Urdu in Translation
搜索

第 11 章,共 31 章

Mir Muttaqi's Sermon before Sayyid Hazir

نواں باب: سید حاضر کے روبرو میرمتقی کا وعظ

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

غیرت بیگم کو بھائیوں نے ترکہ پدری سے محروم کر رکھا تھا۔ کسی کی مجال تھی کہ ان بھڑوں کے چھتوں کو چھیڑے وہ اس بلا کے لوگ تھے کہ اگر نالش کی بھنک بھی ان کے کان میں جا پڑتی۔ تو کہاں کے ماموں اور کس کی بہن اور کیسا بہنوئی سب کی عزت کے لاگو ہو جاتے۔

یہ ایک شعر جو مشہور ہے:

ہر جا جمع نے آیند ساداتفسادات، فسادات، فسادات

کہتے ہیں کسی نے سید نگر والوں ہی کی شان میں کہا تھا اور متقی کو وہاں کے لوگوں کے ہتھکنڈے بخوبی معلوم تھے اور مخاصمانہ طور پر بھانجوں کے ساتھ پیش آنا اور ان کے مقابلے میں مدعی یا مدعاعلیہ ہونا گو بھانجی ہی کا حق طلب کرنے کے لیے کیوں نہ ہو نہ ان کو شایان تھا اور نہ غیرت بیگم کے حق میں مفید۔

سید نگر کے سب لوگ زمیندار اور رعایا یہاں تک کہ خوش باش اور اس قدر مفسد تھے کہ جھوٹ بولنا جھوٹا حلف اٹھا لینا جھوٹے گواہ جھوٹی روداد اور جھوٹی دستاویزیں بنانا حاکم کو دھوکا، پرایا حق مار بیٹھنا لوگوں کو ناحق ستانا ان باتوں کو بڑا ہنر اور داخل ہوشیاری سمجھتے تھے اور جس طرح کوئی بڑا نامی جنرل اپنے دوستوں میں فخراً اپنی فتوحات کے واقعات کا بیان کرتا ہے۔

یہ لوگ ہمیشہ دیوانی فوجداری کے مقدمات کے تذکرے کرتے رہتے تھے۔ کوئی امیر اپنی مدح پر اتنا ناز نہ کرتا ہو گا جتنا ان کو ڈگریوں اور فیصلوں پر تھا، ان لوگوں کی نظروں میں میرمتقی صوفی وفقیہ تھے مگر سادہ لوح اور عالم و فاضل تھے مگر احمق و لایعقل۔ میر متقی کا چھوٹا بھانجہ سید نگر ناظر جو غیرت بیگم سے بھی عمر میں چھوٹا تھا۔ کچہری دربار کا کام دیکھتا تھا اور تمام معاملات مقدمات اسی سے متعلق تھے۔

پس یہ گھر کا کل تھا، سید حاضر جو غیرت سے بڑا اور اکبر اولاد تھا۔ سید نگر میں مکان کی خبرگیری کرتا تھا اور رعایا سے وصول تحصیل کرنا اور کھیتی کا جتوانا بوانا غرض گاؤں کا سب کام کاج اس کے سپرد تھا، ماموں کا آنا سن کر سید نگر سے سید حاضر تو فوراً اگلے ہی دن آ حاضر ہوا اور اس نے اس کا بھی انتظار نہ کیا۔ کہ تعزیت کے لیے ماموں کی طرف سے تقدیم ہونی چاہیے۔

لیکن جب وہ واپس جانے لگا تو میرمتقی اس کے ساتھ ادائے رسم تعزیت کے لیے سیدنگر گئے۔ ناظر وہاں نہ تھا۔ معلوم نہیں کسی ضرورت سے غیر حاضر تھا۔ یا قصداً ماموں کی آمد سن کر ٹل گیا تھا۔ میرمتقی نے بتقریب تعزیت جہاں اور بہت سی باتیں سید حاضر سے کیں۔ ان میں سے یہ بھی تھی کہ تم کو شروع سے خدا نے بڑا کیا کیونکہ تم بھائی صاحب مرحوم کی اولاد میں سب سے بڑا ہو کیونکہ تم کو لوگ مرحوم کا جانشین سمجھتے ہیں اور تم ان کے جانشین ہو بھی۔

