Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 19 из 31

Mubtala and Arif Debate the Beauty of Faces

سترہواں باب: حسنِ صورت پر مبتلا اور عارف کا مباحثہ

Назир Ахмад

Письмо
Размер

ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ عارف کے آنے کا وقت تھا اور مبتلا بیٹھا ہوا، ان ہی کی راہ دیکھ رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اسی حسن پرستی کے خیال میں ایسا محو ہوا کہ عارف سر پر آ کھڑے ہوئے اور اس نے عادت کے مطابق نہ تو ان کا استقبال کیا اور نہ کھڑے ہو کر ان کو تعظیم دی۔

جب عارف نے جھک کر السلام علیکم کہا تب سٹ پٹا کر کھڑا ہونے لگا۔ مگر عارف بیٹھ چکے تھے۔ انہوں نے ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بٹھا لیا اور پوچھا کہ خیر ہے آج کس خیال میں مستغرق تھے۔ مبتلا نے ٹالنا چاہا، عارف نے اصرار کیا نہیں کوئی بات تو ضرور ہے جس کو تم اس قدر غور کے ساتھ سوچ رہے تھے۔

مبتلا: غور کے بارے میں تو چچا نے مجھ پر بڑی سخت تاکید کی ہے۔

عارف: بلاشبہ ان کا فرمان درست ہے۔ غور کے معنے کیا ہیں۔ عقل سے کام لینا اور انسان نے اگر عقل ہی سے کام نہ لیا تو اس میں اور دوسرے حیوانات میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں، مگر پوچھنے سے میری غرض یہ تھی کہ اگر وہ بات مجھ پر ظاہر ہو تو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو تمہاری مدد کروں۔ تمہارے چچا نے جن کو میں اپنے والد کی جگہ سمجھتا ہوں تم سے غور کرنے کو کہا اور مجھ سے تمہاری مدد کرنے کو۔

پس تم اگر ان کے کہنے کے پرغور کرتے ہو تو ان ہی کے ارشاد کے موافق مجھ سے مدد بھی لو۔

مبتلا: جس بات کو میں سوچ رہا تھا اکثر سوچا کرتا ہوں مگر ابھی تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا تاہم اتنا تو جانتا ہوں کہ آپ سے اس میں کچھ مدد ملنے کی توقع نہیں۔

عارف: جب تک تم اس بات کو مجھ سے بیان نہ کرو اور میں جواب نہ دے دوں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔

اس وقت تک تم کو میری مدد سے ناامید ہونے کا کوئی محل نہیں۔

مبتلا: اچھا تو آپ مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

عارف: اجی تم سے کیا وعدہ کروں گا میں تو وعدہ کر چکا ہوں۔ جناب میرمتقی صاحب سے۔

مبتلا: اس خاص بات کا اس وقت تک کچھ مذکور نہ تھا۔

عارف: جناب میر صاحب نے کسی بات کا مذکور نہیں کیا، عام طور پر تمہاری مدد کرنے فرمایا اور میں نے اس کو تسلیم کیا۔

اس سے بڑھ کر اور وعدہ کیا ہو گا۔

مبتلا: آپ کو میرے خانہ داری کے حالات معلوم ہیں۔

عارف: جس قدر حالات جناب میر صاحب کو معلو م تھے۔ مجھ کو معلوم ہیں۔

مبتلا: چچا باوا نے آپ سے میری خانہ داری کے بارے میں کبھی کچھ کہا تھا۔

عارف: اکثر اس بات کا سخت افسوس کیا کرتے تھے کہ بی بی کے ساتھ تمہارا معاملہ درست نہیں۔

مبتلا: نادرستی معاملہ سے ان کی کیا مراد تھی۔

عارف: مراد یہ تھی کہ تم کو بی بی کے ساتھ انس نہیں محبت نہیں۔

مبتلا: بھلا اس کا کچھ سبب بھی انہوں نے بیان کیا تھا۔

عارف: ہاں یہ فرماتے تھے کہ تمہارے مزاج میں آوارگی ہے۔ حسن پرستی کے مزے پڑے ہوئے ہیں، دل میں یہ خبط سما رہا ہے کہ میں حسین ہوں، بی بی نظروں میں بھرتی نہیں۔

مبتلا: کیا چچا باوا اس بارے میں کچھ بھی کرنے کو تھے۔

عارف: بیشک فرماتے تھے کہ مطالب کو تو میں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیا ہے۔ اب موقع کی تاک میں ہوں۔

مبتلا: شاید ان کا ارادہ تھا کہ اس پر بھی کوئی وعظ کہیں مگر بھلا ہو اس کی نوبت نہ آئی ورنہ چارو ناچار مجھ کو مخالفت کرنی پڑتی۔

عارف: کچھ تم نے پہلے وعظ کی مخالفت کی ہو گی کہ اس کی کرتے۔

مبتلا: پہلے وعظ میں چچا باوا نے کسی بات میں واقعات کی مخالفت نہیں کی۔ اس سے میں نے ان کی مخالفت نہیں کی مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خوبصورت کے بارے میں وہ کہتے تو کیا کہتے۔

عارف: میں نہیں کہہ سکتا کہ کیا کہتے مگر اتنا انہوں نے ضرور کہا تھا کہ جس قدر اس کی حسن کے ساتھ فریفتگی ہے انشاء اللہ اسی وقت نفرت کرنے لگے تو سہی۔

مبتلا: (چونک کر) میں اور حسن سے نفرت تو یوں کہیے کہ میرے سر سے دماغ کو اور دماغ سے عقل کو اور عقل سے سلامت کو سب کو سلب کر لینے کی فکر میں تھے۔ بھلا آپ چچا باوا کے اس ارادے کی نسبت کیا خیال کرتے ہیں؟

