
第 27 章,共 56 章
Soz-khwani: the Chanting of Elegies
سوز خوانی
(۲۶)
موسیقی ہی کے سلسلے میں سوز خوانی کے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس نئے مذہبی فن کو گانے بجانے کے خلاف شرع فنون میں داخل کرنا بےادبی ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ سوز خوانی ایک خاص قسم کی موسیقی ہی ہے۔ محرم میں شہادت سبط جعفر علیہ السلام کی یاد تازہ کرنا ہندوستان میں خاص شیعوں سے شروع ہوا، خصوصاً اس وقت سے جبکہ مذہب اثنا عشری ایران کا قومی مذہب بنا اور وہاں کے لوگ آ آ کے ہندوستانی دربار میں رسوخ حاصل کرنے لگے۔ تاہم دہلی میں چونکہ تاجداروں اور شاہی خاندان کا مذہب سنت و جماعت تھا اس لیے وہ خاص چیزیں جو شیعوں کے مذہبی معاشرت کے ساتھ مخصوص تھیں وہاں نشو و نما نہ پا سکیں۔ اس لیے ان فنون کی پرورش کا گہوارہ شہر لکھنؤ اور اس کا اگلا شیعہ دربار قرار پا گیا۔
جس طرح مذہبی سرگرمی نے شاعری میں مرثیہ گوئی اور تحت اللفظ خوانی کو پیدا کیا اسی طرح موسیقی میں سوز خوانی پیدا کر دی، پھر ان دونوں فنون کو یہاں تک ترقی دی کہ مستقل فن بن گئے، اور ایسے فن جو ابتدا سے انتہا تک لکھنؤ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ تحت اللفظ خوانی مرثیوں کا متانت اور بےتکلفی کے ساتھ اس طرح پڑھنا اور بتا بتا کے سنانا ہے جس طرح شاعر مشاعرے میں اپنی غزل سناتا ہے۔ اور سوز خوانی ان کو پرسوز و گداز نغمے کے ساتھ سناتا ہے۔
اصلی اور پرانی مرثیہ خوانی سوز خوانی ہی تھی، یعنی مرثیے مجلسوں میں ہمیشہ نغمے کے ساتھ سنائے جاتے تھے، اور ان کا رواج دہلی ہی نہیں ہندوستان کے ان تمام شہروں میں تھا جن میں حضرات شیعہ آباد تھے۔ مدراس اور دکن تک میں زور و شور سے اس قسم کی مرثیہ خوانی ہوتی تھی، اور ڈیڑھ دو سو برس کے تصنیف کیے ہوئے نسخے آج تک موجود ہیں۔ مرثیوں کو شاعروں کی شعر خوانی کے لہجے میں ادا کرنا خاص لکھنؤ کی ایجاد ہے، اور اس میں میر انیس اور مرزا دبیر وغیرہ نے جو کمالات دکھائے ان کا ذکر ہم شاعری کے سلسلے میں کر چکے ہیں۔
سوز خوانی اگرچہ پہلے سے تھی اور ہر جگہ تھی، مگر اس میں بھی لکھنؤ کے سوز خوانوں نے ایسے ایسے کمال دکھائے کہ اس فن کو بھی اپنے ساتھ مخصوص کر لیا۔ سارے ہندوستان کی اگلی سوز خوانی کا اندازہ اس مثل سے ہو سکتا ہے کہ "بگڑا گویا مرثیہ خوان۔" لکھنؤ نے سوز خوانی کا پایہ اس قدر بلند کر دیا کہ صاحب کمال گویوں کا بازار بھی سوز خوانوں کے آگے سرد پڑ گیا۔
لکھنؤ میں سوز خوان دیگر اہل فن کی طرح نواب شجاع الدولہ کے ساتھ یا ان کے عہد میں آئے۔ تاریخ فیض آباد میں لکھا ہے کہ شجاع الدولہ کی بیوی بہو بیگم صاحبہ کے محل میں مجلسیں ہوتیں، اور جواہر علی خان خواجہ سرا جو ان کی ڈیوڑھی اور سارے علاقے کا مختار تھا مرثیہ خوانوں کی نوحہ خوانی سنا کرتا۔ مگر اس وقت تک یہاں کی سوز خوانی وہی تھی جو ہر جگہ عام تھی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ خواجہ حسن مودودی سے یہ فن شروع ہوا۔ وہ مصنف نغمات الآصفیہ [1] کے استاد تھے، اور باوجود عطائی ہونے کے فن موسیقی میں ایسا کمال رکھتے تھے کہ دور دور تک کہیں ان کا جواب نہ تھا۔ اگرچہ سنی المذہب تھے مگر انھوں نے موسیقی کی خاص خاص دھنیں سوزوں میں قائم کر کے اپنے شاگردوں کو بتائیں، اور اس فن کے باضابطہ و باقاعدہ بننے کی بنیاد پڑ گئی۔ اس کے بعد جب سڑے حیدری خان کا زمانہ آیا تو ان کا معمول تھا کہ محرم میں اپنے مذاق کی مناسب دھنوں میں نوحہ خوانی کیا کرتے۔ چونکہ وہ بہت بڑے صاحب کمال گویے تھے اور دربار قدردان تھا اس کوشش میں ان کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، اور پتہ لگ گیا کہ اگر ترقی دی جائے تو یہ فن جداگانہ طور پر ایک خاص اور ممتاز شان پیدا کر سکتا ہے۔ موسیقی کی ہزارہا دھنوں میں سے وہ دھنیں منتخب کی گئیں جو اظہار حزن و ملال اور بین کے لیے مناسب ہوں، اور وہ صدہا سوزوں میں قائم کی گئیں۔ آخر میں حیدری خان نے اپنی سوز خوانی سید میر علی صاحب کو سکھا دی، جو ایک شریف النسل سید زادے تھے، اور انھوں نے مذہبی جوش میں اس فن کو بہت زیادہ ترقی دی، اور اپنے زمانے میں اتنے بڑے صاحب کمال مشہور ہوئے کہ نواب سعادت علی کے عہد میں انھوں نے کسی بات پر برہم ہو کے لکھنؤ سے چلے جانے کا ارادہ کیا تو انشاء اللہ خان نے اپنے موثر شاعرانہ انداز اور تمسخر کی شان سے سفارش کی، اور نواب نے دلدہی و قدردانی کے ساتھ انھیں روکا۔
اس کے بعد تانسین کے خاندان کا ایک گویا ناصر خان لکھنؤ میں آیا اور چمکا۔ یہاں سوز خوانی کی طرف لوگوں کا توغل دیکھا تو اس نے بھی اپنے موسیقی کے کمال کو نوحہ خوانی میں صرف کر کے مقبولیت و شہرت حاصل کی، اور اپنے پڑوس کی ایک مفلس و بیوہ سیدانی پر ترس کھا کے ان کے دو بچوں میر علی حسن اور میر بندہ حسن کو سوز خوانی کی تعلیم دی۔ ان دونوں کا کمال تمام سابق استادوں سے بڑھ گیا، اور سوز خوانی میں بےعدیل و نظیر ثابت ہوئے۔ انھیں نے سوز خوانی کو اعلیٰ درجے کا راگ بنا دیا ہے، یہاں تک کہ موسیقی کے اصلی راگوں کے بول تو اکثر گویوں تک کو یاد نہیں، مگر ایسے سوز اکثر سوز خوانوں کو یاد ہیں جو راگوں کے بول ہیں، جن کو سن کے حقیقی راگ اور سچی دھنیں ممتاز طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔
انھیں بزرگوں کی وجہ سے لکھنؤ میں سوز خوانی کا فن گویوں سے نکل کے شرفا میں آ گیا، اور کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہونے لگے جو ڈوم ڈھاڑی نہیں، شریف و وضعدار ہیں، مگر سوز خوانی میں ایسا کمال رکھتے ہیں کہ گویوں کا بازار ان کے سامنے سرد پڑ گیا ہے۔
فی الحال منجھو صاحب اور دو ایک اور بزرگ سوز خوانی میں ایسا کمال اور ایسی شہرت رکھتے ہیں کہ ہندوستان بھر میں ہر جگہ ان کے استقبال میں شوق کی آنکھیں بچھائی جاتی ہیں، اور دیگر بلاد کے لوگوں کی قدردانی ماہ محرم اور عزاداری کے خاص ایام میں ہمیشہ انھیں شائقین لکھنؤ کے ہاتھ سے چھین لیا کرتی ہے۔