انسان کو خدا نے ایسے طور کا مخلوق بنایا ہے کہ تمدن اس کو لازم ہے جس طرح تمدن اس کے وجود کی شرط ہے کہ اگر انسان مدنی الطبع نہ ہوتے اور آدمی آدمی کے ساتھ مل کر نہ رہتا تو آگے کو ان کی نسل نہ چلتی۔ اسی طرح تمدن انسان کی حیات بلکہ اس کی ممات کی بھی شرط ہے تمدن نہ ہو تو انسان کی زندگی عذاب اور مرے پیچھے اس کی مٹی خراب۔ تمدن کی ضرورت سے آدمی دو دو، چار چار، دس دس، پچاس پچاس، ہزار ہزار، لاکھ لاکھ اور اس سے بھی زیادہ زیادہ اکٹھے ہو کر رہتے ہیں اور خاندان اور قبیلے اور کنبے اور برادری اور گاؤں اور قصبے اور شہر اسی تمدن کے مظاہر ہیں۔

تمدن سے لوگوں میں انواع و اقسام کے باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، میاں بی بی بھائی بہن اور جتنے طور کے دور و نزدیک کے رشتہ دار ہیں اور ہمسایہ اور ہم وطن اور حاکم و محکوم اور بادشاہ اور رعایا اور شاگرد اور آقا اور نوکر اور افسر اور ماتحت اور زمیندار اور کاشت کار اور دکاندار اور خریدار وغیرہ یہ سب نام ہیں لوگوں کے باہمی تعلقات کے۔

ہر تعلق کے ساتھ کچھ حقوق ہوتے ہیں اور کچھ ذمہ داریاں مثلاً باپ اور بیٹے میں ایک طرح کا تعلق ہے باپ کا حق ہے کہ بیٹا اس کا ادب کرے اس کا حکم مانے اور اس کی ذمہ داری یا بعبارت دیگر اس کا فرض یہ ہے کہ بیٹے کو شفقت کے ساتھ پالے، تربیت کرے، پڑھائے لکھائے ہنر سکھائے جو اس کے کام آئے، لوگوں کا یہ حال ہے کہ تمدن کے حقوق اور فرائض میں اکثر بلکہ سب کے سب مُطَفّفِ ہیں۔

مُطَفّفِ عرب میں کہتے ہیں اس شخص کو کہ اپنا لینا ہو تو جھکی ہوئی تول لے اور دوسرے دینا ہو تو اڑتی ہوئی دے۔ ایسے ہی لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

افسوس ہے ڈنڈی ماروں پر کہ جب لوگوں سے ناپ کر لینا ہو تو پورا پورا لیں اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دینا پڑے تو ان کو گھاٹا پہنچائیں، کیا لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ایک بڑا دن آنے والا ہے اور اس دن ان کو مرکر اٹھنا ہو گا۔

اس دن لوگ پروردگار عالم کے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں الا ماشاء اللہ جو اپنے حق میں سے کسی بھائی کو رتی بھر چھوڑ دے لینے میں تو ایسا سیانا اور سخت گیر کہ دوسرے کے حقوق ضائع ہوں، تلف ہوں کچھ پرواہ نہیں ذرا دل پر میل نہیں، دینے میں ایسا گرہ کا بھولا اور شریر اور کشمکش اور مفسدے کے روکنے کے لیے اللہ صاحب جل شانہ نے دوہرے دوہرے انتظام کیے ہیں کہ ایک سلطنت ظاہر بادشاہ ہے اور اس کے پاس فوج ہے اور توپ ہے اور تلوار ہے اور قوت ہے اور پولیس ہے اور حاکموں کا ایک گروہ ہے اور جلاد ہے اور جیل خانہ ہے اور بند ہے اور تازیانہ ہے۔

اس انتظام کے تفصیلی حالات تم کو مجھ سے بہتر معلوم ہیں۔ دوسری ایک سلطنت الٰہی ہے جس کو دین یا مذہب یا شرع کہتے ہیں۔ اس میں توپ کا نام نہیں۔ تلوار کا کام نہیں۔ اعوان و انصار نہیں فوج اور سپاہ درکار نہیں، مگر دنیا میں جس قدر امن اور جتنی عافیت ہے۔ اسی الٰہی سلطنت کی بدولت ہے۔ ظاہر بین اور کوتاہ بین ایسا سمجھتے ہیں کہ دنیا کا سارا انتظام کام ظاہر کرتے ہیں۔

استغفر اللہ نہ کرتے ہیں اور نہ کر سکتے ہیں۔ ملک کی ساری پلٹنیں کالوں کی اور گوروں کی اور سارے رسالے اور سارے توپ خانے اور سارے پولیس کے ملازم اور سارے حاکم سب کے مجموعے کو ملک کی مردم شماری پر پھیلا کر دیکھو تو کیا پڑتا ہے۔

