
Chapter 22 of 31
Mubtala's Second Marriage
بیسواں باب: مبتلا کا دوسرا نکاح
مبتلا کے سر پر ان دنوں ایسا جن سوار تھا کہ اس کی عقل ہی ٹھکانے نہ تھی عارف سے پیچھا چھڑا وہ پھر بیگم کے گھٹنے سے جا لگا۔ وہ تو پہلے ہی سے اس کے لیے جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ جانا تھا کہ اس پر چھا گئی۔ بیگم بالطبع زیادہ تر اس بات کی طرف راغب تھی کہ مبتلا آشنائی کے طور پر اس کو گھر میں ڈال لے۔
مگر میرمتقی اور عارف کی تعلیم کا مبتلا پر اتنا تو اثر ہوا کہ اس نے بے نکاح بیگم کے ساتھ تعلق رکھنے کو پسند نہ کیا۔ پاس تھی مسجد دو طالب علموں کو بلا بھیجا۔ نکاح پڑھا جانے لگا۔ مہر میں ہوا اختلاف۔ مبتلا نے چاہا مہر شرع محمدی، بیگم نے کہا جو غیرت بیگم کا مہر وہ میرا مہر۔ جیسی نکاحی بی بی وہ ویسی نکاحی بی بی میں۔
دیر تک اس میں تکرار ہوتی رہی۔
آخر مولوی صاحب جو نکاح پڑھاتے تھے بولے کہ جانے دو مہر مثل رکھو۔ مبتلا تو نیم راضی ہو چلا تھا۔ مگر بیگم مہر مثل کے نام سے شرماتی تھی کیونکہ سارے خاندان میں کبھی کسی کا نکاح ہوا ہوتو مہر مثل ہو۔ دادی اور پھوپھیاں ساری عمر خرچیاں کماتی رہیں۔ مہر مثل آئے تو کہاں سے آئے۔ ناچار مہر شرع محمدی ماننا پڑا اور بات یہ بنائی کہ وہ بھی کیا بی بی ہے جو میاں پر مہر کا دباؤ ڈال کر گھر کرے۔
ہم تو بڑا مہر مرد کے دل کو سمجھتے ہیں۔ دل مٹھی میں آیا تو جانو سب کچھ پایا۔ وہ کیا غضب کے دوانچھر تھے کہ ادھر پڑھے گئے اور ادھر فکروں نے آگھیرا۔ بیگم نے نکاح کے بعد پہلی جو بات کی وہ یہ تھی کہ یہ مکان جس میں رہتی ہوں تم کو معلوم ہے کرائے کا ہے اور جتنا سازوسامان جو تم یہاں دیکھتے ہو۔ یہاں تک کہ میرے ہاتھ کا گہنا اور گلے کے کپڑے کوئی چیز میری نہیں۔
میری سگی خالہ میرے ساتھ ہیں۔ یہ سب ان کا مال ہے۔ ان کی ہرگز مرضی نہ تھی کہ میں نکاح کروں۔ اب جو میں نے ان کو ناراض کر کے کیا ہے تو اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جائے۔ خالہ بندی میرے پاس ٹھہرنے والی نہیں اور مجھ کو اس وقت کہیں لے چلتے ہو تو میں تیار ہوں۔ اپنی آبرو کا پاس کر کے گہنا کپڑا تو بہتیرا پہناؤ گے اور میں پہنوں گی مگر لے چلنا ہے تو مجھ کو اپنے یہاں کے کپڑے پہنا کر لے چلو اور دو چار دن کے لیے یہاں ٹھہرانے کی صلاح ہے تو جا کر خالہ سے اجازت لے لو۔
میں ان کے سامنے نہیں جا سکتی۔
مبتلا نکاح کے لیے تو بڑا مستعجل تھا مگر احمق نے پہلے سے اتنا بھی نہ سوچا کہ کہاں دوسری بی بی کو لے جا کر رکھوں گا اور کیونکر اس نئے گھر کا انتظام ہو گا۔ اب جو دفعتاً اس کو معلوم ہوا کہ بیگم بے سروسامان محض بیک بینی و دو گوش اس کے سر پڑی تو بہت سٹ پٹایا اور جتنا اختلاط وہ معمولی ملاقاتوں میں کر لیا کرتا تھا، طبیعت کو اس کے لیے بھی حاضر نہ پایا۔
یہ حقیقت تھی اس خواہش کی جس کے پیچھے مبتلا اس قدر دیوانہ بن رہا تھا کہ دنیا اور دین اس کو کچھ نہیں سوجھتا تھا، اب ایک ذرا سا تردد پیش آگیا تو کہیں اس خواہش کا پتہ نہ تھا۔ میرمتقی اور عارف اس کو یہی سمجھاتے تھے کہ کس فکر خسیس میں پڑے ہو، فکر کرنے کی باتیں دوسری ہیں، عمدہ اونچی اور ضروری۔ اگر ان میں دل لگاؤ تو اس فکر بے ہودہ سے نجات پاؤ۔
