
Chapitre 21 sur 56
Pigeons and Kite-Flying
کبوتر بازی اور پتنگ بازی
(۲۰)
طیور کو لڑا لڑا کے دلچسپی پیدا کرنا اور تفنن کے کمالات دکھانا لکھنؤ کے بےفکروں کا نہایت ہی عام مشغلہ ہو گیا تھا۔ کبوتروں اور بٹیروں کے تیار کرنے اور لڑانے میں انھوں نے اس قدر ترقی کی کہ اب ہندوستان کے جس شہر میں اور جہاں کہیں کسی رئیس کو ان چیزوں کا شوق ہے (اور یہ کمبخت شوق ناعاقبت اندیش دولتمندوں میں اکثر ہوا کرتا ہے) وہاں استاد لکھنؤ ہی سے بلائے جاتے ہیں، اور اس مد کا سارا کارخانہ انھیں کے زیر اہتمام ہوتا ہے۔
توتے
طیور لڑانے کے حد سے گذرے ہوئے شوق نے اس میں جدتیں پیدا کرنا شروع کیں، اور بعض شوقینوں کا خیال اس جانب مبذول ہوا کہ جو کام کبوتروں سے لیا جاتا ہے اور کن کن طیور سے لیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ میر محمد علی نام ایک بزرگ نے توتوں سے کبوتروں کا کام لینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
توتا فطرۃً نہایت ہی بےوفا جانور ہے۔ زندگی بھر رکھیے اور پالیے، لیکن پنجرے سے اڑا تو پھر ادھر کا رخ نہیں کرتا۔ توتا چشمی نام ہی بےوفائی کا ہو گیا ہے۔ وہ بولتا ہے، باتیں کرتا ہے، جانوروں کی بولیاں اڑا لیتا ہے، جو فقرے یاد کرا دیجیے ان کی رٹ لگاتا ہے، مگر اڑانے کے کام کا نہیں، اس لیے کہ پنجرے سے چھوٹتے ہی پھر وہ کسی کے بس کا نہیں ہوتا۔ مگر میر صاحب موصوف نے خدا جانے کس تدبیر سے اس کی فطرت بدل دی تھی کہ دس بارہ توتوں کی ٹکڑی اڑاتے، اور مجال کیا کہ وہ سیٹی بجا کے "آ" کریں اور وہ آسمان سے اتر کے سیدھے پنجرے میں نہ چلے آئیں۔ وہ ان توتوں کو روز حسین آباد میں لا کے اڑاتے۔
طیور کی ان تیاریوں کا حال بیان کر کے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اہل لکھنؤ نے جتنی محنت طیور کی تیاری میں کی ہے، کاش خود اپنی اور اپنے جسم کی تیاری میں کرتے تو یہ انجام ہرگز نہ ہوتا جو ہوا۔
پتنگ بازی
کنکوے اڑانے کا شوق کسی نہ کسی حد تک سارے ہندوستان میں ہے، اور آج کل عموماً لڑکوں اور نوجوانوں کا نہایت ہی دلچسپ کھیل ہے۔ اس کی کثرت اور تعمیم دیکھ کے یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ ہندوستان کی بہت پرانی چیز ہو گی، مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ فن ایک صدی پیشتر کا بھی مشکل سے کہا جا سکتا ہے، اور اس کا مرکز ترقی لکھنؤ ہی ہے۔
یورپ میں لڑکے ایک قسم کے کپڑے کے کنکوے اڑایا کرتے ہیں جن کو جب تک ڈور پکڑ کے بھاگتے رہو اڑتے ہیں، اور ادھر قدم رکا اور ادھر وہ زمین پر آ رہے۔ ان کی نسبت یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کب سے ہیں؟ اور کہاں سے لیے گئے؟
