
Chapitre 19 sur 56
Fights of Wild Beasts
درندوں اور جانوروں کی لڑائیاں
(۱۸)
اودھ میں مثل مشہور ہے کہ "بڑھاپے میں انسان کی قوت شہوانی زبان میں آ جایا کرتی ہے۔" ویسے ہی بہادروں اور جانبازوں کی قوت شجاعت کی نسبت اکثر تجربہ ہوا ہے کہ جب کمزوری آتی ہے یا ہاتھ پیروں کی طاقت جواب دیتی ہے تو ساری بہادری اور شجاعت دست و بازو سے نکل کے زبان اور آنکھوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ اب وہ اپنی گزشتہ شجاعت و ناموری کے افسانے بیان کرتے، اور شجاعت کے کارنامے اپنی ذات سے نہیں دکھاتے بلکہ ان کا تماشا لڑنے والے جانوروں کے ذریعے سے دیکھتے اور دوسروں کو دکھا دکھا کے داد طلب ہوتے ہیں۔
یہی حال لکھنؤ کا ہوا۔ جب لوگوں کو ملک گیری و صف آرائی سے فرصت ملی اور میدان جنگ میں کھڑے ہونے کا حوصلہ نہ رہا تو جنگجوئی کے جذبات نے جانوروں کو لڑا لڑا کے جانبازی و خونریزی کا تماشا دیکھنے کا مشغلہ پیدا کیا۔ یہ شوق یوں تو تھوڑا بہت سب جگہ ہے، مگر اس میں جس قدر انہماک اہل لکھنؤ کو ہوا اور ان بے نتیجہ بلکہ سنگدلی کی دلچسپیوں کو ان لوگوں نے جس درجۂ کمال کو پہنچا دیا اور مقامات کے لوگوں کے خواب و خیال میں بھی نہ گزرا تھا۔ اور اگر غور سے دیکھیے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس شوق اور ان مشاغل کے جیسے کرشمے اور دلکش تماشے سواد لکھنؤ میں دیکھے گئے دہلی یا ہندوستان کا کوئی دربار درکنار غالباً ساری دنیا کے کسی شہر میں نہ دیکھے گئے ہوں گے۔
لکھنؤ میں غیر کی شجاعت سے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا یہ شوق تین طریقوں سے پورا کیا گیا: (الف) درندوں اور چوپاؤں کو لڑا کے، (ب) طیور کو لڑا کے، (ج) تکلیں اور کنکوے لڑا کے یعنی پتنگ بازی کے ذریعے سے۔ ان تینوں قسموں کو ہم بقدر اپنی جستجو اور معلومات کے جدا جدا تفصیل سے بیان کرنا چاہتے ہیں۔
قسم اول یعنی درندوں اور چوپاؤں کی لڑائی کا تماشا یہاں مندرجۂ ذیل جانوروں کو لڑا کے دیکھا گیا: (۱) شیر، (۲) چیتے، (۳) تیندوے، (۴) ہاتھی، (۵) اونٹ، (۶) گینڈے، (۷) بارہ سنگھے، (۸) مینڈھے۔ درندوں کے لڑانے کا مذاق قدیم ہندوستان میں کہیں یا کبھی نہیں سنا گیا تھا۔ [1] یہ اصلی مذاق پرانے رومیوں کا تھا جہاں انسان اور درندے کبھی باہم اور کبھی ایک دوسرے سے لڑائے جاتے تھے۔ مسیحیت کے عروج پاتے ہی وہاں بھی یہ مذاق چھوٹ گیا تھا، مگر اب تک اسپین میں اور بعض دیگر ممالک یورپ میں وحشی سانڈ باہم اور کبھی کبھی انسانوں سے لڑائے جاتے ہیں۔ لکھنؤ میں غازی الدین حیدر بادشاہ کو غالباً ان کے یوروپین دوستوں نے درندوں کی لڑائی دیکھنے کا شوق دلایا۔ بادشاہ فوراً آمادہ ہو گئے، اور چند ہی روز میں شاہی دلچسپی ان خوفناک اور وحشیانہ لڑائیوں میں ایسی بڑھی کہ کوئی امکانی کوشش نہیں اٹھا رکھی گئی۔ موتی محل میں عین لب دریا دو نئی کوٹھیاں مبارک منزل اور شاہ منزل تعمیر کی گئیں۔ ان کے مقابل دریا پار کوسوں تک ایک فرحت بخش سبزہ زار چلا گیا تھا، جس میں آہنی کٹہرے سے گھیر کے ایک وسیع رمنہ بنایا گیا تھا۔ اس میں قسم قسم کے ہزارہا جانور لا کے چھوڑے گئے تھے اور درندے کٹہروں میں بند کر کے رکھے گئے تھے۔ اسی رمنے کے سلسلے میں دریا کنارے ہی وحشی جانوروں کے لڑانے کے لیے بڑے بڑے میدان بانس کے ٹھاٹھروں یا آہنی حصار سے محفوظ کیے جاتے جو شاہ منزل کے عین محاذی دریا کے اس پار ہوتے۔ دریا کا پاٹ وہاں بہت کم ہے۔ بادشاہ اور ان کے مہمان و مصاحبین شاہ منزل کے بالائی صحن پر گنگا جمنی شامیانوں کے سائے میں بیٹھ کے اطمینان اور آرام سے سیر دیکھتے، اور پار کے محصور میدان میں درندوں کی قیامت خیز لڑائی کا محشر بپا ہوتا۔
درندوں اور مست ہاتھیوں کا لڑانا تو آسان ہے مگر اس کی سنبھال نہایت ہی مشکل ہے۔ ایک مست ہاتھی یا شیر کٹہرے سے چھوٹ جاتا ہے تو شہروں میں بھگدڑ پڑ جاتی ہے اور بہت سی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ مگر یہاں لوگ اس خوفناک کام میں اس قدر ہوشیار ہو گئے تھے کہ اس وقت جو یوروپین سیاح دربار میں موجود تھے خود اپنی تحریروں میں اقرار کرتے ہیں کہ وحشی جانوروں کے پالنے، سدھانے، اور ان کی داشت اور سنبھال کرنے والے آدمی لکھنؤ سے بہتر دنیا بھر میں کہیں نہیں ہیں۔ یہی لوگ ہاتھیوں اور درندوں کو لا کے چھوڑتے، ان کو اپنے بس میں رکھتے، ان کے ہارتے وقت غالب و مغلوب دونوں درندوں کو اپنے قابو میں کرتے۔ اس کام کے لیے سیکڑوں سانٹے مار اور بلم بردار مقرر تھے جو انھیں مارتے اور اپنے آپ کو ان کے حملوں سے بچاتے۔ لوہے کی دہکتی ہوئی سلاخوں اور آتشبازیوں سے ان کو جدھر چاہتے موڑتے اور جہاں چاہتے ہنکا لیجاتے۔ شیروں اور تیندوؤں کو کٹہروں میں بند کرتے۔ غرض ان لوگوں کی پھرتی، چالاکی، اور پلٹ پھرت اور ہوشیاری خود جانوروں کی لڑائی سے زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز تھی، جن باتوں کو دیکھ کے دم بھر میں نظر آ جاتا کہ ان بڑے بڑے دیو ہیکل جانوروں اور مہیب وحشی درندوں پر انسان دنیا میں کن اسباب سے غالب آیا ہے۔ اب ان جانوروں میں سے ہر ایک کی لڑائی کا جداگانہ حال سنیے جو غالباً لطف سے خالی نہ ہو گا۔
(۱) شیر
بادشاہ نے بہت سے شیر جمع کر رکھے تھے جو نیپال کی ترائی سے پکڑ پکڑ کے لائے جاتے۔ ان میں سے بعض بہت بڑے تھے۔ بعض مختلف لڑائیوں میں غالب آ کے بادشاہ کو بہت عزیز ہو گئے تھے۔ لڑائی کے لیے ان کے کٹہرے میدان کے حصار کے پاس لا کے کھول دیے جاتے۔ دونوں حریف چھوٹتے ہی غرا کے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے، اور دانتوں اور پنجوں سے ایک دوسرے کو زخمی کرتے باہم گتھ جاتے۔ کبھی یہ اس کو گرا کے اوپر چڑھ بیٹھتا، کبھی وہ اس کو زیر کرتا۔ دیر تک ایک نہایت ہولناک لڑائی ہوتی رہتی، جس میں کبھی تو ایک حریف جان سے مارا جاتا اور کبھی سخت زخمی ہو کے ہمت ہارتا، کثرت سے خون نکل جانے کے باعث کمزور ہو کے بھاگتا، اور حریف غصے سے اس کا تعاقب کرتا۔ اس وقت ان دونوں کے سنبھالنے اور قابو میں لانے کے لیے لڑانے والوں کا کمال اور ان کی دوڑ دھوپ اور کارستانیاں دیکھنے کے قابل ہوتیں۔