بیگم پر اپنی درماندگی ظاہر کرتے ہوئے تو اس کو شرم آئی۔ آخر وہ یہ کہہ کر اٹھ آیا کہ ابھی تھوڑی دیر میں بندوبست کر کے تم کو لے چلتا ہوں تیار ہو۔ ایک بات یہ بھی اکثر دیکھنے میں آئی کہ آوارہ اور عیاش مزاج لوگ دھوکا دینے میں بڑے چالاک ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ خود ہمیشہ تختہ مشق مغالطات رہتے ہیں۔ مبتلا کو بھی عین وقت پر غضب کی سوجھتی تھی جس وقت تک وہ بیگم کے پاس بیٹھا رہا۔
کوئی بات اس کے ذہن میں نہ تھی۔ اٹھ کر باہر آنا تھا کہ اس نے اپنے دل میں کہا کہ بیگم کو اپنے ہی مکان میں بلکہ زنان خانے میں بلکہ غیرت بیگم کے ساتھ رکھنا ٹھیک معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں۔ آخر کبھی نہ کبھی کھلے گی ضرور۔ پس جو کچھ ہونا ہے وہ پرسوں کا ہوتا کل اور کل کا آج ہو چکے۔ یہ دل میں ٹھان وہ گھر کی طرف چلا آرہا تھا کہ راہ میں اس کو اپنے گھر کی دو عورتیں ملیں۔
مامَا کے ساتھ انّا اور انّا کی گود میں مبتلا کی دودھ پیتی ہوئی دس گیارہ مہینے کی تھی بچی۔ چور کی داڑھی میں تنکا، مبتلا تو سمجھا کہ غیرت بیگم کو نکاح کی خبر ہو گئی اور سننے کے ساتھ ہی شاید ناظر کے گھر چلی گئیں اور یہ عورتیں پیچھے سے جا رہی ہیں۔ گھبرا کر پوچھا۔ ماما بولی ننھی بچی کا جی دس بارہ دن سے ایسا ماندھا ہو رہا ہے کہ بخار کسی وقت نہیں اترتا۔
کل شام سے مطلق آنکھ نہیں کھولی۔ اب کے ایسی بھاری نظر ہوئی ہے کہ دوپہر سے دودھ بھی منہ میں نہیں لیتیں۔
متوکل شاہ صاحب کے پاس دم کرانے کے لیے جاتے ہیں۔ مبتلا سے اور ایک ڈاکٹر سے بہت ملاقات تھی۔ مبتلا لڑکی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ اس نے دیکھ کر کہا کہ بخار بڑے زور کا ہے مگر کچھ گھبرانے کی جگہ نہیں۔ کچلیاں پھول رہی ہیں۔ میں مسوڑھا کھولے دیتا ہوں اور شیشی ایک بھیج دینا، عرق دوں گا۔
گھنٹے گھنٹے بعد ایک ایک چمچہ پلانا پسینا آکر تپ اتر جائے گا اور دودھ تو خدا نے چاہا لڑکی ابھی پینے لگے گی۔ مسوڑھے کی تکلیف کے مارے منہ نہیں چلا سکتی۔ یہ کہہ کر نشتر نکال مسوڑھا کھول دیا۔ اَنّا نے پیٹھ موڑ کر دودھ لگایا تو غٹ غٹ پینے کی آواز آنے لگی۔ سب لوگ خوشی خوشی گھر واپس آئے۔ جب مردانے میں پہنچا تو مبتلا نے لڑکی کو آپ لے لیا۔ یہ تو خیر لڑکی تھی۔
اس سے بڑا لڑکا معصوم ساڑھے تین برس کا ہوا، اس بلا کی باتیں جیسے بنگالے کی مینا اور ایسی پیاری صورت کہ کوئی راہ چلتا اس کو دیکھتا تو گود میں اٹھا لیتا۔ مبتلا نے کبھی بھول کر بھی آنکھ اٹھا کر اس کی طرف کو نہ دیکھا بلکہ وہ بچہ جب اس کو دیکھتا ابا ابا کہہ کر دوڑتا اور یہ ظالم دور سے اس کو جھڑک دیتا۔ خلافِ عادت بیٹی گود میں لیے ہوئے جو گھر میں گھسا غیرت بیگم تو دیکھتے ہی ریجھ گئی اور بیٹی کو لینے کے لیے دوڑی اور لگی پوچھنے کہ میں نے تو اس کو دم کروانے کے لیے بھیجا تھا۔
کیا تم اس کو الٹا پھروا لائے؟
