Urdu in Translation
Search

Chapter 20 of 56

Cockfighting and Quail-Fighting

مرغ بازی اور بٹیر بازی

Abdul Halim Sharar

Script
Size

(۱۹)

درندوں کی لڑائی لکھنؤ میں صرف سلطنت اور امرائے دربار تک محدود تھی، اس لیے کہ ان کی داشت، تیاری، لڑائی کے وقت ان کو سنبھالنا، اور تماشائیوں کو ان کی مضرت سے بچانا ایسی چیزیں ہیں جو غربا درکنار بڑے بڑے امیروں کے امکان سے بھی باہر ہیں۔ اور اسی لیے درندوں کی لڑائی سواد لکھنؤ میں اسی وقت تک دیکھی گئی جب تک اگلا دربار قائم تھا۔ ادھر وہ دربار برخاست ہوا اور ادھر وہ وحشتناک دنگل بھی اجڑ گئے۔

لیکن طیور کی لڑائی ایسی نہ تھی۔ اس کا شوق ہر امیر و غریب کر سکتا تھا، اور ہر شوقین محنت کر کے لڑائی کے قابل مرغ یا بٹیر تیار کر سکتا تھا۔ جو طیور لکھنؤ میں شوق اور دلچسپی کے ساتھ لڑائے گئے حسب ذیل ہیں: (۱) مرغ، (۲) بٹیر، (۳) تیتر، (۴) لوے، (۵) گلدم، (۶) لال، (۷) کبوتر، (۸) توتے۔ ان میں سے ہر ایک کھیل کے جدا جدا بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ لکھنؤ کی کبوتر بازی اور بٹیر بازی عام طور پر مشہور ہے، جس پر آج کل کے تعلیم یافتہ اور موجودہ تہذیب کے دلدادہ اکثر تمسخر کیا کرتے ہیں۔ وہ اس سے مطلق واقف نہیں کہ ان شوقوں اور کھیلوں میں سے ہر ایک کو ان لوگوں نے کس درجۂ کمال پر پہنچا کے ایک مستقل فن بنا دیا تھا۔ لیکن جب وہ یورپ میں جا کے وہاں بھی اسی قسم کے لغو شوق دیکھیں گے تو کم سے کم انھیں اپنے ان الفاظ پر ندامت ضرور ہو گی جو اپنے وطن کے ان شوقینوں کی نسبت اکثر بے ساختہ کہہ بیٹھتے ہیں۔

(۱) مرغ بازی

لڑتے اگرچہ ہر قسم اور ہر قوم کے مرغ ہیں مگر لڑائی کے لیے مخصوص اصیل مرغ ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ دنیا میں اصیل مرغ سے زیادہ بہادر کوئی جانور نہیں ہے۔ مرغ کی سی بہادری درحقیقت شیر میں بھی نہیں ہے۔ وہ مر جاتا ہے مگر لڑائی سے منہ نہیں موڑتا۔ اصیل مرغ کی نسبت یہاں کے محققین کا خیال ہے کہ ان کی نسل عرب سے لائی گئی ہے، اور یہ قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ فی زماننا اصیل کی جس قدر زیادہ اور اعلیٰ نسلیں حیدر آباد دکن میں موجود ہیں کہیں نہیں ہیں، اور ہندوستان میں وہی ایک شہر ہے جہاں اہل عرب سب جگہوں سے زیادہ آباد اور مقیم ہیں۔ لہذا ہند میں مرغوں کی نسلیں ایران ہوتی ہوئی آئیں۔ لکھنؤ کے نامی مرغبازوں میں سے ایک صاحب کا بیان تھا کہ بازی میں ان کا مرغ اتفاقاً ہار گیا تھا۔ دل شکستہ ہو کے وہ ارض عراق میں چلے گئے، نجف اشرف میں کئی مہینے تک مصروف عبادت رہے، اور شب و روز دعا کرتے کہ خداوندا اپنے ائمۂ معصومین کا صدقہ مجھے ایسا مرغ دلوا جو لڑائی میں کسی سے نہ ہارے۔ ایک رات کو خواب میں بشارت ہوئی کہ "جنگل میں جاؤ۔" صبح آنکھ کھلتے ہی انھوں نے کوہ و بیابان کا راستہ لیا، اور ایک مرغی ساتھ لیتے گئے۔ یکایک ایک درۂ کوہ سے ککڑوں کوں کی آواز آئی۔ انھوں نے فوراً قریب جا کے مرغی چھوڑی جس کی آواز سنتے ہی مرغ نکل آیا، اور یہ فوراً کسی حکمت سے اسے پکڑ لائے۔ اس کی نسل ایسی تھی کہ پھر کبھی پالی میں انھیں شرمندہ نہ ہونا پڑا۔

