Urdu in Translation
搜索

第 22 章,共 56 章

Music

موسیقی

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۲۱)

اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فن موسیقی کا اور اس کے سلسلے میں ان لوگوں کا جو اس فن سے وابستہ ہیں لکھنؤ میں کیا حال رہا۔

گانا ان چیزوں میں سے ہے جن کو انسان کی فطرت نے سب سے پہلے ایجاد کیا۔ جن الفاظ کے ادا کرنے میں جوش ظاہر کرنے کو جی چاہا لوگ گانے لگے، اور جن حرکات و افعال میں جذبات نے ابھارا ناچنا شروع کر دیا۔ اور چونکہ سب سے زیادہ جوش و شیفتگی و انہماک عبادت میں ہوتا ہے، اور دنیوی امور میں سب سے زیادہ بےاختیاری کا ناقابل برداشت جوش عشق و محبت کے اظہار میں ہوتا ہے، اس لیے گانے کا آغاز بھی ابتداءً عبادت و عشق میں ہوا۔ ہندوستان میں گانے کا آغاز قطعاً عبادت سے ہوا، اس لیے کہ یہاں کے پہلے گویے خاص برہمن تھے، جو ابتداءً عبادت کرتے اور کراتے وقت اپنے معبودوں کی تعریف کے بھجن گایا کرتے۔ کنھیا جی کی ولادت نے ان کی محبت اور ان کے عشق کو عبادت بنا کے عاشقانہ موسیقی ایجاد کی۔

اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں شاعری اور موسیقی دونوں کا اظہار عورت کی زبان سے ہوا کرتا ہے۔ ابتداءً برہمن فقط گیت اور سنگیت یعنی سیدھے سادے گانے گایا کرتے تھے جن میں فن کی ترقیوں کا ذرا بھی شائبہ نہ تھا۔ مگر بعد کو مصریوں یا بابلیوں اور ایرانی محققوں کے مذاق کی آمیزش سے ایک فن کی بنیاد پڑی، اور سب سے پہلے سات سر ایجاد ہوئے، اس لیے کہ ہر آواز پھیلنے میں ایک حد پر پہنچ کے بدل جاتی ہے۔ ان تبدیلیوں کا صحیح اندازہ کر کے محققین نے سات سر ایجاد کیے۔

اس کے بعد ہندوستان میں موسیقی کی تقسیم اس حیثیت سے ہوئی کہ جو راگ عبادت میں گائے جاتے وہ یا تو برہما (پیدا کرنے والی قوت الٰہی) کی منقبت میں ہوتے، یا بشن (چلانے اور پالنے والی قوت الٰہی) کی تعریف میں ہوتے، یا مہیش یعنی مہادیو (مارنے والی قوت الٰہی) کی مدح میں ہوتے۔ اسی لحاظ سے تین قسم کے راگ بن گئے۔ پہلی قسم کے راگوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ برہمنوں نے کسی کو نہ بتائے اور اپنے ساتھ لے کے مر گئے۔ جو راگ تمام مراحل زندگی زچہ خانے، شادی اور دنیا بھر کے کاروبار کے متعلق تھے وہ دوسری قسم کے راگ قرار پائے۔ آخری قسم کے راگ مابعد الموت کی حالت اور ثواب و عقاب سے وابستہ تھے۔ وہ اکثر مہیب، خوف دلانے والے اور دل پر عالم کے فانی ہونے کا اثر ڈالنے والے ہوتے۔ عاشقانہ راگ بھی محض اس لیے کہ عاشق مرگ کا خواہاں ہوتا ہے اسی قسم میں شامل کر دیے گئے، خصوصاً اس لیے کہ کنھیا یا سری کرشن جی مہادیو ہی کا ایک اوتار تھے۔ اس قسم کے راگ عموماً "پرگ" کہلاتے۔ ان کے راگ بھیروں، سرس راگ، اور راگنیاں بھیرویں، پرج، کالنگڑا، سوہنی، سندھ، پیلو وغیرہ ہیں۔

