
Capítulo 8 de 31
Mubtala's Uncle Returns from the Hajj
چھٹا باب: مبتلا کے چچا کی حج سے واپسی
مبتلا کے حقیقی چچا میر متقی ایک مدت سے نواب رام پور کی سرکار میں نوکر تھے اور وہیں ایک شریف خاندان میں انہوں نے اپنا نکاح بھی کر لیا تھا۔ مبتلا ان دنوں مکتب میں پڑھتا تھا کہ میرمتقی دلی ہو کر بھائی سے ملتے ہوئے حج کو گئے۔ ارادہ تو صرف حرمین شریفین کی زیارت کا کر گئے تھے مگر وہاں پہنچ کر یہ خیال ہوا کہ سالہاسال کے ارادے میں تو اب بمشکل گھر سے نکلنا ہوا کیا معلوم اب زندگی میں پھر یہاں آنا نصیب ہو یا نہ ہو۔
لگتے ہاتھوں جہاں تک ہو سکے زیارتیں تو کر لو۔ پورے تین برس تو زیارتوں میں لگے۔ پھر تین برس تک متواتر ایسا اتفاق پیش آگیا کہ جب واپسی کا ارادہ کرتے تھے۔ بیمار ہو جاتے تھے۔
غرض ساتویں برس لوٹے تو بمبئی میں پہنچ کر انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ بھوپال میں استاد سے احمد آباد میں پیر سے اور دہلی میں بھائی سے ملتا ہوا رام پور جاؤں گا۔ دہلی میں داخل ہوئے تو تھوڑی رات ہوگئی تھی سیدھے بھائی کے دروازے پر آکھڑے ہوئے۔
کیا دیکھتے ہیں کہ پھاٹک بند اور طبلے کی تھاپ کی آواز چلی آرہی ہے۔ سمجھے کہ ناچ ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں بڑے زور کے قہقہے سنائی دیئے معلوم ہوا کہ بھانڈ نقلیں کر رہے ہیں۔ میرمتقی کو پہلے ذرا سا دھوکا ہوا کہ میں نے گھر کی شناخت میں تو غلطی نہیں کی، گلی کے نکڑ تک لوٹ کر گئے۔ ادھر دیکھا ادھر نگاہ کی۔
بے شک سات برس کے عرصے میں تھوڑے بہت تغیرات بھی ہوئے مگر نہ اس قدر کہ جہاں آدمی پیدا ہوا، پرورش پائی بڑا ہوا رہا سہا اس گھر کو نہ پہچانے۔
پھر خیال ہوا کہ شاید بھائی نے اس گھر کو چھوڑ دیا ہو۔ اسی سوچ میں کھڑے تھے کہ ایک شخص گلی کی طرف لپکا ہوا چلا آرہا تھا۔ جب ان کے برابر آیا انہوں نے اس سے پوچھا کیوں صاحب یہ کونسی گلی ہے۔ وہ یہ کہتا ہوا اپنی دھن میں چلا گیا کہ اس کو سادات کا کوچہ کہتے ہیں۔ اب ان کو اس کا تو یقین کامل ہو گیا کہ گھر کے پہچاننے میں مجھ سے غلطی نہیں ہوئی۔ اب اتنی بات اور رہ گئی کہ بھائی اس گھر میں ہیں یا نہیں۔
اس شخص کی جلدی نے ان کو اس کے پوچھنے کی مہلت نہ دی، اتنے میں دیکھا کہ ایک بوڑھے سے آدمی بغل میں بچھونا دبائے لکڑی ٹیکتے ہوئے اندر گلی سے آہستہ آہستہ چلے آرہے ہیں۔ ان سے تھوڑی دور پیچھے ایک جوان سا آدمی ہے اور وہ ذرا تیز چل رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب بڑے میاں کے برابر آیا تو کہنے لگا کہ اے حضرت خیر ہے۔ یہ اس وقت آپ بچھونا لئے ہوئے کہاں جا رہے ہو۔