مرغوں کی لڑائی کا شوق یہاں نواب شجاع الدولہ کے عہد سے آخر تک برابر رہا۔ نواب آصف الدولہ کو بے انتہا شوق تھا۔ نواب سعادت علی خان باوجود بیدار مغزی کے مرغ بازی کے دلدادہ تھے۔ ان کے شوق نے سوسائٹی پر ایسا اثر ڈالا کہ لکھنؤ کے امرائے دربار درکنار اس زمانے میں جو اہل یورپ یہاں موجود تھے انھیں بھی یہی شوق ہو گیا تھا۔ چنانچہ جنرل مارٹن جن کی کوٹھی لکھنؤ کی ایک قابل دید عمارت اور یوروپین بچوں کی درسگاہ ہے اول درجے کے مرغباز تھے، اور نواب سعادت علی خان ان سے بازی بد کے مرغ لڑایا کرتے۔

لکھنؤ میں مرغوں کی لڑائی کا یہ طریقہ تھا کہ مرغ کے کانٹے باندھ دیے جاتے تاکہ ان سے ضرر نہ پہنچا سکے۔ چونچ چاقو سے چھیل کے تیز اور نوکیلی کی جاتی، اور جوڑ کے دونوں مرغ پالی میں چھوڑ دیے جاتے۔ مرغباز ان کے پیچھے پیچھے رہتے۔ مرغ کو دوسرے مرغ کے مقابلے میں چھوڑنا بھی ایک فن تھا جس میں یہ کوشش ہوتی کہ ہمارا ہی مرغ پہلے چوٹ کرنے کا موقع پائے۔ اب دونوں مرغ چونچوں اور لاتوں سے لڑنا شروع کرتے۔ مرغباز اپنے اپنے مرغ کو ابھارتے اور اشتعال دیتے، اور چلا چلا کے کہتے: "ہاں بیٹا شاباش ہے!" "ہاں بیٹا کاٹ!" "پھر یہیں پر!" مرغ ان للکاروں اور بڑھاووں پر اس طرح بڑھ بڑھ کے لاتیں اور چونچیں مارتے کہ معلوم ہوتا جیسے سمجھتے اور ان کے کہنے پر عمل کرتے ہیں۔ جب لڑتے لڑتے زخمی اور چور ہو جاتے تو باتفاق فریقین تھوڑی دیر کے لیے اٹھا لیے جاتے۔ یہ اٹھا لینا مرغ بازی کی اصطلاح میں "پانی" کہلاتا ہے۔ اس وقت مرغباز ان کے زخمی سروں کو پونچھتے، ان پر پانی کی پھوہاریں دیتے، زخموں کو اپنے منہ سے چوستے، اور ایسی ایسی تدبیریں کرتے کہ چند منٹ کے اندر مرغوں میں پھر نیا جوش پیدا ہو جاتا، اور تازہ دم ہو کے دوبارہ پالی میں چھوڑے جاتے۔ اسی طرح برابر پانی ہوتے رہتے، اور لڑائی کا خاتمہ چار پانچ روز بعد اور کبھی آٹھ نو روز بعد ہوتا، جب ایک مرغ اندھا ہو جاتا یا ایسی چوٹ کھا جاتا کہ اٹھنے کے قابل نہ رہے، یا اور کسی وجہ سے لڑنے کے قابل نہ رہتا تو سمجھا جاتا کہ وہ ہار گیا۔ یا کبھی یہ ہوتا کہ مرغ کی چونچ ٹوٹ جاتی۔ اس صورت میں بھی جہاں تک بنتا مرغباز چونچ باندھ کے لڑاتے۔

حیدر آباد کا کھیل یہاں کے خلاف بہت سخت ہے۔ وہاں کانٹے نہیں باندھے جاتے بلکہ بعوض باندھنے کے چاقو سے چھیل کے برچھی کی انی بنا دیے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑائی کا فیصلہ گھنٹہ ہی ڈیڑھ گھنٹے میں ہو جاتا ہے۔ لکھنؤ میں خاروں کے باندھنے کا طریقہ غالباً اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ لڑائی طول کھینچے اور زیادہ زمانے تک لطف اٹھایا جا سکے۔

لڑائی کے لیے مرغوں کی تیاری میں مرغباز کے کمالات غذا اور داشت کے علاوہ اعضا کی مالش، پھوئی یعنی پانی کی پھوہار دینے، چونچ اور خار بنانے یا خار کے باندھنے اور کوفت کے مٹانے میں نظر آتے ہیں۔ اس اندیشے سے کہ زمین پر دانہ چگنے میں چونچ کو نقصان نہ پہنچ جائے، اکثر انھیں دانہ ہاتھ پر کھلایا جاتا ہے۔