اگرچہ دس ہزار باشندوں پر ایک بھی نہیں بیٹھے گا۔ مگر فرض کرو کہ دس ہزار پیچھے ایک تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے کی ہے کہ ایک متنفس دس ہزار آدمی کے ضبط پر قادر ہو۔

آدمی تو آدمی اگر دس ہزار گدھے یا دس ہزار بھیڑ بکری بھی ہوں تو ایک چرواہا ان کو ایک جگہ کھڑا نہیں رکھ سکتا۔ نہ یہ کہ ان کو جس کروٹ اٹھائے اٹھیں اور جس کروٹ بٹھائے بیٹھیں، ہاں شاید تمہارے دل میں یہ بات ہو گی کہ حاکم ایک کو سزا دیتا ہے تو دس ہزار کو عبرت ہوتی ہے۔ لیکن خیال کرنے کی بات ہے کہ جن کو سزا ہوئی انہیں کو کیا عبرت ہوئی کہ دوسروں کو ہوتی۔

ہم نے تو یوں سنا ہے خدا جانے جھوٹ یا سچ کہ بدمعاش لوگ اول تو گرفت ہی میں نہیں آتے اور اگر کوئی شامت کا مارا قضارا ماخوذ بھی ہوا تو سید نگر والے (وکیل مختار) اس کو سزا نہیں ہونے دیتے اور سزا بھی ہوئی تو ان کو عبرت اس سے ظاہر ہے کہ چھوٹتے ہیں تو دوسرے قیدیوں کو وصیت کر آتے ہیں کہ دیکھنا بھائی میرے چولہے کو ہاتھ نہ لگانا مہینہ پورا نہیں ہونے پائے گا کہ میں پھر آتا ہوں۔

ہم کو تو کبھی اتفاق نہیں ہوا اور خدا نہ کرے کہ ہو۔ مگر اخباروں میں اکثر دیکھا کہ فلاں مقام پر فلاں خونی کو فلاں تاریخ فلاں وقت پھانسی دی گئی۔ دو ہزار آدمیوں کی بھیڑ تھی۔ عبرت ہو تو ایسی ہو۔ یہ سب نالائق تماشائی تھے اور سنگ دل قصائی اس کے علاوہ ایک بدیہی دلیل ایسی ہے کہ اس سے تو تم کو میری بات کا پورا یقین ہو جائے گا۔ یہ ہلواہا جو بیلوں کو تھان سے کھول کر لیے جا رہا تھا۔ اس کا کیا نام ہے؟

حاضر: اس کا نام غریبا۔

متقی: ذر ااس کو بلا۔ حاضر نے بلایا تو اس نے ہل تو کندھے پر سے اتار کر وہیں رکھ دیا اور اسی ہل سے بیلوں کو اٹکا سامنے آکھڑا ہوا۔

متقی: کیوں میاں تمہارا کیا نام ہے۔

غریبا: میاں مجھ کو گریبا کہتے ہیں۔

متقی: کون ذات ہو۔

غریبا: ”گوجرنا“۔

متقی: تم کتنی کھیتی کرتے ہو؟

غریبا: میری کھیتی الگ نہیں (سید حاضر کی طرف اشارہ کر کے) ہاجر (حاضرہ) میاں کاہلواہا ہوں اور کھار میں ایک دو بیگھے کا کھیت بھوما لوینے کا ہے۔

اس میں ادھواڑ کا بانٹیہ دار ہوں۔

متقی: بال بچے کتنے ہیں؟

غریبا: (مسکرا کر) بھگوان کی بڑی کرپا ہے۔ آٹھ۔

متقی: کسی کا بیاہ برات بھی کیا ہے۔

غریبا: ہاجر (حاضر) میاں کی یاد سے رکھی سوکھی۔ لسی کسی دو وخت نہیں تو ایک وخت مل ہی جاتی ہے۔ چھوٹے بڑے انہی کی بٹل میں لگے رہتے ہیں۔

یہی سب کو پالتے ہیں۔ بھتیر سے بڑی سہاتیا رہتی ہے۔

متقی: اشارے سے غریبا کو پاس بلا کر (آہستہ سے) کیوں بے آج کل تو کھلیان تیار ہیں۔ رات بے رات موقع پا کر کھلیان پیچھے دو دو پولی بھی اٹھا لائے تو کسی کو کیا معلوم اور مزے میں تیرا کام ہو جائے۔

