
Chapitre 33 sur 56
Dress: Coats and Garments of the Body
لباس: انگرکھے اور بدن کے کپڑے
(۳۲)
اب ہم اس دربار اور لکھنؤ کے لباس پر بحث کرنا چاہتے ہیں، جو دراصل نہایت ہی دلچسپ بحث ہے۔ ہندوستان کے لباس کی تاریخ نہایت تاریکی میں ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پیشتر ہندوستان میں جہاں تک پتہ لگایا جائے اور قدیم مورتوں اور آثار وغیرہ کی تصویروں پر غور کیا جائے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے آنے سے پہلے یہاں سلے ہوئے کپڑے کا رواج نہ تھا۔ عورت اور مرد دونوں بےسی ہوئی چادروں، ساریوں اور دھوتیوں سے بدن ڈھانکتے تھے۔ عرب سیاح جو فاتحان اسلام سے پہلے ہی یہاں پہنچ گئے تھے انھوں نے سندھ سے لے کے بنگالے تک ہر ساحلی شہر اور قریب کے اندرونی علاقوں میں یہاں کے لوگوں کو اسی وضع میں پایا۔
پہلے عرب مسلمان جو یہاں پہنچے وہ اگرچہ کرتے، قمیص اور عبائیں پہنتے تھے، مگر لباس و وضع میں انھیں یہاں کے لوگوں پر کچھ زیادہ فوقیت نہیں حاصل تھی۔ لباس میں ترقی اس وقت سے شروع ہوئی جب ساسانی معاشرت اختیار کر کے بغداد کے عباسی دربار نے شرفائے عرب کے لیے پائجامے، عبا و قبا اور خوش قطع عمامے ایجاد کیے، جو لباس کہ کلیتہً یا زیادہ تر ساسانی دربار کے امرا و اعیان کی وضع سے ماخوذ تھا۔ چند ہی روز میں یہی لباس ان تمام مسلمانوں کا ہو گیا جو مصر سے دریائے سندھ کے کنارے تک پھیلے ہوئے تھے، اور آخر وہ اس لباس کو لیے ہوئے ہندوستان میں آئے۔ تصویروں میں جو لباس عہد اولین کے مسلمان تاجداران ہند کا نظر آتا ہے وہ قریب قریب وہی ہے جو عجمی و عباسی امرا و فرمانرواؤں کا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں کے سلاطین ہند اور راجاؤں کی تقلید میں جواہرات بہت زیادہ پہنا کرتے تھے۔
دہلی میں دربار مغلیہ کا آخری لباس جو ہمیں معلوم ہو سکا یہ تھا کہ سر پر پگڑی، بدن میں نیمہ جامہ، ٹانگوں میں ٹخنوں سے اونچا تنگ مہری کا پائجامہ، پاؤں میں اونچی ایڑی کا کفش نما جوتا، اور کمر میں جامے کے اوپر پٹکا۔ بس یہی دہلی کے قدیم شرفا کی وضع تھی، جس میں محمد شاہ رنگیلے کے زمانے تک کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہوا تھا، اور اگر ہوا بھی ہو تو اتنا نہ تھا کہ ہم کو نظر آ سکے۔