مبتلا: تم کو خبر بھی ہے اس کی کچلیاں نکل رہی ہیں اور کچلیوں کا تو معمول ہے کہ بچے کو کچلا کر کے بڑی مشکل سے نکلتی ہیں۔ میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔ اس نے نشتر سے اس کا مسوڑھا کھول دیا ہے اور بخار کے لیے عرق دینے کو کہا ہے۔ شیشی بھیج دو۔ ماما جا کر عرق لے آئے۔ خدا نے چاہا آج ہی رات کو بخار بھی اتر جائے گا اور کچلی کو تو سمجھو نکل آئی۔
غیرت بیگم: اے ہے کیا مسوڑھے کو چیرا لگایا ہے۔
مبتلا: کچھ خوف کی بات نہیں۔ انا سے پوچھو کہ لڑکی کو خبر تک نہیں ہوئی۔ اسی وقت تو اس نے خاصی طرح دودھ پیا۔ ڈاکٹر کہتا تھا کہ جب دانت نکلنے کو ہوتا ہے تو مسوڑھا پہلے سے مردار پڑ جاتا ہے۔ اس وجہ سے تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ خدا کو بہتری کرنی تھی کہ عین وقت پر تدبیر ہو گئی۔ ورنہ آج رات بھر میں معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔
غیرت بیگم نے لڑکی کا منہ کھول کر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں بخار بھی کسی قدر ہلکا ہو گیا تھا اور صورت بھی ہوشیار تھی۔ پکارا کہ بتول بتول! تو ماں کی آواز پہچان کر آنکھیں کھول دیں اور دیکھ کر مسکرائی بھی۔ ماں نے پیار کر کے انّا کی گود میں دیا تو پھر دودھ پیا۔ یہ دیکھ کر غیرت بیگم بولی کہ ننھے بچوں کی یہی تو بڑی مصیبت ہے کہ آپ تو منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے اوپر والوں کو کیونکر معلوم ہو کہ ان کو کس بات کی ایذا ہے۔
آنکھوں کا نہ کھولنا اور ڈر ڈر کر اچھل پڑنا اور ہتھیلیوں میں بساندی بساندی بو کا آنا ان باتوں کو دیکھ یہاں تو سب یہی کہتے تھے کہ نظر ہو گئی ہے۔
مبتلا: ڈاکٹر نے دیکھنے سے پہلے زبانی حال سن کر کہہ دیا تھا کہ کوئی دانت نکل رہا ہو گا۔ پھر جو منہ کھول کر دیکھا تو حقیقت میں دور سے کچلی صاف جھلک رہی تھی۔
غیرت بیگم: گھر میں کوئی بڑا بوڑھا ہو تو ان باتوں کا دھیان رکھے۔ بچے ذرا ماندے پڑتے ہیں تو میرے ہوش و ہواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ لو اب مغرب کی اذان تو ہو چکی ہو گی۔ یا ہو رہی ہو گی۔ لڑکی کے جھگڑے میں کھانے کا بھی تو کچھ بندوبست نہیں ہوا۔ گوشت کا تو اب وقت نہیں رہا۔ کہو تو خاگینہ پکوا لوں۔
مبتلا: جو تمہارے جی میں آئے پکواؤ۔ مگر خدا کے لیے کوئی سلیقہ مند عورت ضرور رکھو۔
غیرت بیگم: ماماؤں کا تو ہمارے شہر میں ایسا توڑا ہے کہ دوا کے لیے بھی میسر نہیں۔ جو عورتیں اس کام کی ہیں مزے میں گھر بیٹھے ہی گوٹے کناریاں بنتی ہیں یا سلائی کا سیتی ہیں۔ نوکری پرائی تابعداری کرے ان کی بلا، اور جن سے یہ کام ہو نہیں سکتا انہوں نے سر پر ڈالا برقع اور جدھر کو منہ اٹھا چل کھڑی ہوئیں۔
پہر چھے گھڑی بھیک مانگی لدی پھندی گھر لوٹ آئیں!
مبتلا: لیکن میرے نزدیک تمہیں ماما کی نہیں بلکہ ایسی عورت کی ضرورت ہے جو بال بچوں کی خبرگیری کرے۔
وقت پر ان کا ہاتھ منہ دھلائے۔ کھانا کھلائے۔ کپڑے پہنائے۔ گھر کی چیز بست دھرے اٹھائے۔ غرض داروغہ کی طرح گھر کے سارے انتظام کی نگرانی کر کے تم کو آسائش پہنچائے۔
غیرت بیگم: تم ہی کوئی اس طرح کی عورت ڈھونڈھ کر نہیں لا دیتے۔
مبتلا: لا دوں تو رکھو گی اور کیا تنخواہ دو گی!