اس کے بعد جب برہمنوں کو راجاؤں کے دربار میں ان کی مدح کے قصائد گانا پڑے تو ان کے مناسب رعب داب اور سطوت و شوکت کے راگ ایجاد ہوئے، جیسے مالکوس، درباری، شاہانہ (اڈانہ) وغیرہ۔

مسلمان اپنے ساتھ اپنا موسیقی لائے تھے۔ ان کا موسیقی سب کے پہلے ابن مسجح نے مدون و مکمل کیا تھا۔ اس کے بعد جب عراق میں عباسی دربار قائم ہوا تو عربی اور فارسی موسیقی سے مل کے ایک نیا اور نہایت مکمل فن غنا ایجاد ہوا جو ساری دنیا میں پھیل گیا، اور وہی آخر میں عجمی موسیقی تھا۔ مسلمان اسی فن کو ہندوستان میں لائے، اور جو گویے ان کے ساتھ یہاں آئے تھے انھیں کی یادگار آج کل قوال ہیں۔ ان کے آلات طرب سرود، چنگ، شہنائی (سینائی)، بربط اور رباب ہیں۔

ہندوستان میں ہر چیز پر مسلمانوں نے اپنا اثر ڈالا۔ تمام علوم و فنون اور معاشرت کی تمام باتوں کو بدل دیا۔ مگر یہاں موسیقی پر بہت کم اثر ڈال سکے، جس کی وجہ عموماً یہ خیال کی جاتی ہے کہ خود یہاں کا موسیقی اس قدر باضابطہ اور اعلیٰ درجے کا تھا کہ اپنی مضبوطی و باقاعدگی کے باعث بیرونی اثر سے متاثر ہی نہ ہو سکا۔ لیکن حقیقت حال اور اس کا اصلی باعث یہ ہے کہ کسی ملک اور زبان کی موسیقی کی طرف انسان اس وقت توجہ کرتا ہے جب اس ملک کا باشندہ بن لے، اور وہاں کی زبان و معاشرت کا رنگ اس پر چڑھ جائے۔ لہذا یہاں آنے کے بعد حملہ آور مسلمان جب تک عربی یا عجمی رہے یہاں کے موسیقی کی طرف توجہ نہ کی۔ اور جب توجہ کی تو اس وقت ہندوستانیت ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ اپنے قومی راگوں کو بھول چکے تھے، اور یہاں کے نغموں کے دلدادہ تھے۔ اس وقت وہ اس قابل ہی نہیں رہے تھے کہ یہاں کے موسیقی میں کسی قسم کا تصرف کرتے یا اس میں کچھ نکتہ چینی کر سکتے۔

پھر بھی عجمی قوالوں کے نغموں نے ہندوستان کے موسیقی پر تھوڑا بہت اثر ڈال ہی دیا۔ چنانچہ ان کے متعدد راگ ہندی موسیقی میں شامل ہو گئے۔ زنگولہ (جنگلا)، زیلف، شاہانہ، درباری، فلع (کھماچ) وغیرہ کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ عجمی راگ ہیں جو ہندوستانی فن غنا میں شامل ہو گئے ہیں۔

امیر خسرو نے دونوں فنون کو حاصل کیا، اور دونوں کے ملانے کی بہت کچھ کوشش کی۔ کہتے ہیں کہ ستار کو انھیں نے ایجاد کیا، اور یقیناً بہت سی دھنیں ان کی ایجاد کی ہوئی ہیں۔ لیکن اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ امیر خسرو نے یہاں کی موسیقی میں کون کون خاص چیزیں بڑھائیں۔

مسلمانوں میں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہوں سے پہلے مشائخ صوفیہ نے موسیقی کی طرف توجہ کی، اور حال و قال کی جو صحبتیں عراق و عجم کے زہاد سلف میں عبادت کی شان سے قائم تھیں ہندوستان میں بھی قائم ہو گئیں۔ اور جو گویے اس سے پیشتر بتخانوں میں بھجن گایا کرتے تھے، مسلمان زہاد و صوفیہ کے حلقے میں بیٹھ کے معرفت کی غزلیں گانے لگے۔

