
Chapter 18 of 56
The Arts of War and Single Combat
فنون سپہ گری
(۱۷)
ابھی ہمیں لکھنؤ کی بہت سی خصوصیتیں بیان کرنی ہیں جن کو زیادہ تر تعلق اخلاقی چیزوں اور معاشرت کے امور سے ہے، مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر کچھ کیفیت فنون جنگ کی بھی بیان کر دیں۔
سچ یہ ہے کہ یہ آخری دربار مشرق اس وقت قائم ہوا جب مسلمانوں اور علی العموم ہندوستانیوں کی سپہ گری کمزور پڑ چلی تھی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ صحیح یہ کہنا ہو گا کہ پرانی سپہ گری کے فنون اتنے نہیں مٹے تھے جس قدر کہ پرانے فنون اور آلات جنگ نئے قواعد جنگ اور جدید آلات حرب کے مقابلے میں بیکار ہو گئے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پرانے فنون جنگ بجائے اس کے کہ مسلمانوں یا اہل ہند سے نکل کے کسی نئی ترقی یافتہ بہادر قوم میں عروج پاتے دنیا ہی سے مٹ گئے، اور ایسے مٹے کہ موجودہ نسل اپنے آبا و اجداد کے شجاعانہ کارناموں اور ان کے سپہگرانہ کاموں سے بالکل ناآشنا ہے۔ اور آج جو ان فنون کے تذکرے کے لیے ہم نے قلم اٹھایا ہے تو کوئی ایسا شخص بھی نہیں ملتا جس سے کچھ حالات معلوم ہوں۔ ہم شاہزادہ مرزا مسعود قدر بہادر بی۔اے۔ اور لکھنؤ کے ایک بہت قدیم بزرگ سلیمان خان صاحب (جو حافظ رحمت خان صاحب قدیم نامور فرمانروائے بریلی کی نسل سے ہیں) نہایت شکر گزار ہیں کہ ان قدیم فنون جنگ کے متعلق جو کچھ لکھ رہے ہیں انھیں کی مدد سے لکھ رہے ہیں۔
سپہ گری کے جن فنون کا نشو و نما دہلی میں اور دہلی کے بعد لکھنؤ میں ہوا وہ در اصل تین مختلف قوموں سے نکلے تھے، اور تینوں کے امتزاج سے ان میں مناسب ترقیاں ہوئی تھیں۔ اور حیرت کی یہ بات ہے کہ باوجود میل جول کے ان میں آخر تک اصلی امتیاز باقی تھا۔ بعض فن آریہ قوم کے سپہگروں سے نکلے تھے، بعض کو ترک اور بہادران تاتار اپنے ساتھ لائے تھے، اور بعض خاص عربوں کے فن تھے جو ایران میں ہوتے ہوئے یہاں آئے تھے۔ لکھنؤ میں جن فنون کا رواج تھا اور جن کے باکمال استاد یہاں موجود تھے وہ حسب ذیل معلوم ہوتے ہیں:
(۱) لکڑی، (۲) پٹہ ہلانا، (۳) بانک، (۴) بنوٹ، (۵) کشتی، (۶) برچھا، (۷) بانا، (۸) تیر اندازی، (۹) کٹار، (۱۰) جل بانک۔
(۱) لکڑی
یہ اصلی فن جسے پھنکیتی کہتے ہیں آریہ لوگوں کا تھا، جو ہندوستانی اور ایرانی دونوں ملکوں کے آریوں میں مروج تھا۔ عربی فتوحات کے بعد ایران کی پھنکیتی پر عربی جنگجوئی کا اثر پڑ گیا، اور وہاں کی پھنکیتی بمقابل ہندوستان کے زیادہ ترقی کر گئی۔ ہندوستان میں آخر تک یہ دونوں فن اپنی ممتاز وضعوں میں باقی رہے، اور لکھنؤ میں دونوں اسکول قائم تھے۔ ایران کی عربی آمیز پھنکیتی یہاں علی مد کے نام سے مشہور تھی، اور خالص ہندی پھنکیتی رستم خانی کے لقب سے یاد کی جاتی۔ علی مد میں پھنکیت کا بایاں قدم ایک مقام پر جما رہتا اور صرف داہنے پاؤں کو آگے پیچھے ہٹا کے پینترے بدلے جاتے۔ برخلاف اس کے رستم خانی میں پھنکیت پینترے بدلتے وقت داہنے بائیں اور آگے پیچھے جس قدر چاہتا یا جگہ پاتا ہٹتا بڑھتا اور ناگہاں حریف پر آ پڑتا۔ ایک یہ امتیاز بھی تھا کہ علی مد کا فن خاص رئیسوں اور شریفوں کے ساتھ مخصوص تھا۔ اس کے استاد کبھی کسی رذیل یا ادنیٰ طبقے کے آدمی کو اپنا شاگرد نہ بناتے اور نہ اپنے فن سے واقف ہونے دیتے۔ بخلاف اس کے رستم خانی کا فن اجلاف اور ادنیٰ طبقے کے لوگوں میں عام تھا۔
علی مد کے ایک زبردست استاد فیض آباد میں شجاع الدولہ بہادر اور ان کے بعد ان کی بیوہ بہو بیگم صاحبہ کی سرکار سے وابستہ تھے۔ ان کا ذکر تاریخ فیض آباد میں ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ اس فن کے سب سے پہلے استاد وہی تھے جو فیض آباد میں رہے اور پھر وارد لکھنؤ ہوئے۔ دوسرے استاد اسی فن کے محمد علی خان تھے جو خاص ہمارے محلے کٹرۂ بزن بیگ خان میں رہتے تھے اور علی مد کے موجد مانے جاتے۔ تیسرے استاد میر نجم الدین تھے جو شاہزادگان دہلی کے ساتھ پہلے بنارس میں گئے اور پھر وہاں سے لکھنؤ میں آئے۔ ان کا معمول تھا کہ صرف شریفوں کو شاگرد کرتے، اور شاگرد کرتے وقت شاہزادوں سے دولت اور شریفوں سے صرف مٹھائی لیتے، اور اسے بجائے اس کے کہ اپنے کام میں لائیں خود لیجا کے سادات بنی فاطمہ کی نذر کر دیتے۔ یہ نواب آصف الدولہ کے عہد میں تھے۔ ایک بہت بڑے استاد میر عطا حسین تھے جو حکیم مہدی کے مخصوصین میں تھے۔ ایک بہت بڑے استاد بیچے باز خان تھے جو اپنے کمال کے باعث غازی الدین حیدر کے زمانے میں علی مد کے موجد و بانی مشہور ہو گئے۔ ان کی نسبت کہا جاتا ہے کہ نومسلم تھے، مگر وضع ان کی بھی یہی تھی کہ سوا شریفوں کے اپنا فن کبھی کسی ادنیٰ طبقے کے آدمی کو نہیں بتایا۔ انھوں نے لکھنؤ میں اپنی یادگار ایک مسجد چھوڑی ہے جو دھنیا مہری کے پل سے آگے عالم نگر کے قریب آج تک موجود ہے۔
رستم خانی عوام میں رہی، اور اسی وجہ سے اس کو کوئی خصوصیت ہندو یا مسلمان کے ساتھ نہیں رہی، بلکہ اس کے صدہا استاد اودھ کے تمام گاؤوں اور قصبوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ تاہم لکھنؤ میں یحییٰ خان بن محمد صدیق خان نے جو کمال اور ناموری رستم خانی میں حاصل کی کسی کو نہ نصیب ہو سکی۔ نواب فتحیاب خان عالی مرتبہ رئیسوں میں ہونے کے باوجود بڑے خوشنویس بھی تھے، اور انھوں نے رستم خانی میں بھی کمال حاصل کیا تھا۔ اسی طرح لکھنؤ کے ایک مشہور بانکے پہلوان ببر لنگر باز بھی رستم خانی کے استاد تھے۔ اور اب تک تھوڑا بہت رواج باقی ہے تو ادنیٰ لوگوں میں۔ علی مد کا فن شرفا کے ساتھ مخصوص تھا اور شرفا کو سپہ گری سے کوئی واسطہ نہیں رہا، لہذا وہ فن بھی مٹ گیا۔ رستم خانی ادنیٰ لوگوں میں تھی اور وہ لوگ آج بھی لڑنے بھڑنے رہتے ہیں، لہذا ان میں رستم خانی کا رواج آج تک موجود ہے۔