لائیو بچھونا مجھ کو دیجیے میں پہنچا دوں۔ بڑے میاں نے کہا۔ نہیں بھائی تم کیوں تکلیف اٹھاؤ بچھونے میں ایسا کیا بوجھ ہے۔ کیا کریں جب سے بے چارے میر مہذب مرے ان کا لڑکا خدا اس کو نیک ہدایت دے۔ بُری صحبت میں پڑ کر ایسا آوارہ ہو رہا ہے کہ سارے سارے دن اور ساری ساری رات گھر میں دھما چوکڑی مچی رہتی ہے۔ ہم ٹھہرے دیوار بیچ ان کے پڑوسی اتنا نہیں بن پڑتا کہ گھر میں دورکعت نماز اطمینان سے پڑھی جائے۔
ناچار میں تو اس مسجد میں چلا جاتا ہوں۔
متقی بھائی کے مرنے کی خبر سن کر قریب تھا کہ چکر کھا کر وہیں زمین پر گر پڑے مگر آدمی تھا دین دار، اس نے ضبط کیا اور اپنے تئیں سنبھالا اور سوچا کہ اگر گھر چل کر دستک دوں پکاروں تو نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا اور فرض کیا چیخنے چلانے سے دروازہ کھلا بھی تو رات گئی ہے زیادہ سب کو تکلیف ہو گی۔
رونا پیٹنا مچے گا۔ ماتم برپا ہو گا۔ بہتر ہے کہ رات کو کہیں پڑا رہوں۔ پھر خیال کیا کہ پاس کے پاس اسی مسجد میں ٹھہر جانا مناسب ہے کہ بڑے میاں سے اور حالات بھی دریافت ہوں گے۔ مسجد میں گیا اور وضو کر کے نماز پڑھی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ بھائی سے اس کو محبت تھی بہت، یوں بھی ہمیشہ غائبانہ اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرتا تھا۔ اب جی بھر آیا اور بے اختیار اتنا رویا کہ ہچکی بندھ گئی۔
جس کے دل کو یکایک اتنا بڑا صدمہ پہنچا ہو اس کو بھوک کیا لگے اور نیند کیونکر آئے۔ ساری رات گزر گئی کہ صحن مسجد میں ننگے سر بیٹھا ہوا۔ کبھی کچھ پڑھ کر بھائی کے روح کو بخشتا ہے اور کبھی اس کی مغفرت کے لیے خدا کی درگاہ میں زار نالی کرتا تھا۔ سفیدئہ صبح نمودار ہوتے ہی اول وقت فجر کی نماز پڑھی اور پھر اشراق تک معمولی اوراد میں مشغول رہا۔
جب نمازِ اشراق سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ بڑے میاں بھی اپنا بچھونا لپیٹ لپاٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کو ضعیفی کے سبب ذرا دھندلا بھی نظر آتا تھا۔ متقی نے ان کو پہچان کر السلام علیک اور قریب جا کر اپنے تئیں پہچانوایا اور رات کا ماجرا کہہ سنایا۔ ملے تو میر مہذب کی صحبتوں کو یاد کر کے بڑے میاں بھی آب دیدہ ہوئے اور متقی تورات سے رو رہا تھا۔
سفر کی تکان، ساری رات کا فاقہ، جاگنا اور رونا آنکھیں سوج گئی تھیں، منہ سے آواز نہیں نکلتی تھی۔ بارے بڑے میاں نے بہت کچھ سمجھایا دنیا کے دستور کے مطابق صبر کی تعلیم کی اور کہا کہ میاں مرحوم تو اللہ کے نیک بندے تھے۔ یہاں بھی اپنی اچھی گزار گئے اور انشاء اللہ وہاں بھی ان کے لیے اچھا ہی اچھا ہے۔
وہ اگر مرے تو اپنی عمر سے مرے اور ایک نہ ایک دن سبھی کو مرنا ہے۔
