
Chapter 21 of 31
Mubtala and Arif Debate a Second Marriage
انیسواں باب: مبتلا اور عارف کا مباحثہ
عارف نے اس خیال سے کہ اس کو اچھی طرح بطور خود غور کر لینے دو۔ ایک ہفتے تک اس کی خبر نہ لی۔ پھر جو ملاقات ہوئی تو مبتلا کا تیور ہی بدلا ہوا تھا۔ پوچھا کیوں صاحب تم نے کچھ سوچا غور کیا۔
مبتلا: جی ہاں دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے۔
عارف: (چونک کر) ایں دوسرا نکاح سچ کہو۔
مبتلا: کیا کروں میں بھی آدمی ہوں۔ میرے سینے میں بھی دل اور دل میں خواہش ہے۔ مجھ کو بھی موافق سے راحت اور ناموافق سے ایذا پہنچتی ہے۔ میری زندگی کا زمانہ بھی محدود ہے اور جوانی کا تو محدود نہیں بلکہ مختصر۔ میں بھی اتنی بات سوچتا ہوں کہ دنیا سے ایک بار جا کر پھر آنا نہیں ان تمام باتوں پر نظر کر کے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ آخر مجھ کو تو آسائش ملے۔
عارف: بے شک آسائش جائز کو کون منع کر سکتا ہے اور تم پر کیا موقوف ہے۔ تمام آدمی کوشش کرتے ہیں اور سب کی کوششوں کا دینی ہو یا دنیاوی ماحصل ہے آسائش مگر غور طلب بات یہ ہے کہ جس کو تم نے آسائش سمجھا ہے وہ حقیقت میں بھی آسائش ہے یا نہیں۔
مبتلا: یہ تجویز کرنا میرا کام ہے۔
عارف: بس یہ غلط ہے ہم سب ہیں بیمار اور شارع ہے ہمارا طبیب۔
اگر بیمار کو اختیار دیا جائے کہ اپنی آسائش کے لیے آپ تجویز کرے تو بیمار یقینا اپنے تئیں ہلاک کریگا۔ مبتلا: آپ اطمینان رکھیے میں نے شرع ہی کے مطابق اپنی آسائش کی تجویز کی ہے کیا میں نے تمہیں کہا نہیں کہ دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے۔ اگر بے نکاح کسی عورت کو گھر میں ڈال لینے یا پانچویں نکاح پڑھانے کا نام لیتا تب ہی آپ نے کان کھڑے کیے ہوتے۔
عارف: جوازِ تعدد نکاح کی نسبت تم نے جس طرح پر اپنا اطمینان کر لیا ہو، ذرا مجھ کو بھی تو سنا۔
مبتلا: میں تو آپ کے ادنیٰ شاگردوں کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔ میرا کیا مقدور ہے کہ آپ کو سمجھاؤں مگر تعدد نکاح کی سند تو قرآن ہے۔
عارف: لیکن اسی کے آگے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم کو یہ خوف ہو کہ متعدد بیبیوں میں برابری نہ کر سکو گے تو ایک ہی بی بی کرو اور اسی سورۃ اور اسی پارے میں اور آگے چل کر فرمایا کہ تم بہتیرا چاہو مگر تم سے یہ ہو ہی نہ سکے گا کہ عورتوں میں برابری کر سکو۔
پس سارے کے سارے بھی ایک طرف کو مت جھک جاؤ کہ اس بے چاری کو ادھر میں لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔ اب ان دونوں باتوں کو ملاؤ کہ برابر نہ کر سکو تو ایک کرو۔ اور تمہارے لیے برابری ہو ہی نہ سکے گی۔ ایک شخص نے حال ہی میں حرمتِ تعدد نکاح پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کے نزدیک ان دونوں آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بس ایک بی بی کرو۔
مبتلا: ایسی ہی تفسیریں کر کے تو لوگوں نے دین میں رخنے ڈالے ہیں۔
پیغمبرﷺ اور ان کے صحابہ اور تابعین اور تمام بزرگان دین سب متعدد بیبیاں کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کو بھی یہ دونوں آیتیں معلوم تھیں اور قرآن کو سب سے بہتر سمجھتے تھے اور ان کاتدین بھی بہت زیادہ تھا۔ مگر کسی نے تعدد نکاح کی ممانعت کا نتیجہ نہ نکالا اور ”تم سے برابری ہو ہی نہ سکے گی“ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس برابری کی نسبت ارشاد ہے کہ تم سے ہو ہی نہیں سکے گی وہ پوری پوری برابری ہے۔
