
Capítulo 9 de 31
Mir Muttaqi Meets Mubtala's Wife
ساتواں باب: میر متقی کی مبتلا کی بیوی سے ملاقات
ماموں کا آنا سن کر بھانجی کو ماں باپ اور ساس سسر کا مرنا۔ بھائیوں کا ظلم اور سب سے بڑھ کر مبتلا کا اس سے بے تعلق رہنا۔ اپنی بے کسی گھر کی تباہی آئندہ کی ناامیدی غرض ساری داستان مصیبت اول سے آخر تک یاد آگئی۔ وہ دل ہی دل میں رونے کی تیاریاں کر چکی تھی۔
جوں ماموں نے اندر قدم رکھا اور بھانجی کے ساتھ نظر دوچار ہوئی۔ اس نے کسی طرح لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہو کر سلام تو کر لیا اور پھر تو ایسی بلکی کہ غش کھا کر گر پڑی۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ دانت پچی ہو گئے۔ لخلخے سنگھائے منہ پر گلاب کے چھینٹے دیئے۔ بارے ہوش آیا تو اس نے ایسے بین شروع کیے کہ سننے والوں کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔
دل دہل گئے۔ آخر متقی نے سر پر ہاتھ پھیرا اور سمجھایا کہ مصیبت میں اس قدر رنج کرنا عبودیت کی شان نہیں ہے۔
رنج مصیبت کو نہ ٹال سکتا ہے اور نہ اس کو ہلکا کر سکتا بلکہ الٹا مصیبت کو بڑھاتا ہے۔ جیسے محبت ماں کو اکلوتے بیٹے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے لاکھوں کروڑوں درجے بڑھی ہوئی محبت خدا کو اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے۔ اگر خدا نہ چاہے تو کیا بندے آپ سے آپ پیدا ہو جائیں اور اپنے اختیار سے زندگی کریں۔ ایسا خیال کرنا تو کفر کے علاوہ غلط صریح بھی ہے۔
بندے بھلے اور بُرے امیر اور غریب اور ضعیف، حاکم اور محکوم، بادشاہ اور رعیت یہاں تک کہ ولی اور پیغمبر سب کے سب اس قدر عاجز اور بے اختیار ہیں کہ بغیر خدا کی مرضی کے ایک پتہ ہلانا چاہیں تو نہیں ہلا سکتے۔ ایک ذرے کو جگہ سے سرکانا چاہیں تو نہیں سرکا سکتے۔
کسی انسان کا نفع و ضرر نہ خود اس کے اختیار میں ہے نہ کسی دوسرے انسان کے۔ دنیا میں جس کسی کو جس کسی کے ساتھ کسی طرح محبت ہے۔
اس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ جس کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اس کا فائدہ چاہتا ہے۔ نہ یہ کہ اس کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یا پہنچا سکتا ہے۔ اس واسطے دنیا کی ساری محبتیں جو ہم کو حاصل ہیں۔ یہاں تک کہ زندگی اس کی دی ہوئی ہے۔ بایں ہمہ انسان کو اس زندگی میں ایذائیں بھی پہنچتی ہیں۔ مگر ان میں ضرور انسان کا کوئی نہ کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ مثلاً طبیب کہ وہ کسی مریض کا علاج کرتا ہے۔
کبھی اس کو کڑوی دوا پلاتا ہے اور کبھی اس کی فصد لیتا اور کبھی بیمار کے زخم کو شگاف دیتا اور کبھی شاید اس کے عضو کو کاٹ بھی ڈالتا ہے مگر ایسا کرنے سے کیا کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ طبیب اپنے بیمار کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ اسی طرح جو تکلیفیں ہم کو دنیا میں پہنچتی ہیں اور بلاشبہ خدا کی مقدس مرضی سے پہنچتی ہیں۔ ظاہر میں تکلیف ہیں اور باطن میں آرام، ابتدا میں ایذا ہیں اور انجام میں راحت۔
