Urdu in Translation
搜索

第 28 章,共 56 章

The Naubat and the Bazaar Bands

نوبت اور بازاری باجے

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۲۷)

ارباب نشاط اور فن موسیقی اور اس سے نکلے ہوئے فنون کے متعلق ہم بہت کچھ بیان کر چکے ہیں۔ لیکن اسی سلسلے میں بازاری باجوں کا حال بیان کرنا باقی ہے۔ لہذا آج ہم یہ بتلاتے ہیں کہ ان باجوں پر لکھنؤ کا کیا اثر پڑا، اور اسی پر ہم موسیقی کی بحث ختم کر دیں گے۔ باجوں کے جوڑ جو شادی وغیرہ کے جلوسوں کے ساتھ جاتے ہیں چھ طرح کے ہیں: (۱) ڈھول تاشے، (۲) روشن چوکی، (۳) نوبت، (۴) ترہی اور قرنا، (۵) ڈنکے اور بگل، (۶) انگریزی باجا جو ارگن باجا کہلاتا ہے اور روز بروز زیادہ رواج پاتا جاتا ہے۔

پہلا یعنی ڈھول تاشا ہندوستان کا قدیم نیشنل باجا ہے جس کا انگریز اکثر "ٹام ٹام" نام رکھ کے اپنی عدم واقفیت اور جہالت سے مضحکہ اڑاتے ہیں۔ ۱۸۸۶ء میں جب انگلستان کی تماشاگاہ "ارلس کورٹ" میں ہندوستانی معاشرت اور یہاں کے فنون و مشاغل کے صدہا نمونے دکھائے گئے تھے تو وہاں اس باجے کا نمونہ میں نے خود اپنی آنکھ سے یہ دیکھا کہ ایک نہایت ہی سیاہ فام شخص جس کے بدن پر سوا ایک میلے لنگوٹے کے کچھ نہ تھا عام مجمع میں برہنہ آ کے کھڑا ہو جاتا۔ اس کے گلے میں ایک ڈھول ہوتی، اور وہ نہایت ہی وحشیانہ طریقے سے بغیر کسی لے اور ترتیب کے مجنونوں کی طرح سر ہلا ہلا کے زور زور سے ڈھول کو لکڑی سے پیٹنے لگتا، اور کہا جاتا کہ یہی ہندوستان کا باجا "ٹام ٹام" ہے۔ مگر یہ ان لوگوں کی جہالت و بےعقلی ہے۔ یہ بہت ہی مکمل باجا ہے، اور اس کا بجانا ایک باقاعدہ فن ہے جس میں نہایت اعلیٰ درجے کی لے رکھی گئی ہے۔

اس میں لکھنؤ میں عموماً دو اور کبھی تین تین چار چار بڑے ڈھول ہوتے ہیں، اور کم سے کم ایک ورنہ دو تین تاشے والے ہوتے ہیں، اور کم سے کم ایک جھانجھ والا ہوتا ہے۔ جھانجھ کا پتہ ایران وغیرہ میں بھی ملتا ہے، اور تاشے مصر وغیرہ میں بھی مروج ہیں، مگر ڈھول خالص ہندوستان کی چیز ہے۔ لکھنؤ میں یہ باجا فوجوں اور خوش باشوں کے ساتھ دہلی سے آیا۔ مگر دہلی میں اس کے جوڑ میں صرف ڈھول اور جھانجھیں تھیں۔ تاشے لکھنؤ میں بڑھائے گئے، اور رواج پاتے ہی اس قدر ضروری اور اہم نظر آئے کہ معلوم ہوا جیسے ان سے اس باجے میں جان پڑ گئی۔ اگرچہ اکثر شہروں میں صرف ڈھول اور جھانجھیں ہی ہوتی ہیں، مگر لکھنؤ میں تاشے جزو لازمی ہو گئے ہیں، اور بغیر ان کے ڈھولیں کہیں بجتی ہی نہیں ہیں۔ مگر صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس باجے میں سب سے زیادہ کمال وہی شخص دکھاتا ہے جو تاشا بجاتا ہے۔ وہی لے قائم کرتا ہے، اور لے میں اس کی پیروی ڈھول والے کرتے ہیں۔ تاشا بجانے کی یہ صفت ہے کہ اتنی جلدی جلدی ضربیں پڑیں کہ ایک قرعے کا دوسرے سے امتیاز نہ ہو سکے، اور ان متواتر و مسلسل قرعوں سے نشیب و فراز یا زیر و بم سے لے اور گت پیدا ہو۔ لکھنؤ میں اس باجے کے بجانے والے ایسے ایسے استاد تھے کہ انھوں نے اس معمولی باجے کو جو سب جگہ بےاصول تھا بہت ہی باقاعدہ بنا دیا، اور اب بھی یہاں ایسے چابکدست بجانے والے پڑے ہیں کہ ان کے سامنے کسی شہر کے ڈھول بجانے والے نہیں بجا سکتے۔