علی مد کے دو ایک استاد میں نے مٹیا برج میں دیکھے تھے، اور سب کے آخر میں میر فضل علی تھے جو محلہ محمود نگر میں رہتے تھے۔
(۲) پٹہ ہلانا
اس فن کی اصلی غرض یہ تھی کہ انسان دشمنوں کے نرغے میں پڑ جائے تو لکڑی کے ہاتھ چاروں طرف پھینکتا ہوا سب کو ہٹا کے، سب سے بچ کے، اور سب کو مارتا ہوا نکل جائے۔ پٹے کو ٹیک کے اڑنا اس فن کا خاص کمال تھا، اور سب سے بڑی تعریف اس بات کی تھی کہ انسان پر ایک ساتھ دس تیر بھی آ کے پڑیں تو ان کو کاٹ دے۔ یہ فن دہلی میں نہ تھا۔ لکھنؤ میں پورب سے آیا، اور جلاہوں میں زیادہ مروج تھا، اگرچہ آخر میں بہت سے شرفا نے بھی خصوصاً قصبات کے شیخ زادوں نے اختیار کر لیا۔ غلام رسول خان کا بیٹا گوری بیچے باز لکھنؤ میں اس فن کا سب سے بڑا باکمال مانا جاتا تھا، جس کے صدہا واقعات عوام میں مشہور رہتے تھے۔ مگر افسوس اب یہ افسانے بھی موجودہ نسل کو بھولتے جاتے ہیں۔
میر رستم علی کے سینے میں دونوں طرف باڑھ ہوتی اور اسے ہلاتے ہوئے سیکڑوں حریفوں کو چیر کے نکل جاتے۔ اسیوں کے ایک شیخ زادے شیخ محمد حسین دونوں ہاتھوں سے پٹہ ہلاتے۔ چنانچہ غازی الدین حیدر کے زمانے میں ایک دن صاحب رزیڈنٹ بہادر اور بعض یوروپین مہمانوں نے اس فن کے کسی صاحب کمال کا کمال دیکھنا چاہا۔ شیخ محمد حسین آ موجود ہوئے۔ چونکہ اس وقت پٹہ ان کے پاس نہ تھا شاہی اسلحہ خانے سے ایک پرتکلف مرصع و مکلل پٹہ دیا گیا، جسے لے کے انھوں نے ایسے ایسے کمالات دکھائے کہ ہر طرف سے تحسین کے نعرے بلند ہوئے۔ اور وہ اسی تحسین و مرحبا کے جوش میں پٹہ ہلاتے ہوئے مجمع سے نکل کے چلے گئے، اور اپنے گھر پہنچے۔ اہل فن میں مشہور تھا کہ جو شخص پٹہ ہلانا جانتا ہے وہ دس تلوار والوں کو بھی پاس نہ پہنچنے دے گا۔
اسی فن کے ایک صاحب کمال لکھنؤ میں میر ولایت علی ڈنڈا توڑ تھے۔ ان کی نسبت شہرت تھی کہ حریف کے ہاتھ میں کتنا ہی زبردست ڈنڈا ہو اسے توڑ ڈالتے۔
(۳) بانک
فنون جنگ میں یہ بہت ہی اہم اور نہایت بکار آمد فن تھا، اور اصولاً دوسرے فنون پر فوقیت رکھتا تھا، اور شریف زادے خاص کوشش اور خاص شوق سے اس فن کو سیکھتے۔ اصلی غرض اس فن کی چھریوں سے حریف کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ فن قدیم الایام سے ہندوؤں میں بھی تھا اور عربوں میں بھی، مگر چھریاں دونوں کی جداگانہ ہوتی تھیں۔ ہندوؤں کی چھری سیدھی ہوتی جس پر دونوں طرف باڑھ ہوتی، اور عربوں کی چھری خمدار خنجر نما ہوتی جس پر ایک ہی طرف باڑھ ہوتی۔ مگر عربوں کی آخری چھری جنبیہ ہے جس کی نوک سے کچھ دور تک چاروں طرف چار باڑھیں ہوتی ہیں، اور اس سے ایسا چوپہلا زخم پڑتا ہے کہ کہتے ہیں کہ اس میں ٹانکا لگانا مشکل ہوتا ہے۔ غرض اس حربے سے لڑنے کے فن کا نام بانک ہے۔