اول تو اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ تکلیف حقیقت میں بھی تکلیف ہے یا نہیں۔ فرض کرو کہ کسی عورت کا شوہر مر جائے۔ ظاہر میں بیوگی ایک بڑی مصیبت ہے۔ مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ مرد زندہ رہتا اور بیوی پر سوکن لا کر اس کو زندہ درگور کرتا یا بیوی سے اس کا دل ایسا پھرتا کہ جب تک جیتا اس کو سخت ایذا دیتا یا ایسے امراض میں مبتلا ہوتا کہ سارے گھر کی زندگی دشوار کر دیتا اور اسی طرح کے اور بہت سے احتمالات ہیں جن کی وجہ سے ایک عورت اپنی بیوگی کو ترجیح دے سکتی ہے سہاگ پر۔
بس جب تک انسان کو علم مستقبلات یعنی علم غیب نہ ہو اور وہ اس کو نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ وہ کسی حالت کو جو اس پر یا کسی پر طاری ہو بُرا کہہ نہیں سکتا۔
دنیا کے بہت سے واقعات کو ہم پسند کرتے ہیں۔ مگر جس طرح ہماری معلومات نا تمام ہیں۔ اسی طرح جو نتیجے ہم اپنی معلومات سے نکالتے ہیں۔ ناقص، ادھوری روداد اس پر فیصلہ ناکافی تحقیقات اور اس پر تجویز اور مانا کہ جو تکلیف ہم کو پہنچی حقیقت میں تکلیف ہے تو کیا۔
شفیق باپ اپنے پیارے بیٹے کو منصف اور رحم دل بادشاہ اپنی عزیز رعیت کو تادیب یا تنبیہہ یا اصلاح یا کسی دوسری مصلحت سے ایذا نہیں پہنچاتا۔ ہمیشہ ایسی ایذائیں پہنچتی رہتی ہیں، نہ فریاد نہ شکایت، پس اگر خدا کی طرف سے ایک ایذا پہنچ جائے (جانے دو کی اس بے شمار احسانوں کو اور بھول جاؤ اس کی نا محصور نعمتوں کو) تو بندہ کیوں منہ پھلائے، کس لیے بڑبڑائے۔
سب سے بڑا فائدہ جو مصیبت سے انسان کو پہنچتا ہے۔ یہ ہے کہ مصیبت دل میں بالتخصیص عجز و انکسار کی صفت پیدا کرتی اور خدا کو یاد دلاتی ہے اور حقیقت میں مصیبت کے وقت بندہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ مصیبت نہیں رحمت ہے۔ لیکن خدا کو یاد کرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ شکایت کرو اور اس سے ناراض رہو۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کی رحمت پر پورا بھروسہ اور اعتماد کر کے صمیم قلب سے یقین کر لو کہ جو کچھ ہوا خوب ہوا۔
مناسب ہوا اور یوں ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ تو درجہ رضا اور تسلیم کا ہے اور اسی کا نام صبر جمیل ہے اور آدمی کو جس کا عقیدہ ضعیف اور دل کمزور اور جس کی ہمت کوتاہ اور جس کا ارادہ متزلزل ہے۔ اس درجے پر پہنچنا دشوار ہے۔ مگر اعلیٰ علیین پر نہیں پہنچ سکتے تو ایک سیڑھی دو سیڑھی جتنا ہو سکے کچھ تو اُچکو کسی قدر تو ابھرو کہ اسفل السافلین کفران سے نکلو۔ یوں کہنے کو تو زبان سے سبھی کہتے ہیں کہ دنیا فانی ہے، چند روزہ ہے، خواب ہے، سراب ہے، سایہ ہے، سحاب ہے، برق بے تاب ہے مگر مصیبت کے وقت بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے کہ زبان ہمارے دل کی سچی ترجمان نہیں۔
