Urdu in Translation
Search

Chapter 25 of 56

The Bhands and the Domnis

بھانڈ اور ڈومنیاں

Abdul Halim Sharar

Script
Size

(۲۴)

مرد ناچنے والوں کا دوسرا گروہ بھانڈ ہیں۔ ان کے مجرے کی شان یہ ہے کہ ایک نوخیز و خوش رو لڑکا جس کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوتے ہیں رنگین اور زرق برق کپڑے پہن کے اور پاؤں میں گھونگھرو باندھ کے ناچتا گاتا ہے۔ اس کے ساتھ کا ساز لے میں ڈوبا ہوا اور دلوں کو ابھارنے والا ہوتا ہے۔ اس کے ناچ میں غیر معمولی چلت پھرت اور شوخی و چالاکی ہوتی ہے، اور اس کا گانا بھی اسی رنگ اور مذاق کے مناسب ہوتا ہے۔ ساتھ بجانے والوں کے علاوہ سات آٹھ یا اس سے زیادہ بھانڈ رہتے ہیں جو اس کے ناچ گانے پر واہ واہ کے نعرے بلند کرتے، متاثر ہو ہو کے تال دیتے، اور اکثر خلاف تہذیب بےاعتدالیوں سے اس کے حرکات و سکنات اور اس کی اداؤں پر ہنسانے والے ریمارک کرتے رہتے ہیں۔ اور جہاں وہ لڑکا تھوڑی دیر گا چکا وہ سامنے آ کے نقلیں کرتے اور بذلہ سنجی و نقالی کا کمال دکھاتے ہیں۔

لکھنؤ میں ان لوگوں کے دو گروہ ہیں: ایک کشمیری جو کشمیر سے آئے ہیں، اور دوسرے خاص یہاں کے جن کا پیشہ ابتداءً کچھ اور تھا، مگر اب نقالی ان کا خاص فن ہو گیا ہے۔

نقالی اور خصوصاً رقص و سرود کے ساتھ نقالی ہندوستان کا بہت ہی پرانا فن تھا، جو راجہ بکرماجیت کے دربار میں یعنی حضرت مسیح سے بھی پہلے بہت ترقی پر تھا۔ مگر اس وقت اس میں اعلیٰ درجے کے ڈراما دکھائے جاتے، اور سچ یہ ہے کہ وہ بہت ہی مہذب و شائستہ نقالی تھی۔ ہندوستان کی ادنیٰ قوموں کی تقریبوں میں آج تک معمول ہے کہ جب وہ لوگ خود ہی ناچتے گاتے ہیں تو انھیں کے ساتھ مضحک نقلیں بھی کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے زمانے میں دولت مغلیہ سے پہلے بھانڈوں اور نقالوں کا پتہ نہیں لگتا۔ ممکن ہے کہ ہوں اور اس دور کے وقائع نگاروں نے ان کو قابل لحاظ نہ خیال کیا ہو۔ مگر دولت مغلیہ کے زمانے میں بھانڈوں نے خاص نمود حاصل کر لی تھی۔ ان کا پتہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد سے ملتا ہے، جب امرا و سلاطین دہلی کو ملک گیری و ملک داری کی زحمتوں سے چھٹی مل گئی تھی، اور صرف دربار داری و عیش پرستی کو اپنا آبائی حق تصور کرنے لگے تھے۔ مگر دراصل ان بھانڈوں نے یہاں کی سوسائٹی میں عجیب عجیب کام کیے۔ یہی یہاں کے نیشنل سٹائرسٹ ہیں، اور انھوں نے قریب قریب وہی کام کیے جو انگلستان میں اسپکٹیٹر اور ٹاٹلر نے کیے تھے۔ دہلی کا سب سے پہلا بھانڈ کریلا مشہور ہے، جو محمد شاہ کے عہد میں تھا۔ کسی بات پر ناراض ہو کے محمد شاہ نے حکم دیا کہ بھانڈوں کو ہمارے ملک سے نکال دو۔ دوسرے دن بادشاہ کی سواری نکلی تو اوپر سے ڈھول بجنے اور بھانڈوں کے گانے کی آواز آئی۔ تعجب سے سر اٹھا کے دیکھا تو کریلا اور چند بھانڈ ایک کھجور کے درخت پر چڑھے ہوئے ڈھول بجا بجا کے گا رہے تھے۔ سواری رکوا کے پوچھا: "یہ کیا گستاخی ہے؟ اور ہمارے حکم کی تعمیل کیوں نہ ہوئی؟" عرض کیا: "قبلۂ عالم! ساری دنیا تو جہاں پناہ کے زیر نگین ہے، جائیں تو کہاں؟ اس لیے عالم بالا کا ارادہ کیا، اور یہ پہلی منزل ہے۔" اس جواب پر بادشاہ اور جملہ مصاحبین ہنس پڑے، اور ان کا قصور معاف کیا گیا۔