یہ شوق واجد علی شاہ کے زمانے تک زوروں پر تھا۔ مٹیا برج میں نواب علی نقی خان کی کوٹھی میں مرغوں کی پالی ہوتی تھی، اور کلکتے سے بعض انگریز اپنے مرغ لڑانے کو لایا کرتے تھے۔ بادشاہوں کے علاوہ اور بہت سے رئیسوں کو بھی مرغ بازی کا شوق تھا: مرزا حیدر؛ بہو بیگم صاحبہ کے بھائی نواب سالار جنگ حیدر بیگ خان؛ میجر سوارس جو نصیر الدین حیدر کے زمانے میں تھے اور خود بادشاہ سے مرغ لڑاتے تھے؛ آغا برہان الدین حیدر بھی مرغ بازی کے شائق تھے۔ آخر الذکر رئیس کے وہاں آخر زمانے تک دو ڈھائی سو مرغ رہتے، نہایت ہی صفائی اور نفاست سے رکھے جاتے، دس بارہ آدمی ان کی داشت پر مامور تھے۔ میاں داراب علی خان کو بڑا شوق تھا۔ نواب گھسیٹا نے بھی اس شوق کو آخر تک نباہا۔ ملیح آباد کے معزز پٹھانوں کو بھی بہت شوق تھا، اور ان کے پاس اصیل مرغوں کی بہت اچھی نسلیں محفوظ تھیں۔ یہاں مشہور مرغباز جو اپنے فن میں استاد یگانہ مانے جاتے بہت سے تھے: میر امداد علی، شیخ گھسیٹا، منور علی جن کو یہ کمال حاصل تھا کہ مرغ کی آواز سن کے بتا دیتے کہ یہ بازی لے جائے گا؛ صفدر علی؛ اور ایک اول درجے کے وثیقہ دار سید میراں صاحب بھی مشہور تھے۔ اس آخری زمانے میں مندرجۂ ذیل لوگوں کا نام مشہور ہوا: تفضل علی جمعدار، قادر، جیون خان، حسین علی، نوروز علی، نواب محمد تقی خان جو بیانہ کے ایک عالی مرتبہ رئیس تھے، میاں جان، دل، چھنگا، حسین علی بیگ، احمد حسین۔ ان میں سے اب کوئی زندہ موجود نہیں ہے۔

یہی لوگ ہیں جنھوں نے مرغ بازی کو یہاں انتہائی کمال کے درجے پر پہنچا کے دکھا دیا۔ مگر میرا خیال ہے کہ فی الحال مرغ بازی کا شوق حیدر آباد دکن میں بڑھا ہوا ہے۔ وہاں کے بہت سے امیروں، جاگیرداروں اور منصبداروں کو شوق ہے، اور ان کے پاس مرغوں کی نسلیں بھی بے مثل ہیں جن کی وہ بہت حفاظت کرتے ہیں۔

(۲) بٹیر بازی

بٹیر بازی کا شوق لکھنؤ میں پنجاب سے آیا۔ پنجاب کے بعض کنچن لوگ جن کی عورتیں عصمت فروشی کا پیشہ کرتی ہیں نواب سعادت علی خان کے عہد میں وارد لکھنؤ ہوئے، اور گھاگس بٹیر اپنے ساتھ لائے جنھیں وہ لڑاتے تھے۔ آج کل کی بعض نامور رنڈیاں انھیں لوگوں کی نسل سے ہیں۔ بٹیروں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک گھاگس اور دوسری چینگ۔ پنجاب میں صرف گھاگس بٹیر ہوتا ہے۔ وہ چینگ سے بڑا زبردست اور طاقتور ہوتا ہے۔ لکھنؤ میں گھاگس اور چینگ دونوں ہوتے ہیں۔ چینگ گھاگس سے قد میں چھوٹا اور نازک ہوتا ہے مگر لڑنے میں زیادہ مضبوط اور بہت جیالا ہوا کرتا ہے، اور اس کی لڑائی زیادہ شاندار اور خوبصورت ہوتی ہے۔ بہرحال اس بات کا پتہ لکھنؤ ہی میں لگا کہ لڑانے کے لیے چینگ بٹیر زیادہ موزوں ہے۔

