
第 34 章,共 56 章
Caps
ٹوپیاں
(۳۳)
درمیانی حصۂ جسم کے لباس کا حال ہم بیان کر چکے ہیں، لہذا اب اس جزو لباس کی طرف توجہ کرتے ہیں جو سر کے لیے مخصوص ہے، اور اسی لباس کی ہندوستان میں زیادہ عزت و حرمت کی جاتی ہے، اس لیے کہ جس طرح سر سارے جسم میں ممتاز ہے اسی طرح اس کے لباس کو بھی زیادہ ممتاز ہونا چاہیے۔ قدیم الایام سے ہندوستان میں پگڑی باندھنے کا رواج چلا آتا ہے۔ اگرچہ عربی و عجمی بھی عمامے باندھے ہوئے یہاں آئے، اور ان کی حکومت قائم ہو جانے کی وجہ سے یہاں کی پگڑیوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا، لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمانوں کے آنے سے پہلے یہاں پگڑی نہ تھی۔
ابتدائی دور کے مسلمان فرمانرواؤں کے عمامے بڑے بڑے تھے، اور اسی لحاظ سے ان دنوں تمام معززین و امرا اور دولتمندوں کی پگڑیاں بھی غالباً بڑی بڑی ہوں گی، جن کے نیچے قدیم ترکی وضع کی نوکدار مخروطی ٹوپیاں ہوتیں جو افغانستان میں آج تک مروج اور موجود ہیں، اور انھیں سے لے کے ہماری ہندوستانی فوج کی وردیوں میں شامل کی گئی ہیں۔
سلطنت مغلیہ کے عہد میں پگڑیاں روز بروز چھوٹی ہونے لگیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد ممالک میں جس طرح سردی کی مضرت سے بچنے کے لیے جو جو زمانہ گذرتا ہے لباس وزنی اور گندہ ہوتا جاتا ہے ویسے ہی گرم ملکوں میں سبک، ہلکا اور مختصر ہوتا رہتا ہے۔ اگلے مسلمان فاتح جیسے بھاری اور موٹے کپڑے پہنے ہوئے یہاں آئے ہوں گے ان کے وزنی ہونے کا اندازہ تو ہم فقط قیاس سے کر سکتے ہیں، مگر انگریزوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں کہ ان کا اور ان کی عورتوں کا لباس روز بروز کس قدر سبک، ہلکا اور مختصر ہوتا جاتا ہے۔
اسی اصول کے مطابق یہاں پگڑیاں روز بروز ہلکی اور چھوٹی ہوتی گئیں، اور ملک کا یہ رجحان دربار کی وضع پر بھی اثر کرتا گیا۔ دربار مغلیہ کے آخر عہد میں امرا اور منصبداروں کی پگڑیاں بہت ہلکی ہو گئی تھیں، اور اسی اختصار پسندی نے یہ بات پیدا کی کہ پگڑیوں کی صدہا قطعیں ہو گئیں، اور اکثر امرا نے اپنے لیے خاص بندشیں اور خاص وضع کی چھوٹی چھوٹی پگڑیاں ایجاد کر لیں۔
پگڑیوں کے اختصار نے ترکی کلاہ کو ترک کرا دیا، اور یہ حالت ہو گئی کہ کسی کی پگڑی کے نیچے ٹوپی ہوتی ہی نہ تھی، اور بعض پہنتے بھی تھے تو کسی بہت ہی باریک کپڑے کی ذرا سی ٹوپی جو پھونک میں اڑ جائے۔ ان ٹوپیوں کی نسبت ہمیں وثوق کے ساتھ نہیں معلوم ہے کہ کس وضع کی ہوتی تھیں۔ غالباً ان ٹوپیوں کی قطع ان ٹوپیوں کی قطع سے ملتی ہوئی ہو گی جو اب مشائخ اور فقرا کے سروں پر ہوتی ہیں، یعنی ایک چھ سات انگل کی چوڑی پٹی کا سر کے برابر ایک حلقہ بنایا جائے، اور اوپر کی جانب چنٹ دے کے وہ سمیٹ دیا جائے۔