اس کی تعلیم یوں ہوتی ہے کہ استاد شاگرد دونوں آمنے سامنے دو زانو بیٹھتے ہیں، مگر ہندوؤں والی سیدھی چھری کی تعلیم میں قاعدہ تھا کہ دونوں مقابل دو زانو بیٹھنے کے ساتھ ایک گھٹنا کھڑا رکھتے، اور عربوں والی چھری کی تعلیم میں بالکل دو زانو بیٹھتے تھے۔ اور چوٹوں کے ساتھ بڑے زبردست پیچ ہوتے جن کے آگے کشتی کے پیچوں کی کچھ حقیقت نہ تھی۔ یہ فرق بھی بتایا جاتا ہے کہ عربوں کے فن میں اصلی سات چوٹیں تھیں اور ہندوؤں کے فن میں نو۔ عربوں کی بانک میں پیچ پورا بندھ جاتا تو حریف کو زندہ چھوڑنا باندھنے والے کے اختیار سے باہر ہو جاتا، اور ہندوستان والوں کے فن میں آخر تک اختیار میں رہتا کہ جب چاہیں پیچ کھول کے حریف کو بچا دیں۔
اس فن میں صرف چوٹیں ہی نہیں ہیں بلکہ بڑے بڑے زبردست پیچ ہیں، جن میں دونوں حریف گھنٹوں گتھے رہتے، اور پے در پے پیچ کر کے ایک دوسرے کو باندھ کے زخمی کر دینے کی کوشش کرتے۔ اس فن کے پیچ اس قدر سچے، اونچے اور اصول کے ساتھ تھے کہ کہا جاتا کشتی اور لکڑی کے تمام پیچ بانک ہی سے نکلے ہیں۔ بانک کے استادوں میں مشہور تھا کہ بانک لیٹ کے پوری ہوتی ہے، بیٹھ کے آدھی رہتی اور کھڑے ہو کے صرف چوتھائی رہ جاتی ہے۔ یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ بنکیت کا کام صرف یہ ہے کہ حریف کو چھری سے زخمی کر دے۔ نہیں، اس کا اصلی کام یہ ہے کہ حریف کو زندہ باندھ لے اور بے بس کر کے گرفتار کر لائے۔
ایک یہ خاص بات بھی تھی کہ بانک والا اپنے فن کو حتی الامکان مخفی رکھتا۔ اس کی وضع قطع اور طور طریق کسی بات سے نہ پہچانا جاتا کہ وہ سپہگر ہے۔ بنکیت عام ثقہ شریفوں کی وضع رکھتے، کفشیں پہنتے، کوئی ہتھیار نہ باندھتے، حتیٰ کہ ان میں لوہے کے قلمتراش یا سوئی تک کے پاس رکھنے کی قسم تھی۔ صرف ایک رومال رکھتے، اور اس کے ایک کونے میں ایک لوہے کا چھلا بندھا رہتا۔ بس یہی حربہ ضرورت کے وقت انھیں کام دے جاتا۔ یا اس سے بھی زیادہ تہذیب برتتے تو ہاتھ میں تسبیح رکھتے، اور اس میں لوہے کا بھدا سا قبلہ نما لگا ہوتا۔ بس یہی حربہ ان کے لیے کافی تھا۔