کیا کوئی فانی ایک فانی حالت کے لیے اتنا غل مچاتا اور اس قدر روتا پیٹتا، مصیبت پر جو منفعت ہم نے ہمیشہ مترتب ہوتے دیکھی، حد تو یہ ہے کہ مصیبت آدمی کے مستقبل کو اس کی ماضی سے ضرور بہتر کر دیتی ہے یعنی اگر انسان کاہل تھا تو مصیبت کے بعد ضرور چست و چالاک ہو جاتا ہے۔ آرام طلب تھا تو جفاکش، بھولا تھا تو سیانا، مسرف تھا تو کفایت شعار، بدپرہیز تھا تو محتاط، جلد باز تھا تو دھیما۔
آوارہ تھا تو نیک کردار جس آدمی پر کبھی مصیبت نہیں پڑی نہ اس کی عقل کا ٹھکانہ، نہ اس کی رائے کا بھروسہ، نہ اس کا دین درست، نہ اس کے اخلاق شائستہ۔ اس کے علاوہ اس کا دستور ہے کہ ایک حالت کیسی ہی عمدہ کیوں نہ ہو، اگر ساری عمر یکسانی کے ساتھ چلی جائے تو اس حالت کی عمدگی کا احساس نہیں رہتا بلکہ اکتا کر خود اس حالت سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
ایک باورچی کو میں جانتا ہوں جو نمکین اور میٹھے چاول یعنی بریانی متنجن وغیرہ پکانے میں کامل استاد تھا۔
شہر میں کہیں نہ کہیں شادی یا غمی کی کوئی نہ کوئی تقریب لگی ہی رہتی تھی جس کے یہاں چاولوں کی پخت ہوتی اسی باورچی سے پکواتا اور اس کو مزدوری کے علاوہ دستور کے مطابق تہ دیگی کی چوٹی دار رکابی بھی ملتی وہ ایک رکابی ایسی ہوتی تھی کہ اس کا سارا گھر اس کو کھا کر اٹل ہو جاتا۔ پس ان لوگوں کو دونوں وقت عمدہ سے عمدہ بریانی اور بہتر سے بہتر متنجن کھانے کو ملتا تھا۔
پس یہ حالت تھی کہ کسی غریب آدمی کے سامنے جو بریانی متنجن کو ترستا ہو۔ بیان کیجیے تو سننے کے ساتھ ہی رال ٹپک پڑے مگر اس باورچی اور اس کے اہل و عیال کا کیا حال تھا کہ منتیں کر کے بریانی متنجن کی رکابیاں ہمسائے کے لوگوں کو دیتے اور ان سے روٹی چٹنی مانگ کر کھاتے۔ پس ہم نے تندرستی کی قدر بیماری سے جانی، وطن کی پردیس سے، تونگری کی مفلسی سے، آرام کی دُکھ سے، راحت کی مصیبت سے، تو جو شخص حقیقی راحت کا خواہاں ہے ضرور ہے کہ مصیبت کا بھی مزہ چکھے۔
مصیبت زدہ کے لیے سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ وہ دوسرے مصیبت مندوں پر نظر کرے۔ مثلاً اگر اس کو صرف بیوگی کی شکایت ہے تو پائے گی کہ اس جیسی اور اس سے بدتر لاکھوں بیوہ عورتیں اور بھی ہیں۔ شاید یہ ایک مدت خانہ داری کرنے کے بعد بیوہ ہوئی ہے اور ہزار ہا اللہ کی بندیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے شوہر کی صورت تک نہیں دیکھی۔ پس وہ بیوگی کے علاوہ لاولد بھی ہیں اور شاید ان کو روٹی کا بھی کہیں سے آسرا نہ ہو۔
نگھری ندری بھی اور شاید دکھیا، بیمار اور شاید اندھی اور لولی اور اپاہج بھی، کسی کو اگر کھجلی کی ایذا ہے تو وہ دیکھے گا اپنے ہی جیسے آدمی کوڑھی اور کوڑھ میں کیڑے اور کیڑوں کے ساتھ زخم اور زخموں میں سوزش العیاذ باللہ جس کی آنکھ میں ناخنہ ہے۔ کیا اس کو اس سے تسلی نہیں ہو گی کہ دوسروں کی آنکھ میں ٹینٹ یا دوسرے کانے بلکہ اندھے بھی ہیں۔