بٹیر کی لڑائی کے لیے نہ کسی بڑے میدان کی ضرورت تھی نہ گھر سے باہر نکل کے صحن تک بھی آنے کی، بلکہ کمرے کے اندر ہی صاف ستھرے فرش پر تہذیب کے ساتھ بیٹھ کے اس کی لڑائی کی سیر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس لیے لکھنؤ کی سوسائٹی نے اسی کو بہت پسند کیا۔ نہایت نفیس، خوبصورت، اور سبک کابکیں بٹیروں کے لیے ایجاد کی گئیں جو ہاتھی دانت کی ننھی ننھی کھونٹیوں سے آراستہ کی جاتیں، اور ان میں بٹیر رکھے جاتے۔

اس کا کھیل یوں ہے کہ پہلے موٹھ یعنی پانی میں بھگو بھگو کے گھنٹوں ہاتھوں میں دبائے رہنے سے اس کی وحشت دور ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ بولنے اور چونچیں مارنے لگتا ہے۔ اس کے بعد بھوک دے کے اور دست آور اجزا جن میں مصری بہت مخصوص ہے دے دے کے اس کا جسم درست کیا جاتا ہے۔ پھر رات گئے یا آدھی رات کو ان کے کان میں چلا کے "کو" کہا جاتا ہے، جسے کوکنا کہتے ہیں۔ غرض ان تدبیروں سے چربی چھنٹ جاتی ہے، بھدا پن دور ہو جاتا ہے، اور جسم نہایت ہی پھرتیلا اور قوی ہو جاتا ہے۔ یہی بٹیر کی تیاری ہے، اور ان باتوں میں جس قدر زیادہ پورا ہے اسی قدر سمجھیے کہ لڑائی کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

لڑائی کے وقت فرش پر چاروں طرف ہلکا ہلکا دانہ چھڑکا دیا جاتا ہے اور بٹیر کابک سے نکالے جاتے ہیں۔ پہلے دونوں بٹیروں کی چونچیں چاقو سے بنا کے خوب تیز کر دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے مقابل چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ بٹیر کی لڑائی مرغ سے ملتی ہوئی ہے۔ چونچ سے کاٹتا اور پنجوں سے لات مارتا ہے۔ چونچ سے حریف کے منہ کو زخمی اور لہولہان کر دیتا ہے، اور پنجوں سے بعض وقت حریف کا پوٹا تک پھاڑ دیتا ہے۔ لڑائی پندرہ بیس منٹ یا کبھی اس سے زیادہ دیر تک رہتی ہے، اور آخر مغلوب حریف بھاگ کھڑا ہوتا ہے، اور بھاگنے کے بعد پھر وہ کسی بٹیر کے سامنے لڑائی میں نہیں ٹھہرتا۔

بٹیر کی ترقی کے تین درجے ہیں اور اس کی ناموری کے تین دور سمجھے جاتے ہیں۔ اول نیا جو پکڑ کے اور پہلے پہل مانوس کر کے لڑایا جاتا ہے۔ اگر وہ بہت سی لڑائیوں میں جیتا اور نہ بھاگا تو لڑائی کی فصل ختم ہوتے ہی معمولی پنجروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب وہ پرانے پر جھاڑ کے نئے نکال لاتا ہے۔ اسے کریز بٹھانا کہتے ہیں۔ یہ زمانہ ختم ہوتے ہی دوسرے سال اس کی ترقی کا دوسرا درجہ اور دور ہوتا ہے، اور اسے نوکار کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد دوبارہ کریز بیٹھ کے جب تیسرے سال وہ لڑائی کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو کریز کہلاتا ہے، اور یہ اس کی ترقی کا تیسرا دور اور اعلیٰ درجہ ہے۔

عموماً تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لڑائی میں نوکار نئے سے اور کریز نوکار سے زبردست ہوتا ہے۔ نیا بٹیر کریز سے دو چونچیں بھی مشکل سے لڑ سکتا ہے۔ اعلیٰ درجے کے بٹیرباز اور شوقین رئیس صرف کریزوں کو لڑاتے ہیں، اور نئے بٹیروں کا لڑانا بالکل معمولی کھیل ہے۔ لڑائی میں طرح طرح کے فریب و فن بھی کیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے بٹیر کے منہ پر کبھی کوئی ایسی کڑوی اور زہریلی چیز یا عطر لگا دیتے ہیں کہ دوسرا بٹیر دو ایک چونچیں مارتے ہی پیچھے ہٹنے اور لڑائی سے منہ موڑنے لگتا ہے، اور اگر اس پر بھی لڑتا رہا تو لڑائی کے بعد مر جاتا ہے۔ بعض لوگ کیف کا کھیل کھیلتے ہیں، یعنی لڑائی سے ایک ساعت پہلے اپنے بٹیر کو کوئی ایسی تیز نشے والی چیز کھلا دیتے ہیں کہ وہ لڑائی میں بے حس ہو کے بھاگنا بھول جاتا ہے، اور جب تک حریف کو پالی سے نہ بھگا دے مجنونوں کی طرح لڑتا رہتا ہے۔