اس لباس میں نیمے سے مراد کہنیوں تک کی آدھی آستینوں کا شلوکا تھا، اور سینے پر سامنے اس میں گھنڈیاں لگائی جاتیں۔ اس کو نیچے پہن کے اس کے اوپر جامہ پہنا جاتا، جو عجمی قبا میں ترمیم کر کے بنایا گیا تھا۔ اس میں گریبان نہ ہوتا، بلکہ دونوں جانب کے کنارے جو "پردہ" کہلاتے ترچھے ایک دوسرے پر آ کے سینے کو ڈھانک لیتے۔ سینے کا بالائی حصہ جو گلے کے نیچے ہوتا ہے اسی طرح کھلا رہتا جیسے آج کل انگریزی کوٹوں میں کھلا رہتا ہے، اور جس طرح فی الحال قمیص سینے کے اوپر والے حصے کو چھپاتا ہے اسی طرح ان دنوں نیمہ اس کو ڈھانکے رکھتا۔ سینے پر جامے کا وہ پردہ جو بائیں طرف سے آتا نیچے رہتا، اور داہنے پہلو پر بندوں سے باندھ دیا جاتا، اور اس پر داہنی طرف کا پردہ رہتا جو اوپر بائیں پہلو میں باندھا جاتا۔ پھر اس میں کمر کے پاس سے دامنوں کی جگہ ایک اسکرٹ سی جوڑ دی جاتی جو ٹخنوں کے اوپر تک لٹکتی رہتی۔ اس میں بہت سی چنٹ دی جاتی، اور اس کا گھیر بہت بڑا ہوتا۔ جامے کی آستینیں آدھی کلائی تک بےسی اور کھلی رہتیں، اور دونوں جانب لٹکا کرتیں۔ اس کے نیچے سیدھی سادھی تنگ مہریوں کا پائجامہ ہوتا جو امرا میں مشروع اور گلبدن کا ہوا کرتا۔ پھر جامے کے اوپر کمر میں پٹکا باندھ لیا جاتا۔
دو تین صدی پیشتر ہمارے بزرگوں اور ہندوستان کے امیروں اور تمام شریفوں کا یہی لباس تھا۔ ٹوپیوں، پگڑیوں اور پائجاموں میں جو ترمیمیں ہوئیں ان کا مفصل و مشرح حال ہم بعد بیان کریں گے۔ سردست ہم درمیانی حصۂ جسم کے لباس کا ذکر کرتے ہیں، جو سچ پوچھیے تو اصلی لباس ہے، اور اسی سے انسان کی وضع قطع مشخص و متعین ہوتی ہے۔ یہی اس دور کا درباری لباس تھا، اور یہی لباس پہنے ہوئے نواب برہان الملک، منصور جنگ اور شجاع الدولہ دہلی سے اودھ میں آئے تھے۔ جامہ عموماً باریک ململ کا ہوتا، جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں نہایت نفیس، باریک اور سبک بنا کرتی اور ساری دنیا میں مشہور تھی۔ ڈھاکے کی ململ اور جامدانی عالی مرتبہ امیروں اور بادشاہوں کے لیے مخصوص تھی۔
اس کے بعد ایرانی قبا سے ماخوذ کر کے بالابر ایجاد ہوا، جس میں گول گریبان بالکل کھلا رہتا، اس لیے کہ سینے کے ڈھانکنے کے لیے نیمہ کافی تھا جو اس کے نیچے بھی پہنا جاتا۔ وہ چنٹ اور گھیر اس میں سے نکال دیا گیا، اور اس ضرورت سے کہ دامن آگے کی طرف نہ کھلیں داہنے دامن میں ایک چوڑی کلی لگا دی جاتی۔ یہی کلی اس کلی کا نقش اولین ہے جو فی الحال شیروانیوں میں بائیں جانب نیچے لیجا کے بند سے باندھی یا ہک سے اٹکائی جاتی ہے۔ بالابر بھی دہلی ہی کی ایجاد ہے۔