غریبا: (دور ہٹ کر) نا میاں بھگوان بُرا کام نہ کرائے۔

متقی: کیوں کیا جاگا چوکیدار سے ڈرتا یہ۔

اس کو ہم سمجھا دیں گے۔

غریبا: جاگا (گالی) کہاں کا سورما ہے۔ ایک ڈپٹ بتاؤں تو (گالی) دھوتی میں… پر نہیں بُرا کام برا ہی ہے۔

متقی: ابے مسخرے کسی کو کانوں کان تو خبر ہونے کی نہیں، یہ اچھا ہے کہ تن پر چیتھڑا نہیں، پیٹ کو کو ٹکڑا نہیں۔

غریبا: انسان نہ دیکھے مگر بھگوان سے تو کچھ چھپا نہیں۔ اس کے بعد متقی نے استمالت کی دو چار باتیں کر کے غریبا کو تو رخصت کیا اور سید حاضر سے کہا۔

کیوں صاحب آپ نے دیکھا یہی انتظام الٰہی ہے کہ یہ بے چارہ نہ تو پڑھا اور نہ لکھا اور نہ شاید ساری عمر کسی پنڈت برہمن کی صحبت میں بیٹھا۔ ضرورت اس درجے کی کہ اگر سچ سچ پوچھئے تو ”بھوک سے بے قرار کو مردار بھی حلال ہے“ کا مصداق ہے اندیشہ پاسباں سے مطمئن اور اس پر چوری کو سمجھتا ہے کہ بُرا کام ہے۔ اصل میں بُرا سمجھنا اس کو چوری کے ارتکاب کا مانع ہے۔

اور یہ سمجھ یعنی بُرے بھلے کا امتیاز جو خدا نے مرد عورت لڑکے جوان، بوڑھے خواندہ ناخواندہ ذہین غبی شہری دیہاتی سب بنی آدم کو اعلیٰ قدر مراتب دیا ہے۔ ایک پاسبان الٰہی ہے جو ہر ایک پر مسلط ہے اس کو کراماً کاتبین کہو یا انسان کا دل سمجھو جو برائی پر مائل کرتا ہے یا جن الفاظ سے چاہو تعبیر کرو۔ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ جرموں کا انسداد لاکھ حصے سلطنت الٰہی کی تاثیر سے ہے تو شاید ایک حصے حکومت ظاہر کی تدابیر سے۔

حکومت ظاہری میں ایک بڑا نقص یہ ہے کہ حاکم کیسا ہی منصف کیوں نہ ہو چونکہ اس کو معاملے کی اصل حقیقت سے تو آگہی ہوتی نہیں۔ ناچار اسے روداد کی پابندی کرنی پڑتی ہے اور روداد کی کیفیت تو کوئی ہمارے سید نگری بھائیوں سے پوچھے کہ کہو تو مکھی کو بھینسا بنا دیں اور فرماؤ تو بھینسے کو مچھر بنا کر اڑا دیں۔ پس حاکم ظاہری کبھی پورا پورا انصاف کر ہی نہیں سکتا۔

اس کا فیصلہ اندھے کی لاٹھی ہے۔ لگی لگی نہ لگی نہ لگی برخلاف سلطنت الٰہی کہ اس کا نشانہ ممکن نہیں کہ خطا کرے۔ اس کا مجرم ہو نہیں سکتا کہ سزا سے بچ جائے کسی کی مجال ہے کہ اس کی ڈگری کو روکے کس کی طاقت ہے کہ اس کے حکم کو ٹالے اگرچہ خدائی فیصلوں کے لیے ایک دن مقرر ہے۔ یعنی روزِ قیامت کہ اس دن اللہ جل و علاشانہ، عدل و انصاف کے تخت پر اجلاس فرمائے گا۔

اور نیک اور بد اور سخی اور شوم اور ظالم اور مظلوم سب کا حساب کر دے گا۔ مگر کبھی مصلحت الٰہی اس کی بھی مقتفی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں بدلہ مل جاتا ہے۔ یہی سید نگر ہے کہ اب سے بہت زیادہ دُور بھی نہیں۔

شاید بیس برس پہلے دس بارہ ہاتھی سادات کے دروازوں پر کھڑے جھومتے تھے۔ اور اس کی سخاوت اور دادو دہش اور مہمان نوازی اور مسافر پروری کی کیا شہرت تھی کہ کربلا اور بغداد اور حرمین اور نجف اور کاظمین تک سے لوگ ہر سال نام سن کر آتے تھے۔