عارف: میں تو جناب میر صاحب کی شان کو اس سے بہت ارفع سمجھتا ہوں کہ غلط بات ان کے منہ سے نکلے یا ان کے کلام میں مبالغہ ہو۔ ان کو خدا نے علم کی، دینداری کی، خلوص کی، خیرخواہی خالق کی، گویائی کی بہت سی قوتیں دی ہیں۔

میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ انہوں نے چھٹانک بھر کو کہا تو من بھر کر دکھاتے۔ مگر افسوس ہے کہ یکایک ان کا چلنا ٹھہر گیا۔

مبتلا: آپ بھی تو ان کے شاگرد رشید ہیں۔ حسن سے نفرت نہیں تو خیر اتنا کیجیے کہ کسی طرح میری یہ شورش تو فرو ہو کہ مجھے اس تصور میں نہ رات کو نیند ہے نہ دن کو قرار ہے۔

یہ کیا بلا میرے سر پر سوار ہے۔

عارف: کبھی تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ حسن کیا چیز ہے۔

اور لوگوں کو اس قدر فریفتگی حسن کے ساتھ کیوں ہے۔

مبتلا: یہ تو کوئی غور کرنے کی بات نہیں ہے۔ مرد، عورت، بوڑھا، جوان، شہری خواندہ ناخواندہ ہر شخص جانتا اور سمجھتا ہے کہ خوبصورتی اس کو کہتے ہیں۔ تفصیل پوچھئے تو تمام شاعروں نے معشوقوں کے سراپا لکھے ہیں۔ آپ کی نظر سے بھی تو ضرور گزرے ہوں گے۔ رضا لکھنوی کا سراپا مرقع خوبی میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔

اس سراپا میں کئی باتیں خاص ہیں۔

اول تو سر سے لے کر ناخن پا تک کسی عضو کو نہیں چھوڑا۔ دوسرے مردوں کا سراپا الگ ہے اور عورتوں کا الگ، تیسرے اعضاء کی ساخت کے علاوہ ان کی حرکات کی خوبیاں بھی بیان کی ہیں۔ چوتھے حسن خلقی اور حسن مصنوعی کا تفرقہ بڑے عمدہ طور پر دکھایا ہے۔ غرض جو کچھ شعراء کے سراپاؤں میں ہے وہی حسن ہے اور یہ جو آپ نے پوچھا کہ لوگوں کو اس قدر فریفتگی حسن کے ساتھ کیوں ہے تو یہ میرے نزدیک انسان کی طبیعت کا خاصا ہے اور اس کے واسطے سوائے اس کے کہ آدمی کی طبیعت ہی خلقتاً حسن کی طرف راغب واقع ہوئی ہے اور کوئی وجہ درکار نہیں۔

آپ کا یہ سوال بجنسہ اسی طور کا ہے جیسے کوئی پوچھے کہ کہربا گھاس کو اور مقناطیس لوہے کو کیوں کھینچتا ہے یا آگ کیوں جلاتی ہے۔

عارف: شعراء نے جو خیالات سراپاؤں میں ظاہر کیے ہیں، آپ کو سمجھ میں آتا ہے کہ ان کا ماخذ کیا ہے۔

مبتلا: میرے نزدیک ان تمام خیالات کا ماخذ وہی طبیعت انسانی ہے جو حکم کرتی ہے کہ اس عضو کو اس وضع اور اس ساخت اور اس انداز کا ہونا چاہیے۔

عارف : ہاں۔ لیکن اگر یہ خیالات طبعی ہوتے تو ضرور تھا کہ سب آدمیوں کے ایک ہی طرح کے ہوں۔ کیوں کہ آدمی آدمی انسانیت میں سب یکساں ہیں تو اس کے یہی معنی ہیں کہ طبیعت انسانی یکساں ہے اور طبیعت یکساں ہوتی تو چاہیے تھا کہ سب کے تقاضے یکساں ہوں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں جو ایک کے نزدیک مطبوع ہے۔ دوسرے کے نزدیک مکروہ۔ مثلاً بڑی خوبصورتی رنگ کی ہے۔

کہتے بھی ہیں ایک رنگ ہزار ڈھنگ، لیکن رنگ کے بارے میں مذاق اس قدر مختلف ہیں کہ گورا، سرخ و سفید، گندم گوں۔ متلح، چمپئی وغیرہ کتنی قسم کے رنگ ہیں۔ جن کے پیچھے ہمارے ملک کے لوگ سر دھنتے ہیں۔

لیکن فرض کرو کہ ان رنگوں میں سے کسی رنگ کا آدمی افریقہ میں جا نکلے تو وہاں اس کی کیسی قدر ہو گی جیسی کہ ہمارے یہاں جذامی کی یامبروص کی۔ افریقہ کے باشندے بھی آدمی ہیں ان کی طبیعتوں میں بھی ایسے ہی جوش اور ایسے ہی ولولے پائے جاتے ہیں۔

عشق و محبت ان میں بھی ہے۔ ان میں بھی حسین ہیں مگر ان کے سراپا تمہارے سراپا سے بالکل مختلف۔ خاص خاص اعضاء کی نسبت بھی مذاقوں کے اختلاف کا یہی حال ہے۔ ہم پسند کرتے ہیں بالوں کی سیاہی جس کو ہمارے شعراء تشبیہہ دیتے ہیں، شب دیجور سے، کالی گھٹا سے، مارسیاہ سے، عاشق کی تیرہ بختی سے، ظلمات سے، اور اہل یورپ چاہتے ہیں بھورے سے بال، سونے سے ہم رنگ۔