لکھنؤ میں چہلم کے بعد ایک تعزیہ اٹھتا ہے جو بخشو کا تعزیہ کہلاتا ہے۔ اب تو اس کے جلوس نے شیعوں سنیوں کے جھگڑے کی وجہ سے دوسری صورت اختیار کر لی ہے، مگر دس بارہ برس پہلے اس کی شان یہ تھی کہ چونکہ شاہی کے ایک بڑے محب اہل بیت کی یادگار تھا، اور اب اس کے اٹھانے والے غریب و بےسر و سامان لوگ تھے، اس لیے ہر قسم کے باجوں کے بےنظیر و بےبدل استاد ثواب سمجھ کے شریک ہوتے، اور ثواب کے بہانے اپنے اپنے فنون کا کمال اہل شہر کو دکھاتے۔ اور اسی وجہ سے ان کا معمول تھا کہ جہاں کھڑے ہو گئے قدردانوں نے گھیر لیا، اور وہ گھنٹوں اسی جگہ کھڑے اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ کوئی ہے جو ہمارے سامنے آ کے بجائے؟ بڑے بڑے استاد گویے ان کی داد دیتے، اور وہ جوش میں آ کے اور زیادہ خوبی سے بجاتے۔ خصوصاً ان میں تاشا بجانے والے بڑے استاد ڈھاڑی ہوتے جو موسیقی میں کمال رکھتے اور گتوں میں جدتیں پیدا کرتے۔

ڈھول تاشا بجانے کے فن کے اہم اور بااصول ہونے کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو گا کہ آخری معزول تاجدار اودھ واجد علی شاہ کو جو موسیقی کے استاد بےبدل تھے میں نے کلکتے میں اپنی آنکھ سے دیکھا کہ محرم کی ساتویں تاریخ جب مہندی کا جلوس ان کی آسمانی کوٹھی سے روانہ ہوتا تو وہ خود گلے میں تاشا ڈال کے بجاتے۔ بڑے بڑے گویوں کے گلوں میں بڑی بڑی ڈھولیں ہوتیں۔ معززین دربار گرد حلقہ باندھے ہوتے، اور وہ ایسی نزاکت اور خوبی سے تاشا بجاتے کہ ناواقف سننے والے بھی عش عش کر جاتے، اور گویوں کی واہ وا تو ہمارے مشاعروں کے ہنگاموں کو بھی مات کر دیتی۔ اسی طرح میں نے انھیں کئی بار ڈھول بجاتے بھی دیکھا۔

بہرحال ہندوستان کے اس قدیم ترین باجے میں بھی لکھنؤ کی سوسائٹی نے اپنا تصرف کیا، اور ایسا تصرف کیا جو نہایت ہی مقبول اور ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص آ کے یہاں کے تاشہ نوازوں کا کمال دیکھے تو اسے معلوم ہو گا کہ کس قدر مناسب تصرف ہے، اور اس نے ڈھول اور جھانجھ کو کس قدر اہم بنا دیا ہے۔