بادشاہوں کے دربار میں بھی یہاں کے گویے اور گانے ناچنے والی رنڈیاں موجود رہا کرتیں، مگر ان کا افسر اعلیٰ کوئی عجمی گویا ہوا کرتا جو ان کے موسیقی پر اپنا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ڈالتا۔ محمد تغلق کے عہد میں دربار کا سب سے بڑا گویا امیر شمس الدین تبریزی تھا، اور کل زن و مرد ارباب نشاط اس کے زیر حکم تھے۔ انھیں دنوں دیوگڑھ یعنی دولت آباد کے متصل ارباب نشاط کی ایک پوری بستی آباد تھی جو "طرب آباد" کہلاتی۔ اس کے چوپڑ کے بازار کے بیچوں بیچ میں ایک برج تھا جس میں روز بعد عصر ارباب نشاط کا چودھری آ کے بیٹھتا اور اس کے سامنے تمام گویوں اور رنڈیوں کے طائفے باری باری آ کے گاتے۔ ان میں سے اکثر مسلمان تھے اور صوم و صلوٰۃ کے پابند۔ اس بستی میں جابجا مسجدیں تھیں جن میں ماہ مبارک رمضان میں تراویح پڑھی جاتی۔ بڑے بڑے راجہ یہاں آ کے گانا سنتے۔ کئی مسلمان تاجداروں نے بھی یہاں آ کے گانا سنا تھا۔ اہل طرب کے سرگروہ اور چودھری چونکہ عموماً مسلمان تھے اس لیے ظاہر ہے کہ عربی و عجمی اور ہندوستانی فنون غنا کس قدر جلد مل جل گئے ہوں گے۔

ہندو موسیقی کے مرکز شمالی ہند میں متھرا، اجودھیا اور بنارس تھے، جہاں مذہبی عنصر اعظم ہونے کی وجہ سے موسیقی کا فن ہمیشہ پرورش پاتا رہتا تھا۔ جونپور کے سلاطین شرقی میں سے سلطان حسین شرقی کو موسیقی کا شوق بہت تھا۔ وہ خود ایک بڑا گویا تسلیم کیا جاتا۔ اور چونکہ اجودھیا اور بنارس دونوں اس کی قلمرو میں تھے اس لیے یقیناً اس نے ہندوستان کے اس شریف فن کو بڑا فائدہ پہنچایا ہو گا۔

اکبر نے اس فن کی یہاں تک قدر کی کہ اس کے عہد کا سب سے بڑا نامور گویا تانسین اس کے "نورتن" میں شامل ہوا۔ ایک مسلمان شہنشاہ کی یہ توجہ غنا دیکھ کے وہ خود یا اس کا بیٹا بلاس خان مسلمان ہو گیا۔ اس خاندان میں درباری قدردانی سے ہندی موسیقی کو روز بروز عروج حاصل ہوتا رہا۔ بعد کے درباروں میں اسی نسل کے گویے سرفراز ہوتے رہے۔ چنانچہ آج تک اس خاندان کے لوگ اپنے آپ کو دربار مغلیہ ہی سے وابستہ خیال کرتے ہیں۔ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ اسی نسل کے ذریعے سے ہندوؤں کا یہ فن مسلمانوں میں آیا۔ مگر جن واقعات کو ہم بیان کر آئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ اس خاندان سے بہت پہلے مسلمانوں نے اس ہندی کمال کو حاصل کر لیا تھا۔ چنانچہ فی الحال ہندی موسیقی کے تمام باکمال اور کل نامی گویے مسلمان ہی ہیں۔

