Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 23 sur 56

Music under the Later Kings

آخری بادشاہوں کے زمانے کی موسیقی

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۲۲)

اگرچہ ہم نصیر الدین حیدر اور بعد والے فرماں روایان عہد کے موسیقی کے بارے میں کچھ اور بھی بیان کرنا چاہتے ہیں، مگر اس سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسد اللہ خان کوکب مرحوم کے خط کا باقیماندہ حصہ بھی اپنے ناظرین کو سنا دیں، جس سے لکھنؤ کی موسیقی پر ایک مستند ماہر فن کی رائے معلوم ہو جائے گی۔

وہ تحریر فرماتے ہیں: "واجد علی شاہ کے عہد میں لکھنؤ میں باکمالان موسیقی کا گروہ کثیر جمع ہو گیا تھا، لیکن دربار کے رسوخ یافتہ اور صاحب خطاب گویے کاملین فن نہ تھے۔ صرف ایک قطب الدولہ رامپور کے رہنے والے البتہ ستار خوب بجاتے تھے، اور اپنے فن میں اچھے تھے۔ انیس الدولہ، مصاحب الدولہ، وحید الدولہ اور رحمی الدولہ اگرچہ گویے تھے مگر ایسے باکمال نہ تھے۔ فقط عنایت شاہی سے دولہ ہو گئے تھے۔ کاملین فن میں یہ لوگ تھے: پیار خان، جعفر خان، حیدر خان، باسط خان۔ یہ سب لوگ میاں تانسین کے خاندان کی یادگار تھے۔ اس خاندان کے دو نامی شخص آج کل بھی موجود ہیں: ایک وزیر خان جو ریاست رامپور میں ہیں، دوسرے محمد علی خان جو ریاست پرتاب گڑھ میں ملازم ہیں۔ محمد علی خان کے والد باسط خان تھے جن کا نام اوپر آ چکا ہے۔"

اس موقع پر کوکب خان مرحوم بتاتے ہیں کہ "میرے والد مرحوم نعمت اللہ خان نے باسط خان ہی سے علم موسیقی حاصل کیا تھا۔ نعمت اللہ خان تقریباً گیارہ سال تک مٹیا برج میں واجد علی شاہ کے ساتھ رہے۔ پھر اس کے بعد تیس برس تک دربار نیپال میں رہے۔"

اس کے بعد لکھتے ہیں: "واجد علی شاہ کے عہد میں موسیقی کا خوب چرچا رہا، لیکن علم موسیقی اپنے بلند پائے سے گر کے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر آ گیا تھا۔ لکھنؤ میں کدر پیا نے ٹھمریاں تصنیف کر کر کے عوام میں پھیلائیں، اور موسیقی کو بےحس کر دیا۔ چنانچہ اکثر شبدایان موسیقی اعلیٰ درجے کی راگ راگنیوں کو چھوڑ کے کدر پیا کی ٹھمریاں پسند کرنے لگے۔ موسیقی کے مذاق میں تنزل محمد شاہ رنگیلے ہی کے عہد سے شروع ہو گیا تھا، جب میاں سارنگ نے خیال کو تصنیف کیا، جس سے فن موسیقی اصولاً ناقص ہو گیا۔ مگر اس سے بدرجہا زیادہ خرابی کدر کی ٹھمریوں سے پیدا ہو گئی، اور اب عوام و رؤسا کی یہ حالت تھی کہ اعلیٰ قسم کی موسیقی کو اگر سنتے بھی تھے تو دلچسپی و شوق سے نہیں، بلکہ ناپسند کرتے تھے۔