سنا جاتا ہے کہ دہلی میں شاہ عالم بادشاہ اول کے عہد میں یہ شوق شروع ہوا۔ ابتداءً بعض خاص خاص لوگ چنگ اڑایا کرتے تھے۔ چنگ بڑے اہتمام سے بنایا جاتا تھا۔ اس میں دو تکلیں تھوڑے فصل سے آگے پیچھے برابر کھڑی کر کے جوڑ دی جاتیں۔ تکلوں کی شکل [figure] یہ ہوتی تھی جس میں تین تین طرف مدور کونے نکلتے۔ اس میں ایک کھپاچ چھیل کے بیچ میں کھڑی لگائی جاتی جو ٹھڈا کہلاتی، اور دو کھپاچیں خوب چھیل کے اور نرم کر کے اوپر نیچے لگائی جاتیں جو کانپیں کہلاتیں۔ اوپر کی کانپ کی وضع یوں [figure] رہتی اور نیچے کی کانپ کی یوں [figure]۔ ان کے درمیان میں ہلکا باریک کاغذ منڈھ دیا جاتا۔ یہ ایک تکل ہوئی۔ ایسی دو تکلوں کو آگے پیچھے رکھ کے اور درمیان میں جابجا آڑی کھپچیاں لگا کے جوڑ دیا جاتا، اور چاروں طرف سے بھی کاغذ منڈھ کے ایک خاص وضع کی کمتی قندیل بنا دی جاتی، جس کے اندر ایک کپڑے کا بنا ہوا تیل میں ڈوبا گلیند تاروں میں باندھ کے لٹکا دیا جاتا، اور اسے روشن کر کے رات کو لوگ مضبوط سوتی یا ریشمی ڈور پر اڑاتے۔ چنگ کی شان یہ تھی کہ معلوم ہوتا ایک لالٹین آسمان پر اڑ رہی ہے، اور غبارے کے خلاف اڑانے والے کے اختیار میں ہے۔ جب چاہیں اڑائیں اور جب چاہیں اتار لیں۔ وہ ہوا میں قائم رہتا۔ کبھی اوندھا ہوتا تو پھر سیدھا ہو جاتا۔
اسی زمانے میں بعض لوگ اسی وضع سے انسان کا ایک پتلا بنا کے اڑاتے، بلکہ بعض قابل وثوق یادگاران سلف کا بیان ہے کہ سب سے پہلے وہ پتلا ہی دہلی میں ایجاد ہوا تھا۔ پھر اسی سے ترقی کر کے چنگ ایجاد ہوا، جس کا طول و عرض برابر ہونے کی وجہ سے اڑانا اور ہوا میں ٹھہرانا زیادہ آسان تھا۔ اس کا شوق زیادہ تر ہندوؤں میں تھا، اور کیا عجب کہ انھیں کے وہاں کی قومی و مذہبی چیز ہوا دان (آکاس دیا) وغیرہ کے خیال سے ماخوذ ہو۔ پھر اس چنگ کے کاٹنے کے لیے یا دن کو اڑانے کے خیال سے تکل اڑنے لگی، جو دراصل آدھا چنگ یا چنگ کی فقط ایک طرف کی دیوار تھی۔ تکل میں خوبی یہ تھی کہ بہ نسبت چنگ کے آسانی سے اڑ سکتی تھی۔ اس میں چلت پھرت تھی۔ آسمان پر ہوا میں ناچتی اور دوڑتی چلی جاتی تھی۔ چنگ ایک جگہ قائم رہتا، اور تکل ادھر ادھر چلتی پھرتی تھی، اور اس پر اتنا قابو تھا کہ جب چاہیں اس کی ڈور سے رگڑا دے کے دوسرے کے چنگ کو کاٹ دیں۔
تکل نے دراصل قندیل یا روشن پتلا اڑانے کا خیال بھلا دیا، اور لوگوں کو اس جانب متوجہ کیا کہ ہوا میں کوئی ایسی چیز اڑائی جائے جو زیادہ قابو میں ہو، ادھر ادھر آسمان پر دوڑے اور ناچے۔ تکل کا شوق مسلمان امیروں اور معزز ہندوؤں میں بڑھا۔ اس پر دولت صرف ہونے لگی۔ اعلیٰ درجے کی تکل کا نام پتنگ مشہور ہوا، جس کا ٹھڈا مرشدآبادی بانس کا ہوتا۔ جس میں اسی روپے لاگت آتی۔ بیس روپے کی چھیل چھال ہوتی۔ دو روپے کا کاغذ لگتا۔ اور پانچ روپے بنوائی پڑتی۔ غرض ایک سو سات روپے میں ایک پتنگ تیار ہوتا۔
