Urdu in Translation
بحث

الفصل 7 من 8

The Wedding Procession

برات کی دھوم

Ratan Nath Sarshar

الخط
الحجم

ایک ادبی محفل کا حال

اب اس جلسۂ احباب اُدّو لوالالباب باد خواروں، و ے گسار ہلاکوش، ساغر نوش، سرخوش و مدہوش، جفاکیش دلریش، کی چہل پہل، کا حال عبرت مآل، بگوش ہوش سنیے! فراخ و وسیع میدان میں، ایک ایوان سپہر توامان ہے۔ چو طرفہ سبزہ روئیدہ، کی لہک، اور گلہائے مشک بیز کی مہک۔ بقول عنایت اللہ خرد آگاہ، نمک ریزی سبزان بہار اور اُمشگری مرغان چمن زار دمستانہ روتے، آب زدد بارو قہقہہ بندان خوش رفتار دپائے کو بی غزالانِ مینا شم و خفیا گری طاؤسانِ مرصع دُم۔ غرض کہ عجب لطفِ بہار ہے۔ سرو در بارِ چمن کا چوبدار ہے۔ بستی کے باہر گونی بھر کے ٹیلے پر باغ ہے۔ جس کے ہر چہار سمت جنگل اور داغ ہے۔ ایوانِ عاشقاں کے بیچوں بیچ ایک سجے سجائے کمرے میں بزمِ طرب آراستہ اور محفلِ سرور پیراستہ ہے۔ چاندنی وہ صاف بچھی ہے کہ چاندنی بھی شرمائے۔ اور ادھر مئی کی گلابیاں چنی ہوئی ہیں۔ صراحی گردن گشتی کر رہی ہے۔ نعلِ آتشیں، خوانِ جواہر، روح کے جام منتظر ہیں کہ لب سے ملے۔ ہمارے یارِ طرحدار میاں آزاد نے کہا کہ حضرت ہم غریب الوطن آدمی ہیں۔ ہمیں شرکائے جلسہ کی مختصر کیفیت سے آگاہ کیجیے۔ مالک مکان بول اٹھے، کرم سب اپنی اپنی تعریف کہہ چلیں گے۔ ذرا دَور تو چلنے دیجیے یہ کہہ کر حضرت نے گردن شیشۂ پیمانہ پر جھکائی، اور شرابِ ناب اور مصفا اڑائی۔ دَور چلنے لگا۔ اب طربناک کادہ سرور جا کر سب سیر مست ہو گئے۔

ایک سے:

آب و گلِ من کرفیضِ عام ستازخطۂ پاک بلگرام ست

سبحان اللہ چہ بلگرامیکوثر می و آفتاب جامی

لیکن حضراتِ بادہ گسار اور عشاق زار کا وہاں کال ہے۔ مگر علما، فضلا، شعرا، کملا کی ٹکسال ہے۔ اودھ میں لکھنؤ کے بعد پھر بلگرام ہی کا نمبر ہے۔

دوسرے: بندہ رئیس پنجاب ہے جو تمام عالم میں انتخاب ہے۔

چہ پنجاب انتخابِ ہفت کشورقسم خوردہ بر خاکش آبِ کوثر

فضائے نشۂ مستی ہوایشزمینی کا سامانہا خاکِ پایش

غبارش آب و رنگِ چہرۂ گلگیاہش دلربائے زلفِ سنبل

بہر جا سبزہ از خاکش دمیدہرخِ خوباں بپیشش خط کشیدہ

نگاکش سایۂ پر ہائے بلبلجوابِ یک چمن خندیدنِ گل

بہرِ شہرش بتانِ گرم بازارپئے سودائے دلِ عاشق خریدار

تیسرے: خاکسار کا مسکن و مولد خطۂ مینو سواد کشمیر جنت نظیر ہے۔ جو باغِ نعیم سے بھی زیادہ لچسپ و دل پذیر ہے۔ مرغزارِ نزہت پیرا، سبزۂ طراوت افزا۔ والله عجب گل زمین ہے۔ بالله روکشِ بہشتِ بریں ہے:

ہر سوختہ جانے کہ بہ کشمیر در آیدگر مرغ کباب ست کہ بابال و پر آید

از بسکہ کند جذبِ رطوبت خطرش نیستگر کاسۂ چینی زہوا پر جحر آید

ایں سبزہ و ایں چشمہ و ایں لالہ و ایں گلآں شرح ندارد کہ بگفتار در آید

بنگر کہ فیضش چہ سود گوہر ریکتجائیکہ حزف گر رود آنجا گہر آید (عرفی)