ہم ڈھونڈتے ہیں آنکھ ہوتی چور جس کی پتلی سیاہ ہو صاحب لوگ نیلی کرمجی چینیوں کی نسبت مشہور ہے کہ کمانیاں چڑھا چڑھا کر ناک کو بیٹھا چھوڑا کیونکہ ان کے نزدیک ناک کی اٹھان سے چہرہ ناہموار ہوتا تھا۔ عورتوں کے پاؤں کو کیسا شکنجے میں کسا کہ کھڑے ہونے سے ان کا مرکز ثقل ہی ٹھکانے پر نہیں رہتا۔ ناچار گر گر پڑتی ہیں۔ ہمارے یہاں دانتوں کا وصف ہے صفائی اور چمک۔

چینیوں میں تیرگی اور سیاہی افریقہ میں عورتیں دانتوں کو سوہن کرا کے آرے کا ہم شکل بناتی ہیں۔ انگریزنیاں ساری دنیا کی عورتوں پر ہنستی ہیں کسی کے گہنے پر کسی کے لباس پر کسی کے پاؤں کی بندش پر کسی کے بناؤ سنگھار پر اور خاص کر چینیوں پر اور ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان کی اصلی خوبصورتی اس کی قدرتی بناوٹ میں ہے۔ مگر جس وقت اپنی بہنوں پر جو دوسرے ملکوں کی رہنے والیاں ہیں ہنستی ہیں۔

ان کو اپنی کمر یاد نہیں رہتی۔ مختلف ملکوں کی تاریخیں اور جغرافیے پڑھو تو معلوم ہو کہ حسن کی نسبت لوگوں کے خیالات کس قدر مختلف ہیں۔ قومی اختلاف سے اتر کر شخصی اختلاف پر آؤ تو ہر جگہ وہی معاملہ ہے کہ لیلیٰ را بچشم مجنوں بایددید۔

غرض جہاں تک غور کیا جاتا ہے حسن کا کوئی مفہوم معین نہیں ٹھہرتا۔ پس مفہوم حسن کو انسان کا طبعی خیال سمجھنا غلط ہے بلکہ وہ ایک شخصی خیال ہے۔

مبتلا: یہ تو ایک لفظی بحث ہے۔ حسن کی نسبت میرا خیال طبعی یا شخصی ہو تو نتیجہ واحد ہے کہ مجھ سے بدون حسن کے صبر نہیں ہو سکتا۔

عارف: واہ واہ لفظی بحث کی بھی خوب کہی۔ اجی حضرت یہ تو علم الاخلاق کا ایک بڑا ضروری مسئلہ ہے۔ جتنی باتیں طبعی ہیں یعنی تقاضائے طبیعت انسانی سے سرزد ہوتی ہیں۔ کسی کے روکے رک نہیں سکتیں۔ ان کی تبدیلی میں کوشش کرنا محض لاحاصل ہے اور مطلق بے سود، مگر نہیں بلکہ افراد خاص اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔

اگرچہ ان ادعائی ضرورتوں کا تقاضا کبھی ضرورتوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی چونکہ تقاضائے طبیعت نہیں ہے اس کی شورش کو فرو اس کی تیزی کو مدھم کرنا ممکن ہے۔ مثلاً مطلق کھانا پینا تقاضائے طبیعت انسانی ہے اور کسی تدبیر سے یہ خواہش دفع نہیں ہو سکتی۔ مگر خاص قسم یا خاص ذائقے یا خاص کیفیت کے کھانے کا التزام تقاضائے طبیعت انسانی سے خارج ہے۔

جو لوگ شراب یا افیوں یا مدک یا چنڈو یا گانجے یا چرس یا تاڑی یا حقے یا کسی قسم کے نشے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ اس کی طلب میں ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں جیسے بھوبھل میں مچھلی تاہم یہ ایک ضرورت ہے جس کو ان کی طبیعت شخصی تقاضا کرتی ہے نہ طبیعت انسانی۔ اسی طرح خداوند تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے نوع انسان کے باقی رہنے کے لیے ایک قاعدہ ٹھہرا دیا ہے کہ دو طرح کے آدمی بنائے۔

مرد اور عورت اور دونوں کے لیے عمر کا ایک وقت مقرر کر دیا کہ جب اس حد پر پہنچیں تو دونوں میں از خود ایک دوسرے کی طرف رغبت پیدا ہو۔ بس یہاں تک اور صرف یہیں تک تقاضائے طبیعت انسانی ہے۔ جیسے مطلق غذا اور اس سے بڑھ کر جس طرف رغبت کرتا ہے، پورا یا ادھورا رند کے سراپا کا مصداق ہو کر از قبیل نشہ ہے۔ جہاں انسان کے اور ہزار ہا لغویات ہیں کہ شاید دس ہزار آدمیوں میں ایک بھی ان سے محفوظ نہیں۔ ایک طرح کی لغویات حسن پرستی بھی ہے۔ بھلا کوئی مجھ کو اتنا تو سمجھا دے کہ طبیعت انسانی جس رغبت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے اور رند کے یا کسی دوسرے شاعر کے سراپا سے کیا مناسبت۔

مبتلا: میں ایسا سمجھتا ہوں کہ اسی رغبت میں جس کا طبیعی ہونا آپ تسلیم کرتے ہیں۔ سراپا کو ایسا مدخل ہے جیسا غذا میں مسالے کو۔

عارف: بالکل غلط۔ مسالہ جزو غذا ہوتا ہے داخل غذا اور خود غذا۔

مبتلا: حسن کی نسبت آپ کی رائے تمام دنیا کی رائے کے خلاف ہے اور اگرچہ بادی النظر میں آپ کی دلیل لا جواب معلوم ہوتی ہے۔ مگر چونکہ فی الواقع ایک عالم فریفتہ حسن ہے اور ازاں جملہ میں بھی ہوں گو آپ کو قائل نہ کر سکوں۔