لیکن چند روز میں ضرورت محسوس ہوئی کہ گھر میں اور بےتکلفی کی صحبتوں میں پگڑی اتار کے رکھ دی جایا کرے۔ لیکن ننگے سر رہنا چونکہ معیوب ہے اس لیے کسی قسم کی ٹوپی سر پر ضرور رہے۔ اس ضرورت کے پورا کرنے کے لیے دہلی میں تاج کی وضع سے لے کے ایک کمرخی ٹوپی ایجاد ہوئی، جس میں اس گول حلقے کے اوپر جو سر میں پہنا جاتا تھا چار کونے نکلے رہتے۔ اس وضع کی ٹوپی اب بھی بعض بعض امرا و شاہزادگان دہلی کے سروں پر نظر آ جایا کرتی ہے۔ یہ ٹوپی صحیح معنوں میں چوگوشیہ کہلاتی تھی۔ چند روز کے اندر اس ٹوپی میں بھی ترمیم و تنسیخ کا عمل شروع ہوا، اور دہلی ہی میں وہ کمرخی کونے نکال کے ایک گول قبہ نما ٹوپی ایجاد ہو گئی، جس میں چار پان ایسی قطع سے کاٹ کے جوڑے جاتے کہ ایک لمبوترا قبہ سر پر نظر آتا۔ یہی ٹوپی پہنے ہوئے لوگ لکھنؤ میں آئے، اور اس وقت سے اس میں دربار لکھنؤ کا اثر پڑنا شروع ہوا۔ یہاں پہلی ترمیم یہ ہوئی کہ پانوں کے جوڑوں پر لمبی صراحیاں بنائی گئیں، اور ان صراحیوں کے درمیان خوشنما چاند قائم کیے گئے۔ یہ چاند اور صراحیاں اس طرح بنائی جاتیں کہ باریک تنزیب کے پانوں میں نین سکھ کی صراحیاں اور چاند کاٹ کے اندر کی طرف ٹانک دیے جاتے، جو اوپر نمایاں ہو کے ٹوپی میں ایک اچھی نفاست، صفائی اور سادگی پیدا کرتے۔ یہ ٹوپی یہاں بہت پسند کی گئی۔ عام لوگوں نے یکایک پگڑی باندھنا چھوڑ دیا، اور ہر مہذب و شائستہ آدمی کے سر پر یہی ٹوپی نظر آنے لگی۔
عام مقبولیت نے اس کی قطع اور درست کی۔ لمبوتراپن موقوف ہو کے نہایت مناسب گولائی پیدا کی گئی، اور لکڑی اور تانبے کے قالب ایجاد ہوئے تاکہ ان پر کھینچ کے یہ چوگوشیہ ٹوپیاں (جو دہلی والی پرانی کمرخی ٹوپیوں کا نام اپنے ساتھ لیتی آئی تھیں) خوب قبہ دار اور گول کر لی جائیں۔
اتنے میں نصیر الدین حیدر کا زمانہ آیا جبکہ لکھنؤ میں مذہب شیعہ کو خوب فروغ تھا، اور مذہب، سیاست، تمدن اور معاشرت ہر چیز میں اپنے مذاق کے مطابق اصلاحیں کر رہا تھا۔ خلفائے اربعہ کی مخالفت اور پنجتن کی محبت نے لکھنؤ کی درباری معاشرت میں چار کے عدد کو برا اور پانچ کے عدد کو محبوب بنا دیا تھا، جس کا اثر ٹوپی پر یہ پڑا کہ بنائے بعض مستند روایات خود جہاں پناہ کی ہدایت کے مطابق اس چوگوشیہ ٹوپی میں چار کے عوض پانچ پان کر دیے گئے، جس کی وجہ سے اس میں پانچ صراحیاں اور پانچ پان ہو گئے، اور نام بھی بجائے چوگوشیہ کے پنجگوشیہ قرار دیا گیا۔ لیکن اصل ٹوپی میں جو ترمیم ہوئی تھی وہ تو اس قدر مستقل ہو گئی کہ چار پانوں کی ٹوپیاں بالکل فنا ہو گئیں، اور کسی کو یاد بھی نہ رہا کہ کبھی ان میں فقط چار پان ہوا کرتے تھے، مگر چوگوشیہ کا نام نہ مٹ سکا۔ آج تک باقی ہے اور زبانوں پر وہی ہے۔ اگرچہ بعض لوگ پنجگوشیہ بھی کہتے ہیں، مگر زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں جو اس پانچ پانوں والی ٹوپی کو آج تک چوگوشیہ کہتے ہیں۔
نصیر الدین حیدر بادشاہ اودھ نے یہ پانچ پانوں والی ٹوپی ابتداءً خاص اپنے لیے ایجاد کی تھی، اور ان کی زندگی میں رعایا میں سے کسی کی مجال نہ تھی کہ اس ٹوپی کو پہنے۔ مگر اہل شہر کو یہ وضع اس قدر پسند آ گئی تھی کہ ان کی آنکھ بند ہوتے ہی ہر ادنیٰ و اعلیٰ نے اسی کو اختیار کر لیا، اور لکھنؤ کے تمام مہذب و شائستہ لوگوں کے سروں پر یہی گول قبہ نما ٹوپی نظر آتی تھی۔
چند روز بعد جاڑوں کی ضرورت سے اسی قسم کی نہایت نفیس کامدار ٹوپیاں ایجاد ہو گئیں، جن میں پانچوں پانوں میں زربفت یا زری بوٹی کی زمین پر دوسرے رنگ کی ریشمی زمین دے کے قیطوں سے چاند اور صراحیاں بنائی جاتی تھیں، اور تمام وضعدار لوگوں کے سروں پر جاڑوں کے موسم میں ان کے سوا اور کوئی ٹوپی نہ ہوتی۔ اس کے بعد جب چکن کا رواج ہوا تو موسم گرما کے لیے اسی کام کی چوگوشیہ ٹوپیاں ایسی اعلیٰ درجے کی نفیس و خوشنما بننے لگیں جو سال سال بھر کی محنت میں تیار ہوتیں، اور دس دس بارہ بارہ روپے تک ان کی قیمت پہنچ گئی۔
اسی زمانے میں دہلی کے ایک شاہزادے وارد لکھنؤ ہوئے، جن کی دربار اور سوسائٹی نے بڑی عزت کی۔ وہ دوپلڑی ٹوپی پہنا کرتے تھے جس میں سر کے لبان کے مناسب دو لمبے پتلے بیضاوی صورت میں کاٹ کے جوڑ دیے جاتے تھے۔ ان کی یہ سادی ٹوپی اکثر لوگوں کو پسند آئی، اس لیے کہ وہ نسبتاً زیادہ سادی اور تیاری کے اعتبار سے آسان تھی۔ بہت سے لوگوں نے یہ ٹوپی اختیار کر لی، اور عوام میں اس کا اس قدر رواج ہوا کہ آج یہی دوپلڑی ہندوستان کی قومی ٹوپی ہے۔ وہ شاہزادے یہاں کے لوگوں میں "دوپلڑی ٹوپی والے شاہزادے" مشہور ہو گئے، اور کروڑوں خلقت کے سر ان کی ایجاد اور تراش کے آج تک زیر بار ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی کے آخری دور میں اسی دوپلڑی سے لے کے یہاں ایک بہت چھوٹی تیلی ٹوپی ایجاد ہوئی جس میں آگے پیچھے دونوں طرف دو نوکیں نکلی ہوتیں۔ یہ نکے دار ٹوپی کہلاتی تھی، اور اس قسم کے بھاری کام کی ٹوپیاں خاص شاہزادوں، صاحب دولت و رسوخ اعزائے شاہی اور اعلیٰ درجے کے نوابزادوں کے ساتھ مخصوص تھیں۔