بڑا رونا ان کے فرزند ناخلف کا ہے کہ اپنے کردار ناسز اسے مرحوم کی روح کو ایذا دے رہا ہے۔ اب تم باپ کی جگہ ہو۔ اس کو سنبھالو اگر ہو سکے، اس کو روکو اگر بن پڑے۔ گھر کے نصیب اچھے ہیں کہ تم آپہنچے۔ خدا کو کچھ بھلا کرنا منظور ہے کہ تم کو بھیجا۔ ابھی وقت ہے۔ اگرچہ تنگ ہے۔ موقع ہے گو اخیر ہے اور تم یہاں مسجد میں اکیلے بیٹھ کر کیا کرو گے۔ میرے ساتھ چلو تمہارے بھتیجے صاحب تو کہیں دوپہر تک اُٹھیں گے وہ بھی اٹھائے سے تب تک میرے گھر کچھ ناشتہ کرو ہم بھی کچھ غیر نہیں ہیں۔
تمہارے بھائی صاحب خدا ان کو جنت نصیب کرے ہم کو عزیزوں سے بڑھ کر سمجھتے تھے، کیا تم کو یاد نہ ہو گا۔ غرض میر متقی بڑے میاں کے ساتھ ساتھ چلے تو سارے رستے بھائی کا تصور پیش نظر تھا اور قدم قدم پر ایسا خیال ہوتا کہ بھائی سامنے سے چلے آرہے ہیں پیچھے سے پکار رہے ہیں۔ اس دروازے پر کھڑے باتیں کر رہے ہیں اس دوکان والے سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اتفاقات متقی کو بھائی کی زندگی میں صد ہا بار پیش آچکے تھے ان ہی باتوں کی یادداشت اب تازہ ہو گئی متقی رات سے بہتیرا رو بھی چکا تھا اور اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب رونا آئے گا بھی تو روکوں گا۔
ضبط کروں گا مگر جوں جوں گھر کی طرف پاؤں اٹھتا تھا۔ دل کی کیفیت متغیر ہوتی چلی جاتی تھی۔
یہاں تک دروازے پر پہنچ کر تو نہ تھم سکا اور بے اختیار پکار کر رویا۔ رونے کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ جمع ہو گئے۔ پھاٹک تو باہر کی طرف سے نہ کھلوا سکے، اندر ہی اندر کھڑکی کی راہ پہلے زنان خانے میں اور پھر مردانے میں خبر پہنچی۔ مبتلا اور اس کے جلسے کے شرکاء ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کہاروں کی طرح ناچ جو کہروا کہلاتا ہے، دیکھ کر اور صبح کا راگ بھیرویں سن کر سوئے تھے۔
میرمتقی کا آنا سن کر سب کی نیندیں اچاٹ ہو گئیں اور سب کے ہوش اڑ گئے۔ جو لوگ اب سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے بھانڈوں اور رنڈیوں کو نچوا رہے تھے۔ اب لگے آپ، ناچے ناچے پڑے پھرنے چاہتے تھے کہ نکل بھاگیں مگر راستہ کہاں تھا۔ پھاٹک پر تو خود میرمتقی صاحب اور ان کے ساتھ محلے کے چالیس پچاس آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ زنان خانے میں ہو کر جانا چاہتے تھے تو پہلے مہرے پر گھر والی تھی کہ وہ میاں کے سامنے تو لومڑی یا بھیگی بلی جو کچھ تھی سو تھی مگر ان بدذاتوں کے حق میں خاص کر اس وقت شیرنی سے کم نہ تھی۔ اس کے علاوہ زنان خانے سے اگر باہر جانے کا راستہ تھا تو دوسرے لوگوں کے گھروں میں سے ہو کر تھا۔ وہ بھلے مانس ان بلاؤں کا اپنے یہاں سے ہو کر گزرنا کیوں جائز رکھتے۔
غرض وہ سب کاسٹ پٹانا اور ایک کا ایک سے پوچھنا اور ایک ایک سامنے ہاتھ جوڑنا۔ ایک ایک کے پاؤں پڑنا ایک تماشا تھا۔ قابل سیر، ایک کیفیت تھی لائق دید کہ رنڈیاں جو اپنے حسن کے غرور میں کسی کے ساتھ سیدھی بات نہ کرتی تھیں۔ اب ایک ایک کے آگے بچھی جاتی تھیں کہ خدا کے لیے کہیں ہم کو پناہ دو۔ ایک ایک کے پیچھے لپٹی تھیں کہ اللہ ہمیں نکال کر کہیں لے چلو ایک پکارتی تھی میں انعام اکرام سے باز آئی مجھے راستہ بتاؤ۔