سب سے زیادہ اثر اس مذاق نے لکھنؤ کی عورتوں پر ڈالا۔ سوزوں کی موثر اور دل کو پاش پاش کر دینے والی دھنیں میر علی حسن اور میر بندہ حسن کے گلے سے نکلتے ہی صدہا شریف مردوں کے گلے میں آ تریں، اور ان کے ذریعے سے ہزارہا شریف شیعہ خاندانوں کی عورتوں کے نور کے گلوں میں اتر گئیں۔ عورتوں کو فطرۃً گانے بجانے کا زیادہ شوق ہوتا ہے، اور ان کے گلے نغموں کے لیے عموماً زیادہ موزوں ہوا کرتے ہیں۔ یہ بااصول اور باقاعدہ نوحہ خوانی عورتوں میں پہنچی تو اس میں قیامت کی دلکشی پیدا ہو گئی، اور چند روز میں شیعہ ہی نہیں اونچے طبقے کی سنیوں کی عورتوں میں بھی نوحہ خوانی کا شوق پیدا ہو گیا۔ اور یہ حالت ہو گئی کہ محرم میں اور اکثر مذہبی عبادتوں کے ایام میں لکھنؤ کے گلی کوچوں میں تمام گھروں سے پرسوز و گداز تانوں اور دلکش نغموں کی عجیب حیرت انگیز صدائیں بلند ہوتی ہیں، اور کوئی مقام نہیں ہوتا جہاں یہ سماں نہ بندھا ہو۔ آپ جس گلی میں کھڑے ہو کے سننے لگیے ایسی دلکش آوازیں اور ایسا سیاست و بیخود کرنے والا نغمہ سننے میں آ جائے گا کہ آپ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ ہندوؤں اور بعض خاص خاص سنیوں کے مکانوں میں تو خاموشی ہوتی ہے، باقی جدھر کان لگائیے نوحہ خوانی کے قیامت خیز نغموں ہی کی آوازیں آتی ہوتی ہیں۔
تعزیہ داری چونکہ نوحہ خوانی کا بہانہ ہے، اس لیے سنی اور شیعہ دونوں گروہوں کے گھروں میں نوحہ خوانی کے شوق میں تعزیہ داری ہونے لگی، اور سنی مسلمان ہی نہیں ہزارہا ہندو بھی تعزیہ داری اختیار کر کے نوحہ خوانی کرنے لگے، جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ لکھنؤ میں تعزیہ داری کے بہت زیادہ بڑھنے اور فروغ پانے کا زبردست باعث نوحہ خوانی ہے۔
لکھنؤ میں بعض شریف، شائستہ اور تعلیم یافتہ عورتیں ایسی اچھی سوز خوان ہیں کہ اگر پردے کی روک نہ ہوتی تو مرد سوز خوان ان کے مقابلے میں ہرگز فروغ نہ پا سکتے۔ اس کو بہت مدت ہوئی کہ ایک سال چہلم کے موقع پر چند احباب کے ساتھ میں تال کٹورے کی کربلا میں گیا تھا، اور وہیں ایک خیمے میں شب باش ہوا تھا۔ دو بجے رات کو یکایک آنکھ کھلی تو ایک ایسے دلکش نغمے کی آواز کان میں آئی جس نے سب دوستوں کو جگا کے بیتاب کر دیا۔ ہم سب اس آواز کے شوق میں خیمے سے نکلے، اور دیکھا کہ آخر شب کا سناٹا ہے، چاندنی کھیت کیے ہوئے ہے، اور اس میں عورتوں کا ایک غول تعزیہ لیے ہوئے آ رہا ہے۔ سب بال کھولے اور سر برہنہ ہیں۔ بیچ میں ایک عورت شمع ہاتھ میں لیے ہے۔ اس کی روشنی میں ایک حسین سرو قد نازنین چند اوراق میں سے پڑھ پڑھ کے نوحہ خوانی کر رہی ہے، اور کئی اور عورتیں اس کے ساتھ گلے بازی کر رہی ہیں۔ اس سناٹے، اس وقت، اس چاندنی، ان برہنہ سر حسینوں اور اس پرسوز و گداز نغمے نے جو سماں پیدا کر رکھا تھا اس کو میں بیان نہیں کر سکتا۔ نازک اداؤں کا یہ مجمع جیسے ہی کربلا کے پھاٹک میں داخل ہوا اس سرو قامت نازنین نے پرج کی دھن میں یہ نوحہ شروع کیا:
جب کاروان شہر مدینہ لٹا ہوا / پہنچا قریب شام کے قیدی بنا ہوا
نیزے پہ سر حسین کا آگے دھرا ہوا / اور پیچھے پیچھے بیبیوں کا سر کھلا ہوا