دوسرا جوڑ روشن چوکی کا ہے۔ روشن چوکی بہت پرانا باجا ہے، اور اگر کل نہیں تو اس کے اہم ترین اجزا کو مسلمان اپنے ساتھ لائے، کیونکہ شہنائی اس کا اہم جز ہے، اور اس کی نسبت مشہور ہے کہ شیخ الرئیس ابن سینا کی ایجاد ہے۔ بالکل انسان کے گلے کی طرح جس قدر سچے سر گلے بازی کے اعلیٰ ترین کمال کے ساتھ شہنائی سے ادا ہوتے ہیں اور کسی باجے سے نہیں ادا ہو سکتے۔ روشن چوکی میں کم از کم دو شہنائی نواز ہوتے ہیں اور ایک طبلچی جس کی کمر میں چھوٹے چھوٹے دو طبل بندھے ہوتے ہیں۔ طبل لے کو قائم رکھتے ہیں۔ ایک شہنائی نواز اصلی سر قائم رکھنے کے لیے سر دیتا رہتا ہے، اور ایک آواز کی چلت پھرت اور گلے بازی کی مشق دکھاتا ہے، اور یہی اصلی شخص ہوتا ہے جو غزلوں یا ٹھمریوں وغیرہ کو عجیب دلکش سروں میں ادا کرتا ہے۔

روشن چوکی ہندوستان کا خاص درباری باجا تھا، جو بادشاہوں اور اعلیٰ ترین امرا کے خاصے کے وقت بجا کرتی۔ رات کو آرام کے وقت روشن چوکی شاہی قصر کے گرد گشت کیا کرتی، اور اس کا نغمہ دور سے بہت ہی لطف دیتا۔ دولت مغلیہ میں یہ بہت ہی اہم اور لطیف باجا خیال کی جاتی، اور دہلی میں خدا جانے کب سے مروج تھی۔ یقیناً لکھنؤ میں روشن چوکی بجانے والے دہلی سے آئے ہوں گے، مگر اس کے صاحب کمال ان اطراف میں بھی مدت سے موجود تھے۔ بنارس کے اکثر مندروں میں آج تک صبح کو روشن چوکی بجا کرتی ہے، اور تڑکے منہ اندھیرے کہیں قریب سے جا کے سنیے تو بہت ہی لطف آتا ہے۔

لکھنؤ میں علی العموم شادی کے جلوسوں میں روشن چوکی بجانے والے دولہا کے قریب رہتے ہیں۔ خصوصاً ہندوؤں کی براتوں میں راستے بھر قدم قدم پر انھیں انعام دیا جاتا ہے۔ روشن چوکی بجانے والے میرے خیال اور تجربے میں لکھنؤ سے اچھے آج کل کہیں نہ ملیں گے۔ جس قدر لے داری اور ہر چیز کو دلکش دھنوں میں سچے سروں کے ساتھ اہل لکھنؤ ادا کر لیتے ہیں اور کسی مقام کے روشن چوکی نواز نہیں ادا کر سکتے۔ ان کے کمال اور فن دانی کا اندازہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کوئی شوق سے سنے اور داد دیتا جائے۔ اسی بخشو کے تعزیے میں جس کا ذکر آ چکا ہے روشن چوکی بجانے والے بھی اپنا کمال دکھاتے تھے، اور اس طرح جان توڑ کے کوشش کرتے تھے کہ پھر ان کے بعد اور کسی کی شہنائی میں مزہ نہ آتا۔

تیسرا جوڑ نوبت کا ہے۔ ہمارے پرانے نغمہ ہائے طرب میں یہ سب سے زیادہ عالیشان بینڈ ہے۔ اس میں دو تین شہنائی نواز ہوتے ہیں، ایک نقارہ بجانے والا ہوتا ہے جو دو بہت بڑے بڑے عظیم الشان نقاروں کو اپنے آگے خمیدہ رکھ کے دونوں کو ایک ساتھ چوبوں سے بجاتا ہے۔ ان نقاروں کی آواز بہت بڑی ہوتی ہے، اور گرد کی فضا میں بہت دور تک گونجتی ہے۔ اور ساتھ ہی ایک جھانجھ والا بھی رہتا ہے۔

نوبت بھی تاریخی باجا ہے، اور اظہار شوکت کے لیے مدتوں کام میں لایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ اسلام میں ہمیں دمشق و بغداد و مصر کے درباروں میں بھی اس کا پتہ لگتا ہے۔ بغداد میں عباسیہ کے درمیانی دور میں ہر امیر کی ڈیوڑھی پر نوبت بجا کرتی تھی، اور موجب احترام و عظمت تصور کی جاتی۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہی یہ ہندوستان میں آئی۔ ممکن ہے کہ ہندوستان میں پہلے سے موجود ہو، اور گو کہ شہنائی نہ تھی مگر خالی نقارہ اور جھانجھ بجتی ہو، لیکن اصلی موجودہ صورت وہی ہے جو ایران و عراق میں مرتب ہونے کے بعد یہاں آئی۔