میں ان دنوں اچھا خاصا ہوشیار تھا مجھ کو اب تک یاد ہے کہ اس بڑی مسجد میں دو ڈھائی سو طالب علم رہتے تھے اور یہیں کے سادات ان کے کھانے کپڑے کتاب سب چیزوں کی خبر گیری کرتے تھے طالب علموں کو پڑھانے کے لیے بیش قرار تنخواہوں کے پانچ یا چھ جید حافظ اور مولوی نوکر تھے۔ سارے مہینے رمضان کے اور دس دن محرم کے غربا اور مساکین کے لیے اس قدر کھانے پکتے تھے کہ اس کا ٹھیک اندازہ کرنا مشکل ہے۔

بارہ کوس کے گردے کی تمام خلقت ٹوٹتی تھی اور کیا نیتوں کی برکت تھی کہ ہزار دو ہزار پانچ ہزار جتنے آدمی ہوتے ہر شخص کو دو خمیری روٹیاں ایک پیالہ قلپے کا اور ایک خوانچہ کھیر کا وقت پر پہنچ جاتا میر بابا صاحب کا گھر ان دنوں سب میں بڑھا چڑھا تھا۔ ان کا حال سنا ہے کہ دونوں وقت گئے ہوئے پورے سو آدمی دستر خوان پر میر صاحب کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

اور کیسی خدا کی مہربانی تھی کہ گلی میں دیکھو تو کوڑیوں لڑکے۔ سید نگر میں کبھی کسی سیدانی کو بانجھ اور چھے سے کم کسی کے بچے سننے میں نہیں آئے۔ غلہ ہمیشہ ارزاں، عام بیماری یا وباء کبھی سید نگر کے سوانے میں داخل نہیں ہوئی۔ پھر یکا یک گوجروں سے سوانے کی تکرار ہوئی لٹھ چلا طرفین سے آدمی مارے گئے۔

بس اس دن سے سید نگر پر تباہی آئی۔

یوں تو سادات اور گوجروں میں سدا سے ہی چھیڑ چھاڑ ہوتی ہی چلی آتی تھی۔ مگر اس مقدمے میں سادات سراسر برسر ناحق تھے۔ ہمیشہ سے سید نگر کا سوانا اس تیس ہزار باغ کی مشرقی کھائی تھی۔ یہ باغ عین سوانے پر اسی غرض سے لگایا گیا تھا کہ گوجر حد سے متجاوز نہ ہوں۔ تکرار اتنی ذرا سی بات پر ہوئی کہ میر بابا کے بڑے بیٹے میر مقتدر کے سائیسوں نے گوجروں کی رکھانت گھانس باغ کے پورب کاٹنی شروع کی۔

گوجروں نے مزاحمت کی۔ یہاں تک کہ داتا سنگ نے جو گوجروں کا سر گروہ اور میر بابا کا مد مقابل تھا۔ اپنا خاص کارندہ میر بابا کے پاس بھیجا۔ وہ کارندہ میر صاحب تک پہنچنے نہیں پایا کہ بیچ میں میر مقتدر نے اس کو بہت کچھ سخت و سست کہا اور حق و ناحق ہزار ہا گالیاں داتا سنگ کو دیں۔ میر مقتدر بڑے غصیلے اور بڑے ظالم اور بڑے سخت گیر اور بڑے جابر مشہور تھے۔

کہتے ہیں کہ دو تین خون ان کے ہاتھ سے ہوئے، مگر دب دبا گئے انہوں نے ظلماً کئی بھلے آدمیوں کی ناموس بگاڑی اور عزت ریزی کی۔ میر بابا کے خاندان میں جو سید لوگ ناتا نہیں کرتے اصل میں اس کا سبب یہی ہے کہ میر مقتدر نے بلا امتیاز بہت سی عورتوں کو جبراً گھر میں ڈال لیا تھا۔ کوئی ہندنی تھی، کوئی چماری، کوئی گوجرنی غرض میر مقتدر کے بعد سے ان کے خاندان کے نسبت کا اعتبار اٹھ گیا۔