واجد علی شاہ کے مصاحب گویوں میں سے انیس الدولہ اور مصاحب الدولہ نے موسیقی کو پیار خان سے حاصل کیا تھا جو بہت بڑا صاحب کمال استاد تھا۔ اور جو کچھ اس نے ان دونوں شاگردوں کو بتایا وہ بیشک اعلیٰ پیمانے پر تھا، لیکن اس کا کیا علاج کہ دربار میں ایسے موسیقی کی قدر رہی نہ تھی۔ رہس جو قیصر باغ میں ہوتا تھا جس میں واجد علی شاہ خود کنھیا بنتے تھے، بہت ہی مبتذل درجے کا موسیقی تھا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ رغبت نہ ہونے پر بھی اہل کمال کی دربار شاہی میں بڑی قدر ہوتی تھی، جس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ واجد علی شاہ نے بھی باسط خان سے فن موسیقی حاصل کیا تھا، اور فن میں پوری بصیرت رکھتے تھے۔ اپنی عالی دماغی کی وجہ سے بادشاہ نے اپنے طرز میں نئی راگنیاں تصنیف کیں جن کے نام اپنی طبیعت داری سے جوگی کنبرا، جوہی، شاہ پسند وغیرہ رکھے۔ واجد علی شاہ کو اس فن میں اساتذہ کا درجہ حاصل تھا۔ صاحب کمال تھے، لیکن اس الزام سے نہیں بچ سکتے کہ ان کے عامیانہ مذاق نے لکھنؤ میں موسیقی کو سبک اور عام فہم بنا دیا۔ زمانے کا یہ رنگ دیکھ کے نفیس طبیعتیں رکھنے والے گویوں نے بھی راگ راگنیوں کی مشکلات کو ترک کر کے چھوٹی چھوٹی سادی دلکش اور عام فہم چیزوں پر موسیقی کو قائم کیا۔ عوام میں غزل ٹھمری کا چرچا ہو گیا، اور دھرپد و ہوری وغیرہ جو نہایت ثقیل اور مشکل چیزیں ہیں ان کی طرف مطلق توجہ نہ کی گئی۔ کھماچ، جھنجھوٹی، بھیرویں، سیندورا، تلک کامود، پیلو وغیرہ چھوٹی چھوٹی مزہ دار راگنیاں اہل مذاق کے تفنن کے لیے منتخب کی گئیں، اور یہی چیزیں بادشاہ کو بالطبع مرغوب تھیں۔ یہ راگنیاں لکھنؤ کی قدردان سوسائٹی کے مذاق میں یہاں تک سرایت کر گئیں کہ آج سارے ہندوستان میں لکھنؤ کے سفیدے خربوزوں کی طرح لکھنؤ کی بھیرویں بھی مشہور ہو گئی۔ اور سچ یہ ہے کہ بھیرویں لکھنؤ ہی کا حصہ ہے۔ ایسی بھیرویں ہندوستان کے کسی حصے میں نہیں گائی جاتی۔

سوز خوانوں نے بھی انھیں عام پسند و عام فہم راگنیوں کو زیادہ رواج دیا، جو مذہب کی سفارش سے گھر کی بیٹھنے والی عورتوں تک کے گلے میں اتر گئیں، یہاں تک کہ ان کی نوحہ خوانی سن کے بڑے بڑے باکمال گویے نقش حیرت بن جاتے ہیں۔ سوز خوانوں میں سے اکثر پیار خان اور حیدر خان کے شاگرد تھے۔

"لے" ایک اہم جزو موسیقی ہے جس کو عرف میں ٹائم یا وقت کہنا زیادہ موزوں ہے۔ اس کا مادہ واجد علی شاہ میں بہت زیادہ تھا، جسے قدرت کی دین کہنا چاہیے۔ اور یوں تو لے کا مادہ کم و بیش ہر شخص میں ضرور موجود ہوتا ہے۔ شعرا نے جو اوزان مقرر کیے ہیں وہ بھی "لے" ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ علم عروض دراصل علم لے ہے۔ ارکان تال کے اجزا ہیں۔ یہ بدیہی امر ہے کہ جس شخص میں فطرۃً لے کا مادہ بہت بڑھا ہوا ہو گا اس کے ہر عضو اور بن مو سے حرکت بےاختیاری و ربودگی پیدا ہو جائے گی، اور لے پر عضو عضو پھڑکنے لگے گا۔ عوام کی نظر میں یہ حرکت بےوقعت اور مہمل معلوم ہوتی ہے۔ لیکن وہ شخص جس سے سرزد ہوتی ہے مجبور ہے۔ وہ دانستہ اس فعل کو نہیں کرتا، بلکہ اعضا خود بخود لے پر حرکت کرنے لگتے ہیں۔ واجد علی شاہ کے اسی فعل کو لوگ کہتے ہیں کہ وہ ناچتے تھے، حالانکہ وہ "ناچتے" نہ تھے، بلکہ لے داری میں محو ہو کے ان کے اعضا سے ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی تھیں۔ جو لوگ اصول موسیقی سے ناواقف ہیں کہنے لگے: بادشاہ ناچتے ہیں۔ دراصل واجد علی شاہ کبھی اور کسی زمانے میں نہیں ناچے۔ ان کا ناچنا بس یہی تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ لے داری میں کوئی اعلیٰ درجے کا کامل فن گویا بھی بادشاہ کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ میں نے ان کی صحبت کے معتبر گویوں سے سنا ہے کہ بادشاہ کے پاؤں کا انگوٹھا سوتے میں بھی لے ہی پر چلتا تھا۔

