
Chapter 24 of 56
Dance: Kathak and the Male Dancers
رقص: کتھک اور مرد ناچنے والے
(۲۳)
موسیقی کے ساتھ ناچ نے بھی ایک ممتاز فن کی حیثیت سے لکھنؤ میں بہت نمایاں ترقی کی۔ رقص ہر قوم میں تھا، اور قدیم سے قدیم زمانے میں تھا۔ فراعنۂ مصر کے سامنے بانکی رسیلی عورتیں کھڑی ہو کے ساز کے ساتھ ناچا کرتی تھیں۔ حضرت مسیح کے عہد میں بپتسما دینے والے یوحنا کا سر ہیرودیا نے ناچ ہی کے کٹوایا تھا۔ مگر ہندوستان میں بہت صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ گانے کی طرح ناچنا بھی عبادت میں داخل تھا، اور یہاں فن رقص کی پرورش ہمیشہ مذہب ہی کے آغوش میں ہوئی۔ چنانچہ اس فن کے جاننے اور کرنے والے خاص برہمن تھے، اور ان کا مرکز یا تو اجودھیا اور بنارس کے کتھک تھے یا متھرا اور برج کے رہس دھاری۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے تمام قدیم مندروں میں اگرچہ سیکڑوں ہزاروں عورتیں دیوتاؤں کی مورتوں کے سامنے روز مجرا کیا کرتی تھیں، اور جہاں بڑے معبد تھے وہاں قدیم سے قدیم زمانے میں ناچنے والیوں کا ایک بڑا انبار گروہ بھی موجود رہا کرتا تھا، مگر ناچنے کی استادی ہمیشہ مردوں میں رہی، اور وہی جوان عورتوں کو اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
ناچنا دراصل حرکات جسمانی کے باقاعدہ بنانے کا نام ہے۔ حرکات کی اس باقاعدگی کو اگر بہت سے اشخاص کے حرکات کے موافق یکساں اور موزوں بنانے سے تعلق ہو تو وہ ڈرل یا فوجی قواعد ہے، یا یورپ کے میوزک ہالوں کا وہ ناچ ہے جو "بیلڈ" کہلاتا ہے، اور اب اکثر ہندوستان کے تھیٹروں میں نظر آ جایا کرتا ہے۔ اور اگر وہ حرکات کی باقاعدگی موسیقی کی لے اور آواز کے نشیب و فراز کے موافق بنانے سے علاقہ رکھے تو وہ رقص ہے۔ ہندوستان کا اصلی خالص رقص یہی ہے کہ جسم کے حرکات و سکنات گیتوں اور سروں کے زیر و بم کے مطابق اور مناسب بنا لیے گئے۔ یہ اصلی ناچ ہے جو ہندوستان میں ایک بہت بڑا وسیع فن بن گیا۔ اس کی سیکڑوں گتیں اور بےشمار توڑے اور ٹکڑے ایجاد ہو گئے۔ اس کے بعد رقص میں جذبات و خیالات کا اشاروں اور حرکتوں سے ادا کرنا بھی شامل کر لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کبھی گانا ناچنے کی شرح بن جاتا ہے۔ پھر جب خوبصورت عورتوں کا ناچنا لوگوں کو فطرۃً زیادہ پسند آیا تو معشوقانہ ناز و انداز دکھانا اور نزاکت و نازنینی کی اداؤں کا ظاہر کرنا بھی اس کا جزو بن گیا۔ لکھنؤ کے اسکول نے انھیں امور کا لحاظ کر کے زنانے اور مردانے طائفوں میں امتیاز پیدا کر دیا۔ نزاکت کے ساتھ بتانا، معشوقانہ ناز و انداز دکھانا، اور ہر حرکت میں معشوقیت و نازنینی کا لحاظ رکھنا ناچنے والی عورتوں کے ساتھ مخصوص رہا، جو بعض وقت اگر بےمزہ ہو تو ناظرین کی طبیعتوں کو سست اور پست کر دیتا ہے۔ اس کے مقابل حرکات کو لے کے مناسب بنانے میں چلت پھرت دکھانا اور شاعرانہ دلکشی سے اظہار جذبات کرنا مردانے طائفوں کے لیے خاص ہو گیا۔ اگرچہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے فن کا ایک مناسب حد تک ضرور لحاظ رکھتے ہیں، مگر یہ امتیاز نمایاں طور پر قائم ہے۔