بادشاہوں اور عالی مرتبہ امیروں کے جلوس اور لشکر کے ساتھ نوبت بہت ہی لازمی شے تھی۔ اولو العزم تاجداروں کے جلوس کے آگے آگے ہاتھیوں پر نوبت بجتی جاتی۔ لڑائیوں میں غالب آنے والا گروہ اپنی فتحمندی اور غلبے کے اظہار کے لیے زور و شور سے نوبت بجوایا کرتا۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے حیدرآباد کو فتح کر کے اس کے قریب ایک پہاڑی پر نوبت بجوائی تھی جو آج تک نوبت پہاڑ کہلاتی ہے۔ دولت مغلیہ میں دربار کے اعلیٰ ترین طبقے کے رئیسوں اور عہدہ داروں کو بادشاہ کی طرف سے نوبت کا حق دیا جاتا، جو اپنی ڈیوڑھیوں اور نیز اپنی سواری میں نوبت بجوایا کرتے۔ نوبت بجانے والوں کے لیے کوئی بلند برج منتخب کیا جاتا، چنانچہ اکثر شاہی محلوں کے پھاٹکوں کے اوپر نوبت خانہ بنوا دیا جاتا ہے جس کے نمونے ہر بڑے شہر میں جہاں کوئی بڑا دربار رہ چکا ہو نظر آتے ہیں۔

اسی قدیم رواج کی پیروی میں لکھنؤ میں آج تک معمول ہے کہ جس دولتمند شخص کے وہاں شادی یا کوئی خوشی کی تقریب ہوتی ہے تو اس کے دروازے پر لمبی لمبی بلیاں کھڑی کر کے اور سرخ کپڑے اور پنی وغیرہ سے منڈھ کے عارضی طور پر ایک بلند نوبت خانہ بنوا دیا جاتا ہے، دن بھر ٹھہر کے مختلف اوقات میں بارہا بجایا کرتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جب براتیں یا تعزیوں کے جلوس چلتے ہیں اسی قسم کے مصنوعی نوبت خانے جو تختوں پر بنا لیے جاتے ہیں کہاروں کے کندھوں پر سب کے آگے آگے چلا کرتے ہیں، اور راستے بھر ان پر نوبت بجتی جاتی ہے۔

یہی نوبت اگلے دنوں خصوصاً لکھنؤ کے دربار میں وقت پہچاننے کا ذریعہ قرار پا گئی تھی۔ ان دنوں وقت کی تقسیم یہ چوبیس گھنٹوں کی نہ تھی جو اب انگریزی گھڑیوں کے رواج سے ہم میں مروج ہو گئی ہے۔ ان دنوں وقت کی تقسیم کا یہ حساب تھا کہ دن اور رات کے آٹھ پہر ہوتے ہیں: چار پہر دن کے اور چار پہر رات کے، اور ہر پہر کی آٹھ گھڑیاں ہوتیں۔ ہر نوبت خانے میں ایک پتیلے یا ناندے میں پانی بھرا رہتا۔ اس میں کٹورا جس کے پیندے میں ایک باریک سا سوراخ ہوتا تھا خالی کر کے ڈال دیا جاتا۔ وہ پانی پر تیرتا رہتا تھا۔ اس سوراخ سے آہستہ آہستہ اس میں پانی آتا رہتا تھا، اور وہ سوراخ اس اندازے سے بنایا جاتا تھا کہ ایک گھڑی بھر میں پانی سے بھرتے بھرتے ڈوب جائے۔ پھر شروع ہونے کے بعد جب پہلی مرتبہ کٹورا ڈوبتا تو ایک گھڑی بجائی جاتی۔ جب دوبارہ ڈوبتا دو گھڑیاں بجائی جاتیں۔ اسی طرح مسلسل آٹھ گھڑیاں بجائی جاتیں، اور آٹھویں گھڑی کے ساتھ گجر بجایا جاتا، یعنی پہلے ممتاز طور پر آٹھ ضربیں بجا کے گھڑیال پر ایک ساتھ بہت ہی بےشمار ضربیں جلدی جلدی لگا دی جاتیں، جس میں یہ اشارہ تھا کہ پہر پورا ہو گیا، اور گھڑیوں کا سلسلہ پھر ایک سے شروع ہو جاتا۔