غیرت بیگم: ضرور رکھوں گی اور تنخواہ پانچ روپے اور کھانا کپڑا۔
مبتلا: خیراتنی ہی تنخواہ دینا مگر خاطر داری رکھنا۔ لکھنئو کی ایک عورت ہے خدا جانے کس تباہی میں آکر یہاں چلی آئی ہے۔ اگر پھٹا پرانا ایک جوڑا کپڑا دو تو میں پہنا کر ابھی اس کو لے آؤں۔ غیرت بیگم نے جلدی سے گٹھڑی کھول کر ایک جوڑا کپڑا نکال میاں کے حوالے کیا۔
مبتلا کپڑے لئے بیگم کے پاس پہنچا اور اس کو سمجھا دیا کہ اس طور پر میں نے تمہارے گھر لے چلنے کی راہ نکالی ہے۔
مجھے اپنی بی بی کا حال معلوم ہے۔ وہ یہی نہیں کہ صورت کی اچھی نہیں بلکہ اس میں عقل کی بھی کوتاہی ہے صورت تو خیر تم چل کر دیکھ لو گی۔ مگر عقل کی کوتاہی اس سے ظاہر ہے کہ اس نے عورت کے لانے کی فرمائش کی بھی تو مجھ سے۔ پس تم کو چند روز البتہ بے عزتی کا تحمل کرنا پڑے گا۔ اس کا مجھے کامل یقین ہے کہ تم گھر والی ہو گی اور وہ رہے گی تو تمہاری خدمت کرے گی یا اپنے میکے چلی جائے گی۔
غرض غیرت بیگم کا اتارن پہن کر بیگم مبتلا کے گھر جا داخل ہوئی۔ بھلے مانسوں کی بہو بیٹیوں کی طرح دبی جھکی، سکڑی، سمٹی، مبتلا کو تو اتنی جرأت نہ ہو سکی کہ خود لے جا کر غیرت بیگم سے ملا دیتا۔ دروازے کے اندر کر کے اتنا پکار دیا کہ لو صاحب! یہ داروغہ آتی ہے۔ اور آپ مردانے میں جا بیٹھا۔ بیگم نے اپنے تئیں سنبھالا بہت مگر وہ جس قدر اپنے چھپاتی تھی، اسی قدر اس کا پردہ فاش ہوتا جاتا تھا۔
آئی تو نوکر کے نام سے اور عورتوں میں بیٹھی دلہنوں کی طرح۔ گھونگھٹ نکال کر۔ رات کا تھا وقت: غیرت بیگم نے کہا:
ذرا روشنی قریب لاؤ تو ان کی صورت اچھی طرح نظرآئے۔ جوں غیرت بیگم نے زبردستی اس کا منہ کھولا۔ دیکھتی کیا ہے کہ ایک عورت ہے جو ان، ماتھے پر افشاں چنی ہوئی۔ پٹیاں جمی ہوئی۔ الٹے بل کی چوٹی اور اس میں چنپا کا موباف۔ کانوں میں چنبیلی کی کلیاں۔
آنکھوں میں دھواں دھار سرمہ۔ مسی کی دھڑی اور دھڑی پر لاکھا۔ ہاتھ پاؤں میں مہندی دور سے خوشبو بڑی مہک رہی ہے۔ غیرت بیگم دیکھنے کے ساتھ اس طرح ڈر کر پیچھے کو ہٹی کہ جیسے کوئی بچہ بیچا سے بھاگتا ہے اور لگی کہنے: اوئی بیوی۔ یہ ماما کس قسم کی۔ یہ تو کوئی نامراد کنچنی ہے۔ پھر تو ہمسائے تک کی عورتیں گھر میں آبھریں اور سب نے مل کر بیگم کا ایسا بُرا حال کیا کہ کوئی دوپٹہ اتارے لیے جاتا ہے کوئی پیچھے سے چوٹی گھسیٹ رہا ہے۔
مگر کسی رحم دل بی بی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر ڈیوڑھی میں لے جا کر چھوڑا دیا اور کہا کہ بیوی نبوجدھر سے آئی ہے ادھر ہی کو چلی جا۔ وہ تو گھر والی دل کی بڑی نیک ہے۔ کوئی اور دوسری ہوتی تو بے ناک چوٹی کاٹے نہ رہتی۔ مبتلا ڈیوڑھی کے بازو سے لگا یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہنسی کچھ غصہ۔ بیگم کو دیکھتے ہی بولا:
واہ اچھی اپنی گت کرائی۔
باوجود یکہ میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ میں تم کو نوکری کے حیلے سے لیے چلتا ہوں۔ پھر تم کو ایسا بن سنور کر آنا اور اتنا لمبا چوڑا سنگار کرنا کیا ضرور تھا۔ سیدھے سبھا چلی آئی ہوتیں، نہ کسی کو شبہ ہوتا اور نہ چراغ لے لے کر کوئی تمہارا منہ دیکھتا۔ خیر اب ذرا کی ذرا، یہاں ٹھہرو پھر میں تمہاری بات جماتا ہوں، مگر دیکھو خبردار کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے لوگوں کو میرے تمہارے لگاؤ کا شبہ ہو۔