ہندوؤں میں قدیم الایام سے یہ فن خاص برہمنوں میں تھا۔ راجپوت نہیں جانتے تھے۔ نہ برہمن انھیں سکھاتے اور نہ وہ اپنی وضع کے خلاف تصور کر کے اس کے سیکھنے کی کوشش کرتے۔ جس کی غالباً وجہ یہ تھی کہ بنکیت ہونے کے لیے ثقاہت شرط تھی، اور راجپوت کھلے سپاہی تھے۔ برہمن بنکیت قبلہ نما یا لوہے کے چھلے کے عوض ایک کنجی رکھتے جو جنیو میں بندھی رہتی، اور اس سے کام لے کے نہایت ہی تہذیب و متانت کے ساتھ دشمن کا کام تمام کر دیتے۔ شاہزادہ مرزا ہمایوں قدر بہادر فرماتے ہیں کہ لکھنؤ میں یہ فن شاہ عالم کے زمانے میں اس وقت آیا جب مرزا خرم بخت بہادر بنارس آئے اور اس فن کے دو ایک باکمال اپنے ساتھ لائے۔ لیکن ہمیں معتبر ذریعے سے اور تاریخ فیض آباد کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس فن کے باکمال منصور علی خان بنکیت شجاع الدولہ ہی کے زمانے میں فیض آباد میں آ گئے تھے۔
نواب آصف الدولہ کے عہد میں بانک کے استاد لکھنؤ میں شیخ نجم الدین تھے۔ اسی قریب زمانے میں بانک کے ایک دوسرے استاد لکھنؤ میں موجود تھے جو میر بہادر علی کے نام سے مشہور تھے۔ ان کو دعوے تھا کہ پلنگ کے نیچے جنگلی کبوتر چھوڑ دیجیے اور تماشا دیکھیے۔ کسی طرف سے نکل کے اڑ جائے تو جانیے کہ میں بنکیت نہیں۔ انھیں پر منحصر نہیں، بانک کی یہی تعریف ہے، اور ہر استاد اس کا دعوے کر سکتا تھا۔ لکھنؤ میں ایک تیسرے استاد ولی محمد خان تھے۔ نصیر الدین حیدر کے زمانے میں شیخ نجم الدین کے شاگرد کے شاگرد میر عباس کا نام مشہور تھا، اور ان کے چار شاگرد نامور ہوئے، جن میں سے ایک تو ڈاکو تھا، باقی تین مہذب شرفا تھے۔ اس فن کے آخری استاد میر جعفر علی تھے جو لکھنؤ کی تباہی کے بعد واجد علی شاہ کے ساتھ مٹیا برج میں پہنچے۔ انھیں میں نے دیکھا تھا، اور بچپن میں میں خود ان کا شاگرد ہوا تھا، مگر دو ایک مہینے سیکھ کے چھوڑ دیا، اور جو کچھ سیکھا تھا خواب و خیال سا رہ گیا۔ اب نہیں جانتا کہ کوئی جاننے والا بھی باقی ہے یا نہیں۔
(۴) بنوٹ
اس فن کی اصلی غرض یہ ہے کہ حریف کے ہاتھ سے تلوار، لٹھ، یا کوئی حربہ ہو گرا دے، اور ایک رومال سے جس میں پیسہ بندھا ہوا کرتا ہے یا اپنے ہاتھ ہی سے حریف کو ایسا صدمہ پہنچائے کہ اس کا کام تمام ہو جائے۔ اس فن کی نسبت لکھنؤ میں ابتدا سے مشہور تھا کہ اس کے بڑے بڑے زبردست استاد حیدر آباد دکن میں ہیں، اور وہاں جانے اور دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ واقعی وہاں اب تک یہ فن ایک حد تک زندہ ہے۔ واقف کار لوگوں کا بیان ہے کہ کھڑے ہو کے مقابلہ کرنے والا صاحب فن اگر نہتا ہے تو کشتی ہے، اس کے ہاتھ میں چھری ہے تو بانک ہے، اور اگر کوئی دو گز کا لمبا سونٹا یا رومال اس کے ہاتھ میں ہے تو بنوٹ ہے۔ بنوٹ والے بھی اپنے فن کو مخفی رکھتے ہیں، اور باہمی عہد ہے کہ صرف شریف کو سکھائیں گے، اور اس سے عہد لیتے ہیں کہ کبھی کسی زبردست یا بے آزار آدمی پر حربہ نہ کریں گے۔ بنوٹ والوں کے پینترے جنھیں وہ پاؤں لے کہتے ہیں بہت ہی اعلیٰ درجے کے پھرتیلے پن اور بے انتہا صفائی چاہتے ہیں جو زیادہ عمر والوں کو نہیں حاصل ہو سکتے۔ اس کے علاوہ بنوٹ والوں کو جسم انسانی کے تمام رگ پٹھوں کا پورا علم ہوتا ہے، اور خوب واقف ہوتے ہیں کہ کس مقام پر صرف انگلی سے دبا دینا یا ایک معمولی چوٹ انسان کو بیتاب و بیدم کر دے گی۔ اگرچہ اس فن کے لیے حیدر آباد مشہور تھا، مگر لکھنؤ میں بھی اس کے بہت سے باکمال موجود تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سب سے پہلے محمد ابراہیم خان رامپور سے لائے تھے۔ طالب شیر خان یہاں ایک بڑے زبردست بانکے تھے اور تلوار کے دھنی۔ انھوں نے جو ابراہیم خان کا دعویٰ سنا تو تلوار لے کے مقابلے کو تیار ہو گئے۔ محمد ابراہیم خان نے بھی مقابلہ منظور کر لیا۔ طالب شیر خان نے جیسے ہی تلوار ماری، محمد ابراہیم خان نے اپنا رومال جس کے کونے میں پیسہ بندھا ہوا تھا کچھ ایسی خوبی سے مارا کہ طالب شیر خان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کے جھن سے دور جا گری۔ منہ دیکھ کے رہ گئے، اور سب نے محمد ابراہیم خان کی استادی کا اعتراف کر لیا۔
اس کے بعد لکھنؤ میں آخر تک یہ فن رہا، یہاں تک کہ مٹیا برج میں بھی محمد مہدی نام ایک شخص جو نواب معشوق محل کے وہاں کے داروغہ تھے بنوٹ کے باکمال استاد مانے جاتے تھے۔
(۵) کشتی
یہ فن خاص آریوں کا تھا، ہندوستان میں بھی اور ایران میں بھی۔ عرب اور ترک اس سے بالکل ناآشنا تھے۔ ہندوستان کے قدیم باشندوں میں بھی جو آریہ لوگوں سے پہلے تھے اس فن کا پتہ نہیں چلتا۔ لکھنؤ میں پیچوں اور حریف کے زیر کرنے کے طریقوں کا بہت نشو و نما ہوا، مگر کشتی کا اصلی دار و مدار جسمانی قوت پر ہے، اور قوت میں لکھنؤ والے لاکھ کوشش کریں مشرقی ممالک خاصۃً پنجاب کے لوگوں کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لکھنؤ کی آب و ہوا کو قدرت نے یہ صلاحیت ہی نہیں دی ہے کہ اس کی خاک سے غلام وغیرہ کے ایسے پیلتن پہلوان پیدا ہوں۔ اس لیے لکھنؤ کا کشتی کا فن صرف پیچپیچ کا کمال دکھاتا تھا، جس میں زیادہ سے زیادہ اپنے سے دونے پر غلبہ حاصل ہو جاتا، مگر اس سے زیادہ طاقت والے کو زیر کرنا غیر ممکن تھا۔ لکھنؤ کے اکھاڑوں اور اگلے پہلوانوں کے قصے بہت مشہور ہیں، مگر سب پیچپیچ کے لحاظ سے، نہ زور آوری کے اعتبار سے۔ ایک بار میں نے یہاں کے ایک مشہور پہلوان سید کی لڑائی ایک دونے قد کے پنجابی پہلوان سے دیکھی۔ اس میں شک نہیں کہ سید کی لڑائی ابتدا سے نہایت خوبصورت تھی۔ اس کی پلٹ پھرت اور اس کا پھرتیلا پن قابل تعریف تھا، مگر انجام یہ ہوا کہ گھنٹہ بھر میں سید پسینے میں ڈوبا ہوا تھا، طاقت جواب دے چکی تھی اور دم پھول گیا تھا، اور پنجابی پہلوان پر جو اسے کھلا رہا تھا کچھ اثر نہ ہوا تھا۔ آخر سید خود ہی میدان چھوڑ کے بھاگ گیا اور بے لڑے ہاری مان لی۔
