
الفصل 12 من 31
Hazir Agrees to Give His Sister Her Share, and Nazir Takes Offence
دسواں باب: حاضر بہن کو حق دینے پر آمادہ اور ناظر کی رنجش
میر متقی کے چلے جانے کے بعد بھی سید حاضر دیر تک سکتے کے عالم میں تھا، اپنے یہاں کے معاملات میں سے جس معاملے پر نظر کرتا تھا کسی کو دخل فساد سے اور اتلاف حقوق العباد سے خالی نہیں پاتا تھا۔ جن باتوں پر اس کو بڑا ناز تھا۔ اب اس کی نظر میں نہایت ذلیل اور پاجی پن کی دلیل معلوم ہوتی تھیں۔
وہ گھبرایا ہوا دالان میں ٹہل رہا تھا اور اس قدر بیقرار تھا کہ جاڑے کے دن اور شام کا وقت اس کو پسینے پر پسینے چلے آتے تھے اور دیکھتا تھا کہ کھانا اور پینا اور اوڑھنا اور بچھونا اور سازوسامان اور مال و متاع اور نقد و جنس غرض کہ اپنا گوشت پوست کوئی چیز بھی لوث حرمت سے پاک نہیں پاتا تھا کہ بدکرداری اور بد معاملکی ہماری برادری اور ہمارے خاندان میں نسلوں سے چلی آتی ہے۔
اگرچہ حاضر و ناظر دونوں باپ کے مرنے سے معاملات کرنے لگے تھے مگر حاضر نے احتساب کیا تو اتنے ہی دنوں میں کئی صد مظلمے ان کے نامئہ اعمال پر چڑھ چکے تھے اور ان میں اکثر ایسے تھے جن کا تدارک محال تھا اور تلافی ناممکن۔ ہم کو حاضر کی اتنی بات سے تعلق ہے کہ جہاں اس کو اپنے وقت کے اور بہت سے معاملے یاد آئے ان میں سے ایک معاملہ غیرت بیگم کا تھا۔
اگرچہ غیرت بیگم کے معاملے میں ابتداءً تحریک ناظر کی طرف سے ہوئی اور کسی کو اس میں زیادہ اصرار بھی نہیں تھا۔ مگر پھر بھی حاضر کا اتنا قصور تو تھا ہی کہ بڑا بھائی ہو کر اس نے ناظر کو سمجھایا نہیں۔ غیرت بیگم کا خیال آنا تھا کہ فوراً گھوڑا کسا اور سوار ہو کر راتوں رات شہر میں ناظر کے مکان پر جا دستک دی۔
اگلے دن کسی مقدمے کی پیشی تھی اور ناظر آدھی رات تک گواہوں کی تعلیم اور کاغذات کی درستی میں مصروف تھا۔
ابھی اچھی طرح نیند بھری ہی نہ تھی کہ بھائی کی آواز سن کر چونک پڑا اور لگا پوچھنے خیر تو ہے آپ ایسے سویرے کیونکر آئے۔
حاضر: خیر ہے تم باطمینان وقتی ضرورتوں سے فارغ ہو تو میں اپنے آنے کی وجہ بیان کروں۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ تھوڑی دیر بعد جب دونوں بھائی ایک جا ہوئے تو حاضر نے پوچھا: چھوٹے ماموں آئے ہیں تم ان سے ملے۔
ناظر: ماموں کا آنا تو مجھے معلوم ہوا مگر میں ملا نہیں اور ملنے کا ارادہ بھی نہیں۔
حاضر: کیوں؟
ناظر: میں جانتا ہوں کہ وہ آپا کا جھگڑا ضرور نکالیں گے اور مجھ کو کسی طرح آپا کا حصہ دینا منظور نہیں بے فائدہ باتوں ہی باتوں میں تکرار ہو پڑے گا۔
حاضر: کیوں بے چاری غیرت نے ایسا قصور کیا کیا ہے، کیا وہ ہماری حقیقی بہن اور متروکہ پدری میں عند اللہ اور عند الرسول حقدار نہیں ہے۔ حاضر کے منہ سے یہ سوال سن کر ناظر کے کان کھڑے ہو گئے۔