مبتلا نے گھر کے اندر پاؤں رکھتے ہی پوچھا کہ لڑکی کا کیا حال ہے۔
انا بولی: اب تو اللہ کا فضل ہے۔ دوبار عرق پلایا اس قدر پسینہ آیا کہ شام سے تین کرتے بدل چکی ہوں۔
مبتلا: بس ان شاء اللہ اب بخار گیا۔ بارے اب الحمدللہ بچ گئیں (پھر بیوی کی طرف مخاطب ہو کر) لاؤ صاحب کھانا تیار ہو تو منگواؤ۔ دستر خوان بچھا عادت کے مطابق میاں بی بی کھانا کھانے بیٹھے تو مبتلا نے پوچھا: کیوں صاحب وہ عورت آئی تھی۔
غیرت بیگم: واہ چوری اور سرزوری۔ آج کو بڑے ماموں جان زندہ ہوتے تو الٹے استرے سے مردار کا سر منڈوا کر بھی بس نہ کرتے اور تم کو تو اپنی لاج کا لحاظ پاس آج کیا برسوں سے نہیں۔ بڑے ماموں جان کی زندگی تک چوری چھپے کرتے تھے۔ وہ مرے تو تم کھل کھیلے۔ مردانہ مکان تو مدتوں سے کنچنیوں کا چکلہ ہو رہا ہے۔ ایک زنانہ مکان بچا تھا۔ سو میں خوب جانتی ہوں کہ تم اس کی تاک میں لگے ہو۔
مگر جب تک میں جیتی بیٹھی ہوں دیکھوں تو کون رستم کی جنی میری ڈیوڑھی کے اندر پاؤں رکھتی ہے۔ اپنا اس کا خون ایک کر دوں تو سہی۔
مبتلا: بے وجہ بے سبب تم اس قدر گرم کیوں ہوتی ہو۔ بھلا اتنا سمجھو اگر وہ کنچنی ہوتی اور فرض کرو کہ اس کو بلانا منظور ہوتا تو مردانہ ہوتے ساتے مجھ کو اسے گھر میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ خدا عقل دے تو سمجھنے کے لیے ایک موٹی بات یہ ہے کہ کنچنی ہوتی تو تمہارے مانگے کے کپڑے پہن کر کیوں آتی۔
غیرت بیگم: کپڑا اور گہنا تو بے شک اس کے پاس نہ تھا مگر سر سے پاؤں تک چوتھی کی دلہن معلوم ہوتی تھی۔
مبتلا: تم کو چاہیے تھا کہ مجھ کو بلا کر پوچھتیں۔ اگر میں تمہاری تشفی نہ کر سکتا۔ تب بھی اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ مجھ پر جتنا چاہتیں خفا ہو لیتیں۔
بات یہ ہے کہ حقیقت میں وہ آج شاموں شام تک کنچنی تھی۔ مگر میں اس کو ایک مدت سے جانتا ہوں۔ ہمیشہ یہ مجھ سے کہا کرتی کہ مجھ کو اس پیشہ سے سخت نفرت ہے۔ اگر کہیں میری روٹی کا ٹھکانہ لگ جائے تو میں تائب ہو جاؤں۔ جب تم نے نوکر رکھنے کا وعدہ کیا تو میں نے اس کو زبان دی اور وہ ارادے کی ایسی پکی اور سچی تھی کہ فوراً میرے ساتھ ہو لی اور پھر کس طرح یہ کہ گہنا اور پاتا اور کپڑا اور لتا اور سازوسامان یعنی بھرا بھرا یا گھر سب کو لات مار کر جس طرح بیٹھی تھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں نے بے شک جھک مارا اور میرا بال بال خدا کا اور تمہارا گناہگار ہے۔ مگر جس دن سے چچا باوا تشریف لائے، تم میری کوئی ایک بات بتاؤ اور یوں اگر تمہارے مذہب میں توبہ کوئی چیز نہیں اور ناحق بدگمان رہو تو تمہاری خوشی۔
بھلا تم نے چند روز تو اس بے چاری غریب کو رکھ کر دیکھا ہوتا۔ جو شخص آٹھوں پہر آنکھوں کے سامنے رہے۔ اس کا حال آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ضرور کھلے گا۔
نوکر سریش نہیں ہے کہ چمٹ جائے مرضی ہوئی رکھا۔ مرضی نہ ہوئی نہ رکھا۔ مگر چونکہ میرا قدم درمیان ہے۔ میں تم سے بات کہوں صاف۔ یوں بے خطا بے قصور تو میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ تم ہی بتاؤ کہ اب وہ جائے تو کہاں جائے۔ غیرت بیگم ابھی کچھ ہاں نا کرتے نہیں پائی تھی کہ مبتلا نے کہا کہ ماما جا باہر ہریالی ایک عورت کھڑی ہے اس کو بلا لا اور کام کاج میں اس سے مدد لیا کر۔
