
الفصل 26 من 56
Courtesans, the Rahas and the Stage
طوائفیں، رہس اور ناٹک
(۲۵)
ناچنے کی استادی اگرچہ مردوں ہی میں مخصوص ہے، مگر علی العموم جس وسعت اور تعمیم کے ساتھ گانے والی رنڈیوں نے اس فن کو ترقی دی مردوں سے ممکن نہیں۔ ناچنے کو عورتوں کے ساتھ خصوصیت اور موزونیت بھی زیادہ ہے۔ یہ چیز ایک حد تک ہندوستان کے ہر شہر میں نظر آئے گی، مگر جیسی باکمال ناچنے اور بتانے والی رنڈیاں لکھنؤ میں پیدا ہوئیں شاید کسی شہر میں نہ ہوئی ہوں گی۔ آج سے چالیس سال پیشتر لکھنؤ کی ایک مشہور رنڈی "منصرم والی گوہر" نے کلکتے میں جا کے نمود حاصل کی تھی۔ میں نے ایک محفل میں اس کا یہ رنگ دیکھا کہ کامل تین گھنٹے تک ایک ہی چیز کو ایسی خوبی سے بتاتی رہی کہ حاضرین محفل (جن میں مٹیا برج کے تمام باکمال ڈھاڑی اور معزز لوگ موجود تھے) اول سے آخر تک محو حیرت و سکوت تھے، اور کوئی بچہ بھی نہ تھا جو ہمہ تن غرق نہ ہو۔ زہرہ و مشتری شاعرہ اور صاحب کمال گانے والیاں ہی نہیں، بےنظیر رقاصہ بھی تھیں۔ جدن نے ایک مدت تک زمانے کو اپنے رقص و سرود کا گرویدہ رکھا ہے۔
یہاں کی رنڈیاں عموماً تین قوموں کی تھیں۔ اول کنچنیاں جو اصلی رنڈیاں تھیں، اور ان کا پیشہ علی العموم عصمت فروشی تھا۔ دہلی اور پنجاب ان کے اصلی مسکن تھے، جہاں سے ان کی آمد شجاع الدولہ ہی کے زمانے سے شروع ہو گئی۔ شہر کی نامی رنڈیاں اکثر اسی قوم کی ہیں۔ دوسرے چونے والیاں۔ ان کا اصلی کام چونا بیچنا تھا، مگر بعد کو بازاری عورتوں کے گروہ میں شامل ہو گئیں، اور آخر میں انھوں نے بڑی نمود حاصل کی۔ چونے والی حیدر جس کے گلے کا شہرہ تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ اس کا سا گلا کسی نے پایا ہی نہیں، اسی قوم کی تھی، اور اپنی برادری کی رنڈیوں کا بڑا گروہ رکھتی تھی۔ تیسری ناگرنیاں۔ یہ تینوں وہ شاہدان بازار ہیں جنھوں نے اپنے گروہ قائم کر لیے ہیں اور برادری رکھتی ہیں، ورنہ بہت سی اور قوموں کی عورتیں بھی آوارگی میں پڑنے کے بعد اسی گروہ میں شامل ہو جاتی ہیں۔
گویوں اور ناچنے والوں کے بعد یہاں اسی نوعیت کا ایک اور گروہ بھی ہے جس کا نشو و نما لکھنؤ میں بہت ہوا، اور اسے لکھنؤ کے ساتھ مخصوص کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔ وہ رہس والے ہیں۔ رہس خاص متھرا اور برج کا فن ہے، وہیں کے رہس دھاریوں نے آ آ کے لکھنؤ کو اس کا شوق دلایا۔
واجد علی شاہ کو جب رہس پسند آیا تو انھوں نے اپنے مذاق اور اپنے خیالی پلاٹ کا ایک نیا رہس تیار کیا۔ اس کو دیکھتے ہی رعایا میں اس بات کا خاص شوق پیدا ہوا کہ عاشقانہ قصے جو ان دنوں پریوں کے حسن و عشق سے زیادہ وابستہ تھے عملی صورت میں دکھائے جائیں۔ پبلک کا یہ رجحان دیکھ کے میاں امانت نے جو رعایت لفظی میں کمال رکھنے والے ایک مشہور شاعر تھے اپنی اندر سبھا تصنیف کی، جس میں ہندوؤں کی دیومالا میں مسلمانوں کے فارسی مذاق کی آمیزش کا پہلا نمونہ نظر آیا۔
