
Chapter 18 of 31
Mubtala after Mir Muttaqi's Departure
سولہواں باب: میرمتقی کے بعد مبتلا کی حالت
مبتلا کی تو اس وقت بعینہ ایسی مثال ہو گئی کہ ایک مریض مرض مہلک میں گرفتار ایک طبیب حاذق نے اس کا علاج شروع کیا ارادہ تھا کہ منبضح ہوں۔منبضحوں کے بعد مسہل۔ مسہلوں کے بعد تبرید پھر معجونات کا استعمال کرایا جائے۔ ابھی ابتدائی مرحلے بھی پورے نہ ہونے پائے تھے کہ طبیب صاحب تشریف لے گئے۔
سید حاضر اگرچہ اس کا پھوپھی زاد بھائی تھا مگر رشتہ داری کے جھگڑوں کے سبب ایک دوسرے کے ساتھ اُنس نہ تھا۔ رہ گئے میاں عارف مولوی تھے حکیم تھے، شگفتہ خیال تھے سب کچھ تھے مگر مبتلا کے چچا نہ تھے۔ مبتلا کو ان کا کیا لحاظ اور ان کو مبتلا کا کیا درد، پھر بھی بے چارے نے خدا ان کو جزائے خیر دے۔
میرمتقی کے کہنے پر اتنا تو کیا کہ پیر کے پیر جمعے کے جمعے مبتلا کے پاس آتے اور گھنٹے دو گھنٹے بیٹھ کر چلے جاتے، اسی طرح مبتلا بدھ کے بدھ اور اتوار کے اتوار عارف کے گھر جاتا اور یوں ایک دن بیچ دونوں کی ملاقات کا سلسلہ بندھ گیا اس سے اتنا تو ہوا کہ مبتلا کے پرانے یار دوستوں کو اس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا اور جس دُھرّے پر چچا نے اس کو لگا دیا تھا، اس پر تھوڑا چلا، سست چلا، بدیرچلا، دین داری میں اگر سچ پوچھو تو مبتلا نے ترقی نہیں کی مگر اس کا سنبھلا رہنا بھی غنیمت ہوا کہ پھر اس نے آوارگی نہیں کی، وہ نماز بھی پڑھ لیتا تھا مگر گنڈھے دار۔
اب دین کی باتوں کا اگر اہتمام نہیں کرتا تھا تو پہلے کی طرح ان پر ہنستا بھی نہ تھا، اس کی ظاہری وضع میں بھی اگلی سی سخاوت باقی نہ تھی۔
جب سے باپ مرے اس نے گھر میں سونا بالکل چھوڑ دیا۔ چچا کے آنے سے وہ پھر گھر میں سونے لگا تو ان کے چلے جانے کے بعد وہی معمول رکھا۔ غرض مبتلا دین دار نہیں تو ایک خانہ دار بھلا آدمی بن گیا تھا جیسے اکثر لوگ ہوتے ہیں مگر حسن پرستی کی ہڑک ہر روز دو ایک بار اس کو ابھرتی رہتی تھی۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.