غرض وہ نکالی جا کر پھر آموجود ہوئی۔ رات گئی تھی زیادہ لوگ کھا پی کر اپنی اپنی جگہ سوسلا رہے۔ ہریالی یعنی بیگم بھی تخت پر بے تکیے بے بچھونے ماماؤں میں سوئی، صبح کو جو اٹھے تو پھر لوگوں نے ہریالی کو گھورنا شروع کیا۔ مگر اب اس کا سنگار ہو گیا تھا باسی اور تمام شب کی بد خوابی اور زحمت کی تکان سے اس کا جوبن بھی نڈھال ہو رہا تھا۔ لوگوں نے کچھ بہت اس کا پیچھا نہیں کیا۔
اس میں شک نہیں کہ گھر میں ایک منتظم عورت کی سخت ضرورت تھی اور یہی ضرورت ہریالی کے پاؤں جم جانے کا سبب ہوئی۔ ہریالی نے جو صبح سویرے اٹھ کر دیکھا تو تمام اسباب مولی گاجر کی طرح سارے گھر میں پھیلا پڑا ہے۔ اس نے خود کھڑے ہو کر جہاں جہاں فرش تھا اٹھوا کر دالانوں میں صحنوں میں، دروں میں، باورچی خانے میں۔ یہاں تک کہ ڈیوڑھی میں جھاڑو دلوائی۔
ٹوکروں نہیں چھکڑوں کوڑا نکالا اور بہت سی گری پڑی چیزیں ملیں، جن کو ڈھونڈ ڈھونڈ صبر کر کے بیٹھ رہے تھے اور سمجھ لیا تھا کہ کھوئی گئیں۔ مٹی کی تہیں جمتے جمتے دریوں کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اصل رنگت پہچان نہ پڑتی تھی۔ جھڑوایا تو منوں گرد دروازوں میں جو چلمنیں اور پردے بندھے تھے، الٹے سیدھے کا تو کس کو امتیاز تھا، کوئی دھر تک بندھا ہے تو کوئی آدھے در میں پڑا لٹک رہا ہے اور کسی کا لپیٹ ایک طرف کو جھک کر نکل پڑا ہے تو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس کو برابر کر دیں۔
بلکہ کئی پردوں میں سے تو فاختاؤں اور جنگلی کبوتروں اور گلہریوں کے گھونسلے نکلے۔ گھر میں تخت تو بہتیرے ہیں مگر بیٹھنے کے دالانوں میں زمین پر بوریے بچھے ہیں۔ بوریوں پر دریاں، دریوں پر چاندنیاں پر لیے پھرتی ہیں اور چاندنیوں کا مارے دھبوں اور چکتوں کے یہ حال ہو رہا ہے کہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ صبح سے کھڑے کھڑے ہریالی کو دوپہر ہو گئی۔
تب کہیں جا کر اتنا کام ہوا کہ گھر میں جھاڑو دی گئی۔ دالانوں میں اس حساب سے تخت بچھوائے کہ بیچ میں فرش اور اِدھر اُدھر ماماؤں اور لونڈیوں کے چلنے پھرنے کی جگہ اب چاندنیوں اور تکیوں کے غلاف اور پلنگوں کی بھی چادروں کی ڈھنڈیا پڑی۔ قاعدہ ہے کہ جب چیزوں کا انتظام نہیں ہوتا تو یہی شناخت ہے کہ چیزوں کی حفاظت بھی نہیں۔ اتنا بڑا گھر اور اس وقت دھوئی ہوئی تین چاندنیاں درکار تھیں۔
وہ بھی نہیں ملتی تھیں۔ غیرت بیگم نے بہتیرے پتے بتائے، ارے کم بختو ابھی عشرے ہفتے کا ذکر ہے۔ دھوبن چاندنیوں کا گٹھڑ لائی۔ وہ سب ڈھیر کا ڈھیر کیا ہو گیا۔ لٹھے کی وہ کوری چاندنی جو بیچ کے دالان میں بچھی تھی اور پرسوں ترسوں اس پر سالن کی دیگچی مبارک قدم کے ہاتھ سے الٹ پڑی تھی اور میں نے صاف کرنے کے لیے اٹھوا دی تھی، کہاں ہے۔ جتنی کھڑی تھیں۔
ایک ایک کا منہ دیکھتی تھیں اور ایک ایک پر ٹالتی تھیں۔
آخر بڑی مشکل سے دو چاندنیاں اناج کی کوٹھڑی کی مچان پر پڑی ملیں، جن میں چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغار ڈال دیئے تھے اور ایک میں کسی ماما نے سوکھے ٹکڑے باندھ کر کھونٹی پر لٹکا رکھے تھے۔ اس جستجو میں معلوم ہوا کہ کئی چاندنیاں باہر سائیس کے پاس ہیں وہ اوڑھ کر سوتا ہے۔ دو یا تین چاندنیاں کسی کو مانگے دی تھیں وہ واپس نہیں آئیں۔