نرت جس کو بھاؤ بتانا کہتے ہیں، یہ فن بھی علم موسیقی کا ایک خاص جزو ہے۔ نرت کا مقصد یہ ہے کہ مافی الضمیر حرکات اور اشاروں سے ادا کیا جائے، جس کو انگریزی میں موشن کہتے ہیں۔ موشن بڑے بڑے جید اسپیکروں اور لکچراروں میں پایا جاتا ہے، لیکن انھیں کوئی ہدف ملامت نہیں بناتا۔ اگر بیچارے واجد علی شاہ محض اپنی لے داری کی وجہ سے بدنام کیے جاتے ہیں۔"

یہ ہے جو لکھنؤ کی موسیقی اور واجد علی شاہ کے متعلق کوکب مرحوم کی تحریر سے معلوم ہوا۔ اس سے صاف پتہ چل سکتا ہے کہ لکھنؤ نے چاہے اعلیٰ درجے کے موسیقی کو رواج نہ دیا ہو، مگر اس کے سدھارنے اور عام پسند بنانے کا یہ شہر کتنا بڑا زبردست اسکول قرار پا گیا تھا۔

غازی الدین حیدر ہی کے زمانے میں یہاں اعلیٰ درجے کے قوالوں کی شہرت تھی۔ بجھو خان اور غلام رسول خان استاد فن مانے جاتے تھے۔ شوری اتنا بڑا زبردست موجد فن تھا کہ ٹپے کا موجد وہی مانا گیا ہے۔ بخشو اور سلاری ان دنوں طبلہ بجانے کے استاد مانے جاتے تھے، اور ان کے مقابل کسی کو طبلہ چھونے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔

اس آخر زمانے میں صادق علی خان سارے ہندوستان میں استاد بےبدل مانے جاتے تھے۔ چھوٹے اور بڑے منے خان کے گانے میں ایسا مزہ اور لطف تھا کہ باوجود کامل فن ہونے کے ناواقف عوام کو بھی اپنے نغمے پر فریفتہ کر لیتے۔

مٹیا برج میں جو ڈھاڑی واجد علی شاہ کے دربار میں ملازم تھے ان سب کو میں نے خود سنا تھا۔ احمد خان، تاج خان اور غلام حسین خان اس وقت کے زبردست صاحب کمال مانے جاتے۔ دلی خان جس نے سارے کلکتے میں اپنی دھوم مچا رکھی تھی اور اپنے سحر آفریں گلے سے ہر ادنیٰ و اعلیٰ کو فریفتہ کر لیا کرتا، لکھنؤ ہی کا تھا، اور لکھنؤ ہی کے اسکول موسیقی کا تعلیم یافتہ تھا۔ مرد گویوں کے علاوہ لکھنؤ میں بعض رنڈیوں نے وہ کمال حاصل کیا کہ بڑے بڑے ڈھاڑی ان کے سامنے کان پکڑتے تھے۔ زہرہ و مشتری جو شاعرہ بھی تھیں گانے میں اپنا جواب نہ رکھتی تھیں۔ چونے والی حیدر کو وہ ناموری حاصل ہوئی کہ اس کے گلے سے سوز سننے کے لیے لوگ محرم کے انتظار میں دن گنا کرتے۔ اور محرم میں باہر کے سیکڑوں ہزاروں شوقین لکھنؤ میں آ کے حیدر کے امام باڑے میں گھنٹوں امیدوار بنے بیٹھے رہتے کہ کب بی حیدر اپنا نغمۂ غم شروع کریں گی۔