یعنی عدلِ حقیقی۔
کیونکہ مطلقِ عدل سے قاعدے کے مطابق فرد کامل مراد ہو گی اور وہ نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ تم سے عدل حقیقی تو ہو نہیں سکے گا تو ایسا بھی تو غضب مت کرو کہ ایک ہی طرف کے ہو رہو اور دوسری کو لٹکا رکھو۔ کہ وہ بے چاری بیچ میں پڑی جھولا کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عدل حقیقی کے علاوہ کہ وہ اعلیٰ درجے کا عدل ہے اور انسان سے اس کا ہونا ممکن نہیں۔
ایک ادنیٰ درجے کا عدل مجازی بھی ہے کہ انسان صرف ایک ہی کا نہ ہو رہے بلکہ دوسری کی بھی خبرگری کرتا رہے۔ چچا باوا کے رہتے میرے دل میں اس بات کا کھٹکا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور مجھ کو ٹوکیں گے تو میں نے مولوی محمد فقیر سے اس مسئلے کی خوب تحقیق کی تھیں۔ میری سمجھ میں تو یوں آتا ہے کہ اس سے عدل مجازی مراد ہے کہ اگر تم کو اس بات کا ڈر ہے کہ تم ادنیٰ درجے کا عدل بھی نہ کر سکو گے اور بالکل ایک ہی کے ہو رہو گے تو ایسی صورت میں تم کو ایک ہی بی بی کرنی چاہیے اور اگر تعدد نکاح میں عدل حقیقی مشروط ہو تو فی الواقع جیسا آپ کہتے ہیں ممانعت ہوئی، تعلیق بالمحال۔
اور اگرچہ اس آیتہ میں بھی مطلق عدل ہے اور چاہیے کہ یہاں بھی عدل حقیقی مراد ہو۔ مگر دوسری آیت میں قرینہ صارف موجود ہے اور اگر خدا کو تعدد نکاح کی ممانعت منظور ہوتی تو تعلیق بالمحال کا پیرایہ اختیار کرنا کیا ضروری تھا۔ صاف صاف کہہ دینا تھا کہ بس ایک بی بی کرو نہ یہ کہ اگر عدل حقیقی نہ کر سکو تو ایک کرو کیونکہ یہ تو طے ہی تھا کہ عدل حقیقی مقدور بشر نہیں اگر اس سے ممانعت تعدد نکاح مراد ہو تو معاذ اللہ اس آیت کی ایسی مثال ہو گی کہ پوچھیں ناک کہاں ہے اور جواب میں بائیں کان سے شروع کر کے گدی کی طرف سے داہنی جانب ہاتھ لا کر بتایا جائے کہ یہ ہے۔
عارف: اس میں شک نہیں کہ مولوی محمد فقیر نے اس مسئلے کی اچھی تحقیقات کی اور تم نے جو کچھ سمجھا میرے نزدیک نہایت درست سمجھا۔ مگر پیغمبرﷺ صاحب سے جو تم نے استشہاد کیا اس کو میں نہیں مانتا۔ یہ دونوں آئتیں عام مسلمانوں کے واسطے ہیں۔ پیغمبرﷺ صاحب کے نکاح ان میں داخل نہیں۔ پیغمبرﷺ صاحب کے لیے سورئہ احزاب میں ایک پورا رکوع موجود ہے۔
پیغمبرﷺ صاحب کے لیے چار بیبیوں کی قید نہ تھی اور اگرچہ آنحضرت ازواج مطہرات میں اپنی طرف سے عدل فرماتے تھے۔ مگر خدا نے ان پر اس کو بھی لازم نہیں کیا تھا چنانچہ اسی رکوع میں ارشاد ہے کہ اپنی بیبیوں میں جس کو چاہو اپنے سے جدا رکھو اور جس کو چاہو بٹھا کر پھر بلا تو تم کو کچھ گناہ نہیں۔ اسی طرح پیغمبرﷺ صاحب کو بلا مہر بھی نکاح کر لینا جائز تھا اور یہ باتیں خصائص نبویﷺ میں سے ہیں اور کیا مصلحتیں پیغمبرﷺ صاحب کے ان ذاتی معاملات میں مضمر تھیں اس کے لیے تفصیل درکار ہے جس کے بیان کرنے کو بڑی فراست چاہیے۔
اسی طرح صحابہ وغیرہ سے استشہاد کرنے میں بھی تم کو درست نہیں سمجھتا۔
مبتلا: مذہباً یا عقلاً۔
عارف: یہ تو تم نے عجیب لغو بات پوچھی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذہب اور عقل دو چیزیں ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں کی دوراہیں ہوں حالانکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ مذہب مخالف عقل باطل، عقل مخالف مذہب گمراہ۔