غرض دنیا کا حال یہی ہے کہ ایک سے ایک بہتر ہے۔ پس کیوں کوئی مغرور ہو اور ایک سے ایک بدتر ہے تو کس لیے کوئی ناصبور ہو۔ بیٹی میں یہ نہیں کہتا کہ تم پر مصیبت نہیں پڑی۔ مگر اس مصیبت پر جو تمہاری حالت ہے شکر کے قابل ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے تندرست ہو۔ عزت و آبرو کے ساتھ گھر میں بیٹھی ہو۔ تم نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ تم نے دروازے دروازے بھیک نہیں مانگی تم نے پیٹ کے واسطے کسی کی خدمت نہیں کی ٹہل نہیں کی۔
گو ماں باپ کو خدا نے اٹھا لیا۔ مگر ابھی تمہارے غمگسار، تمہارے خبر گیر تمہارے سرپرست موجود ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں کہ باپ جتنی نہیں کروں گا لیکن اس سے پورا اطمینان رکھو کہ انشاء اللہ اپنے مقدور بھر تمہارے حال کی اصلاح تمہارے معاملات کی درستی میں کس طرح کی کوتاہی بھی مجھ سے نہ ہو گی۔ لاؤ اسی شہر سے بلکہ اسی محلے سے بلکہ اسی کوچے سے بلکہ تمہارے پڑوسی جتنی عورتیں کہو بلا لاتا ہوں جن کو دیکھ کر تم ضرور رحم کرو گی اور سمجھو گی کہ یہ مجھ سے زیادہ دکھیا ہیں۔
ایک حکیم کا قول ہے کہ دنیا میں ہر شخص خوش ہے اس واسطے کہ وہ اپنی حالت کو کسی دوسرے کی حالت کے ساتھ بدلنا نہیں چاہتا۔ جس دن پہلے پہل میں نے یہ بات کتاب میں لکھی دیکھی تو میں ذرا اس پر ٹھٹکا۔ پھر میں نے سوچا کہ اس کو میں اپنے ہی اوپر کیوں نہ آزماؤں تو میں نے اپنی جان پہچان کے پانچ چھ آدمی تجویز کیے۔ جن کی حالت تو بنظر ظاہر میں اپنی حالت سے بہتر سمجھتا تھا۔
لیکن اچھی طور پر غور کیا تو ایک لاولد تھے۔ دوسرے بیٹے تو رکھتے تھے۔ مگر ناہموار۔ تیسرے دائم المرض۔ چوتھے شدت سے کنجوس۔ پانچویں بیوی کی بدمزاجی اور بدسلیقگی اور بدزبانی سے عاجز چھٹے لامذہب۔ غرض کسی کو بے داغ نہ پایا۔
تب اس حکیم کے مقولہ کی تصدیق اور میرے دل کی تشفی ہوئی اور پھر ایک بات اور بھی سوچنے کے قابل ہے کہ غم کیسا ہی سخت اور صدمہ کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔
رفتہ رفتہ خود بخود اس کا اثر مضمحل ہوتے ہوتے آخر کار محو ہو جاتا ہے۔ کبھی ہمارے باپ بھی مرے تھے ہم بھی ان کے فراق میں تمہاری طرح بہتیرا روئے دھوئے۔ غمگین اور اداس رہے۔ آخر بھول بسر گئے۔ غرض انسان کو چارو ناچار صبر تو کرنا پڑتا ہے کیا کرے دیوار سے سر ٹکرا کر کنوئیں میں گر کر، افیون کھا کر حرام موت مر رہے۔ مگر اس کو صبر محمود نہیں کہتے۔
صبر محمود وہی ہے کہ نزول مصیبت کے وقت ہو۔ جب کہ رنج دل کو نچوڑتا اور کلیجے کو کھرچتا ہے۔ آنسو ہیں کہ نکلے چلے آتے ہیں اور سانس ہے کہ پیٹ میں نہیں سماتا۔ وہ بندے کے لیے سخت آزمائش کا وقت ہے۔ معاذ اللہ اگر خدا کی شان میں شکایت کا کوئی کلمہ اس کے منہ سے نکل گیا یا اس کے دل میں خدا کی نسبت بے حمی یا بے انصافی کا خیال وسوسے کے طور پر بھی آگیا۔ تو بس دنیا خراب عاقبت برباد۔ متقی نے جو یہ باتیں عقل کی دین کی نصیحت کی بیان کیں تو بھانجی پر ایسا اثر ہوا کہ گویا گرتی ہوئی دیوار کو تھونی لگا دی۔ ڈوبتے ہوئے کو اُٹھا کر کنارے پہنچایا۔ مرجھائے درخت کو پانی دیا۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.