دوسری چلاتی تھی۔ مجھے مجرے کی کوڑی مت دو مگر کسی ڈھب سے گھر پہنچاؤ۔ رات کے جلسے میں ایک طائفہ چلبلا بھانڈ کا بھی تھا۔ ان کم بختوں کو فی الوقت خوب سوجھتی ہے۔ ادھر تو یہ تمام ہل چل مچی ہوئی تھی اور ادھر چلبلا بے طلب بے فرمائش تیار ہو،اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے لگا نقل کرنے۔
ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر دوڑا دوڑا، لوگوں کو ہٹاتا ہوا دباتا ہوا پھرنے لگا کہ کیا ہے ابے کیا ہے۔
کاہے کا غُل ہے، کیوں شور مچا رکھا ہے۔ دوسرا بولا،بے احمق تو نے نہیں سنا کہ حضرت کے چچا مکہ معظمہ سے تشریف لائے ہیں۔ پہلا کہنے لگا: کون چچا، ابوجہل یا ابولہب دوسرا پہلے کے منہ پر زور سے ایک طمانچہ مار کر کہتا ہے: چپ مردود کیا کفر بکتا ہے۔
ابے حضرت پیغمبر صاحب کے چچا نہیں۔ ہمارے (مبتلا کی طرف اشارہ کر کے) حضرت پیرومرشد کے چچا۔
پہلا: ہاں الحمدللہ پھر ڈرنا کیا ہے۔ آؤ ہم سب مل کر بھی ان کو چچا بنائیں۔ حج نصیب ہونے اور سلامتی سے واپس آنے کی مبارکباد دیں۔ ناچ دکھائیں گانا سنائیں۔ دوسرا: (پہلے کے منہ پر طمانچہ مار کر) ابے توبہ کر توبہ کہیں اوپر سے چھت نہ گر پڑے، سید آلِ رسول مولوی حاجی جو ابھی خدا کے گھر سے پھرے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ کہیں ناچ دیکھتے ہیں اور بھانڈ دوزخ کے کنڈے۔
پہلا ہائے میرے اللہ رنڈیوں نے وہاں بھی بھانڈوں کو نہ چھوڑا۔ نرے کنڈے ہوتے تو ذرا دیر میں تو جلتے اور کیوں صاحب یہ سب لوگ (مبتلا اور اس کے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے) کیا ہوں گے؟ دوسرا: ان کو کہتے ہیں کہ بھاڑ میں بھونے اور کڑھائی میں تلے اور بھٹی میں جلائے جائیں گے۔ پہلا: دونوں ہاتھوں کو گالوں پر ہولے ہولے تھپڑ مار کر اور خوف زدہ آنکھیں بنا کر، الٰہی توبہ الٰہی توبہ۔
دوزخ کی آنچ سے بچائے اور بھانڈؤں کو بھوت بنائے آسیب بنائے جو چاہے۔ سو کرے؟ مگر دوزخ کے کنڈے نہ بنائے۔
پہلا: پھر یہ حاجی صاحب چاہتے کیا ہیں؟ دوسرا: ”چاہتے یہ ہیں کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، خدا کی بندگی کرو، روپیہ رنڈیوں کو دینا تو محض فضول ہے۔ رہے بھانڈ، ان سے بڑھ کر غریب محتاج اور کون ہو گا۔“ یہ کہہ عمامہ باندھ، پائنچے ٹخنوں سے اونچے کر جہاں کھڑا تھا اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔
گویا امام بنا اور نماز شروع ہوئی۔ مسخرہ پن تو یہ تھا کہ نیت باندھ چکا ہے اور پھر ایک طرف یہ کہہ رہا ہے کہ بس بے تامل پھاٹک کھول دو اور مولوی یا حافظ یا حاجی یا وعظ جو ہوں ان کو آنے دو، دوسری طرف سب کو اشارہ کر رہا ہے کہ میرے پیچھے مقتدی بن کر کھڑے ہو جاؤ اور بڑبڑانے لگا۔ طائفے کے جتنے بھانڈ تھے سب صف بستہ ہو کر مقتدی بنے اور اس کے پیچھے کھڑے ہوئے۔