تاہم دل ہے کہ حسن کے تصور سے پگھلا جاتا ہے۔

عارف: اگر دنیا عبارت ہے ان لوگوں سے جن کو تمہاری طرح حسن پرستی کا خبط ہے تو بلاشبہ تمہارا کہنا درست ہے مگر زیادہ نہیں تو اپنی ہی معرفت کے مثلاً دس گھر معین کرو اور دیکھو کہ ان میں کتنے آدمی ہیں پھر ان میں اپنے جیسے عاشق مزاج منتخب کرو تب تم کو معلوم ہو کہ جنون عشق عالمگیر ہے یا نہیں اور ایک بات میں تم سے اور بھی کہتا ہوں کہ یہ تمام خرمستیاں پیٹ بھرے کی ہیں۔

دوسرے یہ روگ اکثر شہریوں ہی کو ہوتے دیکھا اور تم نے اپنے دل کا جو حال بیان کیا اس کو میں مانتا ہوں لیکن بُرا مت ماننا۔ مدرسے کے تمام طالب علموں میں تم سب سے زیادہ معروف و مشہور تھے مگر کس بات میں مدرسے کے چند آوارہ اور بد وضع نوجوان لڑکے تمہاری محبت کا دم بھرتے تھے اور انہوں نے گفتار سے کردار سے یہ بات تم پر ثابت کر دی تھی کہ تم بھی حسین ہو۔

آدمی فربہ شود از راہ گوش سنتے سنتے وہ خیال تمہارے ذہن میں راسخ ہو گیا۔ جب خود جوان ہوئے اس خیال کا پیرایہ بدل گیا:

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پربارے ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

مبتلا: آپ مولوی ہو کر آداب مناظر کا لحاظ نہیں رکھتے۔ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ حسن کی نسبت لوگوں کے خیالات طبعی نہیں بلکہ شخصی ہیں اور اس دعویٰ کے اثبات میں آپ میری خاص حالت سے استدلال کرتے ہیں۔

دعویٰ عام ہے اور دلیل خاص۔ دنیا میں ہزار ہا آدمی حسن پرست ہیں تو کیا سب کی حسن پرستی کا یہی سبب ہو سکتا ہے کہ میری طرح وہ بھی حسین ہیں۔

عارف: تم نے اچھی طرح خیال نہیں کیا۔ جیسا میرا دعویٰ عام ہے۔ ویسی ہی میری دلیل بھی عام ہے اور تمہارا تذکرہ تمثیلاً تھانہ استدلالاً میری دلیل یہ ہے کہ حسن کی نسبت مختلف ملک کے باشندوں اور مختلف قوموں اور مختلف شخصوں کے مذاق مختلف ہیں اور اگر طبعی ہوتے تو مختلف نہ ہوتے۔

مبتلا: آپ کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ مقتضیات طبیعت انسانی تمام دنیا میں یکساں ہیں۔ مگر میرے سمجھنے میں تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔ میں دیکھتا ہوں کہ روئے زمین کے مختلف قطعات میں مختلف طور پر کی آب و ہوا اور مختلف طور کی پیداوار ہے اور آب و ہوا اور پیداوار کے اختلاف سے باشندوں کے طبائع کا مختلف ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ بعض ملکوں کے لوگ آرام طلب ہوتے ہیں او ربعض کے جفاکش۔

بعض کے غصیلے زودرنج بعض کے متحمل اور بردبار، بعض کے بہادر دلیر بعض کے بزدل ڈرپوک بعض کے سیدھے سادھے بعض کے مفسد چالاک اور بایں ہمہ یہ سب خصائص طبعی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح حسن کی نسبت لوگوں کے مذاق چاہے مختلف ہوں مذاقِ حسن پھر بھی طبعی ہی کہا جائے گا۔

عارف: جن خصائص کے اختلاف پر تم مذاقِ حسن کے اختلاف کو قیاس مع الفارق کرتے ہو وہ خصائص طبعی اور کیمیائی ہیں۔

آب و ہوا اور غذا کی حرارت اور برودت اور رطوبت اور پیوست خون پر اثر کرتی ہے۔ گرم ملکوں کے لوگوں کے مسامات کشادہ، خون گرم اور رقیق اور اس کی گردش تیز اور سرد ملکوں میں اس کے بالکل خلاف اور یہی وجہ ہے کہ گرم ملکوں کے لوگ آرام طلب، غصیلے اور بزدل اور ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن آب و ہوا کو اس طرح کا دخل مذاق حسن میں ہو نہیں سکتا اور اگر ہے تو اس کا ثابت کرنا تمہارا کام ہے۔

ہاں اگر یہ کہو کہ بعض گرم ملکوں کے لوگوں میں تو الدوتناسل کی رغبت جلد پیدا ہوتی ہے یا وہ لوگ اس رغبت پر زیادہ حریص ہوتے ہیں تو میں اس کو مانتا ہوں۔ کیونکہ مطلقاً اس رغبت کا طبعی ہونا مجھ کو تسلیم ہے، رہی عجلت اور حرص دونوں حرارت کے آثار کیمیائی ہیں۔ مگر ہر پھر کر وہی بات آئی کہ اس رغبت طبعی کو شاعروں کے سراپا سے کہ وہی حسن ہے کیا تعلق؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے کسی عضو کو بسبب بے غرض بے مطلب کیوں اچھا یا برا کہہ سکتا ہے۔

مثلاً تمہاری ناک سے اگر کسی کی کوئی غرض متعلق ہو سکتی ہے تو وہ تم ہی ہو کہ تم اس سے سونگھتے یا سانس لیتے ہو۔ اگر تمہاری ناک تمہارے کام اچھی طرح دیتی ہے تو وہ اچھی ہے مگر تمہارے لیے۔ میرا کون سا مطلب تمہاری ناک سے اٹکا ہے کہ میں اس کو اچھا یا برا سمجھوں اور یہی حال ہے تمام سراپا کا جس کے پیچھے رند نے جز کے جز سیاہ کیے ہیں۔ غرض تم کو دو باتیں ثابت کرنی چاہئیں۔