اسی بالابر پر ترقی کر کے دہلی ہی میں انگرکھا ایجاد کیا گیا، جس میں دراصل جامہ اور بالابر دونوں کو ملا کے ایک نئی قطع پیدا کی گئی۔ اس میں سینے پر چولی قبا سی سی لی گئی، مگر سینہ کھلا رکھنے کی جگہ ایک گول اور لمبوترا گریبان بڑھایا گیا، جس کے اوپر گلے کے نیچے ایک ہلال نما کنٹھا لگایا جاتا، اور وہ بائیں طرف گردن کے پاس گھنڈی تکمے سے اٹکا دیا جاتا۔ چولی نیچے رہتی، جس میں پہلے داہنی طرف کا پردہ نیچے بغل میں بندوں سے باندھا جاتا، اور پھر اوپر بند ہوتے جس سے دونوں طرف کے پردے سینے کے نیچے بیچوں بیچ میں لا کے باندھ دیے جاتے۔ اس میں بائیں جانب تھوڑا سا سینہ کھلا رہتا۔ چولی نیچی رہتی، اور نیچے دامن اگرچہ قبا کے سے ہوتے مگر پرانے جامے کی یادگار میں دونوں پہلوؤں پر بغلوں کے نیچے چنٹ ضرور رکھی جاتی۔
یہ پرانا انگرکھا تھا جو دہلی کے آخری دور میں رواج پا چکا تھا، اور وہاں سے سارے ہندوستان میں پھیل گیا۔ لکھنؤ میں آنے کے بعد اس انگرکھے میں زیادہ چستی اور قطع داری پیدا کی گئی۔ چولی خوب گول، اونچی اور کھنچی ہوئی چست ہو گئی۔ بغلوں کی چنٹ بالکل نکل گئی۔ دامنوں میں بجائے موڑ کے ٹانک دینے کی سنجافی گوٹ لگائی گئی۔ پھر اس کے بعد نوابزادوں اور شوقین وضعداروں نے ایک کمرتوئی کے عوض جو چولی کے نیچے بند لگانے کی جگہ پر ہوتی پلیٹوں کی وضع سے تین تین کمرتوئیاں لگائیں، جابجا گوٹ اور کمرتوئیوں کے پاس کٹاؤ کا کام بنایا۔
دہلی میں انگرکھے کے ایجاد ہونے کے بعد نیمہ چھوٹ گیا تھا، اور بائیں جانب سینے کا کھلا رہنا معیوب نہ تھا، بلکہ وضعداری خیال کیا جاتا۔ لکھنؤ میں اس کے نیچے نیمے کے عوض شلوکا ایجاد ہوا، جس میں آگے کی طرف بوتام لگائے جاتے، اس لیے کہ اب یورپ کے بوتام یہاں پہنچ گئے تھے۔ شلوکوں میں خاص وضعداریاں دکھائی جاتیں۔ نازک مزاج لوگ جالی یا بارلیٹ کے چست شلوکے پہنتے، جن میں کچے سوت سے نقش و نگار کاڑھے جاتے۔ بعض لوگ رنگین شلوکے پہنتے، اس لیے کہ اس کے بیل بوٹے اور اس کا رنگ تنزیب کے سفید انگرکھے کے نیچے سے اپنی جھلک دکھا کے خاص لطافت اور خاص نفاست پیدا کرتے۔
دوسری ترمیم بالابر میں دربار کے لکھنؤ آنے کے بعد یہ ہوئی کہ چپکن کے نام سے ایک چست قبا ایجاد ہوئی۔ اس میں ویسا ہی گول گریبان رکھا گیا، اور اس میں انگرکھے کی طرح سینے پر پردہ بھی لگایا گیا، مگر وہ پردہ داہنی جانب قوس نما صورت میں بوتاموں سے اٹکایا جاتا۔ اس میں داہنی جانب گلے کے پاس سے بوتاموں کی ایک خوشنما قوس گولائی لیتی ہوئی کوڑی تک آتی، اور اس کے مقابل دوسری جانب کی قوس میں اصلی قبا میں سی دیا جاتا۔ اس میں بھی بالابر کی طرح چوڑی کلی اوپر لگائی جاتی، جو بغل کے نیچے بائیں طرف بوتام یا گھنڈی سے اٹکا دی جاتی۔ یہ چپکن جو شالی یا کسی اور بھاری کپڑے کی ہوتی اور جاڑوں کے موسم کے لیے زیادہ موزوں تھی، ایک زمانے میں یہاں اہل دربار اور خاصۃً اہل کار اور باریابان دربار کا معزز لباس تھی۔ اسے انگریزوں نے بھی بہت پسند کیا، اور اپنے ملازموں کو ایک مدت تک وہی پہناتے رہے۔