(۶) برچھا
جنگجوئی کا یہ پرانا فن ہے جو آریوں، ترکوں اور عربوں سب میں تھا۔ عربوں کا برچھا لمبا ہوتا، اور اس کا پھل تکونا۔ ترکوں کا برچھا چھوٹا ہوتا اور پھل گول نوکدار یعنی مخروطی۔ اور ہندوستان کے آریوں کا برچھا لمبا ہوتا مگر اس کا پھل پتلا باڑھدار پان کی قطع کا۔ اور تعجب یہ ہے کہ تینوں طرح کے نیزے لکھنؤ میں موجود تھے۔ بڑے برچھے پانچ گز کے لمبے ہوتے اور چھوٹے برچھے تین گز کے۔ بڑے برچھے کی یہ تعریف تھی کہ خوب لچکے، یہاں تک کہ دوہرا ہو جائے، اور چھوٹوں کی یہ تعریف تھی کہ اس میں نام کو بھی لچک نہ ہو۔ اور اسی مناسبت سے دونوں کے چلانے کے فن جدا جدا تھے۔ لکھنؤ کے مشہور اور اصلی برچھیت میر کلو تھے، جن کا نام برہان الملک کے زمانے ہی میں چمک گیا تھا۔ ان کے بعد میر اکبر علی برچھیت مشہور ہوئے۔ پھر بریلی اور رامپور سے اکثر برچھیت آنا شروع ہو گئے۔ غازی الدین حیدر کے زمانے میں بادشاہ کو ہاتھیوں کے شکار کا شوق ہوا تو برچھے کا فن جاننے والوں کی بڑی قدر ہوئی، اور لڑائیوں میں یہی حربہ زیادہ کام دینے لگا۔ افسوس یہ قدیم حربہ جس سے بڑی بڑی پرانی قوموں نے ناموری پیدا کی تھی لکھنؤ میں اصلی یا نقلی طور پر آج بھی کثرت سے باقی ہے، مگر صرف براتوں کے جلوس کا کام دیتا ہے۔
(۷) بانا
یہ فن بھی ادنیٰ درجے کے لوگوں میں تھا اور کسی حد تک اب بھی باقی ہے۔ لٹھ کی لڑائی کے ہاتھ اور زدیں اسی سے نکلی ہیں۔ غرض اور غایت بانے کی بھی یہی ہے کہ بانا یا لٹھ چلاتا ہوا انسان دشمنوں کے نرغے میں سے نکل جائے۔ بانا ایک لمبی لکڑی کا نام تھا جس کے ایک طرف لٹو ہوتا، اور بعض دونوں طرف لٹو رکھتے، اور اس طرح ہلاتے کہ کوئی قریب نہ آ سکتا۔ بعض لوگ لٹوؤں میں کپڑا باندھ کے اور تیل میں ڈبو کے انھیں روشن کرتے، اور اس طرح ہلاتے کہ اپنے اوپر آگ کا مطلق اثر نہ ہو اور دشمن آگ کی وجہ سے دور ہی دور رہے۔
(۸) تیر اندازی
یہ دنیا کی تمام جنگجو قوموں کا پرانا حربہ اور عہد قدیم کی بندوق ہے جس میں بڑے بڑے کمالات دکھائے جاتے، اور شریف و رذیل سب اس کی تعلیم لازمی سمجھتے۔ یہی حربہ ہے جس سے راجہ رامچندر جی اور ان کے بھائی لچھمن جی نے راون اور اس کے ایسے کوہ پیکر حریفوں کو مار کے گرا دیا۔ اگرچہ بندوق کی ایجاد نے اس کا زور کم کر دیا تھا مگر پھر بھی سپہ گری کا اعلیٰ جوہر تیر اندازی سمجھی جاتی۔ کمانیں اتنی کڑی رکھی جاتیں کہ ان کا چلہ کھینچنا ہر ایک کے لیے آسان نہ تھا، بلکہ جس کی کمان جتنی زیادہ کڑی ہوتی اسی قدر زیادہ اس کا تیر دور جاتا اور کاری ہوتا۔ عربوں نے اپنی فتوحات کے زمانے میں تیر اندازی کے ایسے ایسے کمالات دکھائے ہیں جو حیرت انگیز ہیں۔ ام ابان نام دس پانچ ہی روز کی بیاہی ہوئی ایک عربیہ دولھن نے فتح دمشق کے موقع پر اپنے شہید دولھا کے انتقام میں ایسے زبردست تیر برسائے کہ پہلے تیر نے دشمنوں کے علمبردار کو مار کے گرا دیا، اور دوسرا دشمنوں کے بہادر سردار ٹامس کی آنکھ میں اس طرح پیوست ہو گیا کہ کسی کے نکالے نہ نکل سکا، اور آخر گانسی کاٹ کے آنکھ ہی میں چھوڑ دی گئی۔