اول یہ کہ مذاق حسن تقاضائے طبیعت انسانی ہے۔ دوسرے یہ کہ توالدوتناسل کی رغبت طبعی میں اس کو دخل ہے۔

مبتلا: کبھی تو میں اس بات کو سوچ رہا ہوں کہ لوگوں میں مذاقِ حسن مختلف کیوں ہیں؟

عارف: میں نے ان باتوں کو برسوں سوچا ہے۔ آخر اس بات سے دل کو تسلی ہو گئی کہ حسن صورت فی نفسہ کوئی چیز نہیں پھر یہ خیال پیدا ہوا تو کہاں سے پیدا ہوا۔

پہلے ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا کہ شاید حسن کا ماخذ علم قیافہ ہو یعنی انسان کی روح اور جسم میں ایک تعلق ہے، ایسا کہ اعضاء کی ساخت اور وضع سے اس کے دلی خیالات اور اخلاق پر استدلال کیا جاتا ہے۔

لوگوں نے تجربے سے اس تعلق کو دریافت کر کے جمع کیا۔ علم قیافہ کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے اعضاء کی بناوٹ سے اس کے خصائص طبیعت کو پہچان جاتے ہیں۔ عجب نہیں کہ اعضاء کی جو وضع محاسن اخلاق پر دلالت کرتی ہو۔ اس کو اچھا سمجھنے لگے ہوں۔ لیکن جن لوگوں کے حسن کا بڑا چرچا ہے۔ ان کو دیکھا تو من حیث الاخلاق سب سے بدتر پایا۔ معلوم ہوا کہ علم قیافہ تو حسن کا ماخذ نہیں ہو سکتا۔

آخر غور کرتے کرتے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جس طرح اب لوگوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ اور شریف اور وضیع اور خواص اور عوام کا تفرقہ ہے۔ ایسا ہی ابتدائے دنیا میں سب لوگ تو یکساں حالت میں نہیں رہے ہوں گے۔ جسمانی قوت یا اعوان و انصار کی کثرت یا کسی دوسری وجہ سے بعض لوگ ضرور اکابر قوم سمجھے جاتے ہوں گے اور قاعدہ یہ ہے کہ جس کو انسان اپنے سے بہتر اور برتر سمجھتا ہے۔

اس کی سبھی باتیں اس کو بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ یوں سب سے پہلے حسن کا خیال پیدا ہوا تو عجب نہیں اور پھر تو مثل دوسرے خیالات کے یہ خیال بھی متوارث ہوتا چلا آیا اور یہی سبب ہے ملکوں میں مذاق حسن کے مختلف ہونے کا کہ ہر ملک میں جو شخص سب سے بہتر اور برتر تھا لوگوں نے اس ہی کو نمونہ حسن قرار دے لیا۔ تم نے نپولین شاہ فرانس کی تصویر تو دیکھی ہو گی۔

اس کی داڑھی تھی چگی اور داڑھی کی خوبصورتی ہے بھری ہوئی گول مگر نپولین کے دیکھا دیکھی سارے فرانس نے اپنی داڑھیاں چگی کر لیں اور اسی کو شعار خوبصورتی ٹھہرا لیا اور چگی داڑھی کا نام رکھا امپیریل بیرڈ یعنی شاہانہ داڑھی۔ ہم لوگوں میں جو انگریزی وضع کھانے میں پینے میں لباس میں نشست و برخاست میں طرزِ تمدن میں ہر چیز میں وبا کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔

اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ انگریز ہیں وقت کے حاکم اور ان کی تمام ادائیں خوشنما لگتی ہیں اور ہم لوگوں کے مذاق ہیں کہ دن بدن انگریزی طور کے ہوتے چلے جاتے ہیں بغیر خلقت تو اختیاری بات نہیں مگر رفتہ رفتہ مہندی اور وسمے کے عوض ہمارے یہاں کے بڈھے انڈے کی زردی کا خضاب تو ضرور کرنے لگیں گے۔ حسن کی نسبت شخصی مذاقوں کی تاویل چنداں مشکل نہیں۔ ایک شخص میں تمام محاسن صورت کا جمع ہونا تو کمیاب ہے۔

اکثر یوں ہی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے حسینوں میں بھی دوچار نقص ضرور ہوتے ہیں۔ اب یہ پسند کرنے والے کی تجویز پر منحصر رہا کہ چاہے جس پہلو کو ترجیح دے۔ بعضے رنگ پر مرتے ہیں اور بعضے نقشے کی نزاکت پر نظر کرتے ہیں۔ بعض حسن داد کے خریدار ہیں اور بعض دام زلف کے گرفتار۔

مبتلا: حسن اگر خصائص انسانی سے ہوتا تو جو ماخذ آپ نے بیان کیا بلاشبہ قابلِ تسلیم تھا۔

جمادات نباتات حیوانات غرض تمام موجودات میں کوئی چیز حسن سے خالی نہیں۔ والد مرحوم زندہ تھے کہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انہوں نے ناظر بھائی کو گرمیوں کے دنوں میں نینی تال بھیجا اور مجھ کو ان کے ساتھ کیا تو پہاڑ دھندلا دھندلا کئی منزل سے نظر آتا تھا مگر تین چار کوس کے فاصلے سے تو ہم اس کو اچھی خاصی سموچا دیکھنے لگے۔ وہ صبح کا وقت اور پہاڑ کی چوٹیوں پر سفید براق برف گویا سنگھار میز پر بڑا قد آدم آئینہ لگا ہے کہ آفتاب سوتا اٹھ کے پہلے شبنم سے منہ دھوئے اور پھر اپنا چہرہ اس آئینے میں دیکھے اور چوٹیوں کے گردا گرد جب شفق کی سرخی اور دامانِ کوہ کی سبزی پر آنکھ پڑتی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک نازنین گلابی دوپٹہ اوڑھے اور ہری پشواز پہنے غور سے کھڑی ہوئی آس پاس کی چیزوں کی سیر دیکھ رہی ہے۔