سب کے بعد لکھنؤ کے بالکل آخری عہد میں چپکن اور انگرکھے دونوں کے ترتیب دینے سے اچکن ایجاد ہوئی۔ اس میں انگرکھے اور چپکن کا سا گریبان قائم رکھا گیا، جو بیچ سے سیدھا کاٹ کے آدھا آدھا دونوں جانب سی دیا جاتا، اور سلائی کی جگہ پر سنجافی گوٹ کے ذریعے سے گریبان کی گولائی اور قطع برقرار رکھی جاتی۔ بیچ کے چاک میں جو گلے سے لے کے سیدھا کوڑی تک آتا بوتام لگا دیے جاتے۔ وہ بالابر کی کلی جو اوپر لگائی جاتی تھی اس میں نیچے کر دی گئی، تاکہ دامن بھی نہ کھلیں، اور بالابر کی کلی کے اوپر کی طرف لگانے سے جو بدمذاقی ظاہر ہوتی تھی دور ہو جائے۔ اچکن کا نیچے کا حصہ بالکل چپکن اور انگرکھے کا سا ہوتا۔ شوقین لوگ اس میں بھی ویسی ہی دامن گوٹ اور اسی طرح کی تین تین کمرتوئیاں لگاتے، اور کٹاؤ کا کام بناتے۔
یہ آخری ایجاد اچکن لوگوں کو بہت پسند آئی۔ اس کا رواج شہر سے گذر کے دیہاتوں میں بھی شروع ہوا، اور آناً فاناً سارے ہندوستان میں پھیل گیا۔
یہی اچکن حیدرآباد پہنچ کے تھوڑی سی ترمیم کے بعد شیروانی بن گئی۔ وہاں اس کی آستینیں انگریزی کوٹ کی سی کر دی گئیں۔ گریبان جو گوٹ لگا کے سینے پر نمایاں کیا جاتا تھا نکال ڈالا گیا۔ قطع و برید میں انگریزی کوٹ کی وضع دامنوں وغیرہ میں بھی اختیار کی گئی، اور وہ لباس ایجاد ہو گیا جو آج کل ہندوستان کے ہندو مسلمان تمام لوگوں کا قومی لباس کہے جانے کے قابل ہے۔ لکھنؤ والوں نے بھی چند روز بعد جب اپنی پرانی ایجاد میں حیدرآباد کی مناسب اصلاح دیکھی تو اسے بہت ہی پسند کیا، اور تھوڑے ہی زمانے میں شیروانی کا رواج ہر شہر اور قریے کی طرح لکھنؤ میں بھی ہو گیا۔
انگرکھے کے نیچے جو شلوکا پہنا جاتا تھا اس کے عوض پہلے ڈھیلا اور اونچا کرتا اختیار کیا گیا، اور چند روز بعد مغربی اثر نے کرتا چھڑا کے انگریزی قمیص کو رواج دیا، جس میں کف اور کالر ہوتے ہیں۔ قمیص اور کالر کے رواج نے شیروانی کے تکلفات اور بڑھائے، یعنی لازمی ہو گیا کہ سفید کالر اوپر نکلا رہے، اور شیروانی کا اوپر کا سرا گلے پر ہک سے اٹکا کے قمیص کے اس بالائی بوتام کے نیچے رہے جس میں کالر لگایا جاتا ہے۔ آستینیں اتنی رہیں کہ کفوں کا کسی قدر حصہ نکلا رہے۔ تعلیم یافتہ لوگوں اور متوسط طبقے والوں کا لباس دوسرے شہروں کی طرح فی الحال لکھنؤ میں بھی یہی شیروانی ہے، مگر اس کو لکھنؤ سے خصوصیت نہیں۔ لکھنؤ کی ایجاد و اختراع کا خاتمہ اچکن پر ہو گیا، جو اب قریب قریب بالکل متروک ہو گئی ہے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.