یہ اندر سبھا جیسے ہی شہر میں دکھائی گئی ہر شخص والہ و شیدا ہو گیا۔ یکایک بیسیوں سبھائیں شہر میں قائم ہو گئیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا اس قدر رواج ہوا کہ گویوں اور ناچنے والی رنڈیوں کا بازار چند روز کے لیے سرد پڑ گیا۔ اب امانت کے سوا اور بہت لوگوں نے نئی سبھائیں بنانا شروع کیں، جن میں اردو شاعری چاہے بگڑتی ہو مگر زبان منجھتی اور پورب کی دیہاتی اور ہندو اہل حرفہ کی آبادی میں سرایت کرتی جاتی تھی۔ اس مذاق نے ڈراما اور تھیٹر کی مضبوط بنیاد ڈال دی تھی، اور اگر چند روز اور شاہی کا دور رہتا تو بہت اچھے اصول پر خالص ہندوستانی ناٹک ایک خاص صورت پیدا کر لیتا جو بالکل اچھوتی اور ہندوستانی مذاق میں ڈوبی ہوتی۔
مگر یکایک مہذب سوسائٹی کو جس میں پرانی موسیقی گھر کر چکی تھی ان کھیلوں میں ابتذال نظر آیا۔ فن موسیقی کے شوق نے شرفا کو پھر گویوں اور مجرا کرنے والے طائفوں کی طرف متوجہ کر دیا، اور یہ چیزیں جو ناٹک کی شان رکھتی تھیں عوام الناس اور بازاری لوگوں ہی تک محدود رہ گئیں۔ مگر اگلے ذوق نے شہر میں اس مذاق کو عملی صورت میں دکھانے والا ایک خاص گروہ پیدا کر دیا جن کو آج کل کی اصطلاح میں ایکٹر کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ ہمارے یہ ایکٹر پہلے تو مہذب سوسائٹی کی قدردانی سے زبان اردو میں ترقی کرتے جاتے تھے، مگر چونکہ ان کا شمار ادنیٰ درجے کے بازاری لوگوں میں رہ گیا ہے اس لیے وہ مہذب زبان چھوٹ گئی۔ بازاری زبان میں آج کل بھی یہ لوگ بیسیوں طرح کے پرفارمنس دکھاتے ہیں۔
ہمارے ان ایکٹروں کے مبتذل ہو جانے کا سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ بمبئی کے پارسیوں نے انگریزی مذاق کے تھیٹر کھڑے کیے، جن میں سچ یہ ہے کہ نہ فن موسیقی ہی تھا اور نہ صحیح ایکٹ۔ مگر ان کی صفائی، ترتیب، طلسم نمائی اور ان کے زرق برق پردوں نے ہمارے قومی ڈراما کا جو ایک بچے کی طرح ہنوز گہوارے میں تھا گلا گھونٹ دیا۔ اعلیٰ سوسائٹی کے لوگ ناٹکوں کی شانداری پر فریفتہ ہو کے صحیح مذاق کو بھول گئے۔
سچ یہ ہے کہ بمبئی کے تھیٹروں نے ہندوستان کو بلحاظ فنون رقص و سرود کے بےحد نقصان پہنچا دیا۔ سب سے پہلے موسیقی کو تباہ کیا، اور ایسی وضع کے بےاصول نغموں کو اختیار کر کے بازاروں میں پھیلا دیا جن سے زیادہ مہمل کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد اس نے ہمارے رقص کو جو بہت ہی اعلیٰ درجے کا فن تھا مٹانا چاہا، اور اپنے اسٹیج پر ناچ کے نام سے یورپ کے "ڈرل" کو رواج دیا، جس میں چند لڑکے اپنی ترتیب اور وضع بدل کے دلچسپی پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن رہس والوں کا موسیقی اور ایکٹ اگرچہ دونوں ناقص ہیں مگر وطنی رنگ میں ڈوبے ہیں اور قومی مذاق رکھتے ہیں۔ ان کے چھوڑنے کی نہیں بلکہ ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.