آدمی تھا معاملہ فہم معاملہ شناس فوراً تاڑ گیا کہ بھائی ماموں سے ملے اور ماموں نے پٹی پڑھائی تو کہتا کیا ہے کہ اگر ماموں کوئی فتویٰ مکے سے لکھوا کر لائے ہوں تو اس کو اپنی قدوری میں چپکا رکھیں ان کو شاید یہ معلوم نہ ہو گا کہ یہاں شریف مکہ کا حکم نہیں چلتا انگریز بہادر کی عمل داری ہے۔ میں نے برسوں کی جستجو میں پریوی کونسل اور عدالت ہائے عالیہ ہائی کورٹ اور چیف کورٹ اور جوڈیشنل کمشنر کے فیصلوں اور میکناٹن سرہنری لاکی شرع محمدی سے وہ وہ نظائر اور احکام چھانٹ رکھے ہیں کہ اگر آپا سے جہیز واپس نہ کرا لوں تو سید نہیں چمار۔
حاضر کو بھی بھائی کی اس قدر خشونت دیکھ کر نہایت استعجاب ہوا کیونکہ اس نے آج تک حاضر کے رو در رو ایسی شوخ چشمی کے ساتھ کبھی بات نہیں کی تھی اور بولا کہ تم ماموں سے ناحق بدگمان ہوتے ہو میں ان سے ملا بے شک وہ اور تعزیت کے لیے سید نگر تشریف لے گئے۔
مگر غیرت بیگم کا نام تک ان بے چارے نے نہیں لیا اور افسوس ہے کہ تم نے ان کی شان میں خورد ہو کر اس قدر گستاخی کی اور وہ بھی غائبانہ پس تم نے ایک بزرگ کا حق تلف کیا۔
ناظر: انہوں نے آپا کا نام نہ لیا ہو گا۔ فرض کیا میں نے گستاخی کی تو قانون نے صرف ایک ہی گستاخی کو جرم قرار دیا ہے۔ یعنی حکم عدالت کے ساتھ گستاخی کرنا جبکہ وہ عدالت کا اجلاس کر رہا ہو اور ظاہر ہے کہ ماموں اس کے مصداق نہیں ہو سکتے۔ ناظر کے اس جواب سے حاضر کو سید متقی کی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ حکام ظاہر کے انتظام سے پورے طور پر حقوق العباد کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔
سید متقی کے وعظ سے سید حاضر کے خیالات دفعتہً اس قدر متاثر ہو گئے تھے کہ دونوں بھائیوں میں التیام کا ہونا محال تھا۔ ناظر اپنے اسی پرانے موروثی ڈھرے چلتا تھا کہ قانونی گرفت بچا کر جہاں تک اور جس طرح ممکن ہو اپنا فائدہ کرنا چاہیے، کسی کا حق تلف ہو تو مضائقہ نہیں، کسی کا دل دُکھے تو پرواہ نہیں، عاقبت تباہ ہو تو کچھ حرج نہیں اور سید حاضر کو اب اس بلا کا اہتمام تھا کہ ایک غیبت کو بھی وہ اتلافِ حق سمجھا، غرض یہ جو سنا کرتے تھے:
یاہم خدا خواہی ہم دنیائے دوںایں خیال ست و محال ست و جنوں
اب وہ معمہ حل ہوا کہ حقیقت میں وہ یہ دنیا ہے کہ جیسی ناظر کی تھی جس میں حلال و حرام کا امتیاز نہیں جائز و ناجائز کا فرق نہیں خدا اور رسول کا خوف نہیں، روز قیامت کا اندیشہ نہیں، ناظر کی اتنی ہی باتوں سے حاضر کو پورا یقین ہو گیا کہ اس کو سمجھانا اس کے ساتھ بحث کرنا محض بے سود اور لاحاصل ہے۔
اس پر قانون کی پھٹکار ہے اور اس کے سر پر چڑھا ہوا جن سوار ہے۔ اس لیے زیادہ رد و کد مناسب نہ سمجھ کر اس نے دو ٹوک بات ناظر کو سنا دی کہ تم اس کو ماموں کا اغوا سمجھو یا میری حماقت میں تو غیرت بیگم کا حق اب ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکھ سکتا۔
ناظر: دیکھیے ایسا کیجئے گا تو مجھ سے آپ سے بگاڑ ہو جائے گا۔