بیٹے کے زور و ظلم نے میر بابا کی تمام نیکیوں کو بے قدر کر رکھا تھا، نہیں معلوم دیدہ و دانستہ بیٹے کی حرکات ناشائستہ سے چشم پوشی کرتے تھے یا واقع مقتدر پر ان کا کچھ اقتدار نہ تھا۔ میر مقتدر کا تمام علاقے میں ایسا زلزلہ تھا کہ کوئی بھلا آدمی سید نگر کی تھانہ داری پر آنے کے لیے رضا مند نہیں ہوتا تھا۔ مجبور کیا جاتا تو نوکری سے استعفیٰ دیتا مگر ادھر کا رخ نہ کرتا۔

میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ سید نگر کو مقدر کے ظلموں نے تباہ کیا اور نزاع سوانے کا ایک بہانہ تھا۔ جب مقتدر نے داتا سنگ کے کارندے کو بُرا بھلا کہا اور اس کے مالک کو مغلظات سنائیں وہ بیچارہ اپنا سا منہ لے کر لوٹ گیا اور داتا سنگ کے آگے جا کر اپنی پگڑی زمین پر دے ماری اور کہا کہ تم نے مجھ کو بے عزت کرایا اور خود بھی بے عزت ہوئے۔

آج میر بابا کے بیٹے نے بھری کچہری میں مجھ کو اور تم کو دونوں کو فضیحت کیا اور ایسی ایسی گالیاں دیں کہ کوئی چمار کو بھی نہیں دیتا۔

داتا سنگ بڑی غیرت اور طنطنے کا آدمی تھا اور کسی بات سے میر بابا سے کم نہ تھا۔ سن کر لال ہو گیا اور کہا کہ اس مسلمان کے چھوکرے کا اتنا مقدور، خیر اب لڑائی ہے تو لڑائی ہی سہی۔ داتا سنگ کے منہ سے اتنی بات کا نکلنا تھا کہ ڈیڑھ دو ہزار گوجر بھاری بھاری لٹھ کنڈھوں پر دھر رکھانت پر جا موجود ہوئے۔ میر صاحب کے گھسیارے ان کو دُور سے دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

سید نگر میں خبر ہوئی۔ ادھر سے لشکر سادات نکلا، دوپہر کامل لٹھ چلا دو پونے دو سو آدمی زخمی ہوئے، چار گھڑی رات جاتے جاتے سرکاری فوج توپ لے کر آ پہنچی اور پکڑ دھکڑ شروع ہوئی۔ تحقیقات ہونے لگی اور نتیجہ یہ ہوا۔

ہنگاموں اور خانہ جنگیوں میں اکثر سزا کا پلہ دونوں طرف برابر رہتا ہے۔ مگر سیدوں نے بڑا غضب یہ کیا کہ ادھر تو سوانے پر لڑائی ہو رہی تھی اور ڈھائی تین سو آدمی سید نگر سے نکل کنی کاٹ گوجر پور میں جا گھسے اور وہاں گوجروں کے مندروں کو توڑا پھوڑا عورتوں کو بے عزت کیا۔ یوں سیدوں کی طرف سے زیادتی بہت ہوئی اور سزا بھی بہتوں نے پائی۔ میر بابا نے تو جس وقت سرکاری فوج کا آنا سنا اسی وقت زہر کھا کر مر رہے۔

میر مقتدر کسی تدبیر سے بھاگ نکلے۔ گھر بار ضبط ہو اسباب نیلام ہوا۔ بیٹوں میں تین یا چار نابالغ تھے وہ تو بچے دونے پھانسی پائی اور دو کالے پانی بھیجے گئے۔ میر مقتدر کے لیے پانچ سو روپے کا اشتہار ہوا مگر پکڑے نہ گئے۔ رفیق ان کا ایک خانہ پروردہ ان کے ساتھ بھاگا۔ دس بارہ برس بعد اکیلا واپس آیا بڑا نمازی بڑا پرہیزگار وہ بیان کرتا تھا۔

ان کی مصیبتیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوئے تھے کہتا تھا کہ آخر کار کسی مقام پر بغداد کے علاقے میں میر مقتدر مرض موت میں مبتلا ہوئے۔ مگر ایسی سختی کی موت ہم نے تو دیکھی کیا سنی بھی نہیں پورے پندرہ دن بول و براز بند تھا نہ مسہل اثر کرتا تھا نہ حقنا نہ پچکاری۔ دن اور رات مچھلی کی طرح تڑپتے تھے اور کسی وقت تالو سے زبان نہیں لگتی تھی۔ بول و براز کے بند ہونے سے مادے میں زہرناکی پیدا ہوئی اور سمیت ظاہر جلد تک پھوٹ پڑی۔