بہرحال دہلی میں تکل اور پتنگ ہی تک ترقی ہوئی تھی کہ قدردان دربار دہلی سے لکھنؤ میں منتقل ہوا، اور اس کے ساتھ ہی زمانے کے شوقین بھی یہاں چلے آئے۔ اب پتنگ اڑانے سے پتنگ لڑانے کا شوق نکلا۔ ایسی زوردار تکلیں بنائی جانے لگیں جن کو معمولی قوت کا آدمی مشکل سے سنبھال سکتا۔ آٹھ آٹھ بل کی مضبوط ڈور چرخیوں پر چڑھائی جاتی، اور انھیں چرخیوں کے ذریعے سے تکلوں کا زور سنبھالا جاتا۔ لڑائی کی یہ شان تھی کہ دو تکلوں کی ڈور ایک دوسری میں ڈال کے دونوں طرف سے ڈھیل دی جاتی۔ دونوں تکلیں چکر گھنی کھاتی ہوئی اوپر چڑھتی اور بلند ہوتی چلی جاتیں، اور دونوں طرف سے چرخیوں پر چرخیاں خالی ہوتی رہتیں۔ لکھنؤ کے شوق کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نواب آصف الدولہ کی تکل میں پانچ روپے کی مقیش کی جھلجھل ہوتی۔ جو لوٹ کے لاتا اسے پانچ روپے دے کے تکل لے لی جاتی۔ اور نہ لاتا تو بھی جہاں چاہتا جھلجھل پانچ روپے کو بیچ لیتا۔
پتنگ بازی کے پرانے نامی استاد لکھنؤ میں میر امدو، خواجہ مٹھن، شیخ امداد تھے۔ ایک جولاہے نے بھی ان دنوں اس فن میں کمال حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے امرا کی صحبتوں میں اس کی بڑی قدر ہوتی۔
امجد علی شاہ کے زمانے میں یک بیک گڈی ایجاد ہوئی جس کی قطع لوزات کی سی ہوتی۔ وہ تکل کی بہ نسبت آسانی سے بنتی۔ تکل میں دو کانپیں اور ایک ٹھڈا ہوتا تھا۔ گڈی میں صرف ایک ہی کانپ اور ایک ہی ٹھڈا رہ گیا۔ واجد علی شاہ کے زمانے میں ڈیڑھ کنا کنکوا بن گیا، جس کی قطع موجودہ کنکوے کی تھی، مگر نیچے تکل کی یادگار میں کاغذ کا چھوٹا سا پھندنا ہوتا۔ اب نواب محمد حسین خان سالار جنگی، آغا ابو تراب خان اور دو ایک شوقین رئیسوں نے پھندنے کی جگہ نیچے پتہ لگا کے وہ کنکوا بنا دیا جو فی الحال مروج ہے، اور جس میں ابھی تک اور کسی ترقی کی گنجائش نہیں نظر آتی۔ فی الحال سارے ہندوستان میں پتے دار کنکوا یا پھندنے دار کنکوا جو ڈیڑھ کنا کہلاتا ہے اڑتا ہے، مگر اس کی ایجاد لکھنؤ ہی میں ہوئی ہے۔ یہیں سے سب جگہ گیا اور مقبول عام ہوا۔
کنکووں کے لڑانے میں بھی پہلے تکل کی طرح ڈھیل کا رواج تھا۔ بڑے بڑے کنکوے بنتے اور سیروں ڈور پیٹے چلے جاتے۔ آخر شاہی اور آغاز انگریزی کے مشہور استاد ولایت علی جو ولایتی کہلاتے، الٰہی بخش ٹھنڈے جو مٹیا برج میں جا کے مشہور ہوئے، اور لکھنؤ کے سیکڑوں باکمال استاد تھے جن کے نام مجھے اس وقت نہیں یاد آتے، مگر سچ یہ ہے کہ لمڈوری پیچ لڑانے کے بادشاہ تھے۔
انگریزی کے آغاز میں کھینچ لڑانے کا رواج ہوا۔ اس کا آغاز نوآموز چھوٹے لڑکوں سے ہوا جن کے پاس تھوڑی سی ڈور ہوتی، اور دوسرے کے کنکوے میں پیچ ڈال کے اپنی بےمائیگی سے بےتحاشا کھینچ جاتے اور کاٹ دیتے۔ پرانے استاد ان دنوں ان لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور اپنے کنکووں کو ان سے الگ رکھتے۔ مگر آخر کار کھینچ ہی کنکوے بازی کا اعلیٰ ترین فن ہو گیا، جس میں بڑے بڑے استاد پیدا ہوئے۔ اور آج لکھنؤ میں بیسیوں استاد پڑے ہوئے ہیں جو اسی شوق میں لاکھوں روپے اڑا کے استاد بنے ہیں، اور گھر بگاڑ کے اتنی فوقیت حاصل کی ہے کہ کنکوے کے میدانوں میں بڑے شوق سے بلائے اور ادب و تعظیم کے ہاتھوں سے لے کے آنکھوں پر بٹھائے جاتے ہیں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.