لکھنؤ میں آنے کے بعد ان لوگوں کی کچھ ایسی قدر ہوئی کہ ان طائفوں کا اصلی مرکز لکھنؤ ہی قرار پا گیا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، فی الحال دہلی میں بھانڈ نہیں ہیں، اور ہوں تو بہت ہی کم اور گمنام ہیں۔ ہاں بریلی میں پرانے زمانے سے بھانڈوں کے طائفے موجود ہیں، اور اکثر لکھنؤ کے ڈوم ڈھاڑی بھی بریلی سے آئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوانین روہیلکھنڈ بھی موسیقی اور ارباب نشاط کے قدردان تھے، جن کی فیاضی سے بریلی و مرادآباد میں ان لوگوں کا نشو و نما اچھی طرح ہوا، اور وہاں سے بھی صاحب کمال ڈھاڑی اور نقال لکھنؤ میں آئے۔ اگرچہ اب ان کا اصلی مرکز لکھنؤ ہی بنا ہوا ہے۔

ان کے لطیفے، نوک جھونک کے فقرے اور نقالی کے عجیب کمالات لکھنؤ میں مشہور رہیں۔ نواب سعادت علی خان کے اشارے سے اس وقت کے سب سے بڑے بانکے کے سامنے جو چوٹ کرتا ہوا فقرہ ایک بھانڈ نے کہا تھا اس سے پہلے ہم اپنے ناظرین کو سنا چکے ہیں۔ اسی زمانے کا ایک یہ واقعہ بھی یادگار رہنے کے کسی رئیس نے انعام میں دوشالہ دیا، مگر وہ دوشالہ بوسیدہ اور پرانا تھا۔ ایک نقال نے ہاتھ میں لے کے اسے غور سے دیکھنا شروع کیا، اور اس پر بہت ہی گہری نظریں جما دیں۔ دوسرے نے پوچھا: "دیکھتے کیا ہو؟" کہا: "دیکھتا یہ ہوں کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔" پوچھا: "آخر کیا لکھا ہے؟" عینک نکال کے لگائی، اور اٹک اٹک کے بڑی مشکلوں سے پڑھا: "لا الہ الا اللہ۔" پوچھا: "بس اتنا ہی؟ محمد رسول اللہ نہیں لکھا؟" جواب دیا: "محمد رسول اللہ کیسے لکھا ہو؟ یہ تو ہمارے حضرت سے پہلے کا ہے۔"

لکھنؤ کے ایک نواب صاحب "گڑھیا والے نواب" مشہور تھے، اس لیے کہ ان کے مکان کے قریب ایک گڑھیا تھی۔ انھیں کے وہاں کسی تقریب میں محفل رقص و سرود تھی۔ ایک بھانڈ گھبرایا ہوا محفل کے سامنے آیا اور سب ساتھیوں سے کہا: "اٹھو اٹھو، تعظیم کرو۔" سب نے کہا: "کس کی تعظیم کریں؟ کوئی ہے بھی؟" بولا: "نواب صاحب آتے ہیں۔" اور یہ کہہ کے ایک ہانڈی جو کھولی تو ایک بڑا سا مینڈک اچھل کے بیچ محفل میں بیٹھ گیا، اور سب سے کہنا شروع کیا: "جلدی اٹھو، جلدی اٹھو!" ساتھیوں نے حیران ہو کے پوچھا: "آخر کس کے لیے اٹھیں؟" کہا: "تم نے پہچانا نہیں؟ آپ گڑھیا کے نواب ہیں!"