باوجود یہ کہ نہایت گورے چٹے آدمی تھے اور ان مصیبتوں میں بھی ایرانی معلوم ہوتے تھے۔ زہرناکی کی وجہ سے سارا جسم ایسا ہو گیا تھا جیسے سیہ تاب اور سوزش اس بلا کی کیچڑ میں لوٹے لوٹے پھرتے تھے، مگر ایک لمحہ قرار نہ تھا۔ مرنے سے سات دن پہلے نہیں معلوم کیا بات تھی۔ بے ہوشی میں وطن کے لوگوں کے نام لے لے کر کہتے تھے فلانا مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔

فلانا گرم سیخیں میرے پیٹ میں بھونکتا ہے۔ فلانا مجھ کو تنور میں دھکا دیتا ہے۔ فلانا میری کھال کھینچتا ہے۔ رفیق کا مقولہ یہ تھا کہ جن لوگوں کے وہ نام لیتے تھے وہ تھے جن پر انہوں نے ظلم کیے تھے۔ رفیق یہ دیکھ کر اس قدر مرعوب ہوا کہ گویا اسی دن سے اس نے ترک دنیا کیا۔ غرض وہ کمبخت سوانے کا مقدمہ کیا ہوا تھا کہ سید نگر کے حصے کی قیامت آگئی۔

آبرو اور جان اور مال کا جو نقصان ہوا تھا سو ہوا تھا۔ ایک بڑا نقصان یہ ہوا تھا کہ سادات سے خیر بالکل اٹھ گئی۔ اب اس نواح میں سید کے معنے ہیں مفسد۔ لڑاکا جھگڑا لو، مردم آزار، جھوٹا جعلساز، مفتری، فتنہ پرداز اور واقع میں لوگوں کے افعال اور معاملات پر نظر کرتے ہیں تو جس قدر بدنامی ہو رہی ہے۔ اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ گوجروں کے ساتھ لڑنے کا مزہ چکھ چکے تھے۔

چاہیے تھا کہ لڑائی کے پاس نہ پھٹکتے مگر الٹا اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ بھائی سے بھائی لڑنے لگا۔ باپ بیٹے سے بیٹا ماں سے، میاں بیوی سے، پڑوسی پڑوسی سے حصہ دار حصہ دار سے زمیندار کاشتکار سے گویا لڑائی ان کے خمیر میں داخل ہے۔ یا بے لڑے ان کو نیند نہیں آتی یا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ شرافت و نجابت کے دعوے اتنے لمبے چوڑے کہ کسی کو اپنا کفو نہیں سمجھتے مگر معاملات ایسے کہ پاجی سے پاجی کو شرم آئے اور کمینے سے کمینے کو عار۔

سید نگر کی کھیوٹ نکال کر دیکھو کتنی عورتوں کے نام ہیں کسی کی جورو کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، دیوانی و فوجداری میں مہر اور نان و نفقہ اور طلاق کے جتنے مقدمے ایک سید نگر کے ہوں گے شاید لفٹنٹی کے نہ ہوں۔ مگر ان تمام فسادات کے نتیجے کیا ہیں۔ تم لوگوں کے گھروں میں اسٹامپ کے بڑے بڑے پشتارے بہت نکلیں گے۔ بیبیوں کے جسم پر چاندی کا تار نہیں، باوجود یہ کہ دیہاتی پہناوا ہے۔

گٹھڑی میں سلیقے کا کوئی کپڑا نہیں جوار باجرا سانواں کودوں جو کچھ سیر میں پیدا ہوا اسی پر تمہاری گزران ہے۔ تمہارا علاقہ شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے۔ جتنے پیدا ہوتے گئے۔ اسی میں بھرتے گئے۔ میں اگر تمہارے علاقہ کا مہتمم بندوبست ہوتا بیگھ بسوانسی کچوانسی سب موقوف کر کے کسورِ اعشاریہ میں تمہارا کھیوٹ بناتا۔ یہ حال تمہاری حصہ داریوں کا ہو گیا ہے۔

اس پر طرہ یہ ہے کہ جس حصے کو دیکھیے کثرت انتقالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کباب ہے اور اس میں ہزار ہا چیونٹیاں۔ سید زادوں کو دیکھا تو اس سرے تک ایک ہوشیار نہیں کسی میں آئندہ کی فلاح کے آثار نہیں۔ یہ وبال یہ نکبت یہ ذلت یہ افلاس سب تمہارے ہی اعمال کی سزا ہے اور اگر یہ پوری سزا ہوتی تو تم سستے چھوٹے گئے تھے۔ یقین جانو سزا نہیں ہے بلکہ تمہید سزا جب سزا کا وقت آئے گا۔