لکھنؤ میں بٹیر بازی کے شوق نے ایسے ایسے باکمال بٹیرباز پیدا کر دیے جن کا کہیں نظیر نہیں مل سکتا۔ بعض لوگوں نے یہ کمال پیدا کیا تھا کہ کسی کے اچھے نامی بٹیر کو ایک نظر دیکھا اور کسی معمولی بٹیر کی ویسی ہی صورت بنا دی، اور کسی موقع پر باتوں باتوں میں بدل لیا۔ خیر یہ تو ایک بیہودہ چوری تھی، مگر بعض استادوں نے یہ کمال حاصل کیا کہ بھگے بٹیروں کو تیار کر کے اچھے اچھے کریزوں سے لڑا دیتے اور بازی لے جاتے۔ کیف کے کھیل والے استادوں میں ایک صاحب کیف کی نہایت اعلیٰ درجے کی گولیاں تیار کرتے جو سو روپیے کی دس گولیاں بکتیں، اور لوگ شوق سے لے جاتے۔

ان لوگوں کی سب سے بڑی استادی بٹیروں کے علاج میں نظر آتی ہے، اور ایسے ایسے بیمار اور از کار رفتہ بٹیروں کو درست کر لیتے ہیں اور اس خوبی سے ان کے مرض کی تشخیص کرتے اور مناسب اجزا استعمال کراتے ہیں کہ اطبا اور ڈاکٹر حیرت میں رہ جائیں۔ اس کی بہت کوشش کی گئی کہ بٹیروں کو پال کے انڈے سے بچے دلوائے جائیں مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔

بٹیروں کے نام بھی بڑے بڑے شاندار رکھے گئے، جیسے رستم، سہراب، شہرۂ آفاق۔ پالیوں میں بڑی سے بڑی بازیاں بدی جاتی ہیں، اور ایک ہزار روپیہ تک کی بازی میں نے خود دیکھی ہے۔ اس کا شوق بھی بعض بادشاہوں کو رہا۔ نصیر الدین حیدر اپنے سامنے میز پر بٹیروں کی لڑائی دیکھ کے خوش ہوتے تھے۔

پرانے بٹیربازوں میں میر بچو، میر عمدہ، خواجہ حسن، میر فدا علی، چھنگا، میر عابد اور سید میراں کے نام یادگار رہیں گے۔ آج سے چالیس سال پہلے مٹیا برج میں منشی السلطان کے داروغہ غلام عباس، چھوٹے خان، اور غلام محمد خان خالص پوری کو جو بڑے معمر اور سن رسیدہ لوگ تھے اس فن میں نہایت باکمال پایا تھا۔ غالب علی بیگ، مرزا اسد علی بیگ، نواب مرزا، میا جان، شیخ مومن علی، اور غازی الدین خان نے بھی آخر عہد میں بہت ناموری حاصل کی تھی۔

بٹیروں کا شکار بھی لکھنؤ والوں کے لیے بڑی دلچسپی کی چیز ہے۔ پہلے اس میں صرف شوقینی تھی جس کی بدولت بہت سے ایسے آدمی جنھوں نے کبھی شہر سے باہر کی سواد نہیں دیکھی تھی کھیتوں اور جنگلوں کی ہوا کھا آتے تھے۔ مگر اب اسی پر بہتوں کی روٹیاں چلتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ بٹیر جاڑوں سے رات کو نکلتے اور اوپر کی فضا میں اڑتے ہوئے جاتے ہیں۔ شکار کے شوقین بڑی آواز سے بولنے والے بٹیروں کو تیار کرتے ہیں جو برابر رات بھر بولتے رہتے ہیں۔ ایسے بٹیروں کو پھندیت کہتے ہیں۔ کسی ارہر کے کھیت کے اطراف میں اکثر جال پھیلا دیا جاتا ہے۔ پھندیتوں کی آواز سن کے بٹیر اوپر سے اترنا اور گرنا شروع ہوتے ہیں، اور رات بھر میں بہت سے جمع ہو جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی سب طرف سے ہنکا کے جال کی طرف بھگا لے جاتے ہیں، جس میں پھنستے ہی پکڑ پکڑ کے پٹکیوں میں بند کر لیے جاتے ہیں۔