اس مناسب حالت مرثیے نے یکایک ایسا سماں باندھ دیا کہ شبہہ ہوتا تھا کہ ان اشعار کے ذریعے سے وہ خاتون واقعۂ کربلا کی تصویر کھینچ رہی ہے، یا خود اپنے اس ماتمی جلوس اور اپنے داخلۂ کربلا کی۔
اصل یہ ہے کہ لکھنؤ کی عورتوں اور ان کے ساتھ مردوں پر بھی سوز خوانی و عزاداری نے جو نمایاں اثر ڈالا ہے اور کسی چیز نے نہیں ڈالا۔ اس کی پہلی برکت تو یہ ہے کہ تمام عورتیں بہت اچھی گلے باز ہو گئیں، اور موسیقی کے سچے اصول کے ساتھ نوحہ خوانی کرنے لگیں۔ دوسری برکت یہ ہے کہ سارے اہل شہر کو عام اس سے کہ مرد ہوں یا عورت موسیقی کے ساتھ مناسبت ہو گئی۔ یہ جو لکھنؤ کے گلی کوچوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ادنیٰ درجے کے لڑکے اور بازاری لوگ اکثر چلتے چلتے گانے لگتے، اور گانے میں ایسی گلے بازی کرتے اور مشکل سے مشکل دھنوں کو اس آسانی سے اڑا لیتے ہیں کہ باہر کے لوگوں کو حیرت ہو جاتی ہے، اس کا اصلی باعث یہ نوحہ خوانی و سوز خوانی کا مذاق ہے۔ اور تعریف کی بات یہ ہے کہ سوز خوانی کا نشو و نما باوجود عوام الناس اور ادنیٰ درجے کے جہلا میں پھیلنے کے صحیح اصول پر رہا، اور موسیقی کے صحیح مذاق سے باہر نہیں ہونے پایا، بخلاف اور چیزوں کے جو عوام میں پہنچتے ہی بےقاعدہ اور خراب ہو جایا کرتی ہیں۔
سوز خوانی کو گو کہ عوام شیعہ موجب ثواب تصور کرتے ہیں، مگر علمائے شیعہ نے اس وقت تک اس کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا ہے۔ وہ پابندی شرع میں متشدد ہیں۔ اب تک مجتہدین اور ثقہ لوگوں کی مجلسوں میں صرف حدیث خوانی یا تحت اللفظ خوانی ہوتی ہے، اور عوام کی جن مجالس میں علمائے شریعت شریک ہوتے ہیں ان میں بھی ان کے سامنے سوز خوانی نہیں ہوتی۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سوز خوانی نے اپنی عام مقبولیت کی وجہ سے علما کے فتووں پر پوری فتح پا لی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اہل سنت کے علمائے حدیث اور مشائخ صوفیہ کے نزدیک تو غنا کے جواز کی بہت گنجائش ہے، مگر شاید فقہ اثنا عشری میں اتنی گنجائش نہیں، ورنہ اس فن نے اب تک سند جواز حاصل کر لی ہوتی۔
حواشی
[1] موسیقی میں ان کے کمال کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مرہٹوں کی دست برد کے زمانے میں وہ میانے میں سوار لکھنؤ سے اٹاوے کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں کسی گاؤں میں گذر ہوا اور سنا گیا کہ اس گاؤں پر مرہٹے تاخت کرنے والے ہیں۔ کہاروں نے جو بہت دور سے انھیں لیے چلے آتے تھے یکایک میانہ رکھ دیا، اور کہا: "ہم میں اب آگے چلنے کی طاقت نہیں ہے۔" ہزار کہا گیا کہ یہ مقام خطرناک ہے، مگر انھوں نے ایک نہ سنی۔ خواجہ صاحب نے زندگی سے مایوس ہو کے وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی، اور بیٹھے بیٹھے کچھ الاپنا شروع کیا، اور اس کا کہاروں پر اس قدر اثر پڑا کہ تازہ دم ہو گئے اور امن کی جگہ پہنچا دیا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。