تو یہ تمہارا قانون اور قاعدہ کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔

حقوق کے متعلق ایک بات اور ہے، جس کو میں چاہتا ہوں کہ تم اس کی طرف زیادہ توجہ کرو وہ یہ ہے کہ انسان کے ذمے دو طرح کے حقوق ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ لوگ حقوق العباد کی نسبت بڑی غلطی میں پڑے ہیں اور ان کو آسان سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ اگر کسی آدمی سے اللہ کے حقوق ضائع ہوں اور سبھی سے ہوتے ہیں۔

تو بندے کا خدا سے کیا مقابلہ، حقوق الٰہی کا ضیاع اکثر سہو اور غفلت اور نادانی اور کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ہوتا ہے اور امید ہے کہ خداوند غفور و رحیم بندوں کی ضعفت پر نظر فرما کر ان کے قصور معاف کرے اور کرے گا، مگر حقوق العباد کا یہ حال نہیں ہے۔ اس میں ایک بندہ زور سے ظلم سے ہیکڑی سے زبردستی سے دوسرے بندے کو ستاتا، اس کا دل دکھاتا، اس کو ایذا پہنچاتا ہے اور اس قصور کا معاف کرنا نہ کرنا، اسی بندئہ مظلوم کے اختیار میں ہے۔

مگر انصاف کرو۔ دنیا میں کتنے لوگ اس کی پروا کرتے ہیں۔ لاکھوں مظلمے ہیں جن کو بندگان خدا مرتے وقت اپنے سروں پر لاد کر لے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دین کو کھیل اور مذہب کو ہنسی سمجھ رکھا ہے۔ منہ سے کہتے ہیں کہ مرنا برحق، نکیرین کے ساتھ سوال و جواب کا ہونا برحق، عذاب قبر برحق، قیامت برحق، مرے بعد پھر زندہ ہونا برحق، رتی رتی کا حساب دینا برحق، جنت برحق، دوزخ برحق اور کردار تھوکنے کے قابل۔

سید حاضر مجھ میں تم میں قرابت کا ایک تعلق ہے اور جیسا میں نے تم سے کہا کہ حقوق و فرائض تعلق سے پیدا ہوتے ہیں۔

حقوق اور فرائض میں اس کو اپنا فرض تعلق سمجھتا تھا کہ تمہارے فرائض کو تم پر بالا جمال ظاہر کر دوں سو میں نے اپنا فرض ادا کیا یہ کہہ کر متقی بھانجے سے رخصت ہوا اور چلتے چلتے کہہ گیا کہ افسوس ہے سید ناظر سے ملاقات نہ ہوئی انشاء اللہ پھر کسی دن آؤں گا میر متقی نے اچھے خاصے پہر سوا پہر سید حاضر کے ساتھ باتیں کیں، اس تمام وقت میں سید حاضر کا یہ حال تھا کہ ماموں کے منہ پر اس کی ٹکٹکی بندھی ہوئی تھی اور ہمہ تن گوش ہو کر ان کی باتوں میں مستغرق تھا جو لفظ ماموں کے منہ سے نکلتا اس کے دل میں بیٹھتا چلا جاتا۔

حاضر کے کان مطلقاً ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے اس پر میرمتقی کا بیان کہ گویا ایک دریا ہے کہ موجیں مار رہے یا ریل ہے کہ فی گھنٹہ سو میل کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یا بھری برسات میں ساون بھادوں کا بادل ہے کہ امڈا چلا آ رہا ہے اور پھر باتیں کھری سچی ستھری جن میں ذرا اونچ نیچ نہیں دنیا کے فائدوں کی ضامن دین کی درستی کی کفیل بھلائی کی اصلاح بہتری کا مشورہ سید حاضر بت کی طرح چپ بیٹھا سنتا رہا اگرچہ گاؤں کا کام کاج کرتا تھا مگر کونسا گاؤں سید نگر، جہاں کے پرچونٹے ساہوکاروں کے شکمی کاشتکار تعلقہ داروں کے، جاہل محض لیاقت شعاروں کے اہل مقدمہ وکیل مختاروں کے کان کترتے تھے مگر متقی نے اتنا کچھ کہا اور سید حاضر سے چوں کرتے نہ بن پڑی۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。