جن ڈیوڑھیوں پر نوبت ہوتی وہاں ہر پہر کے خاتمے پر تقریباً ایک گھڑی تک نوبت بجتی رہتی۔ اس ترتیب سے رات دن کے آٹھ پہروں کی آٹھ نوبتیں ہوئیں، مگر معمول یہ تھا کہ صرف سات ہی نوبتیں بجا کرتیں۔ پہلی نوبت تڑکے نماز کے وقت یعنی پچھلے پہر کے آغاز پر بجتی اور صبح کی نوبت کہلاتی۔ دوسری اس وقت جب ایک پہر دن آ جاتا۔ یہ پہر دن چڑھے کی نوبت کہلاتی۔ تیسری جب آفتاب نصف النہار پر ہوتا، یعنی ٹھیک بارہ بجے۔ یہ دوپہر کی نوبت کہلاتی۔ اس کے بعد جب آٹھ گھڑیاں پوری ہو جاتیں تو تیسری نوبت بجتی، اور یہ تیسرے پہر کی نوبت کہلاتی۔ اس کے بعد چوتھا پہر ختم ہونے پر مغرب کے وقت نوبت بجتی، اور یہ شام کی نوبت کہلاتی۔ اس کے بعد جب پانچواں پہر پورا ہو جاتا تو پانچویں نوبت بجتی جو پہر رات گئے کی نوبت کہلاتی۔ پھر جب چھٹا پہر گذرتا تو چھٹی نوبت بجتی جو آدھی رات یا دوپہر رات کی نوبت کہلاتی۔ اس کے بعد جب ساتواں پہر پورا ہوتا اور رات کے تین پہر گذر جاتے تو اس وقت لوگوں کے آرام میں خلل نہ پڑنے پانے کے خیال سے نوبت نہ بجائی جاتی، صرف گجر بجا دیا جاتا۔ پھر اس کے بعد آٹھویں پہر کے خاتمے پر صبح کی نوبت بجتی۔

اوقات کا یہ حساب تھا جو دربار مغلیہ میں اور نیز انتزاع سلطنت تک لکھنؤ میں مروج رہا، اور کلکتے میں جب تک واجد علی شاہ زندہ رہے اسی حساب سے پہر اور گھڑیاں بجتی رہیں۔ مگر اتنے ہی دنوں میں وہ حساب اس قدر مفقود ہو گیا کہ اب شاذ و نادر ہی کوئی شخص ہو گا جو پہروں اور گھڑیوں کا حساب جانتا ہو۔ مگر خرابی یہ ہے کہ باوجود شب و روز کی تقسیم اوقات کے بدل جانے کے اگلا حساب ہماری زبان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ ہم کہتے ہیں: "گھڑی بھر میں آؤں گا۔" "دوپہر کو سوؤں گا۔" "پہر دن چڑھے کھانا کھاؤں گا۔" مگر ہم نہیں جانتے کہ پہر کتنا ہوتا ہے اور گھڑی کسے کہتے ہیں۔ ہم عموماً سنا کرتے ہیں کہ "پہرہ بیٹھ گیا" اور "پہرے کے سپاہی"، مگر نہیں جانتے کہ پہرے کا لفظ اسی پہر سے نکلا ہے، اس لیے کہ ان دنوں پہر پہر بھر کی نوکری ہر ایک کو دینا پڑتی تھی۔

تقسیم اوقات کا یہ پرانا حساب ہندوؤں کا ہے، مگر ایران میں بھی اگلے دنوں یہی حساب مروج تھا، اور اسی حساب سے نوبت بجا کرتی تھی۔ ہمارے موجودہ حساب سے ایک پہر تین گھنٹوں کا ہوا کرتا تھا۔