طبلہ بجانے میں آخری عہد کا کامل محمد جی تھا جس کی سارے ہندوستان میں شہرت تھی۔ تقریباً تیس سال کا زمانہ ہوا، مجھے چوک میں ایک جنٹلمین مرہٹہ ملا جو کوٹ پتلون پہنے تھا اور کسی معزز خدمت پر مامور تھا۔ مجھ سے مل کے اس نے کہا کہ "میں لکھنؤ میں صرف اس شوق میں آیا ہوں کہ یہاں کے باکمالان موسیقی کا کمال دیکھوں۔" میں نے پوچھا: "آپ کون ہیں؟" کہا: "میں خاندانی گویا ہوں، اور میرے باپ دادا سیوا جی کے دربار کے گویے تھے۔ اگرچہ اب انگریزی تعلیم پانے کے بعد نوکری کر لی ہے، مگر اپنے خاندانی فن کو بھی جانتا ہوں۔" اتفاقاً اس وقت ایک اور صاحب آ گئے جو لکھنؤ کی مشہور گانے والی "محمدی" کے وہاں آتے جاتے تھے۔ بولے: "چلیے، آپ میرے ساتھ چلیے۔" وہ مرہٹے صاحب مجھے بھی اپنے ساتھ کھینچ لے گئے، اور ہم سب محمدی کے وہاں پہنچے۔ اتفاقاً وہاں صادق علی خان بھی موجود تھے، اور سب نے اپنا کمال دکھایا۔ خود وہ مرہٹہ بھی گایا۔ اس کے بعد ہم سب چودھرائن کے وہاں گئے، جو گھر یہاں صاحبان فن کا سب سے بڑا کلب سمجھا جاتا ہے۔ وہاں دونوں منے خان بلائے گئے۔ انھوں نے گا کے اپنا کمال دکھایا۔ آخر میں اس مرہٹے نے کہا: "مجھے تو صرف اتنی تمنا یہاں لائی ہے کہ میں ایک ترانہ گاؤں اور محمد جی میرے ساتھ طبلہ بجا دے۔" فوراً محمد جی بلائے گئے، اور مرہٹے جنٹلمین کے گانے اور محمد جی کے بجانے میں کل حاضرین کو بڑا مزہ آیا۔ سب عش عش کر گئے۔ اور آخر میں اس مرہٹے نے قبول کر لیا کہ "میں سب جگہ گیا ہوں مگر محمد جی سے زیادہ باکمال طبلہ نواز آج تک آنکھ سے نہیں دیکھا تھا۔"

لکھنؤ میں موسیقی کو اس قدر عروج ہو گیا تھا کہ بخلاف اور شہروں کے امرا اور دولتمندوں کے یہاں کے امرا ذوق صحیح رکھتے ہیں، سمجھتے ہیں، دھنوں، راگوں اور راگنیوں کو پہچانتے ہیں، اور دو ہی ایک تانیں سن کے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ گویا کس پائے کا ہے۔ معمولی گانے والا یہاں کی صحبتوں میں فروغ نہیں پا سکتا۔ بازاری لوگ اور عموماً لڑکے جو سڑکوں اور گذرگاہوں میں گاتے پھرتے ہیں وہ بھی مختلف چیزوں کو ایسے سچے سروں میں ادا کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے راگنی اور لے گلے میں اتری ہوئی ہے۔ اکثر شہروں میں لوگ کثرت سے ایسے ملیں گے جو شعروں کو موزوں نہیں پڑھ سکتے۔ بخلاف اس کے یہاں آپ کو ایسا جاہل ڈھونڈھے نہ ملے گا جو اشعار کو موزوں نہ پڑھ سکتا ہو۔ دلیل ہے اس بات کی کہ لے داری یہاں کے بچے بچے کے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے۔ بعض اوقات کسی بازاری لڑکے کو بھیرویں، سوہنی، بہاگ یا کسی اور دھن میں ایسی خوبی سے گاتے سنا گیا ہے کہ سننے والے محو ہو گئے، اور بڑے بڑے گویوں کو ان پر حسد آنے لگا۔

موسیقی کے سلسلے میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم سازوں اور آلات موسیقی کا بھی حال بیان کر دیں۔

موسیقی میں دو چیزیں ہوتی ہیں: سر اور لے۔ ان دونوں چیزوں میں بگڑنا گانے کا ناقابل عفو عیب ہے۔ لہذا ان دونوں کی نگہداشت کے لیے دو ہی سازوں کی ضرورت ہوئی۔ چنانچہ فی الحال سر پر رہنے کی مدد کے لیے سارنگی اور لے پر قائم رہنے کی ضرورت سے طبلہ کام میں لائے جاتے ہیں۔

