ کے کرتوں میں گریبان کی جگہ دونوں شانوں پر ہوا کرتی تھی، مگر یہ وضع اب متروک ہو گئی ہے۔ جو علما ایران و کربلا ہو آئے ہیں وہ کرتے کے اوپر اگلی طیلسان پہنتے ہیں جو یہاں قبا کہلاتی ہے۔ پاؤں میں چوڑے پائنچوں کا پائجامہ ہوتا ہے، اور علی العموم کفشیں پہنتے ہیں جن کا ذکر جوتوں کے بیان میں آئے گا۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.