ذرا دیر گزری تھی کہ ایک نے صف میں سے نکل کر امام کے پیٹھ پر ایک دو ہتڑ مارا ایسے زور سے کہ تھوڑی دور آگے جا کر اوندھے منہ گر پڑا اور کہا: ”ابے بدعتی یہ کیسی بے وقت اور بے زخمی جماعت کی نماز پڑھ رہا ہے۔ اگر مولوی اسمعیل کے مقلدسن پائیں تو مارے کفر کے فتووں کے اُتو کر دیں۔“ امام: ابے تو کیا جانے یہ صلوٰة الخوف ہے، جیسی کہ لڑائی کے میدان میں ادا کی جاتی ہے اور پھر اسی طرح اپنی جگہ جا کھڑا ہوا۔
گویا اتنی حرکت پر بھی نماز باطل نہیں ہوئی تھوڑی سی دیر کے بعد پیچھے کی صف سے پھر ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے امام کا عمامہ اتار تڑاتڑ آٹھ دس بیس لتیڑے رسید کیے۔ امام سہلاتا ہوا یہ کہتا ہوا بھاگا کہ کفر کا فتویٰ آیا، تو یہ لتیڑے مارنے والا کیا کہتا ہے: ابے ڈرو مت فتویٰ نہیں تیری عبادت کا صلہ ہے۔
امام بولا عبادت کا صلہ ہے تو اس میں مقتدیوں کا بھی حق ہے۔
پھر تو اس سرے سے اس سرے تک بلاامتیاز جوتی کاری ہونے لگی اور رنڈیوں اور بھڑوے اور میر محفل اور تماشائی سبھی پر آفت آئی۔ کہتے ہیں کہ چلبلا بھانڈ کے طائفے کا بیس روپے روز معمول تھا اور مبتلا اس طائفے کا ایسا گرویدہ تھا کہ اگر خرچ مساعدت کرتا تو ہر رات ان کا ناچ دیکھتا مگر اس پر بھی کئی سو روپے ان لوگوں کے چڑھ گئے تھے۔ اب مبتلا کے چچا کا آنا سن کر بھانڈوں کو بالکل ناامیدی ہو گئی اور ایسی نقل تو نہایت برجستہ تھی، مگر طبیعت کس کی حاضر تھی۔
اور دل کس کا ٹھکانے تھا کہ مزہ لیتا اور داد دیتا۔ مبتلا کی تو ایسی سٹی بھولی کہ ننگے پاؤں کبھی اندر جاتا اور کبھی باہر آتا۔ مگر کوئی تدبیر بن نہ پڑتی تھی۔ آخر اس نے اپنے باپ کے پرانے نوکر وفادار کو آواز دی۔ یہ بوڑھا آدمی اسم بامسمی مبتلا کو بہت سمجھاتا رہتا تھا مگر نوکر کی بساط کیا۔ جب وفادار نے بار بار کہنا شروع کیا مبتلا نے اس کو جھڑک دیا۔
وفادار نے دل شکستہ ہو کر مبتلا سے کنارہ کشی اختیار کی۔ مردانے میں اس کے رہنے کی ایک کوٹھڑی تھی۔ رات دن اسی کوٹھڑی میں پڑا رہتا۔ اندر سے کچھ فرمائش آئی تو اس کی تعمیل کر دیتا۔ مبتلا کے کسی کام کاج کو ہرگز ہاتھ نہ لگاتا۔ آدمی تھا زمانہ دید سمجھ چکا تھا کہ یہ لیل و نہار اس طرح پر تو سدا چلنے والا نہیں یا تو یہ رسم و راہ نہیں اور رسم و راہ یہ ہے تو بندئہ درگاہ نہیں۔
وفادار اکیلا کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھتا نہیں تھا تو سنتا سب کی تھا۔