شیر اکثر تیندوؤں سے لڑائے جاتے، مگر یہاں ایسے ایسے زبردست تیندوے تھے جن سے شیر بہت ہی کم جیت سکتا۔ ان کی لڑائی کی شان بھی وہی ہوتی جو شیروں کے باہم لڑنے کی ہے۔ کبھی کبھی شیر اور ہاتھی بھی لڑا دیے جاتے، مگر ان کی لڑائی جوڑ کی نہ ہوتی، اور اس کے نتیجے بھی خلاف امید مختلف قسم کے ہوتے۔ اگر ہاتھی خوب جیالا ہوا تو شیر بہت کم اس سے پیش پا سکتا تھا۔ سب سے زیادہ پرلطف لڑائی شیر اور گینڈے کی ہوتی۔ گینڈا سوا پیٹ کے حصۂ زیریں کے روئیں تن واقع ہوا ہے۔ اس پر نہ شیر کے دانت اثر کرتے ہیں نہ پنجے۔ اسی قدرتی مضبوطی کے زعم میں وہ کسی زبردست سے زبردست حریف کی پروا نہیں کرتا، اور خود جب سر جھکا کے حریف کے پیٹ کے نیچے گھستا ہے تو اپنے بانسے کے اوپر والی ہولناک سینگ پیٹ میں اس طرح پیوست کر دیتا ہے کہ آنتیں باہر نکل پڑتی ہیں اور حریف کا کام تمام ہو جاتا ہے۔ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا کہ شیر نے گینڈے کو چاروں شانے چت گرا کے اپنے ناخنوں اور دانتوں سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا ہو، ورنہ اکثر یہی ہوتا کہ گینڈا اپنا سینگ بھونک کے شیر کو مار ڈالتا۔
مگر سب سے زیادہ حیرتناک یہ چپقلش ہے کہ نصیر الدین حیدر بادشاہ کے زمانے میں ایک مرتبہ ایک گھوڑے کے مقابلے میں شیروں کو بڑی زک اٹھانا پڑی۔ یہ عجیب و غریب گھوڑا تھا جو مردم آزاری میں درندوں سے بھی بڑھ گیا تھا۔ مجال نہ تھی کہ کوئی آدمی اس کے پاس جائے۔ دانہ دور سے اس کی طرف بڑھا دیا جاتا، اور جب چھوٹ جاتا بہت سے آدمیوں کو ہلاک کر ڈالتا۔ جو سامنے آتا اسے مار کے ہڈیاں پسلیاں چبا ڈالتا، اور لاش ایسی بگاڑ دیتا کہ پہچانی نہ جاتی۔ مجبوراً تجویز ہوئی کہ اس پر شیر چھوڑ دیے جائیں۔ چنانچہ بھورا نام شیر جو بادشاہ کو عزیز تھا اور اکثر بازیاں لے جا چکا تھا اس پر چھوڑا گیا۔ گھوڑا بجائے اس کے کہ شیر سے خوف کھائے لڑنے کو تیار ہو گیا، اور جیسے ہی شیر جست کر کے اس پر آیا اس نے اس طرح اگلا جسم جھکایا کہ شیر پشت پر گرا اور اس کے پٹھوں میں ناخنوں کے خنجر پیوست کر دیے۔ ساتھ ہی گھوڑے نے اس زور سے پشتک ماری کہ شیر قلابازیاں کھاتا ہوا دور جا گرا۔ مگر پھر سنبھلا اور چند منٹ ادھر ادھر تاؤ دے لگا کے پھر جست کر کے گھوڑے پر جا رہا۔ گھوڑے نے پھر وہی حرکت کی کہ اگلا جسم جھکا دیا۔ شیر پٹھوں پر جا پڑا اور ارادہ کیا کہ اسے پنجوں سے گرا کے مار ڈالے، مگر گھوڑے نے اب کی اس زور سے دولتی جھاڑی کہ شیر کے جبڑے ٹوٹ گئے اور چاروں شانے چت دور جا گرا۔ لیکن اس چوٹ سے شیر نے ایسی ہمت ہار دی تھی کہ گھوڑے کی طرف پیٹھ پھیر کے بھاگنے لگا، اور تماشائی حیران رہ گئے۔ تب دوسرا اس سے بڑا شیر چھوڑا گیا۔ اس نے رخ ہی نہ کیا۔ مجبوراً وہ شیر بھی ہٹا لیا گیا، اور تین ارنے بھینسے چھوڑے گئے۔ وہ بھی گھوڑے سے نہ بولے، اور گھوڑے نے بڑھ کے بے چھیڑے ایک بھینسے پر اس زور سے دولتی جھاڑی کہ وہ بلبلا کے رہ گیا، اور اس کے دونوں ساتھی اس طرح سر ہلانے لگے گویا داد دے رہے ہیں کہ "ہاں! یہ ہوئی نا!" آخر گھوڑے کی جان بخشی کی گئی، اور نصیر الدین حیدر نے کہا: "میں اس کے واسطے ایک آہنی کٹہرا بنوا دوں گا، اور اس کی پرورش کا بھی سامان کر دوں گا۔ ابا جانی کے سر کی قسم یہ بڑا بہادر ہے۔"