دہلی میں اس فن پر سب سے پہلے شاہجہان بادشاہ کے عہد میں کتاب "شمس الاصوات" لکھی گئی جو اب کہیں نہیں ملتی۔ پھر اکبر ثانی کے عہد میں مرزا خان نام ایک بزرگ نے پنڈتوں اور علمائے سنسکرت کی مدد سے کتاب "تحفۃ الہند" تصنیف کی جس کے دو ہی ایک نسخے بعض لوگوں کے پاس رہ گئے ہیں۔ اس میں بہت سے ہندی فنون کو جمع کیا ہے۔ جہاں جوتش، سرودھا، سامدرک، کوک، نائکا بھید، اندرجال وغیرہ مختلف فنون پر بحث کی ہے وہاں ہندی موسیقی کو بھی بتایا ہے۔

دہلی میں اسی حد تک ترقی ہونے پائی تھی کہ یہ دلچسپ فن دربار لکھنؤ میں منتقل ہو آیا، اور نواب شجاع الدولہ کی قدردانی و فیاضی نے سارے ہندوستان کے موسیقی دانوں کو اودھ کی سرزمین پر لا کے اکٹھا کر دیا۔ یہاں اجودھیا اور بنارس کے موسیقی کے پرانے اسکول قائم ہی تھے۔ جونپور کے شرقی سلاطین کی قدردانی کی کچھ نہ کچھ یادگاریں بھی باقی تھیں۔ ان میں جب دہلی کے باکمال گویے اور تانسین خان کے مستند اسکول کے استادان موسیقی بھی آ کے مل گئے تو خاص شان پیدا ہو گئی، اور موسیقی کا دراصل ایک نیا دور شروع ہو گیا۔

شجاع الدولہ کی نسبت مصنف تاریخ فیض آباد لکھتے ہیں کہ ارباب نشاط کا بڑا شوق تھا۔ ہزارہا گانے والی رنڈیاں عموماً دہلی سے اور دیگر بلاد دور دور سے یہاں آ کے جمع ہو گئی تھیں۔ عام رواج پڑ گیا تھا کہ نواب وزیر کے ملازم اور تمام امرا و سرداران فوج بھی کسی طرف کوچ کرتے تو ارباب نشاط اور رنڈیوں کے ڈیرے ان کے ساتھ ساتھ جاتے۔

اس کا نتیجہ یہ تھا کہ نواب آصف الدولہ بہادر کے عہد میں فارسی زبان میں کتاب "اصول النغمات الآصفیہ" لکھی گئی۔ ہندوستان کے فن موسیقی پر اس سے بہتر کوئی کتاب آج تک تصنیف نہیں ہو سکی۔ اگرچہ اس کتاب کے بھی بہت ہی کم نسخے دستیاب ہوتے ہیں، میرے پاس موجود ہے اور میں نے اسے پڑھا ہے۔ مصنف پختہ مغز، صاحب علم و فضل ہے، عربی، فارسی اور سنسکرت تینوں زبانوں میں پوری دستگاہ رکھنے والا معلوم ہوتا ہے، جس نے اس امر میں بڑی کامیاب کوشش کی ہے کہ ہندوستان کی موسیقی کو بہت ہی وضاحت کے ساتھ ہر شخص کے ذہن نشین کر دے۔ اسد اللہ خان کوکب مرحوم جنھوں نے چند ہی روز ہوئے انتقال کیا، موسیقی کے اعلیٰ درجے کے صاحب علم استاد تھے، اور کلکتے میں ہندوستانی موسیقی کے پروفیسر مشہور تھے۔ وہ اس کتاب کی نسبت مجھے اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ "موسیقی کا یہ فارسی رسالہ میرے پاس موجود ہے۔ یہ رسالہ ان معتبر کتابوں سے جو اس علم کی قدیم مایۂ لباط ہیں مضامین اخذ کر کے بڑی تحقیق اور تدقیق سے لکھا گیا ہے۔" افسوس یہ لاجواب کتاب آج تک نہیں چھپی، اور اس کے نسخے اس قدر کمیاب ہیں کہ اس کے فنا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اگر کوئی رئیس توجہ کریں تو ملک اور اپنی قدیم تاریخ پر بڑا احسان کریں۔