اودھ کے پاسی اور بھر اس فن کو پہلے سے بخوبی جانتے تھے۔ پھر نئے نئے استاد دہلی سے آئے۔ اور آصف الدولہ کے عہد میں استاد فیض بخش نے بادشاہ کے اشارے سے مرزا حیدر کے والد کو جو ہاتھی پر سوار آ رہے تھے ایسی پھرتی سے تیر مارا کہ نہ کسی نے ان کو نشانہ بازی کرتے دیکھا اور نہ انھیں خبر ہوئی، حالانکہ تیر پٹکے کو توڑ کے نکل گیا تھا۔ وہ آخر تک بے خبر رہے۔ گھر پہنچ کے پٹکا کھولا تو وہ خون آلود تھا، اور ساتھ ہی زخم سے خون کا فوارہ چھوٹا اور دم بھر میں مر گئے۔
اس کی تعلیم کا طریقہ بھی مشکل تھا، مگر اب یہ فن دنیا کی تمام متمدن قوموں میں فنا ہو گیا، اس لیے کہ موجودہ آتشبار اسلحہ نے اسے بالکل بیکار کر دیا ہے۔ مگر ہندوستان کی وحشی قوموں میں آج تک باقی ہے جو شکار اور درندوں کے مارنے میں عموماً اور کبھی کبھی باہمی جنگ و پیکار میں بھی تیروں سے کام لیا کرتی ہیں۔
(۹) کٹار
یہ پرانا خاص آریہ قوم کا حربہ تھا، اور آخر میں اس سے زیادہ تر چور اور قزاق کام لیتے۔ اس سے حریف پر ٹوک کے حملہ نہ کیا جاتا بلکہ اسے غافل رکھ کے حملہ کیا جاتا۔ اسی وجہ سے غالباً دہلی میں بھی اور خاصۃً لکھنؤ میں شرفا نے اس سے کام لینا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ کٹار سب باندھتے مگر اس سے لڑنا اور حربہ کرنا کوئی نہ جانتا تھا۔ اس سے حربہ کرنے کی تعریف یہ تھی کہ جب چاہیں تو حربہ کریں مگر دشمن کے جسم میں کہیں خراش بھی نہ آنے پائے، اور جب چاہیں تو قبضے تک پار ہو جائے۔ اس سے چور اکثر راتوں کو غافل اور سوتے حریف پر حملہ کرتے اور چھپ کے اس کا کام تمام کر آتے۔
(۱۰) جل بانک
یہ وہی بانک کا مذکورہ فن تھا جو پیراکی اور شناوری سے وابستہ کر دیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ گہرے پانی میں دشمن پر قابو حاصل کریں، اور اسے باندھ لائیں یا پانی ہی میں اس کا کام تمام کر دیں۔ تاریخ میں اور کسی جگہ اس کا تذکرہ نہیں، مگر لکھنؤ میں پیرنے کے ایک استاد میرک جان نے اسے ایجاد کیا اور سیکڑوں شاگردوں کو سکھایا۔ بادی النظر میں اس کی ایجاد لکھنؤ ہی میں ہوئی، اور آج بھی پیراکی کے بعض یہیں کے استاد جانتے ہیں، اور کہیں اس فن کا نام و نشان بھی نہیں۔
پیراکیوں میں لکھنؤ نے جو ترقی کی اس کا تذکرہ ہم آئندہ کریں گے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.