الحاصل غدر کے زمانے تک اہل لکھنؤ میں دو ہی طرح کی ٹوپیوں کا رواج تھا: اول چوگوشیہ جو مہذب اور ثقہ لوگوں کے ساتھ مخصوص تھی، اور دوسری دوپلڑی جو شاہزادوں سے لے کے ادنیٰ طبقے والوں تک تھوڑے تھوڑے تغیر وضع کے ساتھ مروج تھی، اور آج عام لباس ہے۔
غالباً غازی الدین حیدر یا نصیر الدین حیدر کے زمانے ہی سے ایک گول ٹوپی کا بھی خاص خاص لوگوں میں رواج ہو گیا جو مندیل کہلاتی۔ اس کی قطع ڈفلی کی سی ہوتی، اور اکثر کارچوب کے کام کی پسند کی جاتی۔ دولتمندوں اور بعض نوابزادوں نے اس کو زیادہ موقر و شین تصور کر کے اختیار کیا، اور اسے یہ خصوصیت دی گئی کہ بادشاہ اور شاہزادوں کے سامنے بغیر پگڑی باندھے یا کارچوب کی مندیل پہنے کوئی شخص نہ جا سکتا تھا۔ غرض مندیل کو دربار میں جگہ دے دی گئی۔ اسی مندیل سے ماخوذ وہ گول ٹوپی تھی جس کے اوپر کے کونے ذرا گولائی لیے ہوتے، اور جنرلی ٹوپی کہلاتی۔ یہ عموماً سیاہ مخمل کی ہوتی، اور اس پر سچے سنہرے کلابتون کا سچا کام ہوتا۔ اصل میں یہ ٹوپی سرکار انگریزی کی فوج میں گوروں کو دی گئی تھی، اور بظاہر اس میں وردی کی شان تھی مگر انگریزوں کی تقلید کا غالباً پہلا نمونہ یہی تھا کہ یہ فوجی اور جنرلی ٹوپی شاہزادوں اور خاندانی امیروں کے لباس میں داخل ہو گئی۔
آخری شاہ اودھ واجد علی شاہ نے اپنے دربار کے خطاب یافتہ معززین کے لیے ایک نئی اور عجیب قسم کی درباری ٹوپی ایجاد کی۔ اس میں کاغذ کا مقوا دے کے ایک گول حلقہ سادے اطلس یا کارچوبی کام کا بنایا جاتا جو پیشانی پر زیادہ اونچا ہوتا۔ اس میں اوپر کی طرف تنزیب، گرنٹ یا جالی کی ایک بڑی سی جھولی بنا کے جوڑ دی جاتی، اور پہننے میں وہ جھولی پیچھے گدی تک لٹکتی اور سر کے پچھلے حصے پر پڑی رہتی۔ اس درباری ٹوپی کا نام بادشاہ نے "عالم پسند" رکھا تھا، اور اکثر عوام اسے "جھولا" کہتے۔ مگر یہ اس قدر غیر مقبول اور ناپسندیدہ وضع تھی کہ واجد علی شاہ کی زندگی میں بھی ان کے دربار کے باہر ان لوگوں کے سروں پر بھی نظر نہ آ سکتی جن کو وہ عطا ہوئی تھی، اور ان کے بعد تو اس قدر مٹ گئی کہ آج کل کے لوگوں نے شاید اسے کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا۔
غدر کے بعد لکھنؤ میں یکایک ٹوپیوں کی دنیا میں ایک انقلاب عظیم شروع ہو گیا۔ چند روز تک تو چوگوشیہ، دوپلڑی اور مندیلوں یا پگڑیوں کے سوا سر کا کوئی لباس نہ تھا۔ اس کے بعد یکایک چوگوشیہ ٹوپی کا رواج چھوٹنا شروع ہوا، یہاں تک کہ اب اس کے لیے صرف چند پرانے وضعدار سر رہ گئے ہیں۔ ان ٹوپیوں سے جو سر خالی ہو گئے ان میں سے اکثر نے دوپلڑی اختیار کی، لیکن بعض جدتیں تلاش کرنے لگے۔ چند روز تک میرٹھ کی سوزن کار مندیل نما ٹوپیوں کا دور رہا۔ اس کے بعد انگریزوں کی نائٹ کیپ یا کشمیری اونی لمبی چندوے دار ٹوپیاں مروج ہوئیں۔ پھر ان کی وضع سے ماخوذ کر کے گرنٹ یا ساٹن کی پتلی پتلی ٹوپیاں اختیار کی گئیں، جو مختصر ہوتے ہوتے دوپلڑی کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ اب انگریزی عہد کی وضعداریاں شروع ہوئیں، اور سر کے لیے ان کے لباس سے ملتا جلتا لباس ڈھونڈھا جانے لگا۔ بعض بزرگوں نے تو ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے بلاتامل ہیٹ یا انگریزوں کی نائٹ کیپ پہننا شروع کر دی، لیکن اب ترکی ٹوپی کا دور شروع ہو گیا تھا۔ اس ٹوپی کو سید احمد خان مرحوم نے اختیار کیا تھا، اور مسلمان جنٹلمین کے لیے کوٹ پتلون میں اس کا جوڑ لگایا تھا۔ اس وجہ سے ابتداءً یہ ٹوپی نہایت ہی نفرت کی نگاہ سے دیکھی گئی۔ نیچریوں کی ٹوپی اس کا نام پڑ گیا۔ اخباروں میں اس پر ہزاروں پھبتیاں کہی گئیں، مگر سر سید کے استقلال نے اسے مروج کر ہی کے چھوڑا۔ ان کی زندگی ہی میں لاکھوں آدمی اسے پہننے لگے، یہاں تک کہ لکھنؤ میں بھی آ پہنچی۔ بہتوں نے علی رغم المخالفین یہاں بھی اسے پہننا شروع کر دیا، لیکن اندر ہی اندر اس کی طرف لوگوں کا رجحان اس قدر بڑھا کہ اب سارے ہندوستان میں اکثر تعلیم یافتہ اور مہذب مسلمان اسی ٹوپی کا استعمال کر رہے ہیں۔
لکھنؤ میں معزز تعلیم یافتہ اور شائستہ شیعہ ہندوستان کے تمام شہروں سے شاید زیادہ ہیں، اور ان میں اس بات کی تحریک بمقابل سنیوں کے بڑھی ہوئی ہے کہ ہر بات میں اپنے آپ کو ممتاز کریں، اور اپنے شعائر و اوضاع جداگانہ قرار دیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جس طرح اہل سنت دولت عثمانیہ کے طرفدار ہیں شیعہ دولت قاچاریۂ ایران کے پیرو و جانبدار ہیں۔ لہذا جب لکھنؤ میں ترکی ٹوپی کا رواج بڑھنا شروع ہوا جو ترکوں کی ٹوپی ہے، تو وضعدار شیعوں کو خیال ہوا کہ بجائے ترکی ٹوپی کے دربار عجم کی کلاہ پاپاخ کو اپنے لیے اختیار کریں۔ یہ تحریک پورا کام کر گئی، اور اب یہ حالت ہے کہ جو مسلمان اپنی پرانی ٹوپیوں کو چھوڑ کے نئی ٹوپی اختیار کرتے ہیں وہ اگر سنی ہیں تو ترکی ٹوپی پہننے لگتے ہیں، اور اگر شیعہ ہیں تو ایران کی پرشین کیپ کو اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقوں میں بعض ایسے روشن خیال بھی موجود ہیں جو مسلمانوں کی اس اندرونی اعتقادی تفریق کو مٹانا چاہتے ہیں، اور باوجود سنی ہونے کے ایرانی یا باوجود شیعہ ہونے کے ترکی ٹوپی پہنتے ہیں، مگر ایسے لوگ کم ہیں۔ مسلمانان شہر کے جدید المذاق لوگوں کی عام وضع یہی ہے کہ شیعہ ایرانی اور سنی ترکی ٹوپی پہنتے ہیں۔