سروں کی مدد کے لیے ہندوستان کا پرانا ساز بین تھی، جس میں ایک مجوف چوبی نلی کے دونوں سروں پر دو تونبیاں لگائی جاتیں، اور اس پر ساتوں سروں کے سات تار کھینچ دیے جاتے، جن کا نغمہ نلی کے اندر سے دونوں جانب دوڑ کے دونوں تونبیوں میں گونجتا۔ مسلمان اپنے ساتھ رباب، چنگ اور سرود لائے۔ رباب غالباً عربی باجا تھا جس نے عباسیہ کے دور میں بہت ترقی کی تھی۔ چنگ اور سرود عجمی باجے تھے۔ ان میں سے چنگ بہت ہی پرانا ساز ہے جس کا سراغ اسیریا، بابل، مصر، یونان اور روم غرض تمام اگلی قوموں میں لگتا ہے۔ سرود خالص فارسی باجا تھا جس کو عباسی دور کے مغنیوں نے اختیار کر کے بہت ترقی دی۔ ہندوستان میں آنے کے بعد جب ہندوؤں اور مسلمانوں کے نغموں میں میل جول ہوا تو پہلے طنبورہ ایجاد ہوا، جو دراصل بین کا اختصار اور صرف سروں کے قائم رکھنے کا کام دیتا تھا، اور تنہا بجانے کی چیز نہ تھا۔ چند روز بعد امیر خسرو نے ستار ایجاد کیا جو دراصل بین اور طنبورہ دونوں میں ایک آسان اور عام پسند تصرف تھا۔ لیکن بین ہو یا طنبورہ یا ستار، گلے کا پورا ساتھ کوئی نہ دے سکتا تھا۔ یہ کمی دیکھ کے محمد شاہ رنگیلے کے دربار کے زبردست و نامور مغنی میاں سارنگ نے سارنگی ایجاد کی جو انھیں کی طرف منسوب ہے۔ سارنگی نے بین، طنبورے اور ستار سب کو پیچھے ڈال دیا، اور رقص و سرود کی محفلوں میں ایسا رسوخ حاصل کیا کہ ان اگلے سازوں کے بجانے والے بھی فنا ہو گئے۔ انھیں پرانے سازوں میں یہاں ایک قانون بھی تھا جسے یقیناً مسلمان شام و عراق سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ اس کے بجانے والے بھی اب کہیں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ غرض عیش و طرب کی محفلوں سے سارنگی نے ان سب کو نکال دیا، اور ان قدیم سازوں کی یہ شان رہ گئی کہ اعلیٰ درجے کے استاد گویوں میں کبھی کبھی کوئی یک فنیا نظر آ جاتا ہے جسے بین یا سرود، رباب یا قانون کے بجانے میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ ستار نوجوانوں کے تفنن طبع کے لیے رہ گیا، جسے وہ بغیر گانے کے بجاتے اور سنتے ہیں، اور کبھی اس کے ساتھ کوئی گانے بھی لگتا ہے۔

اب رہا طبلہ۔ یہ اگرچہ لے کے لیے بہت ہی لازمی چیز ہے، مگر اس قسم کی کسی چیز کا پتہ دیگر ممالک کی پرانی قوموں میں نہ تھا۔ لڑائی میں طبل جنگ بجتا۔ نوبت میں نقارہ بجایا جاتا۔ مگر ناچ گانے کے ساتھ سوا ہندوستان کے اور کہیں اس قسم کی کوئی چیز اگلے زمانے میں نہ تھی، سوا دف کے جو عربوں میں تھی اور گانے کے ساتھ بجائی جاتی تھی۔ یہاں بھی گانے کے ساتھ سب سے پہلے دف کا رواج معلوم ہوتا ہے، جو بین کے ساتھ بجتی اور لے کے قائم رکھنے میں مدد دیتی۔ اس کے بعد قدیم الایام ہی میں مردنگ نکلی جو غالباً سری کرشن جی کے زمانے میں موجود تھی، اور ان کی بانسری کے نغمے کے ساتھ مردنگ کی گمک بھی جمنا کنارے برج کے جنگل میں سنی جاتی تھی۔ مردنگ کے بعد ترقی یہ ہوئی کہ پکھاوج بنی جو اعلیٰ موسیقی کا خوب ساتھ دے سکتی تھی۔ اب اس کے بعد سے عام لوگوں میں اور گھر کی بیٹھنے والی عورتوں میں ڈھول کا رواج ہوا جو مردنگ اور پکھاوج سے نکل کے عام پسند ہو گئی، اور خاص باکمالان موسیقی کی اعلیٰ محفلوں کے لیے طبلہ ایجاد ہوا جس میں پکھاوج کے دونوں رخ دو جدا سازوں میں تقسیم ہو کے دہنا اور بایاں کے نام سے مشہور ہوئے۔ طبلہ یقیناً مسلمانوں کے آنے کے بعد کی ایجاد ہے، اگرچہ ہمیں نہیں معلوم کہ لے داری کے ان سازوں میں مذکورہ ترقیاں کب اور کس کے ہاتھ سے ہوئیں۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.