مبتلا: جس چیز کے جواز کے لیے نص قرآنی موجود ہے۔ اس سے آپ کی مخالفت کا سبب؟
عارف: بات یہ ہے کہ شارع نے مردوں اور عورتوں کی معاشرت کے قاعدے ٹھہرا دیئے ہیں۔ نکاح اور مہر اور نفقہ اور طلاق اور خلع اور لعان اور اظہار اور رجعت اور رضاع وغیرہ جتنے معاملات ہیں سب کے واسطے احکام ہیں۔ اگر ان احکام کی پوری پوری تعمیل ہو تو کسی قوم اور کسی مذہب کے زن و شوہر میں اس سے بہتر معاشرت ہو نہیں سکتی مگر خرابی کیا آکر پڑی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے رسم اور مذہب دو چیزوں کو ملا کر اپنے طرز معاشرت کو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا لیا ہے۔
مثلاً پردے سے چلو بلاشبہ اسلام کا حکم ہے کہ بیبیاں پردہ کریں اور اس میں شک نہیں کہ ایک پردے سے ہزار ہا مفسدوں کا انسداد ہوتا ہے۔
مگر جس سختی کے ساتھ ہم لوگوں نے پردے کو لازم کر لیا ہے افراط ہے، حد شرع سے متجاوز پردہ نہیں ہے مگر قید ہے اور قید جس قدر سخت اسی قدر ایذا دہ۔ نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی زندگی کی کامیابی اور ناکامیابی راحت اور تکلیف خوشی اور ناخوشی اسی پر موقوف ہے۔
معاہدہ تو ایسا مہتمم بالشان اور معاہدہ کرنے والے جن کو اس کا نباہ کرنا ہے اور جن پر اس معاہدے کا اثر مترتب ہو گا اس سے بے تعلق کیونکہ اکثر تو معاہدہ نکاح ایسی چھوٹی عمروں میں ہو جاتا ہے کہ فریقین میں سے کسی کو بھی اس کے نتائج کے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی اور اگر شاذو نادر ہوتی بھی ہے تو اظہار رائے کر کے بے شرم اور بے حیا اور بے غیرت اور منہ بولا کون کہلائے۔
پس معاہدہ نکاح تو کرتے ہیں مثلاً زید اور ہندہ اور ایجاب اور قبول کرتے ہیں ان کے ولی۔ کھلم کھلا پوری آزادی تو نکاح کے معاملہ میں مرد عورت کسی کو بھی نہیں۔ رہ گئے دبے دبائے اشارے کنائے وہ بھی مردوں کے لیے بدنمائی ہے اور عورتوں کے لیے فضیحت اور رسوائی۔ سب سے بڑا ظلم جو ہم نے اپنی عورتوں پر کر رکھا ہے یہ ہے کہ بیوہ کو دوسرا نکاح نہیں کرنے دیتے۔
ہزار ہا اللہ کی بندیاں ہیں کہ انہوں نے شوہر کا منہ تک نہیں دیکھا اور نصیبوں پر ایسے پتھر پڑے کہ رانڈ ہو گئیں۔ ہندوؤں کی طرح ستی ہو کر ایک بار کا جل مرنا ساری عمر کے جلاپے سے ہزار درجے بہتر تھا مگر حرام موت ستی کیوں کر ہوں۔ دنیا میں ناک کٹتی ہے۔ لہٰذا دوسرا نکاح کس طرح کریں۔ غرض جیتی ہیں تو لطفِ حیات نہیں اور مرتی ہیں تو اپنے اختیار کی بات نہیں تو اس کا مطلب نکلا کہ شارع تو حقوق میں سے رتی بھر چھوڑنا نہیں چاہتے۔
اب جو نسبت مرد اور عورت میں شارع کو رکھنی منظور تھی کیونکہ باقی رہ سکتی ہے اور وہ نسبت کیا تھی۔ اسی کے لیے میں تمہارے آگے قرآن کی دو آیتیں پڑھتا ہوں سورئہ بقر میں ہے۔ جیسے عورتوں کی ذمہ داریاں ہیں ویسی ہی راست معاملگی کے ساتھ برتاؤ کرو۔ پس اگر وہ تم کو بھلی نہ لگیں تو عجب نہیں تم کو ایک چیز بھلی نہ لگے اور خدا اس میں بہت سی بہتری کر دے۔
اب فرمائیے کہ تعدد نکاح جائز ہے یا ناجائز؟
مبتلا: میں تو مذہب کا کوئی بڑا محقق نہیں مگر اسی طرح جو رویں اگر زبردستی ہمارے گلے مڑھی جائیں گی تو جو حالت آپ نے بیوہ عورتوں کی بیان کی، اس سے بدتر ہماری ہو گی۔ بیوہ عورت کو تو خیر صبر کرنے کے لیے ایک بات بھی ہے کہ شوہر نہیں ہے نہ سہی لیکن یہ کیا مصیبت ہے کہ ایک عورت کو آنکھ بھر کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا، بات کرنے کی طرف طبیعت رغبت نہیں کرتی اور آپ کہتے ہیں کہ زبردستی اس کے ساتھ عاشقی کرو۔