حاضر: اگر اتنی ہی بات پر کہ میں ایک حقدار کا حق مارنا نہیں چاہتا تم مجھ سے بگڑو تو تمہاری خوشی اگرچہ تمہارے بگڑنے کا مجھ کو سخت افسوس ہو گا مگر اس سے ہزار درجے زیادہ افسوس ہو گا اگر غیرت بیگم کا حق غصباً میرے پاس رہے۔
ناظر: یہ آپا کی خصوصیت کیا ہے۔
حاضر: خصوصیت پوچھو تو ہماری حقیقی بہن ہے۔ مگر ایصال حق کے لیے اس کی مطلق خصوصیت نہیں ہے انشاء اللہ تعالیٰ سب حق داروں کے ساتھ میں ایسا ہی معاملہ کروں گا۔
ناظر: تو آپ سیدھی بات یہی کیوں نہیں کہتے کہ آپ ترک دنیا پر آمادہ ہیں۔
حاضر: اگر مغصوبات کا واپس کر دینا تمہارے نزدیک ترک دینا ہے تو مجھے اس سے انکار نہیں۔
ناظر: بیٹھے بٹھائے یہ آپ کو ہوا کیا ہے پہلے تو میں ماموں کومولوی حاجی اور جیسا ان کا نام ہے متقی سمجھتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ تسخیر یا سحر کے بھی عامل ہیں۔
حاضر: ماموں کی شان میں تمہاری طرف سے یہ دوسری گستاخی اور دوسری غیبت اور دوسرا اتلافِ حق ہے۔
ناظر: میں آپ کو آگاہ کیے دیتا ہوں کہ یہ گھر کی تباہی کے سامان ہیں۔
حاضر: جس گھر کی آبادی دوسروں کے حقوق کے غصب کرنے پر موقوف ہو اس کا تباہ ہونا بہتر ہے۔
ناظر: تم نے انجام کار پر بھی نظر کر لی ہے۔
حاضر: انجام کار پر نظر کرنا ہی مجھ کو تو اس ارادے کا باعث ہوا ہے۔
ناظر: تو آپ مجھ کو بھی اپنے ساتھ برباد کرتے ہیں۔ کیسی کیسی تدبیروں سے میں نے ملکیت کو درست کیا۔ اب ایک ڈھنگ پر آچلی تھی تو آپ ساری عمارت کو جڑ بنیاد سے ڈھائے دیتے ہیں۔
حاضر: کیا تم نے مجھ کو مجنوں قرار دیا ہے یا مخبوط الحواس سمجھا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا ہے جو دیدہ دانستہ اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارے یا سمجھ بوجھ کر اپنے رہنے کے مکان میں آپ آگ لگائے فرق صرف اتنا ہی ہے کہ اس بات کا میں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ دنیا کو دین پر ترجیح نہ دوں اور جس دنیاوی فائدے میں دین کا ضرر ہے اس کا طمع نہ کروں۔ اگر ایسا کرنے سے میری دنیا برباد ہوتی ہو اور اگر مجھ پر دنیاوی تباہی آتی ہو تو آئے۔
جب میں نے دین کے خلاف دنیاوی فائدے کا لالچ نہ کیا تو دنیاوی نقصان کی میں کیا پرواہ کر سکتا ہوں۔ ناظر میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تمہارے فائدے بہت ہی عزیز رکھتا ہوں مگر وہیں تک کہ وہ فائدے جائز طور پر حاصل کیے جائیں غضب اور ظلم اور دغا اور فساد اور اتلاف حقوق العباد کو نہ میں اپنے لیے جائز رکھتا ہوں اور نہ تمہارے لئے۔
ناظر: یہی تو میں کہتا ہوں کہ آپ پر ماموں نے جادو کیا۔
حاضر: اگر تمہارے نزدیک یہ جادو ہے تو یہی جادو تمام پیغمبر صلوٰة اللہ وسلامہ علیہم اجمعین تمام اولیاء تمام انبیاء تمام اتقیا کرتے آئے ہیں مگر جادو ایک مکروہ لفظ ہے۔ اس کا استعمال بزرگان دین کے حق میں میرے نزدیک تو درست نہیں۔
ناظر: اچھا تو ایک کام کیجئے آپ اپنے حصے کا بٹوارہ کرا لیجئے اور علیحدہ ہو جائیے۔