نوبت نواز بھی لکھنؤ میں ایسے اعلیٰ درجے کے تھے کہ ہر جگہ اور ہر شہر میں یہیں سے جایا کرتے، یا یہاں کے استادوں کے شاگرد ہوتے۔ لیکن نوبت میں کوئی ترقی یا اضافہ نہیں ہوا۔ بجانے والوں کی تعداد وہی رہی، باجے وہی رہے، اور بجانے کا طریقہ وہی رہا۔ پھر بھی اتنا ضرور ہوا کہ لکھنؤ کے اسکول موسیقی نے جن چیزوں اور جن دھنوں کو منتخب کر کے عام سوسائٹی میں مقبول کرا دیا تھا وہی دھنیں اور چیزیں نقارخانوں میں بھی سنی جانے لگیں۔ مگر باوجود اس کے نوبت بجانے کا جو قدیم طریقہ تھا وہ بھی اپنی حد پر قائم رہا۔ امیر خسرو نے اپنے زمانے کی نوبت نوازی کی جو تصویر اپنی نظم میں دکھائی ہے اس سے اس وقت کی نوبت بجنے کے طرز کا بہت کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ وہی طرز آج تک مروج ہے، اور اس میں بہت کم فرق آیا ہے۔ لیکن اس پر بھی شہنائی سے جو دھنیں اور گیت بجاتے ہیں ان پر لکھنؤ کی موسیقی کا جو کچھ اثر پڑا ہے وہ سنتے ہی نظر آ جاتا ہے۔

ترہی اور قرنا ہندوستان کے بہت پرانے قومی باجے ہیں جن کو فوجوں کے ساتھ زیادہ خصوصیت تھی۔ ترہی کی صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں کے ساتھ ہندوستان میں آئی اور ان کے ورود کے ابتدائی دور میں رواج پا گئی، مگر قرنا خاص ایرانی باجا ہے، اور اس کی آواز میں کچھ ایسا رعب و داب ہے کہ میدان جنگ میں رعب بٹھانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ ان دونوں باجوں کا بھی لکھنؤ کے جلوسوں میں رواج ہے، لیکن مستقل باجے کی حیثیت سے نہیں بلکہ فوجی دستوں یا پلٹنوں کے ساتھ ایک ترہی نواز یا قرنا نواز رہا کرتا ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے اپنا باجا بجا کے اپنے گروہ کی موجودگی کی اطلاع دے دیا کرتا ہے۔ ان دونوں باجوں کے مقابل ہندوؤں کا قدیم باجا نرسنگھا ہے جو اکثر ہندوؤں کے مذہبی جلوسوں کے ساتھ بجا کرتا ہے۔ یہ باجے دہلی سے آئے اور جیسے تھے ویسے ہی رہے، اور شاید ان میں ترقی کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

بگل اور ڈنکا جو فی الحال لکھنؤ کے شادی کے جلوسوں میں نظر آیا کرتا ہے وہ دراصل اگلے اور پچھلے باجوں کا ایک مبتذل مجموعہ ہے۔ ڈنکے سے مراد وہ نقارہ ہے جو اگلے دنوں فوجوں اور زبردست فاتحوں کے ساتھ گھوڑے پر رہا کرتا تھا، اور اس پر چوب پڑتے ہی لوگوں پر ایسا رعب پڑتا کہ بڑے بڑوں کے کلیجے دہل جایا کرتے تھے۔ بگل یا بیوگل انگریزی فوج کا وہ باجا ہے جس کے ذریعے سے فوج کو حسب ضرورت نقل و حرکت اور دوسرے کاموں کا حکم دیا جاتا۔ لہذا اب ڈنکے کے ساتھ بگل کو شریک کر کے ایک نیا جوڑ بنا لیا گیا جو شادی کے جلوسوں کے ساتھ نظر آیا کرتا ہے۔ مگر چونکہ کرایے کے اور بہت ہی مبتذل حالت کے لوگ ہوتے ہیں اس لیے ان کا لباس، ان کے گھوڑے اور خود ان کی صورتیں ایسی ذلیل و خوار ہوتی ہیں کہ ان سے بجائے رونق کے اور ابتذال اور ایک شرمناک منظر پیدا ہو جاتا ہے۔