(۳) تیتروں کی لڑائی

یہ بھی دلچسپ ہے۔ تیتر اور طیور کی بہ نسبت اچک اچک کے لڑتا ہے، مگر اس کا شوق سوا دیہاتی لوگوں اور ادنیٰ درجے والوں کے امرا و شرفا کو کبھی نہیں رہا۔ تیتر لوٹ سے اور دوڑا دوڑا کے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں جوش اور غصہ پیدا کرنے کے لیے ان کو دیمک کھلائی جاتی ہے۔ مگر یہ کوئی بڑا کھیل نہیں ہے، اور نہ مہذب سوسائٹی میں اختیار کیا گیا۔ ہاں لکھنؤ کے ادنیٰ طبقے والوں میں کثرت سے رہا اور ہے۔

(۴) لووں کی لڑائی

لوا چھوٹے قسم کا تیتر ہے جو بٹیر سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ بجائے دانے کے سدا یعنی مادہ پر لڑا کرتا ہے۔ اسے لڑانا ہوتا ہے تو مادہ کا پنجرا لا کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کا شوق ریاست ریواں وغیرہ میں لوگوں کو زیادہ تھا۔ لکھنؤ میں بھی پسند کیا گیا اور ایک حد تک اختیار کیا گیا۔ لوے کی لڑائی سچ یہ ہے کہ بٹیر سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ کندے کھول کے لڑتا اور گتھ جاتا ہے، اور پھول کی طرح کھل کھل کے اٹھتا اور گرتا ہے۔ لکھنؤ کے بعض امرا کو اس کا شوق ہو گیا تھا۔ مٹیا برج میں واجد علی شاہ مرحوم کی سرکار میں ایک بڑے استاد لوے لڑانے والے تھے جنھوں نے بہت اچھی اچھی جوڑیں تیار کی تھیں، اور جب انھیں سامنے لا کے لڑاتے تو بڑا لطف آتا۔ لووں کی تیاری بھی زیادہ تر لوٹ اور بھوک سے ہوتی ہے۔ اور اس کی لڑائی کا رواج بٹیر کے پیشتر سے تھا، مگر آخر میں بٹیر بازی کا اس قدر رواج ہوا کہ لوے کا شوق پھیکا پڑ گیا۔ اس کا شکار بھی عجیب طریقے سے ہوتا ہے۔ یہ بھی بٹیر کی طرح اوپر کی فضا میں اڑتا ہوا جاتا ہے۔ لوگ پھندیتوں کی سی چھپر پر ایک گھڑا باندھ دیتے ہیں۔ اس کے منہ پر جھلی منڈھ کے ایک سینک میں ڈورا باندھ کے اس سینک کو جھلی میں چبھو کے اندر لگا دیتے ہیں، اور اس ڈورے کو ہاتھ سے سوتنا شروع کرتے ہیں۔ جھلی سے ایک بے ہنگم بھوں بھوں کی آواز نکلنا شروع ہوتی ہے جو لووں کو اس قدر پسند ہے کہ اڑتے اڑتے نیچے اتر پڑتے ہیں، اور صبح کو جال میں پھنس کے بٹیروں ہی کی طرح پکڑ لیے جاتے ہیں۔

(۵) گلدم لڑانا

گلدم کو عوام بلبل کہتے ہیں، مگر یہ غلطی ہے۔ بلبل بدخشان و عجم کی ایک نغمہ سنج چڑیا ہے، اور اس چڑیا کی دم کے نیچے ایک سرخ گل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا نام گلدم رکھا گیا ہے۔ اس کی لڑائی بھی دیہاتیوں اور بازاری لوگوں میں زیادہ ہے۔ شائستہ سوسائٹی نے اسے کبھی دلچسپی کی نظر سے نہیں دیکھا، مگر اس کی لڑائی لطف سے خالی نہیں ہوتی۔ دانے پر لڑتے ہیں، اور لڑائی میں دونوں حریف کرتے ہوئے اوپر اڑتے اور گتھ کے گرتے ہیں۔

(۶) لال لڑانا

لال صرف پنجروں میں رکھ کے پالنے کے لیے ہیں، لڑائی کے لیے موزوں نہیں۔ مگر نفس پرست انسان نے انھیں بھی لڑا کے دو گھڑی دل بہلا لیا۔ لالوں کا پہلے تو اس حد تک مانوس بنانا مشکل ہوتا ہے کہ پنجرے کے باہر نکال کے چھوڑے جائیں اور اڑ نہ جائیں۔ دوسرے انھیں اس قدر مست بھی ہونا چاہیے کہ دوسرے لال سے لڑنے کو تیار ہو جائیں۔ چنانچہ ان کا لڑ جانا ہی دشوار ہوتا ہے۔ مگر جب لڑ گئے تو خوب گتھ گتھ کے اور اڑ اڑ کے لڑتے ہیں، اور بڑی دیر تک لڑتے رہتے ہیں۔ لالوں کی لڑائی دوسرے چھوٹے طیور کی لڑائی کی بہ نسبت دیر تک رہتی ہے۔ لالوں کی لڑائی کا شوق اہل لکھنؤ میں بہت کم رہا۔ صرف دو ہی ایک استاد پیدا ہوئے جنھوں نے لڑایا، ورنہ عام رجحان اس کے خلاف تھا، اور اس کے شوقین بھی عوام اور بازاری ہی تھے۔