یہ رسالہ ہی بتا رہا ہے کہ آصف الدولہ کے عہد کے لکھنؤ میں موسیقی کو کس قدر ترقی ہو گئی تھی۔ اس کا مصنف ایک بڑا محقق معلوم ہوتا ہے جس نے ابن سینا کی کتاب شفا سے لے کے عربی اور فارسی موسیقی کے اصول بھی بصراحت بتا دیے ہیں۔ دلگداز کے اس مضمون کی تکمیل کے لیے ہم نے پروفیسر کوکب مرحوم سے مدد مانگی تھی۔ انھوں نے جواب میں ہمیں جو کچھ لکھا اسے ہم بجنسہ شائع کیے دیتے ہیں۔ اس سے بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ لکھنؤ میں آنے کے بعد فن موسیقی کی کیا حالت رہی؟ افسوس اب وہ دنیا میں نہیں ہیں، ورنہ ہمیں ان سے بہت زیادہ مدد ملتی، خصوصاً اس لیے کہ اپنی نئی کتاب جو فن موسیقی میں لاجواب ہے وہ ہمارے یہاں چھپوانا چاہتے تھے۔ آصف الدولہ کے عہد کی ترقی موسیقی تسلیم کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

نواب سعادت علی خان کے زمانے میں موسیقی پر اوس پڑ گئی۔ غازی الدین حیدر کے زمانے میں اس فن کا ایک بہت بڑا کامل و اکمل شخص لکھنؤ میں موجود تھا جس کا نام حیدری خان تھا۔ یہ صاحب اپنی وارفتہ مزاجی کی وجہ سے "سڑے حیدری خان" مشہور تھے، اور گولہ گنج میں رہتے تھے۔ غازی الدین حیدر کو ان کا گانا سننے کا بڑا شوق تھا، مگر کبھی اس کا موقع نہیں ملا تھا۔ ایک روز سہ پہر کو غازی الدین حیدر ہوادار پر سوار دریا کنارے تفریح کو نکلے۔ رومی دروازے کے نیچے لوگوں نے دیکھا کہ "سڑے حیدری خان" چلے جاتے ہیں۔ بادشاہ سے عرض کی کہ "قبلۂ عالم! حیدری خان یہی ہیں۔" بادشاہ کو تو اشتیاق تھا ہی، حکم دیا کہ "بلاؤ۔" لوگ پکڑ لائے اور سامنے کھڑا کر دیا۔ بادشاہ نے کہا: "ارے میاں حیدری خان! کبھی ہمیں اپنا گانا نہیں سناتے؟" بولے: "جی ہاں، کیوں نہ سناؤں گا۔ مگر مجھے آپ کا مکان نہیں معلوم ہے۔" بادشاہ بےاختیار ہنس پڑے اور کہا: "اچھا ہمارے ساتھ چلو۔ ہم خود تمھیں اپنے مکان پر لے چلیں گے۔" "بہت خوب" کہہ کے بےتکلف ساتھ ہو لیے۔ چھتر منزل کے قریب پہنچے تھے کہ حیدری خان ہتھے پر سے اکھڑ گئے، اور بولے: "میں چلتا تو ہوں، مگر پوریاں اور بالائی کھلوائیے گا تو گاؤں گا۔" بادشاہ نے وعدہ کیا، اور محل میں بیٹھ کے گانا سننے لگے۔ تھوڑی ہی دیر سن کے بہت محظوظ ہوئے۔ وجد کا عالم طاری ہوا، اور بےخود و بےتاب ہو گئے۔ یہ حالت دیکھ کے حیدری خان خاموش ہو گئے۔ بادشاہ نے پھر گانے کو کہا تو بولے: "حضور! یہ تنباکو جو آپ کے پیچوان میں بھرا ہوا ہے بہت ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔ آپ کس کی دکان سے منگواتے ہیں؟" غازی الدین حیدر خود بھی آشفتہ مزاج تھے اور سڑی مشہور تھے۔ اس سوال پر منغص ہوئے تو مصاحبوں نے عرض کیا: "قبلۂ عالم! یہ سڑی تو ہئی ہے۔ ابھی تک یہی نہیں سمجھا ہے کہ کس سے باتیں کر رہا ہوں۔"