اب سب کے آخر میں اور سب سے زیادہ ترقی پذیر باجا انگریزی باجا ہے۔ یہ خالص انگریزوں کا لایا ہوا ہے جو ان سے پیشتر مطلقاً نہ تھا۔ لکھنؤ میں خدا جانے کیوں مگر اس کے بجانے والے صرف مہتر ہی ہیں، جو پاخانے صاف کرنے کے علاوہ اس کام کو بھی کرتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو کہ ابتداءً ہندو مسلمان دونوں گروہوں کو عیسائیوں سے ایسی سوشل نفرت تھی کہ اگر وہ کسی برتن کو ہاتھ لگا دیتے تو ہمیشہ کے لیے چھوت ہو جاتا۔ اور اس باجے کو انگریزوں سے سیکھنا اور اسے منہ لگانا پڑتا، اس لیے سوا مہتروں کے اور کسی کو اس کے اختیار کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ بہرحال اب قریب قریب یہ مہتروں کا لازمی پیشہ ہو گیا ہے۔

چونکہ اس کام کو یہاں ایک ایسے گروہ نے اختیار کیا جو سب سے زیادہ ذلیل و خوار ہے اور جسے موسیقی سے بالکل مس نہیں، اس لیے امید نہ تھی کہ اس فن میں یہاں ذرا بھی ترقی ہو سکے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ مہتروں ہی میں ترقی کا شوق پیدا ہوا، اور چونکہ شہر کی سوسائٹیوں میں ہندوستانی موسیقی کی دھنیں پھیلی اور مذاق میں سرایت کی ہوئی تھیں اس لیے مہتروں کو مجبور ہونا پڑا کہ اس مغربی ارغنون میں اپنی دھنوں کو ادا کریں۔ انگریزوں یا انگریزی بجانے والے فوجی سپاہیوں سے انھوں نے صرف یہ حاصل کیا تھا کہ انگریزی باجوں کا بجانا آ جائے، یا دو چار مغربی موسیقی کی دھنیں سیکھ لی ہوں گی۔ لیکن اب انھوں نے ہندوستانی دھنوں میں مروجہ چیزوں کو بجانا شروع کیا تو روز بروز اس میں ترقی ہی کرتے گئے۔

انگریزی باجا میں نے ہر جگہ سنا ہے، اور سب جگہ وہی انگریزی کی چیزیں بجائی جاتی ہیں جن کو انھوں نے اپنے انگریزی بینڈ ماسٹروں سے سیکھ لیا ہے۔ یہ کہیں نہ نظر آیا کہ اس باجے کو بجانے والوں نے ہندوستانی موسیقی کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ یہ بات اگر غور سے دیکھیے تو لکھنؤ ہی میں نظر آئے گی کہ جن غزلوں یا ٹھمریوں کو روشن چوکی والے شہنائی سے ادا کر رہے ہیں انھیں چیزوں کو انگریزی باجے والے اپنے باجوں سے ادا کر رہے ہیں، اور ایسی خوبی سے کہ خواہ مخواہ سننے کو جی چاہتا ہے۔

انگریزی باجے کے بینڈ مہتروں کی مستعدی سے لکھنؤ میں سیکڑوں قائم ہو گئے ہیں، جن میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان میں پچیس پچیس تیس تیس بجانے والے ہوتے ہیں، اور بعض میں چھ سات یا چار ہی پانچ۔ انھوں نے گوروں کی وردیوں میں ہندوستانی مذاق کے مطابق تصرف کر کے اپنے لیے رنگ رنگ کی وردیاں بھی بنا لی ہیں۔ اور اگر وہ وردیاں صاف اور نئی ہوں تو انھیں پہن کے جب وہ برات کے ساتھ ارگن باجا بجاتے ہوئے چلتے ہیں تو بہت اچھے اور بہت شاندار معلوم ہوتے ہیں۔

وردی کی خصوصیت انھیں لوگوں میں ہے۔ اور قسم کے باجے والوں کو کبھی اس کا خیال نہ آیا کہ اپنے لیے کوئی وردی ایجاد کریں۔ وہ نہایت ہی ذلیل اور کثیف کپڑے پہنے ہوا کرتے ہیں۔ مگر انگریزی بینڈ والے مہتروں نے اپنے لیے طرح طرح کی وردیاں ایجاد کر کے اپنی شان بڑھا لی ہے، اور ہندوستانی موسیقی کو انگریزی ارغنون میں شامل کر کے لوگوں میں اپنی قدر بھی زیادہ کر لی ہے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。