ان لوگوں کی نسبت مشہور تھا کہ جس کے وہاں جا کے ناچتے اس کی نقل ضرور کرتے، اور ممکن نہ تھا کہ اس پر چوٹ نہ کریں۔ اور سچ یہ ہے کہ جیسی جیسی خوبصورتی سے ان لوگوں نے امرا و رؤسا کو سبق دیے ہیں اور ان کی لغزشوں پر انھیں متنبہ کیا ہے اور کسی طرح ممکن ہی نہ تھا۔ اسی طرح نقالی میں جس کی نقل کرتے اس کا ایسا مکمل بہروپ بھرتے اور ایسا سچا کیریکٹر دکھاتے کہ لوگ عش عش کر جاتے۔ آج کل انگریزوں کی صحبت میں جس طرح "بابو انگلش" کا مضحکہ اڑا کرتا ہے اسی طرح ان دنوں یہیں کے کائستھوں کی فارسی آمیز اردو کا مضحکہ اڑا کرتا تھا۔ ان کی نقل اور دیوان جی کا کیریکٹر ایسا اعلیٰ درجے کا یہ بھانڈ دکھایا کرتے تھے کہ لوگ محو حیرت ہو جاتے۔

یہاں دوسرا کریلا بھانڈ نصیر الدین حیدر کے زمانے تک موجود تھا۔ اس کے بعد سجن، قائم، رجبی، نوشاہ، بی بی قدر وغیرہ کی شہرت ہوئی۔ علی نقی خان مع اپنی بی بی کے، جن کا بہت کچھ دور دورا تھا، قائم کی سبیل دیکھنے کو آئے، جسے وہ خوب سجاتا اور شربت پلایا کرتا تھا۔ ان معزز زائروں کو دیکھتے ہی قائم سامنے آ گیا، اور ہاتھ جوڑ کے کہا: "خدا نواب صاحب کو سلامت اور بیگم صاحب کو قائم رکھے!" اتنا سخت فقرہ تھا مگر نواب اور بیگم دونوں کو انعام ہی دیتے بنی۔ قائم کا کمال یہ تھا کہ ایک مرتبہ ساڑھے تین گھنٹے تک فقط طرح طرح کے منہ بناتا رہا۔

آخر زمانے میں فضل حسین، کھلونا، بادشاہ پسند، کیا خوب کے طائفے بہت مشہور رہے۔ اب بھی علی جان غنیمت ہے۔ یہ ان طائفوں کے ناچنے والوں کے نام ہیں جنھوں نے رقص میں بڑی ناموری حاصل کی تھی، اور جواب نہ رکھتے تھے۔

مگر لکھنؤ کی سوسائٹی پر ان سب لوگوں سے زیادہ اثر ڈومنیوں کا پڑ گیا تھا۔ تمام قصبات اور کل شہروں میں شادیوں میں گانے والی میراثنیں اور ڈھاڑنیں مدت ہائے دراز سے ہوتی آئی ہیں، جن کی وضع ڈفالیوں کی طرح ہمیشہ یکساں رہی۔ مگر ڈومنیوں نے لکھنؤ میں عجیب نمایاں ترقی کی۔ ڈھول کو چھوڑ کے انھوں نے رنڈیوں اور مردانے طائفوں کی طرح طبلہ، سارنگی اور مجیرے اختیار کیے۔ صرف گانے کی حد سے ترقی کر کے ناچنا شروع کیا، اور اسی پر کفایت نہ کی بلکہ بھانڈوں کی طرح زنانی محفلوں میں نقلیں بھی کرنے لگیں۔ شادی کی تمام رسموں کا وہ سب سے بڑا عنصر بن گئیں، اور دولتمند گھرانوں کی بیگموں کو ایسا گرویدہ کر لیا کہ کوئی محل اور کوئی ڈیوڑھی نہ تھی جس میں ڈومنیوں کا کوئی طائفہ نوکر نہ ہو۔ ان میں سے اکثر گانے اور ناچنے میں بےمثل ہوتی تھیں، اور ایسے نور کے گلے پائے تھے کہ زنانی محفلیں مردانی محفلوں سے زیادہ شاندار اور حد درجہ دلکش و پرلطف ہو گئیں۔ خصوصاً محفلوں میں ان کی شوخیاں اور جدت طرازیاں ایسی دلفریب ہوتی تھیں کہ مردوں کو اکثر تمنا رہتی تھی کہ کسی طرح ڈومنیوں کا مجرا دیکھنے کا موقع ملے، اس لیے کہ ڈومنیاں مردانی صحبتوں میں گانا ناچنا کسی طرح گوارا نہ کرتی تھیں۔ اب بھی ڈومنیاں کثرت سے موجود ہیں، اور اسی شان و وضع پر ہیں، مگر کمال اٹھ گیا۔ جیسی جیسی نامی لے دار اور گلے باز ڈومنیاں لکھنؤ میں گذر گئیں، ویسے گویے بھی کہیں نہ پیدا ہوئے ہوں گے۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.