میلی چاندنیوں کا ایک ڈھیر غسل خانے میں پڑا ملا۔ غرض اس وقت تو ہریالی نے کسی طرح گونتھ گونتھ کر فرش کو پورا کیا۔ پلنگ سب کے سب جھولا ہو رہے تھے۔ ان کو کسوا کر اجلی چادریں بچھوا دیں۔ تکیوں کے غلاف بدلے۔ اجلا دستر خوان نکلوا دیا۔ اتنے میں معلوم ہوا کہ میاں مبتلا کھانے کے لیے آرہے ہیں۔ ہریالی یہ سن کر سامنے سے ٹل گئی۔ باورچی خانے کے آڑ میں ہو گئی۔
مبتلا نے آکر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں گھر کی صورت بدلی ہوئی تھی، سمجھا کہ یہ سب ہریالی کے تصرفات ہیں۔ دالان میں بیٹھ کر کھانا مانگا تو باورچی خانے سے دو لونڈیاں سالن کی دو دو رکابیاں لے کر چلیں۔ پیچھے سے ایک ماما ہاتھ میں روٹیوں کی تھئی اٹھا کر دوڑی۔ ہریالی سے نہ رہا گیا۔ عین وقت پر کیا ہو سکتا تھا مگر خیر ان کو روک کر جلدی جلدی تھالی جوڑ پانی پینے کی صراحی، سینی، سلفچی، خاصدان، اگالدان سب چیزیں منجوائیں۔
سینی کے بیچ میں روٹی گردا گرد سالن کی رکابیاں جما اوپر سے خوان پوش ڈھک ایک لونڈی کے سر پر رکھوا سمجھا دیا کہ دیکھو خبردار آگے دیکھ کر آہستہ آہستہ چلو کہیں ٹھوکر نہ لگے اور دوسری لونڈی کو سلفچی، آفتابہ، اُجلا دستر خوان دے کر اس کے ساتھ کیا کہ پہلے تخت کے نیچے کھڑی رہ کر میاں بی بی دونوں کے ہاتھ دھلائیو۔ جب ہاتھ دھو چکیں سلفچی آفتابہ الگ رکھ کر دونوں کے بیچ میں اجلا دسترخوان بچھائیو اور سینی احتیاط کے ساتھ اتروا کر روٹیاں بیچ میں رکھیو دو قسم کا سالن ہے، دونوں کے سامنے دونوں قسم کا رکھ دیجیو۔
تھالی جوڑ اور پانی پینے کی صراحی پیچھے سے بھجواتی ہوں۔ جب مانگیں تو خبردار آدھے کٹورے سے زیادہ بھر کر نہ دینا اور پانی جو پلانا تو جھک کر کٹورا آگے کر دینا کہ خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیں اور تھالی منہ کے نیچے رکھنا کہ پانی کپڑوں پر گرنے نہ پائے۔ گھر میں چٹنی، اچار، مربہ بھی کچھ تھا مگر دستر خوان پر رکھنے کا دستور نہ تھا۔ جس کسی کو بھی کسی چیز کا خیال آگیا اور منہ پھوڑ کر مانگی تو مرتبان یا اچار اس کے پاس لے جا کر روٹی پر ایک پھانک رکھ دی۔
ہریالی نے چار قسم کی چار پیالیاں ایک رکابی میں لگا ابھی کھانا شروع نہیں کرنے پائے تھے کہ پہنچا دیں۔ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا گرم پانی کا آفتابہ اور ایک طشتری میں بلیس، کھانے کو خاصدان میں بھیگی ہوئی صافی سے لپٹی ہوئی گلوریاں پہلے سے تخت پر رکھوا دیں۔ یہ تو ہریالی کے پہلے دن کے بلکہ پورا دن بھی نہیں دوپہر کے اور جلدی کے کام تھے۔
مہینے بھر کی محنت میں اس نے کپڑے کا، کھانے کا سامان، خانہ داری کا اندر باہر دونوں جگہ کے نوکروں کا بازار کے سودا سلف کا سب انتظام کر دیا۔ سلیقہ بھی عجیب چیز ہے۔ اندر باہر عورت مرد جتنے نوکر تھے۔ آپ سے آپ سب ہریالی کا ادب کرنے لگے۔ معصوم ایسا ہلا کہ دن رات میں ایک دم کے لیے گود سے نہیں اترتا تھا۔ بتول کی کیا بساط تھی، کیسی ہی بھڑکتی ہوئی آواز سنی اور چپکی ہوئی۔
غیرت بیگم کے دل میں اس کی طرف سے شک تو تھا مگر ہر چند ٹوہ لگائی کہ کوئی بات نہ پکڑ پائی۔ مبتلا کے گھر میں آنے کے وقت مقرر تھے، ہریالی ان وقتوں میں کسی نہ کسی بہانے سے ٹل جاتی تھی اور اگر احیاناً بضرورت سامنے چلی پھری بھی تو ایک دوسرے سے ایسے بے رخ بن جاتے تھے کہ تعلق کیسا۔ گویا جان پہچان تک بھی نہیں۔ مگر خدا جانے دونوں کو کیا ڈھب یاد تھا کہ اتفاقی اچٹتی ہوئی ایک نگاہ ان کے حق میں خلوت کا حکم رکھتی تھی۔