حاضر: میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا مگر اس صورت میں مشکل یہ ہے کہ جب تک ملکیت تمام مظالم سے پاک نہ ہو میں اس میں سے حصہ لے نہیں سکتا۔
ناظر: آپ نے ساری ملکیت کا ٹھیکہ نہیں لیا۔ اپنے مذہب کی رو سے حصہ پدری میں سے جتنا حصہ آپ اپنا سمجھتے ہوں الگ کر لیجئے۔
حاضر: والد مرحوم کی جگہ میرا اور تمہارا اور غیرت بیگم تینوں کا نام لکھا جانا چاہیے۔ ہم دونوں نے ناحق اور ناروا بہن کو محروم کر کے اپنے ہی نام حصے پڑھوائے تو نصف نصف ہم دونوں کا ہوا پس سرکاری کاغذات میں میرا نصف حصہ لکھا ہے۔
اس میں بھی تو غیرت بیگم کا ایک عشر شامل ہے جس کو میں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا۔
ناظر: آپ بٹوارے کی درخواست میں لکھ دیجیے کہ اگرچہ میرے نام نصف حصہ لکھا ہے مگر حقیقت میں میرا دو خمس ہوتا ہے۔ اسی قدر کا میں بٹوارہ چاہتا ہوں۔ حاکم آپ کی درخواست تصدیق کر کے آپ کے دو خمس کا بٹوارہ کر دے گا۔
حاضر: تو غیرت بیگم کا یہ ایک عشر بھی تمہاری طرف منتقل ہو جائے گا۔
حاضر: تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں غیرت بیگم کا ایک عشر جو میرے نام ہے تمہارے نام منتقل کر دوں۔
ناظر: خیر معنے مطلب تو میں سمجھتا نہیں۔ ایک راہ کی بات تھی جو میں نے آپ کو بتائی اگر آپ کو مجھ سے سے پرخاش نہیں ہے تو جس طرح میں نے بیان کیا درخواست لکھیے اور پیش حاکم اس کو چل کر تصدیق کرائیے باقی مراتب میں دیکھ بھال لوں گا آپ کو وہی دوخمس ملے گا جو آپ چاہتے ہیں۔
حاضر: غیرت بیگم کا ایک عشر میں تمہارے نام تو منتقل نہیں کرا سکتا وہ بھی تو ناجائز ہے حقدار کو تو اس کا حق نہ ملا ہاں اگر کہو تو درخواست میں یہ بات بیشک لکھ دوں کہ میرے نام جو نصف حصہ لکھا ہے اس میں دو خمس میرا ہے اور ایک عشر غیرت بیگم کا۔
ناظر: اس سے تو میری تصفی میں فتور پڑے گا۔
حاضر: پڑے گا تو تم جانو میرے اختیار کی بات نہیں۔
ناظر: آپ کے اس اصرار سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف تقاضائے دین داری نہیں ہے بلکہ ماموں کے سب فساد ہیں۔
حاضر: تم بار بار ہر پھرکر ماموں کو ان کی پیٹھ پیچھے بُرا کہتے جاتے ہو مجھ کو اس بات سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے تم سے کہا کہ ماموں نے غیرت بیگم کا نام تک نہیں لیا اور تم نے میرے کہنے کو سچ نہ جانا، فرض کرو ماموں ہی نے مجھ کو غیرت بیگم کا حق مغضوب واپس کر دینے پر آمادہ کیا تو احقاق حق میں کوشش کرنا فساد ہے۔
ناظر یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور بولا کہ بہت خوب معلوم ہوا، آپ آپا کو ان کا حصہ دیجئے اگر آپ سے دیا جائے اور وہ لیں اگر ان سے لیا جائے اور ماموں جس غرض سے بھانجی کی خوشامد میں لگے ہیں مجھ کو معلوم ہے۔ مبتلا بھائی کو انہوں نے دیکھ پایا بھولا۔ بیوقوف چاہتے ہیں کہ بھانجی کے نام سے بڑے ماموں کی تمام املاک پر خود قابض ہو جائیں لیکن (مونچھوں پر تاؤ دے کر) اگر ناظر کے دم میں دم ہے تو ماموں کو ایسا مزا چکھاؤں کہ سات برس بعد تو حج سے پھر کر آنا نصیب ہوا اب ان کو ہجرت ہی کرنی پڑے تو سہی۔