(۷) کبوتر بازی

کبوتر ان مانوس جانوروں میں ہیں جن کا شوق لوگوں کو قدیم زمانے سے لے کے آج تک ہر ملک اور ہر سرزمین میں کسی نہ کسی حد تک ضرور رہا۔ کبوتروں کی بہت سی قسمیں ہیں، جن میں اڑنے والے گرہ باز اور گولے ہوتے ہیں، اور جو محض خوبصورتی اور خوش رنگی کے لحاظ سے پالے جاتے ہیں ان میں شیرازی، گلی، نساوری، گلوے، لقے، لوٹن، اور چوپا چندن وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ یاہو کبوتر رات دن گونجنے اور "یا ہو" کا دم بھرنے کی وجہ سے عبادت گزاروں کو زیادہ پسند تھے، اور اکثر فقرا و مشائخ کو ان کا شوق تھا۔

سنتے ہیں کہ گرہ باز پہلے پہل کابل سے لائے گئے۔ پہلے عموماً وہی اڑائے جاتے تھے، گولے بعد کو آئے جن کی نسل عرب و عجم اور ترکستان سے آئی۔ گرہ باز کی یہ شان ہے کہ صبح کو اڑے تو گھنٹوں مکان کے عین محاذی آسمان پر چکر لگاتے رہے، اس طرح کہ صحن کے اندر لگن میں پانی بھر کے رکھ دیجیے تو اس میں ہمیشہ نظر آتے رہیں گے۔ بعض دن دن بھر اڑتے رہتے ہیں اور شام کو اترتے ہیں۔ اپنے مکان کے پہچاننے اور وطن پرستی کے دلدادہ ہوتے ہیں۔

گرہ باز اتنا کمال رکھتے ہیں کہ خود میرے یہاں کا ایک کبوتر کسی کے وہاں پھنس گیا تھا جس نے پر کاٹ دیے۔ تین سال کے بعد جب اسے موقع ملا اور پر نکل آئے تو واپس آیا، اور اپنے خانے میں گھس کے اس کبوتر سے لڑنے لگا جو اب اس میں مقیم تھا۔

لیکن گرہ باز کی دس بارہ سے زیادہ کی ٹکڑی نہیں اڑتی۔ لوگوں کو سو سو دو دو سو کبوتروں کی ٹکڑیاں اڑانے کا شوق ہوا تو گولے اختیار کیے گئے۔ کبوتر بازی کا فن دہلی ہی میں اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ کہتے ہیں آخری وارث دولت مغلیہ بہادر شاہ کی سواری نکلتی تو دو سو کبوتروں کی ٹکڑی اوپر ہوا میں سواری کے ساتھ اڑتی ہوئی جاتی اور جہاں پناہ پر سایہ کیے رہتی۔

کبوتر کو اپنے گھر سے بہت زیادہ انس ہوتا ہے۔ کابک کو ٹھیلے پر رکھ کے لیجاتے اور جہاں کہا جائے روک کے اڑانے اور پھر کابک پر بلا لینے کا کمال بھی دہلی ہی میں پہلے نظر آ چکا تھا۔

لکھنؤ میں کبوتر بازی اس خاندان فرمانروائی کے ابتدائی دور ہی سے شروع ہو گئی تھی۔ چنانچہ نواب شجاع الدولہ کو کبوتروں کا بڑا شوق تھا۔ سید یار علی نام ایک شخص نے جو بریلی کا رہنے والا تھا اپنے آپ کو ایک کامل کبوترباز کی حیثیت سے دربار میں پیش کیا اور اس کی بڑی قدر کی گئی۔ نواب آصف الدولہ اور نواب سعادت علی خان کو بھی شوق تھا، اور غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے زمانے میں تو کبوتر بازی یہاں بہت اعلیٰ درجے پر پہنچ گئی تھی۔ میر عباس نام یہاں کے ایک کامل فن کبوترباز نے یہ کمال دکھایا کہ جو کوئی پانچ روپے نذر کر کے ان کی دعوت کرنا چاہے وہ کہیں رہتا ہو کابک لے کے پہنچ جاتے اور اسی کے گھر سے کبوتر اڑا دیتے، اڑاتے اور سیٹی پر بلا لیتے۔ مجال کیا کہ کوئی کبوتر کسی اور جگہ گر جائے۔ شوق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ بعض امیروں کے ہاں صرف نو سو کبوتریاں ایک ساتھ اڑتیں، اور بعض رئیس اتنے ہی یا اس سے زیادہ تعداد میں نر کبوتر اڑاتے۔