اس کو میرمتقی کا آنا اور ارباب جلسہ کا گھبرانا معلوم ہو چکا تھا، خلاف عادت مبتلا کے بلانے کی آواز سن کر مطلب تو سمجھا مگر جان بوجھ کر چادر تان کر لیٹ گیا۔ مبتلا نے ایک بار پکارا دو بار پکارا تین بار پکارا۔ جواب ندارد۔ اگر کبھی پہلے ایسا اتفاق ہوا ہوتا تو وفادار کی مجال تھی کہ مبتلا پکارے اور پہلی آواز پر جواب نہ دے مگر میرمتقی کا آنا تھا کہ باہر سے اندر تک سب کا رنگ بدل گیا، جو ناچیز تھے وہ اب عزیز تھے جو بااقتدار تھے، وہ اب ذلیل و خوار تھے۔
یہاں تک کہ مبتلا نے خود کوٹھڑی کے دروازے پر آکر پکارا۔ میاں وفادار، میاں وفادار جلدی اٹھو چچا آئے۔ وفادار نے گھبرا کر پوچھا کیا چھوٹے میاں حج سے تشریف لائے۔ مبتلا ”ہاں“ وفادار نے میر صاحب مرحوم کو یاد کر کے ایک آہ کی اور آنکھوں میں آنسو بھر لایا اور میرمتقی کے صحیح و سلامت واپس آنے پر خدا کا شکر کیا اور دروازے کھولنے کے ارادے سے دوڑا۔
مبتلا نے لپک کر روکا کہ ذرا ٹھہرو۔ ذرا ٹھہرو۔ مبتلا نے چچا کو دیکھا تو تھا مگر سات برس میں صورت بھول گیا تھا۔ وفادار سے کہا کہ ذرا کواڑوں کی دوڑ میں جھانک کر تو دیکھو وہی ہیں۔ وفادار نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا اور کہا کہ بے شک وہی ہیں اور اب تو عین بین سرکار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر داڑھی میں تو ویسی سفیدی نہیں۔ مبتلا یہ سن کر وفادار کے گلے سے لپٹ گیا اور کہا کہ خدا کے لیے کسی طرح مجھ کو اس فضیحت سے بچاؤ۔
میں ان کم بختوں کو کہاں لے جاؤں اور کس طرح چھپاؤں۔
وفادار کو مبتلا کا اضطرار دیکھ کر بہت ترس آیا اور اس نے کہا تھوڑی دیر کے لیے ان لوگوں کو پاخانے کھڑا کر دیجئے۔ چھوٹے میاں آخر اندر جائیں گے۔ اس وقت ان کو نکال باہر کرنا۔ واقع میں اس کے سوا کوئی تدبیر ہی نہ تھی۔ آخر یہی کیا کہ جھپا جھپ ان سب کو پاخانے میں اوپر تلے ٹھونس آگے پیچھے دھکیل کنڈی لگا باہر کا پھاٹک کھول دیا۔
میرمتقی نے دوڑ کر بھتیجے کو چھاتی سے لگایا، اس وقت کی کیفیت بھی جس جس نے دیکھی ساری عمر اس کو نہیں بھول سکتا، بوڑھا پھونس نہیں مگر ادھیڑا اور جوان فرشتہ اور شیطان، یارحمت اور قہر یا نیکی اور بدی یا ثقہ اور رند یا حاجی اور پاجی یا چچا اور بھتیجا دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے کھڑے رو رہے تھے۔ مبتلا تو دھاڑیں مار رہا تھا اور میرمتقی کی آنکھوں سے برابر آنسو جاری تھے اور چونکہ رنج کو بہ تکلیف ضبط کرتے تھے، بوٹی بوٹی کانپ رہی تھی۔
پچاس ساٹھ آدمی حلقہ باندھے ہوئے گردوپیش تھے اور سب پر رقت طاری تھی۔ کامل پاؤ گھنٹے کے بعد متقی نے مبتلا کو سینے سے جدا کیا۔ سب کے ساتھ اس کو لے جا کر دالان میں بیٹھے۔ تھوڑی دیر سبھی سکوت میں تھے۔ آخر کسی نے میر صاحب مرحوم کا ذکر خیر نکالا۔ پہلے ان کی بھلی عادتوں کا مذکور رہا پھر علالت اور وفات کا آخر فاتحہ پڑھ کر لوگ رخصت ہوئے اور میرمتقی زنان خانے میں گئے۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.