یہ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اودھ اور لکھنؤ میں ارباب نشاط اور مجرا کرنے والی رنڈیوں کے طائفوں کا آ کے جمع ہونا نواب شجاع الدولہ ہی کے زمانے میں انتہائی درجے کو پہنچ گیا تھا۔ ان کے علاوہ اجودھیا اور بنارس کے کتھک جو یہیں یا قریب ہی موجود تھے قدردانی دیکھ کے دربار کے مرکز کی طرف کھنچنے لگے، اور دونوں کے میل جول سے رقص کا فن نمایاں ترقی کرتے کرتے یہاں خاص شان پیدا کرنے لگا۔
مرد ناچنے والوں کے یہاں دو گروہ ہیں: ایک ہندو کتھک اور رہس دھاری، اور دوسرے مسلمان کشمیری بھانڈ۔ مگر اصلی ناچنے والے کتھک ہیں۔ اور کشمیری طائفوں نے معلوم ہوتا ہے اپنی نقالی کے کمالات میں جان ڈالنے کے لیے اپنے گروہ میں ایک ناچنے والا نوعمر لڑکا بڑھا لیا، جو بال بڑھا کے عورتوں کا سا جوڑا باندھتا ہے، اور نہایت ہی پھرتیلے پن سے ناچ کے اپنی چلت پھرت سے محفل میں زندہ دلی اور تازگی پیدا کر دیتا ہے۔
ہندو کتھکوں میں سے کوئی نہ کوئی باکمال ہر زمانے میں یہاں موجود رہا۔ یہ لوگ اپنے فن کا بانی مہادیو جی، پاربتی جی اور کنھیا جی کو بتاتے ہیں۔ شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کے عہد میں خوشی مہاراج ناچنے کا بڑا زبردست استاد تھا۔ نواب سعادت علی خان، غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے دور میں ہلال جی، پرگاش جی اور دیالو جی مشہور ناچنے والے تھے۔ محمد علی شاہ کے زمانے سے واجد علی شاہ کے عہد فرماں روائی تک پرگاش جی کے بیٹوں درگا پرشاد اور ٹھاکر پرشاد کے ناچ کی شہرت رہی۔ درگا پرشاد کی نسبت کہا جاتا ہے کہ ناچ میں واجد علی شاہ کا استاد تھا۔ اس کے بعد درگا پرشاد کے بیٹوں کالکا اور بندادین کی شہرت ہوئی، اور قریب قریب تمام لوگوں نے مان لیا کہ سارے ہندوستان میں ناچنے کا ان دونوں سے زیادہ صاحب کمال استاد کوئی نہیں ہے۔ پرانے استاد کسی خاص بات میں نمود حاصل کرتے تھے، مگر ان دونوں بھائیوں خصوصاً بندادین نے ناچ کے تمام فنون میں کمال دکھا کے اپنے آپ کو ہر حیثیت سے استاد بےبدل ثابت کر دیا، اور آج کل کے اکثر مشہور ناچنے والے انھیں دونوں بھائیوں کے شاگرد ہیں، اور ان کا گھر ہندوستان بھر کا سب سے بڑا رقص کا اسکول ہے۔
کالکا کو تھوڑا زمانہ ہوا کہ مر گیا، اور سچ یہ ہے کہ اس کے مرنے سے بندادین کے ناچ کا مزہ اٹھ گیا۔ بندادین کی عمر اس وقت ۷۷ سال کی ہے، اور اب بھی ناچ کے شائق اس کا مجرا دیکھنے کو اپنی زندگی کی ایک یادگار مسرت تصور کرتے ہیں۔ اس کا گت پر ناچنا، رقص کے استادانہ توڑے اور ٹکڑے اصلی صورت میں دکھانا، گھونگھرو بجانے میں یہ اختیار اور قدرت ظاہر کرنا کہ جو گھونگھرو چاہے بجائے، اور اس کے بعد ہر ہر لفظ اور ہر ہر چیز کو بتانا ایسی چیزیں ہیں جن کا بندادین ہی پر خاتمہ ہے۔ وہ ایک ایک چیز کو سو سو اداؤں، وضعوں، نزاکتوں اور دلفریب اشاروں سے بتاتا ہے، اور اس میں ایسی نازک خیالی اور جدت طرازی ہوتی ہے کہ دیکھنے والا جانتا نہ ہو تو سمجھ بھی نہیں سکتا۔ معمول تھا کہ بندادین بتاتا اور کالکا پاس کھڑے ہو کے اس کی تشریح کرتا جاتا۔ اس کی تشریح ہی سے لوگوں کو پتہ چلتا کہ بندادین اپنے فن میں کیسا کمال دکھا رہا ہے۔ ناچ میں اس کے پاؤں اس نزاکت سے زمین پر پڑتے ہیں کہ مشہور ہے بعض اوقات وہ تلوار کی باڑھ پر ناچا، اور مجال کیا جو تلوے میں چرکا آیا ہو۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.