(۲) چیتا
سب ہی درندے لڑائی کے لیے دو ایک دن پیشتر سے بھوکے رکھے جاتے ہیں، مگر چیتے کے بارے میں اس کا خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے، اس لیے کہ چیتا جس قدر زیادہ ظالم و خونخوار ہے اسی قدر بعض وقت بزدل بھی ثابت ہوتا ہے۔ علی العموم بگڑے امیرزادوں کی طرح وہ خوشامد طلب خیال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ میدان میں جب اس کا جی چاہے لڑتا ہے، اور جب نہ جی چاہے لاکھ جتن کرو نہیں لڑتا۔ لڑائی میں وہ کتراتا اور کنیاتا ہوا حریف پر جاتا ہے۔ پہلے جست کر کے ایک دوسرے کو زخمی کرنا چاہتا ہے۔ ایسی دو ایک جستوں کے بعد دونوں پچھلے پاؤں پر کھڑے ہو کے پنجوں سے لڑنے لگتے ہیں۔ یہ بڑی خونریز لڑائی ہوتی ہے جس میں دونوں غراتے جاتے ہیں اور حریف پر پنجے مارتے جاتے ہیں۔ آخر زبردست کمزور کو گرا کے چلکیں مار مار کے حریف کا کام تمام کر دیتا ہے، مگر خود بھی سر سے پاؤں تک زخمی ہو جاتا ہے۔
(۳) تیندوا
تیندوا چھوٹے پیمانے کا شیر ہوتا ہے، مگر کہا جاتا ہے کہ لکھنؤ میں شیروں سے اکثر لڑنے والے تیندوے تھے جو قیامت کی لڑائی لڑتے اور اکثر شیروں پر غالب آ جاتے۔ تیندوے کی لڑائی بالکل شیروں کی سی ہوتی ہے۔ لڑتے لڑتے دونوں حریف سخت زخمی ہو جاتے ہیں، اور مغلوب حریف کبھی تو وہیں میدان میں گر کے مر جاتا ہے اور کبھی دشمن سے ہار کے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
(۴) ہاتھی
لکھنؤ میں ہاتھیوں کی لڑائی بہت پسند کی جاتی تھی اور نہایت ہی دلچسپ سمجھی جاتی، اور یہ شوق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ نصیر الدین حیدر بادشاہ کے زمانے میں ڈیڑھ سو لڑائی کے ہاتھی تھے جن کو سواری سے تعلق نہ تھا۔ ہاتھیوں کی لڑائی کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ مست ہو گئے ہوں، اس لیے کہ ہاتھی جب تک مست نہ ہوں نہیں لڑتے، اور لڑیں بھی تو ان میں فتحیابی اور حریف پر غالب آنے کا سچا جوش اور غصہ نہیں ہوتا۔
لڑائی کے وقت ان کی گردن سے دم تک ایک رسا بندھا ہوتا ہے۔ حریف کا سامنا ہوتے ہی دونوں حریف سونڈیں اور دمیں اٹھا کے زور سے چنگھاڑتے ہوئے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ہیں، اور بڑی زبردست ٹکر ہوتی ہے۔ اس کے بعد برابر ٹکروں پر ٹکریں ہوتی رہتی ہیں جن کی آواز بڑی دور تک جاتی ہے۔ پھر دونوں ایک دوسرے سے منہ ملا کے اور دانتوں کو اڑا کے ایک دوسرے کو ریلنا اور ڈھکیلنا شروع کرتے ہیں، جس میں ان کے جسم کے پیچ و تاب کھانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیسا زور لگا رہے ہیں۔ فیلبان آنکس مار مار کے زور لگانے پر انھیں اور زیادہ ابھارتے رہتے ہیں۔ آخر دونوں میں سے ایک ہاتھی کمزور پڑتا اور ریلے کی تاب نہ لا کے زمین پر گرتا ہے۔ غالب ہاتھی اس وقت اکثر دانت سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالتا اور کام تمام کر دیتا ہے۔ لیکن اکثر ہاتھیوں کا معمول ہے کہ کمزور پڑتے ہی دانت چھڑا کے بھاگ گئے ہیں اور غالب آنے والا تعاقب کرتا ہے۔ پا گیا تو ٹکریں مار کے گراتا اور اکثر دانتوں سے پیٹ پھاڑ کے مار ڈالتا ہے، اور اگر وہ نکل گیا تو جان بچ جاتی ہے۔
لکھنؤ میں ہاتھیوں سے اکثر گینڈے بھی لڑائے جاتے تھے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ یہ دونوں جانور باہم لڑتے ہی نہ تھے، اور اگر کبھی لڑ گئے تو بڑی دیر تک سخت لڑائی ہوتی۔ اگر کبھی ہاتھی نے گینڈے کو ڈھکیل کے الٹ دیا تو اس کے دانت پیٹ میں پیوست ہو کے اس کا کام تمام کر دیتے، اور اگر گینڈے نے موقع پا کے اپنا بالائی سینگ ہاتھی کے پیٹ میں اتار دیا تو کھال دور تک پھٹ جاتی۔ مگر ہاتھی سونڈ کی مدد سے گینڈے کے سینگ کو اپنے جسم میں زیادہ دور تک نہ گھسنے دیتا اور کاری زخم سے بچ جاتا۔
(۵) اونٹ
یوں تو دنیا میں ہر ذی روح لڑ سکتا ہے، لیکن اونٹ سے زیادہ غیر موزوں لڑائی کے لیے کوئی جانور نہیں ہو سکتا۔ مگر لکھنؤ میں اونٹ بھی مست اور پرجوش بنا کے لڑائے جاتے۔ اونٹ کی پکڑ مشہور ہے، اور اس کا بے طریقے گرنا اس کے حق میں نہایت ہی خطرناک ہے۔ اونٹوں کا جوش کف نکالنے اور جھاگ اڑانے سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ کف اڑاتے ہوئے دوڑتے ہیں، اور گالیاں دینے اور ایک دوسرے کے منہ پر تھوکنے یعنی بلبلانے اور جھاگ اڑانے سے لڑائی شروع ہوتی ہے۔ جسے موقع مل گیا حریف کا لٹکتا ہوا ہونٹھ دانتوں سے پکڑ لیتا ہے اور کھینچنا شروع کرتا ہے۔ جس اونٹ کا ہونٹھ حریف کے دانتوں میں آ گیا وہ اکثر گر پڑتا اور ہارتا ہے، اور اسی پر لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔
(۶) گینڈا
گینڈے سے زیادہ مضبوط جانور کوئی نہیں پیدا کیا گیا ہے۔ وہ قد و قامت میں شیر اور ہاتھی سے چھوٹا ہی سہی مگر ایسا روئیں تن پیدا کیا گیا ہے کہ نہ اس پر ہاتھی کے دانت کارگر ہوتے ہیں نہ شیر کے پنجے اور ناخن۔ صرف پیٹ کی کھال نرم ہوتی ہے۔ اگر کوئی جانور اس پر حربہ کر سکا تو مار لیتا ہے، ورنہ ہر جانور اپنا زور صرف کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور آخر میں گینڈا اپنا بانسے پر کا زبردست سینگ اس کے پیٹ میں بھونک کے مار ڈالتا ہے۔