مسلمانوں کی یہ باہمی تفریق دیکھ کے ہندو تعلیم یافتہ لوگوں نے علی العموم گول مندیل نما فلٹ کیپ اختیار کر لی، جس کو بعض مسلمان بھی پہنتے ہیں، مگر ہندو انگریزی دانوں کی وضع میں بکثرت داخل ہو جانے کی وجہ سے انگریزوں نے اس کا نام "بابو کیپ" رکھ دیا ہے۔ مگر عوام ہندو ہوں یا مسلمان، شیعہ ہوں یا سنی، دوپلڑی ہی پہنتے ہیں۔
غدر کے بعد جو زمانہ گذرا یہ لکھنؤ کی سوسائٹی کے لیے عظیم الشان کون و فساد کا زمانہ تھا۔ معاشرت اور اخلاق و عادات کے ساتھ لوگوں کے لباس اور وضع میں بھی تغیر ہونے لگا، اور تعلیم یافتہ جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنھوں نے اپنی معاشرت کے ساتھ اپنی وضع بھی بالکل چھوڑ دی۔ نہ ان کی ٹانگوں میں پائجامہ رہا، نہ بدن پر انگرکھا، نہ پاؤں میں چڑھواں جوتا رہا، نہ سر پر ٹوپی یا پگڑی، بلکہ ایک ہی جست میں وہ ساتوں سمندر پھاند کے ہندوستان سے انگلستان میں کود پڑے، اور کوٹ، پتلون، بوٹ اور ہیٹ ان کا لباس ہو گیا۔ لیکن آبادی کے غالب گروہ نے اپنی وضع برقرار رکھنا چاہی، تاہم بغیر اس کے کہ وہ محسوس کریں ان میں بھی تغیر ہوا، اور انگرکھے کے عوض شیروانی ان کا قومی لباس بن گئی۔ لیکن سر کے لیے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ابھی تک کوئی ایسی ٹوپی نہیں منتخب ہو سکی جس کو سب بلاتامل اختیار کر لیں۔
اس کون و فساد اور رد و بدل کے زمانے میں لکھنؤ میں بیسیوں ٹوپیاں پیدا ہوئیں جو یا خود یہیں کی ایجاد تھیں یا کسی اور قوم یا مقام سے ماخوذ تھیں۔ ان میں سے جو چند روز تک ٹھہر سکیں ان پر لکھنؤ کے اصلی مذاق نے بہت کچھ تصرف بھی کیا، مگر آخرکار ترک ہو گئیں۔ اہل لکھنؤ کا طبعی رجحان اس جانب ہے کہ ہر چیز حتی الامکان نازک، نفیس، چھوٹی، چست اور سبک ہو۔ ہر وضع و لباس میں ان لوگوں نے اسی مذاق کا تصرف کیا، اور اکثر ٹوپیوں میں بھی اس قسم کا تصرف ہوا۔ مگر ترکی ٹوپی، ایرانی ٹوپی اور ہیٹ میں یہ لوگ مطلق تصرف نہ کر سکے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹوپیاں دوسری قوموں سے بنی بنائی لی جاتی ہیں اور باہر سے آتی ہیں۔ اور اسی تصرف نہ ہو سکنے کی وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ ان ٹوپیوں میں سے ایک بھی باوجودیکہ بکثرت مروج ہو گئی ہیں، لکھنؤ کے مذاق سے جدا ہونے کے باعث یہاں کا قومی لباس نہ بن سکے گی۔ اور ٹوپی کا مسئلہ تا حال موجدان لباس کی مجلس میں زیر غور و تجویز ہے۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。