شروع میں تھوڑی دیر تک تو اس کا شعور تھا کہ واقع میں پہاڑ ہے اور ہماری قوت متخیلہ نے اس کو نازنین اور شفق و سبزے کو اس کا لباس بنا لیا ہے۔ مگر آفتاب کی کرن نکلتے ہی اوپر برف کے کنارے اور نیچے ندی نالے سارے جگمگا اٹھے جیسے عباس سچا گوٹا۔ اب تو جو خیال تھا وہ حقیقت الحال ہو گیا، قوتِ نامیہ کا ہر طرف یہ زور و شور کہ ایک چپہ بھر جگہ سبزئہ خودرو سے خالی نہیں۔

شاعر تو سبزے کو خوابیدہ باندھتے ہیں مگر وہاں کا سبزہ بیدار۔ ہوا کے جھونکوں سے ہر وقت متموج۔ بلاتصنع اس وقت تو یہی خیال میں آتا تھا کہ ہوا کے گدگدانے سے پہاڑ کے پیٹ میں ہنسی کے مارے بل پڑ پڑ جاتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں سے پگڑی سنبھال کر درختوں کو دیکھو تو ایسا شبہ ہو کہ آسمان کی چھت بہت پرانی ہو چکی تھی۔ شاید اس کی دراڑیں ہیں۔ رنگ رنگ کے جانور پھدک پھدک کر اِدھر سے اُدھر اس طرح اڑتے پھرتے تھے کہ گویا جگہ جگہ چوتھیاں کھیلی جا رہی ہیں غرض ہر چیز پر ایک قدرتی جوبن تھا کہ جی بے اختیار لوٹا چلا جاتا تھا۔

ایسے کسی موقع پر آپ کے جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو معلوم ہو کہ حسن ایک کیفیت خداداد ہے۔ ہر جگہ ہے اور ہر چیز میں ہے۔ اسی نینی تال کے راستے میں ایک ندی ملی تھی۔ دنیا کی تمام صنعتیں تمام دست کاریاں جس غرض سے ہیں، صرف اتنی ہی بات کے لیے کہ چیزوں میں حسن پیدا ہو۔ کسی انگریزی شاپ (دکان) میں میرے ساتھ چلیے۔ تو میں آپ کو دکھا دوں کہ صرف مکان کی آرائستگی کے لیے کیسا کیسا، اسباب انگریزوں کی ولایت سے بن کر چلا آرہا ہے۔

زندگی کے تمام سازوسامان میں کون سی چیز ہے جس میں خوبی نہیں اور یوں آدمی آنکھوں پر ٹھیکری دھر لے اور ہدایت کا انکار کرے تو اس کا علاج نہیں۔ حسن کو تقاضائے طبیعت ماننا آسان ہے یا ایک عالم کو مجنوں اور مبتلائے خبط۔

عارف: بات کو بہت طول ہوتا جاتا ہے اور حجت اور تقریر سے لکھی کسی بات کا تصفیہ ہوا نہیں اور مدت العمر کے جمے ہوئے خیال کا دفعتاً دل سے نکالنا بھی مشکل۔

میں تم کو اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا ہے۔ اس کو مختلف اوقات میں تم خود سوچو اور میں نے بھی یہی کیا تھا کہ مدتوں خود غور کرتا رہا۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ آخر کار تم میری رائے کے ساتھ اتفاق کرو گے یا نہ کرو گے مگر اس کا تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ انشاء اللہ تمہاری یہ شورش تو ضرور فرو ہو جائے گی جس طرح تم دوسری چیزوں کا استحسان کرتے ہو۔

یعنی مثلاً نینی تال کی سیر سے تمہاری طبیعت کی ایک طرح کی تفریح ہوئی اگر اسی طرح کی تفریح تم کو خوبصورت آدمی کے دیکھنے سے ہو تو اس میں میرے نزدیک کوئی اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس استحسان کو تم تقاضائے طبیعت بھی سمجھو تو چنداں مضائقہ نہیں مگر دل میں انصاف کرو کہ اس استحسان کو اس استحسان کے ساتھ کیا مناسبت اور فرض کرو کہ استحسان مردم یعنی حسن پرستی جیسا تم کہتے ہو تقاضائے طبیعت انسانی ہی سہی تو طبیعت انسانی کے اور بہت سے تقاضے ہیں مگر چاروناچار ان کو روکنا اور ضبط کرنا پڑتا ہے۔

سب میں زیادہ شدید تقاضا غذا کا ہے۔ تاہم بعض اوقات طبیب حکم دیتا ہے کہ فاقہ کرو اور فاقہ کرتے ہیں۔ یا غریب آدمی کو ایک وقت کھانا میسر نہیں آتا اور وہ انتڑیوں کو مسوس کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح تقاضائے حسن پرستی مطلق العنان تو رہ نہیں سکتا۔ حسن کمیاب اور اس کے خواہاں بہت۔ معشوقوں کے غمزہ و ادا سے شہید ہونے کا انتظار بھی کریں یا آپس ہی میں رقابت کی وجہ سے لڑ مریں اور مشکل یہ ہے کہ کمیابی ٹھہری شرط حسن۔

کیونکہ اگر حسین کثرت سے ہوں تو بے قدر ہو جائیں۔ کوئی اس کی طرف رغبت بھی نہ کرے، پس حسن پرستی فی نفسہ ایسی خواہش ہے کہ ہزار خواہشوں میں ایک کی کامیابی کی بھی توقع نہیں۔ تو کیوں آدمی ایسی حالت اپنے پیچھے لگائے کہ اس سے سوائے رنج کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے۔ موقع پر آئی ہوئی بات کہنی پڑتی ہے تم کو معلوم ہے کہ واقعی اور ادعائی ضرورتوں کی شناخت کیا ہے۔

قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز جس قدر زیادہ سہولت سے میسر آسکتی ہے۔ بس جان لو کہ ہم کو اسی قدر زیادہ اس کی حاجت ہے۔ مثلاً ہوا اور پانی اور غلہ سب ضرورت ہی کی چیزیں ہیں۔ غلے سے زیادہ پانی اور پانی سے زیادہ ہوا مگر ہوا سب سے زیادہ سہل الحصول ہے۔ پانی اس سے کم اور غلہ اس سے بھی کم۔ اسی طرح لوہا اور چاندی اور سونا اور موتی اور جواہرات۔ سب سے زیادہ بکار آمد لوہا ہے اور اسی کی زیادہ افراط ہے۔

پس حسن اگر حقیقت میں ہم کو درکار ہوتا تو ضرور تھا کہ اس کی افراط بھی ہوتی اور افراط ہوئی تو پھر حسن کہاں۔ حسن تو اسی وقت تک حسن ہے کہ اس کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہوں۔

مبتلا: آپ کا یہ فرمانا بالکل ٹھیک ہے کہ حسن کمیاب ہے اور جو ہے اس پر دسترس کا ہونا مشکل۔ میں اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ آپ تشریف لائے مگر دنیا کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی مشکلیں پیش آتی ہیں اور یہ تو وہ لذتیں ہیں کہ دنیا کے سارے مزے اس کے آگے ہیچ ہیں۔

بلکہ میں تو ایسا سمجھتا ہوں کہ جب تک لذتِ حسن کا شمول نہ ہو دنیا کی کسی چیز میں کوئی مزہ ہی نہیں تو ایسے عمدہ مطلب کے حصول میں اگر جان تک بھی جوکھوں میں ہو تو کیا مضائقہ۔ اتنا خدا کا شکر ہے کہ دوسروں کو محال ہے اور مجھ کو آسان۔

عارف: کیوں تم میں خصوصیت کیا ہے، کیا تم کہیں کے حاکم ہو یا تمہارے یہاں کچھ دولت پھٹ رہی ہے۔

مبتلا: بس آپ کے نزدیک تو دنیا میں حکومت اور دولت دو ہی چیزیں ہیں۔ اجی حضرت میں حسن کی دولت رکھتا ہوں۔ اب چند روز ہوئے چچا باوا کے لحاظ سے میں نے آنا جانا چھوڑ دیا۔ ورنہ شہر میں ایسا کون نازنین ہے جو مجھ کو پیار نہیں کرتا۔ ذرا میرا رخ دیکھیں تو گلے کی ہار ہو جائیں۔ مجھ کو حسن کی کیا کمی ہے۔ آج چاہوں تو ایک ریوڑ پال لوں۔

عارف: میں تو سمجھتا تھا کہ تم کچھ عقل رکھتے ہو اب معلوم ہوا کہ عقل اور حیا اور غیرت اور عزت اور آبرو اور مذہب کسی چیز سے تم کو بہرہ نہیں اور تمہاری حالت بڑی خطرناک حالت ہے۔

تم تو جناب میرمتقی صاحب کے پاس برسوں رہو تب کہیں جا کرآدمی بنو تو بنو۔ تمہاری عقل کا تو یہ حال ہے کہ ابھی تک خوبصورتی کا خبط تمہارے سر سے نہیں نکلا۔ تم بات بات میں اس طرح منہ بھربھرا کر اپنے تئیں حسین اور خوبصورت کہتے ہو کہ گویا حسن صورت بڑا جوہر ہے۔

مرد ہو کر تم کو عورتوں کے ہنر پر ناز کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ خوبصورتی کے خیال سے کچھ تم ہی اپنے دل میں خوش ہوتے ہو گے۔

مگر غیرت مندوں کی نظر میں تو اس گورے چمڑے نے سارے خاندان کی عزت ڈبو دی اور تم کو دنیا اور دین دونوں کے کام سے کھو دیا اور خیر جوان ہوئے پیچھے وہ کم بخت خوبصورتی گئی گزری ہوئی تھی تو بچپن کے اس خیال کو جانے دیا ہوتا۔ نہیں وہ خبط ہے کہ بدستور تازہ ہے۔ منہ پر داڑھی نکل آئی۔چہرہ پکا ہو گیا۔ وہ رنگ و روغن وہ نرمی و نزاکت کوئی چیز باقی نہیں رہی۔

مگر خدا جانے وہ تمہاری خوبصورتی کس چیز سے عبارت ہے کہ اس میں فرق نہ آیا۔ شہر کے نازنینوں کا حال تو معلوم نہیں مگر مدرسے میں جو تمہارے چاہنے والے تھے۔ وہ تمہارے رہتے ہی ایک ایک کر کے تم سے بے رخی کرنے لگے تھے اور کیا تم اس کا امتیاز نہ ہوا ہو گا اور جب تمہاری وہ لڑکپن کی کیفیت بدل گئی کہ خیر وہ ایک طرح خوبصورتی تھی بھی، تب بھی مرد خدا تم کو تنبیہہ نہ ہوئی کہ کیا ایسی بے ثبات اور ناپائیدار چیز کے درپے ہونا جو آج ہے اور کل نہیں۔

یہ کیفیت جو تم میں اب ہے اگرچہ اس کو خوبصورتی سمجھنا تمہارا ہی ادعا ہے مگر بُری یا بھلی جیسی ہے اسے تو قیام ہو جس نے تم کو بچپن میں دیکھا ہے اب سے چار برس بعد پہچاننے کا بھی تو نہیں کہ یہ وہی مبتلا ہے یا دوسرا شخص ہے۔ میرے نزدیک تو خوبصورتی کا دعویٰ اب بھی تم کو زیب نہیں دیتا مگر ایک وقت آنے والا ہے تو اس کو آیا ہوا سمجھو جب کہ تم خود پکار اٹھو گے:

دریغا کہ عہد جوانی برفتجوانی مگو زندگانی برفت

ذرا خیالات کو اونچا کرو۔

نظر کو تھوڑا آگے بڑھاؤ۔ یہ خواہشیں جن کا تم اس قدر اہتمام کر رہے ہو، خدا نے گدھے، کتے، بندر، سوٴر، ذلیل سے ذلیل جانوروں کو بھی دی ہیں۔ بلکہ جانوروں میں یہ قوتیں آدمی سے بہت زیادہ ہیں۔ کیا آدمی کے لیے شرم کی بات نہیں کہ جانوروں کی ریس کرنے پر حریص ہو تم کو اس بات پر بڑا گھمنڈ ہے کہ نازنینان شہر یعنی بازاری عورتیں تم کو پیار کرتی ہیں۔

یہ جھوٹی رکابیاں، یہ چچوڑی ہوئی ہڈیاں یہ کھائی ہوئی قلفیاں کسی بھلے مانس کی غیرت تقاضا کر سکتی ہے کہ ان کو منہ لگائے یا پاس بٹھائے۔ نری خوبصورتی کو اگر ہو بھی لے کر کیا آگ لگانی ہے۔ جب کہ ان میں شرم و حیا نہیں، مہر و وفا نہیں۔ عفت و عصمت نہیں۔ غیرت و حمیت نہیں۔

مبتلا: میں نے تو ان لوگوں کا تذکرہ آپ سے صرف اس غرض سے کیا تھا کہ میں حسن کی خواہش کروں۔

تو غالباً میرے لیے اس کا بہم پہنچنا کچھ دشوار نہ ہو گا۔ کیونکہ میں ان لوگوں کو اپنی طرف بھی مائل پاتا ہوں۔ مجھے دوسرا ذریعہ تقریب درکار نہیں۔ جس دن چچا باوا تشریف لائے میں نے ان لوگوں سے ملنا جلنا قطعاً موقوف کر دیا اور آئندہ بھی میرا ارادہ ان لوگوں سے ملنے جلنے کا ہرگز نہیں۔ چچا باوا کے آنے کا تو مجھ کو ایک حیلہ ہاتھ لگ گیا ورنہ میں نے تھوڑے ہی دنوں کے اختلاط میں ان لوگوں کو خوب آزما لیا۔

بِک گیا، برباد ہو گیا چچا باوا نہ ہوتے تو فاقوں پر نوبت پہنچ چکی تھی۔ مگر حقیقت میں عجب بے مروت قوم ہے، چندے کے بندے اور دام کے غلام۔ اس میں شک نہیں کہ مجھ کو پیار بھی کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ لے بھی مرتے ہیں۔

عارف: الحمدللہ۔ میرا جی یہ سن کر بہت خوش ہوا کہ تم کو اس نالائق گروہ سے تو نفرت ہوئی اور میں تو بھائی اس کو جناب میر صاحب کا تصرف سمجھتا ہوں۔

مبتلا: خیر جو کچھ ہو مگر حسن پرستی کی کسک میرے دل میں باقی ہے وہ نہیں نکلتی۔

عارف: اب بہت دیر باتیں ہوئیں۔ آدمی کے دل کا حال ہر وقت یکساں نہیں رہتا۔ انشاء اللہ پھر کسی دن موقع دیکھ کر گفتگو کریں گے۔ اس اثناء میں تم بھی وقتاً فوقتاً سوچنا اور غور کرنا اگرخدا کو منظور ہے تو خود تمہارے ہی دل سے کوئی نہ کوئی بات ایسی پیدا ہو گی کہ اس سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔

اتنی بات تمہارے کان میں اور ڈالے دیتا ہوں کہ دنیا کے تمام معاملات کا مدار خیالات پر ہے۔

برخیالے صلح شان و جنگ شانبرخیالے نام شان و ننگِ شان

ایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ ایک غرض کے پیچھے دیوانہ بن رہا ہے اور اسی جیسے ہزاروں لاکھوں آدمی ہیں کہ اس غرض سے مطلق سروکار نہیں رکھتے۔ زندگی کے دن پورے کرنے کو گنتی کی چند چیزیں درکار ہیں اور ان کے بہم پہنچانے کے لیے کچھ زیادہ زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

صائب نے کیا خوب کہا ہے:

حرص قانع نیست صائب ورنہ اسباب جہاںآنچہ من درکار دارم بیشتر درکار نیست

اور جب دوسرے لوگ ہمارے ہی ابنائے جنس ایک چیز کے بغیر خوش و خرم رہ سکتے ہیں۔ تو اس سے بخوبی ثابت ہے کہ حقیقت میں وہ چیز داخل ضروریاتِ زندگی بلکہ داخل تفریحات بھی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ایک طرح پر خیال کیا اور اس چیز پر غالب آئے اور ہم نے دوسری طرح پر سوچا اور مغلوب ہو گئے۔

یوں تو سوچنے اور غور کرنے کو ہزار باتیں ہیں مگر تمہاری حالت کے واسطے موت کا تصور کرنا بالخاصہ مفید ہے۔ اگر دن رات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی آدمی اپنے تئیں مرتا ہوا فرض کر لیا کرے اور یہ تو یقینی ہے کہ ایک نہ ایک دن سچ مچ اس کو مرنا ہو گا۔ تو دنیا کی بہت سے ترغیبات سے محفوظ رہ سکتا ہے اور چونکہ دینداری کے خیالات ابھی تمہاری طبیعت میں راسخ نہیں ہوئے۔ موجبات ترغیب کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ سارا کیا کرایا دم کے دم میں اکارت ہو جائے گا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.