نہیں معلوم مبتلا آنکھوں ہی آنکھوں میں کیا کہہ دیا کرتا تھا کہ ہریالی برابر سرگرمی اور دل سوزی کے ساتھ گھر کے انتظام میں مصروف رہتی تھی۔ سچ ہے غیرت بیگم کے ساتھ مبتلا کے دل کے نہ ملنے کا بڑا سبب تھا۔ مبتلا کی حسن پرستی اور آوارگی۔ مگر اتنا قصور تو غیرت بیگم کا بھی تھا کہ اس نے مبتلا کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ذرا بھی کوشش نہیں کی۔
وہ سمجھی جیسا کہ گھر کی بیبیاں اکثر سمجھا کرتی ہیں کہ جب ماں باپ نے میاں کے ہاتھ میں ہاتھ پکڑا دیا تو بس مجھے اپنی طرف سے کچھ کرنا نہیں۔ اب میاں کا کام ہے کہ کما کر لائے اور مجھے کھلائے پہنائے۔ میری خاطر داری و مدارت کرے۔
لیکن اس کو اتنی بات اور سمجھنی چاہیے تھی کہ کھلانا پہنانا خاطر داری و مدارت کرنا، سب چیزیں منحصر ہیں رغبت پر۔
رغبت کرنا میاں کا کام اور دلانا بی بی کا۔ رہی یہ بات کہ بی بی کیوں کر میاں کو رغبت دلائے، اس کے لیے کوئی ایسا قاعدہ نہیں کہ ہر جگہ چل سکے، کیونکہ ہر ایک کا مزاج مختلف اور ہر شخص کی رغبت جدا، لیکن بی بی اگر چاہے تو اس کو اپنے میاں کی رغبت کا معلوم کر لینا کیا مشکل ہے مثلاً غیرت بیگم اتنا تو دیکھتی تھی کہ مبتلا کیسی صفائی اور کس شان کے ساتھ رہتا ہے۔
وہ ہر چیز میں حسن چاہتا تھا۔ خیر حسن صورت مبتلا کی پسند کے لائق ہو یہ تو اختیاری بات نہ تھی۔ مگر جس قدر اختیاری تھی غیرت بیگم نے اتنی ہی کر کے دکھائی ہوتی، گھر کی صفائی ستھرائی، سازوسامان کی درستی، انتظام کی خوبی یہ چیزیں بھی داخل حسن ہیں اور طبیعت میں سلیقہ ہو تو ہاتھ پاؤں کے اور غیرت بیگم تو زبان کے ہلانے سے سب کچھ ہو سکتا تھا۔
مگر اس نے ان چیزوں کی طرف کبھی بھول کر بھی توجہ نہ کی۔ مردانے مکان میں میاں کی بیٹھک تھی اسی کو دیکھ کر متنبہ ہوئی ہوتی۔ اس کا اپنا کیا حال تھا کہ میاں کو جو شروع شروع میں اپنی طرف سے بے رخ پایا تو تین تین چار دن سر میں کنگھی ندارد، لونڈیوں کے تقاضے سے دسویں پندرہویں سر دھویا ہے تو بالوں میں تیل کی خبر نہیں۔ پھولے پھولے، روکھے بال دور سے ایسا معلوم ہوتا کہ کڑک ناتھ کڑک مرغی بیٹھی ہے۔
آنکھوں میں سرمہ نہیں ہاتھ پاؤں میں مہندی نہیں۔ پھول نہیں، عطر نہیں گوٹا نہیں کناری نہیں، غرض عورتوں کے سنگھار کی کوئی چیز نہیں، مبتلا پہلے استکراہ تھا، غیرت بیگم کی بے تدبیریوں نے استکراہ کو نفرت اور نفرت کو ضد اور ضد کو چڑ بنا دیا۔ صورت شکل میں ہریالی کچھ غیرت بیگم سے زیادہ اچھی نہ تھی مگر چھٹانک بھر حسن ہوتا ہے تو غور و پرداخت سے دیکھنے والوں کی نظر میں سیر بھر جچنے لگتا ہے۔
سو غورو پرداخت کے عوض غیرت بیگم تو یہ چاہتی تھی کہ ابٹنے کی جگہ تھوڑی سی کیچڑ ملے تو اٹھا کر منہ کو مل لوں۔ میاں بی بی میں جب اختلاف مزاج اس درجے کا ہو تو ان میں صحبت بر آر ہونے کی کیا امید۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چھاتی پر مونگ دلنے کے لیے آخر ایک سوکن تو آ موجود ہوئی، ہریالی کا انتظام دیکھ دیکھ کر غیرت بیگم کا پھوہڑ پن مبتلا کے دل میں اور بھی بیٹھتا چلا جاتا تھا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.