خوست (علاقۂ سرحدی افغانستان) سے ٹپت نام ایک خاص رنگ کے کبوتر آئے تھے جو نہایت قیمتی تھے۔ اکثر رئیس ہزاروں روپیہ صرف کر کے انھیں اڑاتے۔

ایک جدت پسند بزرگ نے لکھنؤ میں یہ کمال کیا کہ کبوتر کے دو بچوں کو لے کے ایک کا داہنا اور ایک کا بایاں بازو کاٹ دیا، اور کٹے ہوئے بازوؤں کی جگہ ان دونوں میں ٹانکے لگا کے ایک دوہرا کبوتر بنا لیا، اور ایسی داشت سے پالا کہ وہ بڑے ہوئے اور اڑنے لگے۔ ایسے بہت سے دوہرے کبوتر تیار کیے۔ اکثر معمول تھا کہ جب نصیر الدین حیدر چھتر منزل سے بجرے پر سوار ہو کے پار جاتے اور کوٹھی دل آرام میں بیٹھ کے دریا کی سیر دیکھتے، وہ اس پار سے اپنے ان عجیب الخلقت دوہرے کبوتروں کو اڑا دیتے جو پار جا کے بادشاہ کے قریب بیٹھ جاتے۔ بادشاہ انھیں دیکھ کے بہت محظوظ ہوتے اور انعام دیتے۔

میراں علی نام ایک بزرگ نے یہ کمال پیدا کیا تھا کہ کبوتر کو رنگ کے جیسا چاہتے بنا دیتے۔ اکثر جگہ پر اکھاڑ کے دوسرے رنگ کا پر اسی کے سوراخ میں رکھ کے اس طرح جما دیتے کہ وہ اصلی پروں کی طرح جم جاتا، اور بہت سے مقامات پر رنگ سے کام لیتے۔ مگر ایسا مضبوط اور پختہ رنگ کہ مجال کیا جو ذرا پھیکا بھی پڑ جائے۔ برس بھر تک رنگ قائم رہتا۔ مگر جب کریز میں پر گر جاتے تو پھر اصلی رنگ نکل آتا۔ ان کے ان کبوتروں میں سے ہر ایک پندرہ بیس روپے کو بکتا، اور امرا بڑے شوق سے لیتے۔ وہ پلاٹنیہ بھی بنا لیا کرتے جو لاکھوں میں ایک نکلتا ہے، اور رنگ کے حدود اور گلوں کے اعتبار سے بے مثل ہوتا ہے۔

ایک بڑے کبوترباز نواب پالے تھے جو گرہ باز کبوتروں کو گولوں کی طرح اڑاتے۔ کمال یہ تھا کہ جس جگہ اور جس مکان پر چاہتے چھپی کے اشارے سے بازی کرا دیتے، یعنی کبوتر ہوا میں قلابازیاں کھانے لگتے۔

واجد علی شاہ نے مٹیا برج میں بہت سے نئے کبوتر جمع کیے تھے۔ کہتے ہیں کہ ریشم پرے کبوتروں کا جوڑا پچیس ہزار کو لیا تھا، اور ایک قسم کے سبز کبوتروں کی نسل بڑھائی تھی۔ جب انتقال ہوا ہے تو چوبیس ہزار سے زیادہ کبوتر تھے جن پر سیکڑوں کبوترباز نوکر تھے، اور ان کے داروغہ غلام عباس کبوتر بازی کے فن میں جواب نہ رکھتے تھے۔

شوقین اور فن دانی نے پالنے کے رنگین کبوتروں میں بھی بے مثل ترقی کی تھی۔ یہ صرف مشہور نہیں ہے، بلکہ ایسا شیرازی جو گز بھر کے پنجرے کی وسعت کو بھر لے، اور ایسا گلی جو ایک بارہ برس کی لڑکی کی چوڑی میں سے نکل جائے، میں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں۔ (یہ ذکر ابھی ختم نہیں ہوا۔ باقی آیندہ نمبر میں عرض کروں گا۔)

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.