چوتھے: سنار ضواں بھی جس کا خوشہ چیں ہےوہ بیشک لکھنؤ کی سرزمیں ہے

سبحان اللہ کیا طبقۂ مردم خیز ہے۔ زبان اور لطفِ بیان نکتہ رانی اور غزل خوانی، اہلِ لکھنؤ ہی کا حصہ ہے۔ جو شاعر ہے خدائے سخن، جو نثار ہے کامل فن۔

پانچویں: گفتگوئے عاشقاں در کارِ شبجوشش عشق ست نی ترکِ ادب

ہمارا اشعار و دثار صوفیانِ صافی طینتِ عالی گوہر راست کردار کا سا ہے عقیدت و طریقت ذِ جود و حدت پر ہے یعنی ہم وحدتِ وجود کے قائل ہیں۔ روزے سے غرض، نہ نماز سے سروکار جو نقطۂ وحدت سے مل جائے۔ اسی کی نجات ہے۔ ہم اُس واحدِ حقیقی کے افراد ہیں جس کی وحدت سے اس عالم افراد میں یہ کثرت ہے۔ سنو! یقین مانو! وحدتِ عین، کثرت اور کثرتِ عینِ وحدت ہے۔ عالمِ مشاہدہ میں ایک مثال اس کی دیتا ہوں، جس سے اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ معقول نظری ہے۔ بدیہی ہو جائے۔ دیکھو ایک تخمِ خربزہ ہم نے بویا۔ اُس نے اپنی طبیعت سے اپنے کو ایک پودے اور چند پتوں میں ظاہر کیا۔ پھر بڑھتے بڑھتے چند عرصے میں اس نے اپنے تئیں، پھر اپنی اُسی ذات خربزے میں ظاہر کیا۔ اور اُسی تخم میں اب دیکھو ایک تخمِ واحد نے جس میں وحدت ہی وحدت تھی۔ کس قدر کثرت میں اپنے کو جتایا۔ پھر وہی بیج کا بیج چنانچہ ہمارے امامِ ہدایت اور پیشوائے رشادات نکتہ رس، علی الاطلاق حکیم الاشراق، مولوی معنوی، قدس سرہ الخفی والجلی اپنی مثنوی میں اس مطلب کی طرف اشارہ بایں اشعار فرماتے ہیں:

بشنو از نے چوں حکایت می کندوز جدائی ہا شکایت می کند

کز نیستاں تا مرا بریدہ انداز نفیرم مردوزن نالیدہ اند

نیستاں سے وہی وحدتِ حقیقی کا بن مراد ہے۔ جس سے کٹ کٹ کر ہم بانسریاں ترانہ سنج ہیں:

شنیدم نالۂ دل سوز نی راشب از مطرب کہ دوخوش ہا دویرا

چناں درجانِ من سوزش اثر کردکہ بے رقت ندیدم ہیچ سے را

ہمیں کچھ سالک و مجذوب سے مطلب نہیں۔ ہم اپنی لو اسی سے لگائے بیٹھے ہیں۔ فقہ و حدیث سے غرض نہیں:

جامِ جم رکھدے طاقِ کسریٰ پرمیرا چُلّو شراب سے بھر دے

بھلا انما الخمر و المیسر جس من عمل الشیطان۔ قرآن میں آیا ہے۔ مگر یہ ہم لوگوں کے واسطے نہیں ہے اچھا یہ صحیح ہی سہی، وَاِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَفْعِھِمَا۔ لیکن ہمارے پیرِ مغاں اور ہادیِ دوراں دیکھو کدھر جاتے ہیں:

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیرِ ماچیست یارانِ طریقت بعد ازیں تدبیرِ ما

ما مریدان دبسوئے کعبہ چوں آہم چوںرد بسوئے خانۂ خمار دار و پیرِ ما

باقی رہا عذاب و عقاب، نعیم و جحیم یہ فقط شرعی دھڑ کا ہے۔ رع

بہشت اک باغ ہے دوزخ بھی اک شرعی دھڑ کا ہے

چھٹے: کیا بادۂ گلگوں سے مسرور کیا دل کوآباد رکھے داتا ساقی تری محفل کو

صوفیِ عالی مقام کو ایں جانب کا سلام۔ حضرت آپ کی گفتگوئے عاشقانہ اور کلامِ صوفیانہ سے طبیعت کو سرور حاصل ہوا۔ یہاں بھی دوزخ اور بہشت کو شرعی دھڑ کا ہی سمجھتے ہیں:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