اگر خدا کے یہاں ایسی ہی ہیکڑی ہے تو اس کو اختیار ہے دوزخ میں ڈالے یا جہنم میں جھونکے۔ بندگی و بے چارگی۔ مگر میں تو آپ سے صاف صاف کہتا ہوں کہ ایسی مجبورانہ عاشقی مجھ سے نہ ہوئی ہے نہ ہو گی۔
عارف: بلاشبہ تم مغلوب طبیعت ہو رہے ہو اور جب تک تمہاری یہ حالت رہے گی۔ حقیقت میں تم سے خلاف طبیعت کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی۔
مبتلا: اسی میں تو آپ سے مدد چاہتا تھا کہ طبیعت پر غالب آنے کی کوئی تدبیر بتائیے۔
عارف: جو تدبیر مجھ کو معلوم تھی وہی ایک تدبیر ہے میں نے تو اس کے بتانے میں دریغ نہیں کیا۔ پہر بھر تک تمہارے ساتھ اپنا مغز خالی کیا تو لاجواب ہو گئے اور چلتے چلتے تم سے کہتا گیا کہ تم ان باتوں کو فرصت سے سوچنا اور موجبات ترغیب کے پاس نہ جانا۔ تم یوں سمجھو کہ حسن پرستی مرض ہے۔ سوچنا دوا ہے اور موجبات ترغیب سے دور رہنا پرہیز، بھائی! مرض جسمانی بھی اگر مزمن ہوتا ہے تو اس کو جلد صحت نہیں ہوتی اور بعض صورتوں میں برسوں علاج اور ساری عمر کے لیے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔
یہی حال ہے امراض روحانی کا جن کا دوسرا نام ہے بُری لت یا بد عادت۔ تمہارا علاج تمہارے ہی ہاتھ میں ہے کرو تو تم اور نہ کرو تو تم۔
مبتلا: آپ تو تعدد نکاح میں چند در چند طرح کے خدشات پیدا کرتے ہیں اور بزرگانِ دین میں کوئی بھی اس سے خالی نہیں۔
عارف: جب ایک بات کی صراحت ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں تو ہم کو کسی بزرگ کے قول و فعل پر نظر کرنے کی ضرورت نہیں، ایک اور دوسرے یہ معاملات ہیں شخصی۔
جب تک کسی کی طبیعت، کیفیت، حالت اور ضرورت کا کچھ حال معلوم نہ ہو ہم بُری یا بھلی کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے لیے اس کی آزادی کو عمل میں لاتے تھے وہ عورتوں کی آزادی میں بھی مضائقہ نہیں کرتے تھے۔ ہماری طرح ان کا معاہدئہ نکاح مرنے بھرنے کا معاہدہ نہ تھا۔ ذرا سی عدم موافقت ہوئی۔ مرد نے طلاق دے دی یا عورت نے خلع کر لیا۔
تھوڑے تھوڑے مہر ہوتے ہیں ان کو معاہدہ نکاح کا فسخ کر دینا ایک بات تھی۔ نہ طلاق کا عیب نہ دوسرے نکاح کی عار۔ تو ان کی آزادی حق بجانب لیکن ہم کیا ان کی ریس کر سکتے ہیں کہ ہماری بیبیاں لونڈیوں سے بڑھ کر بے اختیار۔ دائم الحبس ناک تا چوٹی گرفتار اور پھر تعدد نکاح سے جو بے لطفیاں اور بدمزگیاں خانہ داری میں پیدا ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں تو بزرگانِ دین کو بھی اس سے نجات نہ تھی۔
کوئی دوسرا کس گنتی میں ہے۔
مبتلا: اب بھی مجھ کو کون سا لطف حاصل ہے۔
عارف: تم آگ کے جلے ہوئے کو سینکتے ہو۔ یعنی ایک بے لطفی کو دوسری بے لطفی سے دبانا چاہتے ہو۔ مگر ممکن ہے کہ یہ دوسری بے لطفی آخر میں اس پہلی بے لطفی سے زیادہ شاق ہو۔
مبتلا: اس وقت جیسا موقع ہو گا دیکھا جائے گا۔ میں ابھی سے فکر مستقبل کر کے اپنی زندگی کو کیوں تلخ کر لوں۔
عارف: تو اب حقیقت میں میری تمہاری ملاقات لاحاصل ہے۔ مگر میں اتنا کہے دیتا ہوں کہ تم اپنے حق میں اچھا نہیں کرتے۔ افسوس ہے کہ تم نے مجھ کو جناب میرمتقی صاحب سے شرمندہ کیا۔ یہ کہہ کر عارف بہ کمال نا رضا مندی اٹھ کر چلا گیا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.