اب لوگ بادشاہ کے ایما سے حیدری خان کو دوسرے کمرے میں لے گئے۔ پوریاں بالائی کھلوائی۔ حقہ پلوایا۔ آپ نے پاؤ بھر پوریاں آدھ پاؤ بالائی اور ایک پیسے کی شکر منگوا کے اپنی بی بی کو بھجوائی (جو ان کا ہر جگہ معمول تھا)۔ جب تک ان کاموں میں رہے بادشاہ نے بادۂ ناب کے جام پیے۔ اور جب نشے کا زور ہوا تو پھر حیدری خان کی یاد ہوئی۔ فوراً بلوا کے گانے کا حکم دیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے اپنا نغمہ شروع کیا روک کے کہا: "حیدری خان! سنتے ہو؟ اگر مجھے خالی خوش کیا اور رلایا نہیں تو یاد رکھو کہ گومتی میں ڈبوا دوں گا۔" اب تو حیدری خان کی عقل چکر میں آئی۔ سمجھے کہ یہ بادشاہ ہیں۔ کہا: "حضور! اللہ مالک ہے۔" اور جی توڑ کے گانے لگے۔ خدا کی قدرت، یا یہ کہیے کہ حیدری خان کی زندگی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں بادشاہ پر اثر ہوا۔ بےاختیار رونے لگے، اور خوش ہو کے کہا: "حیدری خان! مانگ کیا مانگتا ہے؟" عرض کیا: "جو مانگوں گا دیجیے گا؟" بادشاہ نے وعدہ کیا، اور حیدری خان نے تین دفعہ قول لے کے کہا: "حضور! یہ مانگتا ہوں کہ مجھے پھر کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا۔" بادشاہ نے تعجب سے پوچھا: "کیوں؟" عرض کیا: "آپ کا کیا ہے؟ مجھے مروا ڈالیے گا۔ پھر مجھ سا حیدری خان نہ پیدا ہو گا۔ اور آپ مر جائیں گے تو فوراً دوسرا بادشاہ ہو جائے گا۔" اس جواب پر غازی الدین حیدر نے ناراض ہو کے منہ پھیر لیا۔ یہ موقع پاتے ہی حیدری خان اپنی جان لے کے بھاگے اور اپنے گھر آئے۔

غرض غازی الدین حیدر کے زمانے میں یہی ایک باکمال موسیقی دان لکھنؤ میں تھا۔ نصیر الدین حیدر کے زمانے میں یوں تو ہزاروں گانے والے تھے، مگر اس پائے کا گویا کوئی نہ تھا۔ محمد علی شاہ اور امجد علی شاہ کے زمانے ثقاہت آبی کے عہد تھے، اس لیے کہ محمد علی شاہ میں پیرانہ سالی کی بےحسی تھی، اور امجد علی شاہ بغیر جناب قبلہ و کعبہ سے پوچھے کوئی کام نہ کرتے تھے۔ لہذا ان کے زمانے میں بعض شوقین رؤسائے شہر اگر ارباب نشاط کے قدردان بھی تھے تو چھپ کے گانا سنتے۔ اس لیے اب اس فن کی جو کچھ قدر ہوئی واجد علی شاہ کی عہد شباب کی تخت نشینی میں ہوئی، جبکہ لکھنؤ کا ساغر عشرت چھلکنے کو تھا، اور گل ہونے والا چراغ آخری مرتبہ بھڑک کے روشن ہوا تھا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。