ہاں روزہ رکھنا اچھا ہے۔ کشفِ رطوبات ہوتا ہے۔ اے لعلِ فام و آتش لباس، ہمارے مشرب رندانہ میں بھی جائز ہے۔

ساتویں: گر بیاید ملک الموت کہ جانم ببردبے دوسر چھیٹا کشی روح رمیدن مدہم

وہ مولانا چوک گئے۔ مولوی معنوی کے شعر کے معنی اچھے حل کیے:

بشنو از نے چوں حکایت می کند

نے سے مطلب بھی سمجھے، خاک نہیں۔ اجی حضرت یہ چاندوکی نے سے عبارت ہے۔ چاندوکی نے کی دلی تمنا ہے کہ لوگ ہردم اسے منھ سے لگائے رہیں۔ جب ہی کہا ہے کہ:

وز جدائی ہا شکایت می کند

آٹھویں: صوفی بیا کہ آئینہ صاف ست جام راتا بنگری صفائیِ می لعلِ فام را

راز درونِ پردہ زرندانِ مست پرسکیں حال نیست صوفیِ عالی مقام را

یہ یاران سرپل کی بیٹھک ہے۔ یہاں زہاد اور صوفیانِ صافی کا کیا کام۔ جام اور بادۂ گلفام کا ذکر چھڑے۔ یہ حقانی باتیں مزا کر اکیے دیتی ہیں۔ والد مرحوم بڑے بے وقوف تھے چپڑ غنٹو کر کے ہمیں مدرسے بھیجا۔ اسپلنگ ایک بھی ہنوز نہ ختم کی تھی کہ ہم بھاگ کھڑے ہوئے سلیٹ کو کلوار کی بھٹی پر گرد رکھ خوب راسی اڑائی۔ الغرض صبح سے چار بجے تک ترزبانی اور شعر خوانی، بادۂ انگور حور و قصور کی چہ می گوئیاں رہیں۔ لطیفے ہوا کیے۔ چار بجے کے بعد حضرت آزاد نے زبان کھولی تو یہ سب بند ہو گئے۔

آزاد: دن رات گفتگو ہے شراب و کباب کیکیا مُنھ لگوں نے یار کی صحبت خراب ہے

اس صحبت اور جلسے پر خدا کی مار۔ اور شراب خانے پر شیطان کی پھٹکار۔ لاحول ولا قوة۔ یار و اخلاق سیکھو۔ آدمی بنو۔ آدمیت کا سبق لو۔ منافعِ پند اجبّا و ابرار و مضارِ صحبتِ اشرار میں تمیز کر دو۔ یہ نہیں ترکے سے بیٹھے تو بھور ہو گیا۔ شام تک سوائے پیازو میخانہ کے کوئی چرچا ہی نہیں۔ ان بزرگوار کی جمعیت کے صدقے کر اپنے باپ کو بے وقوف بناتے ہیں۔ واللہ کتنے سچ ہیں۔ یہی تو ان کی بے دقوتی ہے۔ الٰہی توبہ! الٰہی توبہ! کیا اشغالِ مزخرف ہیں۔ خدا اپنی پناہ میں رکھے اور صحبتِ بد سے بچائے:

حیف از تو گر روزی کہ مقیم باغیزبلبل غافل و حریفِ زاغی

صحبت اینجا موثر ست اگر باشیدرآبِ ردی تری درآتشِ داغی

یہ شراب خانہ خراب نے لاکھوں گھر بلٹائے ہیں۔ یہ ہزاروں تاجداروں کو گدائے بینوا بنایا۔ منھ لگائی اور منھ کی کھائی۔ فلک رفعت تاجروں کو اس نے خاک میں ملایا۔ مہاجنوں کا دوالہ اس نے نکلوایا۔ یا خدا مدد دے، یا خدا مدد دے:

ز چوبِ تاک گو یا عود خود ساخت ایں مطربکہ خوش مستانہ بیروں نغمہ ہا ازسا زمی آید

ان یارانِ صادق و دوستانِ موافق، یارانِ بادہ نوش و بذلہ سنجانِ عشرت کوش میں دن بھر تو دھوم دھڑکا، چہل پہل، قہقہے اور چہچہے رہے۔ سرِ شام سے ناچ رنگ کی دھما چوکڑی مچی خانہ باغ میں جس کے در و دیوار سے صحرائیت برستی تھی، شامیانۂ عیش کا شانہ بصد حشمتِ شاہانہ نصب ہوا۔ یارانِ سرِ پل بیٹھے رنگ رلیاں مناتے ہیں۔ گل رخان پری چہرہ، شادیانے بجاتے ہیں۔ طبلے پر تھاپ ہے۔ گت بج رہی ہے۔ حاضرینِ جلسہ زیر و بم سے واقف، چڑھاؤ اتار کے سمجھنے والے، خوش رو، خوش گلو، کوئی تان سین بنا بیٹھا ہے۔ کوئی بیجو باورا۔ گردن سب کی ہل رہی ہے۔ اہا ہا! اہو ہو ہو، واہ واہ، اے سبحان اللہ، اے صدقے قربان جاؤں کیا گلا ہے۔ یہ گلبانگ توصیف و طنطنۂ تعریف ہر سمت بلند ہے۔ ایک بتِ پندار، شوخ دستم گارنے، یہ غزل عجب لطف و اندازِ برنائی اور شانِ خود آرائی سے ادا کی:

خدا جانے یہ آرائش کرے گی قتل کس کس کوطلب ہوتا ہے شانہ آئینہ کو یاد کرتے ہیں

اس پر کٹا ڈوئے تھے۔ سب بے خود۔ بے ہوش۔ بے قابو۔ بے دل، بے صبر۔ سرو پا کی خبر نہیں، یک رند عالم سوز و آزادہ، لغزہ سنجی کے دلدادہ، نے چوجمالے کی فرمائش کی۔ کہنے بھر کی دیر تھی۔ سارنگی غضب ڈھانے لگی، اور (مچھر یا بندیا لیگیو مور) کی آواز خوش آنے لئی۔ ادھر مطرب کی ناخن بازی، ادھر خوش الحانوں کی نازک آوازی، بے فکروں کی آہ واہ۔ الحذر۔ خدا کی پناہ۔ کسی سیہ جردہ شیریں حرکات نے خدیو معزِ سخن واقفِ رموزِ ہر فن، عراقی آں جہانی کی یہ غزل گائی اور ہاتھوں ہاتھ داد پائی:

صنّارہ قلندر سر دار بمن نمائیکہ دراز، دورو دیدم رہ ودیم پارسائی

برطوافِ کعبہ رفتم زدم نداہر آمدکہ بردنِ درچہ کردی کہ درونِ خانہ زائی

دردِ دیر چوزدم لبن ز دردل ندا برآمدکہ بیا بیا عراقی توز خاصگانِ نائی

اس کا مطلب تو دو ہی چار سمجھے۔ مگر ٹوپیاں چوطرفہ اُچھلنے لگیں۔ سحر کا ذب کے وقت جب پپیہا بولنے لگا۔ اور نسیمِ سحری مشک و عنبر سے لبی ہوئی، بہشت کی لپٹیں لانے لگی۔ تو کہروے کی فرمائش ہوئی۔ زلفیں پریشان، مست و خوش الحان، سب حاضرینِ جلسہ شاداں و فرحاں، مگر حضرتِ آزاد آزردہ و دگریاں۔ لاحول گویاں۔ یہ بے اعتدالی۔ اور بے عنوانی، بحرِ بے حیائی کی روانی، وطغیانی، دیکھ کران کا دل اس صحبتِ فسق و فجور سے بھر گیا۔ چہرہ مارے غصے کے لال بھبھوکا۔ بدن میں رعشہ، مزاج کبھی تولہ، کبھی ماشہ، معلوم ہوتا ہے ایک آدھ کو پھاڑ کھائیں گے۔ یا گھن پٹی بتائیں گے۔ چکت دیا ہی چاہتے ہیں۔ آڑے ہاتھوں لیا ہی چاہتے ہیں۔ اتفاق سے اُس تخیلے کی صحبت میں ایک خواجہ صاحب کا بھی گذر رہا تھا۔ اور وہ بے چارے نئے پنچھی تھے۔ میاں آزاد کے بشرے سے تاڑ گئے کہ اس صحبت سے حضرت بہت کبیدہ خاطر ہیں۔ وہ بھی ان سے متفق الرائے تھے۔ لہٰذا دونوں میں سرگوشی ہوئی۔