لکھنؤ میں گینڈے ہاتھیوں سے، شیروں سے، تیندوؤں سے، اور خود گینڈوں سے لڑائے جاتے تھے۔ غازی الدین حیدر بادشاہ کے زمانے میں لڑانے کے علاوہ بعض گینڈے اس خوبی سے سدھائے گئے تھے کہ گاڑی میں جوتے جاتے، اور ہاتھی کی طرح ان کی پیٹھ پر ہودہ کس کے سواری لی جاتی۔ گینڈا بالطبع لڑنے والا جانور نہیں ہے، بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا ہے لڑائی کو طرح دیتا ہے، لیکن ہاں اگر اسے چھیڑا جائے تو مقابلے کے لیے تیار ہو کے نہایت ہی موذی بن جاتا ہے۔ نصیر الدین حیدر کے زمانے میں لڑائی کے پندرہ بیس گینڈے موجود تھے جو چاند گنج میں رہا کرتے۔ جب سوار انھیں رگید کے ایک دوسرے کے مقابل کر دیتے تو وہ سر جھکا کے ایک دوسرے کی طرف دوڑتے اور ٹکریں ہونے لگتیں۔ دونوں کی یہ کوشش ہوتی کہ حریف کے پیٹ کو اپنے سینگ سے پھاڑ ڈالیں، اور اسی کوشش میں وہ دیر تک ایک دوسرے کو ریلتے پیلتے اور ڈھکیلتے رہتے۔ بڑے زور زور سے غراتے، سینگ کو سینگ سے ٹکراتے، اور آخر میں لڑتے لڑتے سر جوڑ کے گتھ جاتے اور حریف کو ڈھکیلتے رہتے، یہاں تک کہ جو حریف کمزور پڑتا ہے وہ آہستہ آہستہ ہٹنے اور جگہ چھوڑنے لگتا ہے، اور اس پر بھی جان نہیں چھوٹتی تو بھاگتا ہے۔ مگر غالب رگید رگید کے مارتا ہے۔ آخر کمزور اپنا سینگ الگ کر کے مقابلے سے منہ موڑتا اور بڑے زور سے بھاگتا ہے۔ اگر محصور میدان ہوا تو غالب حریف بھاگتے میں اس پر حملہ کر کر کے اسے گراتا اور پیٹ میں سینگ بھونک کے کام تمام کر دیتا ہے، اور اگر وسیع کھلا میدان ہو اور شکست خوردہ گینڈا بھاگ سکا تو بھاگ کے اپنی جان بچا لیتا ہے۔ اس وقت سوار رگید رگید کے اور گرم سلاخوں سے مار مار کے غالب کو مغلوب کے تعاقب سے روکتے اور ہٹا لے جاتے ہیں۔ گینڈوں کی لڑائی کا سارا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ سر جھکائے اور اپنے پیٹ کو بچائے رہیں۔ اگر دھوکے میں بھی کسی کا سر اٹھ گیا تو مقابل حریف اپنا کام کر گزرتا ہے۔ چنانچہ ایک گینڈا غالب آ گیا اور اس کا حریف بھاگنے لگا۔ اسے بھاگتے دیکھ کے غالب نے سر اونچا کر دیا، اور ساتھ ہی اسی شکست خوردہ گینڈے نے بجلی کی طرح دوڑ کے اس کے پیٹ میں سر ڈال دیا اور پیٹ پھاڑ ڈالا۔
(۷) بارہ سنگھا
یہ چھوٹا نازک اور خوبصورت جانور ہے، اور شاید لکھنؤ کے سوا اور کسی جگہ تفنن طبع کے طور پر نہ لڑایا گیا ہو گا۔ مگر اس کی لڑائی بڑی خوبصورت ہوتی ہے۔ ہرن شعرا کے معشوق کا ہمشکل ہے، اس لیے اس کی لڑائی میں بھی معشوقانہ ادائیں ظاہر ہوتی ہیں۔ مقابلے کے وقت پہلے بڑی خوبصورتی کے ساتھ دونوں حریف پینترے بدلتے رہتے ہیں، اور آخر ٹکریں ہونے لگتی ہیں، جن میں سینگوں سے وہ تلوار کا بھی کام لیتے ہیں اور سپر کا بھی۔ آخر دیر تک کی ٹکروں کے بعد دونوں کے سینگ آپس میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے قفلی پڑ گئی۔ اب ایک دوسرے کو ریلتے اور ڈھکیلتے رہتے ہیں۔ اسی ریلا پیلی میں ایک کمزور پڑ جاتا ہے، اور اس پر مغلوبی کی ایسی ہیبت طاری ہو جاتی ہے کہ نازک پاؤں تھرتھرانے لگتے ہیں اور سارے تن بدن میں رعشہ پڑ جاتا ہے۔ مگر حریف ترس کھانے کے عوض زور میں آ کے اور ڈھکیلتا ہے، اور ڈھکیلتا ہوا میدان کے خاتمے یعنی ٹھاٹھر تک پہنچا دیتا ہے۔ اب مغلوب کو بالکل ناامیدی ہوتی ہے۔ آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو اور سینگوں سے خون کے قطرے ٹپکنے لگتے ہیں، اور وہ سینگ چھڑا کے لڑائی سے منہ پھیر لیتا ہے۔ اس وقت حریف سینگوں سے اس کے جسم کو زخمی کرنا شروع کرتا ہے، اور مغلوب بارہ سنگھا زور سے بھاگتا ہے۔ جس پھرتی سے وہ بھاگتا ہے اسی تیزی سے غالب حریف اس کا تعاقب کرتا ہے۔ یہ دوڑ دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ دونوں ہوا سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور ان پر نگاہ نہیں ٹھہرتی ہے۔ مگر بے رحم دشمن مغلوب کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جہاں پاتا ہے زخمی کرتا ہے۔ آخر زخموں سے چور کرتے کرتے مار ڈالتا ہے، اور مرنے کے بعد اس کی لاش کو اپنے سینگوں سے جھنجھوڑ کے ہٹتا اور اپنی فتح پر نازاں ہوتا ہے۔
(۸) مینڈھا
یہ نہایت ہی غریب اور بے آزار جانور ہے، مگر اس کی ٹکر بڑی زبردست ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے دو پہاڑ لڑ گئے۔ چنانچہ انھیں ٹکروں کا تماشا دیکھنے کے لیے لوگ انھیں لڑاتے ہیں، اور آج ہی نہیں قدیم الایام سے ان کی لڑائی دیکھی جاتی رہی۔ ان کے لڑانے کا آغاز ہندوستان میں بلوچی لوگوں سے ہوا، اور انھیں سے دوسرے مقاموں میں شوق پیدا ہوا۔ مگر لڑائی کے لیے ان کے پالنے اور تیار کرنے کا کام اکثر قسائیوں اور ادنیٰ طبقے کے لوگوں سے متعلق رہا۔ امرا و شرفا انھیں سامنے بلوا کے لڑائی کا تماشا دیکھ لیا کرتے تھے۔ سنا جاتا ہے کہ نواب آصف الدولہ اور سعادت علی خان کو مینڈھوں کی لڑائی دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے سامنے بھی اکثر مینڈھے لڑائے گئے۔ واجد علی شاہ کو کلکتے کے قیام میں بھی کسی حد تک شوق تھا۔ منشی السلطان بہادر ان کی دلچسپی کے لیے اکثر قسائیوں کے زیر اہتمام بہت سی جوڑیں تیار رکھتے تھے، اور میں نے کئی بار دیکھا کہ کسی زبردست مینڈھے کی ایسی ٹکر پڑی کہ دوسرے حریف کا سر پھٹ گیا۔ مینڈھا جب ہارتا ہے اور مقابل حریف کی ٹکر کی تاب نہیں لا سکتا تو اس کی ٹکر خالی دے کے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار بادشاہ کا رمنہ دیکھنے کے لیے مقررہ سالانہ تاریخ کو کلکتے کے صدہا انگریز جمع تھے۔ بادشاہ سلامت اپنی وضع کے خلاف بوچے پر سوار نکل آئے، اور ان مہمانوں کے خوش کرنے کے لیے حکم دیا کہ مینڈھے لا کے لڑائے جائیں۔ چنانچہ ان کی ٹکروں کا ہنگامہ بلند ہوا، اور اس سے زیادہ شور یوروپین لوگوں نے "ہرّے" اور خوشی کے نعرے بلند کر کے مچایا، اور عجیب جوش و خروش کا عالم نظر آتا تھا۔ لکھنؤ میں انتزاع سلطنت کے بعد بھی نواب محسن الدولہ بہادر کو مینڈھوں کی لڑائی دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ اب شرفا اور امرا سے یہ مشغلہ چھوٹ گیا ہے، ادنیٰ لوگوں میں معمولی حد تک باقی ہے۔
حواشی
[1] مولانا حبیب الرحمن خان صاحب شروانی نے بتایا، اور ہمیں بھی بعد کو تاریخوں میں نظر آیا، کہ درندے اور ہاتھی دہلی میں بھی لڑائے جاتے تھے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.