آپ کا حصہ لینا ایسا کیا ہنسی کھیل ہے۔
حاضر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر سید نگر واپس آگیا غمگین اداس۔ خدا کی شان ہے کہ کل شاموں شام سید متقی کے وعظ سے حاضر متنبہ ہوا توبہ کی تلافی مافات پر آمادہ ہوا راتوں رات بھاگا ہوا بھائی کے پاس آیا۔ ابھی جی کھول کر بھائی سے باتیں نہیں کرنے پایا تھا کہ سخت امتحان میں پکڑا گیا وہ خوب واقف تھا کہ ناظر ایک سانپ ہے۔
اس بلا کا زہریلا کہ اس کا کاٹا پانی نہ مانگے۔ اس کا ڈسا ہوا پھٹکار نہ کھائے، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ناظر اگر بگڑا اور اب اس کے بگڑنے میں کسر ہی کیا باقی تھی تو کیسی زمینداری اور کس کی حصہ داری گاؤں کا رہنا دشوار کر دے گا اور اس کے ہاتھوں سے زندگی وبال دوش ہو جائے گی۔
یہ خیال کر کے وہ جی ہی جی میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ تجھ کو بھائی کے ساتھ بگاڑنا کیا ضروری ہے۔
اگر وہ غیرت بیگم کا حصہ نہیں دیتا نہ دے، وہ جانے اور اس کا کام جانے اپنا اپنا کرنا اپنا اپنا بھرنا۔ غیرت بیگم کا حصہ لینا ہو گا تو آپ سے آپ نالش کریں گے۔ میری طرف سے اتنا ہی کافی ہے کہ ابھی سے غیرت بیگم کے حصے سے دست بردار ہو جاؤں اور اگر نالش ہو تو دعوے کی تردید نہ کروں۔ پھر سوچتا تھا کہ اب تک جو غیرت بیگم حصے سے بے دخل رہیں۔ اس کا وبال جیسا ناظر پر ویسا مجھ پر، مجھ پر زیادہ اور ناظر پر کم کیونکہ میں پٹی کا نمبردار ہوں اور پٹی کی تحصیل کی وصولی میرے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔
علاوہ اس کے کہ کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ ہم دونوں بھائی تو بے زحمت اپنے حقوق پر قابض ہوں اور غیرت بیگم کو نالش کرنے پر مجبور کریں صرف اس وجہ سے کہ وہ عورت ہے پردہ نشین اور کوئی اس کے حق کی حفاظت کرنے والا نہیں، دنیا میں آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی تو خدا کو کیا جواب دیں گے اور مانا کہ میں غیرت بیگم کے حصے سے دستبردار ہو بیٹھا تو وہی بات پھر آئی کہ میں نے نہ لیا ناظر کو لینے دیا۔
غیرت بیگم کو تو اس کا حق نہ پہنچا۔ علاوہ ازیں آج تک تو ایک غیرت بیگم کا معاملہ ہے اس میں یہ حجت ہے ابھی تو ایسے ایسے صد ہا معاملے نکلیں گے، غرباء کے ضعفاء کے اور ایسے لوگوں کے جن کو سوا خدا کہیں پناہ نہیں اور ناظر کا منشاء تو معلوم ہو چکا کہ وہ تو سوائے قانون کے خدا اور رسول کسی سے ڈرنے دبنے والا نہیں تو بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ بھائی سے تو ایک نہ ایک دن جھگڑے ہوں گے ہی اور آج اگر غیرت بیگم کے معاملے میں میں نے ذرا بھی اپنا ضعف ظاہر کیا پھر تو ناظر کی جیت ہے۔ غرض یہ تزلزل تو ٹھیک نہیں بلکہ وسوسہ شیطانی ہے۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.