خواجہ: یا حضرت! مجرا عرض ہے۔

آزاد: سبحان اللہ۔

اے وقت تو خوش کر دقت ما خوش کردی

یہ ریشِ سفید یکیشت و پانزدہ انگشت۔ اور یہ شستہ تقریر، یہ جبّہ و دستار، اور غیر شعار، کہنے لگے مجرا عرض ہے۔ تسلیم، آداب، کورنش بندگی، السلام علیکم، بالائے طاق۔ ناچ و رنگ کا ضلع حفظ ہے۔ واہ ری جگت بازی، استغفر اللہ۔

خواجہ: قبلہ یہ دیکھیے واللہ ہے، کہ میں بھی گھبرا اُٹھا۔ یہ بے حیائی دیکھی نہیں جاتی۔ جو ہے مست، جو ہے رندِ خرابات جو ہے بھکڑ۔ یہ دیکھیے واللہ ہے کہ آپ کے چہرے کی رنگت سے بھانپ لیا کہ اتنی محفل میں ایک یہ ہمدرد ہیں۔ یہ دیکھیے واللہ ہے، کہ یار لوگوں نے تڑکا کر دیا۔ مگر آنکھ تک نہ جھپکی۔ دیدے پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

آزاد: جی ہاں، اور ابھی کوئی نیک کام کرتے ہوتے تو چراغ جلے ہی سے پڑ رہتے۔ ایک جو منکنا۔ مگر اس تھر کنے اور چمک دمک کے تربان کہ چار پہر بیٹھے ہی بیٹھے کاٹ دیے۔ اٹھنا دور ہلنے تک کی قسم ہے۔ ستم ستم ہے۔ دمبدم حقہ چلم پر چلم بھری جاتی ہے۔ خمیرا دوسیر مشکبو، دھواں دھار اُڑ رہا ہے۔ گلوریوں پر گلوریاں چلی آتی ہیں۔ عطر کی شیشیاں لنڈھائی جاتی ہیں۔ سچ کہوں حضرت! پہلے تو آپ مجرا ایسا بجالائے کہیں سمجھا کہ آپ بھی اس چھٹی ہوئی محفل کے چھٹے ہوئے ہیں۔ مگر آپ تو بندے کے ہمدرد نکلے۔

خواجہ: یہ دیکھیے واللہ ہے کہ یہ جتنے حضرات نظر آتے ہیں۔ سب شرفا کے صاحبزادے ہیں۔ نصف تو امرا کے لڑکے ہیں دال روٹی سے خوش۔ باقی ماندہ مفلس۔ ٹکا کفن کو پاس نہیں۔ مگر بانکپن پر جان دیتے ہیں۔ گھر میں فاقہ ہے۔ رمضان شریف در پر کھڑے ہیں۔ ہر مہینے مرچڑوں کی طرح اڑتے ہیں۔ ٹوپی ہے تو جوتا غائب غلم۔ جوتا ہے تو ٹوپی ندارد۔ لیکن اکڑے نکلتے ہیں۔ پڑھنا لکھنا فلاش معاش سب کی دُم میں رسا لنگوٹی میں پھاگ۔ کبھی رنگ کبھی راگ۔ بھیردیں ہو، یا اور راگ، امرازادوں کو دیکھیے، واللہ ہے کہ کیا قطع بنائی۔ کیسی وضع بھائی جن کے پاس روٹی کھانے کو نہیں، وہ تحصیلِ علم سے باز رہیں۔ تو مفلس قلندار د، مگر ان سے کوئی اتنا تو پوچھے کہ کیوں بھئی تم پر کون ایسی سختی پڑی تھی کہ کالج چھوڑ بیٹھے۔ عربی بڑھی نہ انگریزی۔ موچی گری کر دگے یا نگریزی جگت بولنے میں سب طاق ہیں۔ ابھی کوئی ضلع بولیے، دیکھیے، واللہ ہے کہ سب کے سب طوطی کی طرح چہچہہ زن ہوتے ہیں یا نہیں۔ ہاں ذرا چھیڑیے تو آپ کو واللہ۔ بس ایک فقرہ چست کر کے چپکے ہو رہیے دو برسوں تک بکے جائیں گے۔

آزاد: حضرت مجھے تو ان کی صورت سے نفرت ہو گئی۔ بس چلے تو کھڑے کھڑے شہر بدر کرا دوں۔ ابھی حبس و دوام بعبور دریائے شور۔ کا حکم نافذ کر دوں، یہ ننگِ خاندان پیدا ہوئے ہیں:

زنانِ باردار اے مردِ ہشیاراگر وقتِ ولادت مار زایند

ازاں بہتر بہ نزدیکِ خردمندکہ فرزندانِ ناہموار زایند

جلسہ برخواست، تابہ جاشت، وقتِ در دہنگام کاشت، پاسِ مرایت نگاہ داشت۔ یہ بے تکی صدا ایک کونے سے آئی۔ طبلچیوں نے بنجہ سنبھالا۔ ڈھاڑیوں نے بوریا بندھنا اٹھایا۔ عابد فریبوں نے ناز و انداز سے قدم بڑھایا۔ صبح کی نوبت بجنے لگی۔ مرغ نے بانگ لگائی۔ شوائے کا گھنٹا ٹھن ٹھن بجنے لگا۔ مؤذن نے مسجد میں اللہ اکبر کہنا شروع کیا:

منشی سحر ہاتھ میں لیکر قلم زرلکھنے لگا منصوبی دمعز ولی لشکر

لے فروسیہ شب کو کیا خارج ازدفترمنصوب ہوا عامل روزاپی جگہ پر

مہتاب پہ جاری تھا قلم امردہی کاپرانا چراغوں کو ملا برطرفی کا

شمع گل بجھڑی غائب۔ رند جھٹ سے جا نماز بچھا نماز پڑھنے لگے۔ ایک سخرے نے اپنے قریب کے یار عیار کو دھکیل دیا۔ تو منھ کے بھل زمین پر۔ دوسرے نے ایک کی کھوپڑی پر چپت جمائی، تو ٹوپی دس قدم پر، تیسرے نے چوتھے کو اونٹی بتائی تو چاروں خانے چت پانچویں نے بآواز بلند کہا:

بنکار د آج خوب چلو میکدہ کو ذوقچھوڑ و کہیں وظیفہ بہت بڑ بڑا چکے

ایک اور بادہ گسار نے دیکھا کہ وہ سب مرتی رہے، ہم ہی پھسڈی رہے جاتے ہیں۔ فرمایا:

فصلِ بہار آئی پیو صوفیو شراببس ہو چکی نماز مصلّا اٹھائیے

چلیے حضرت اللہ میاں پر احسان کر چکے۔ نماز پڑھی یا نہ پڑھی۔ وضو کر کے مستعد تو تھے۔ اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ پھر خوف کا ہے کہ اور بھی نماز چاہیے ایک نہیں پچاس بار قضا ہو جائے۔ نماز خفتن پڑھ لیں گے۔ چلو چھٹی ہوئی میاں آزاد کی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا کہ یہ سَوَادُ الْوَجْہِ فِی الدُّنْیَا حضرت قادر ذوالجلال سے بھی نہیں چوکتے۔ نماز میں بھی دل لگی عبادت میں مسخرہ پن۔ خاصے کچے ہیں:

اے فسق و فجور کار ہر روزۂ مادے پر زحرام کا سہ دکوزۂ ما

می خند و روز گار دمی گرید خلقبرطاعتِ دہر نماز بر روزۂ ما

خواجہ: یہ دیکھیے واللہ ہے کہ یہ مرتد رحمتِ رب سے محروم رہیں گے اپنے تو رو نگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ دیکھیے واللہ ہے کہ بس تو بہ بھلی۔

آزاد: بندہ پرور گستاخی معاف۔ یہ تکیہ کلام تو چھوڑیے آپ ایک جملہ بولتے ہیں، تو تین سو پینسٹھ (یہ دیکھیے واللہ ہے) کوئی فقرہ (یہ دیکھیے واللہ ہے) سے خالی نہیں۔ یہ بری عادت ہے۔

خواجہ: یہ دیکھیے نہیں۔ تو بہ تو بہ مگر یہ دیکھیے واللہ ارے! پھر وہی فقرہ نکلا۔ مگر واللہ اس جوڑ توڑ کے قربان ۳۶۵۔ کی بہت ہوئی سال میں ۳۶۵۔ ہی دن ہوتے ہیں۔

میاں آزاد اس صحبتِ رندانِ می آشام سے ایسے ناراض ہوئے کہ بلا رخصت بھاگ گئے اجی حضرت سنیے تو سہی، سنیے تو سہی۔ واسطے خدا کے پیچھے پھر کے نہ دیکھے تو جنت سے نکالا جائے وہ سنتے کس کی ہیں۔ یہ جادہ جا۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.