Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 8 из 8

Muharram in Lucknow; Health Is a Treasure; Young Nobles Seek Work

لکھنؤ کا محرم؛ تندرستی ہزار نعمت؛ امیر زادوں کو فکرِ معاش

Ratan Nath Sarshar

Письмо
Размер

برات کی دھوم

ایک رئیس گردوں مدار و امیر باوقار کی ایک دختر، فرخندہ اختر تھی رئیس موصوف نے اس کو بہ ناز و نعم پالا۔ جب لڑکی کچھ سیانی ہوئی تو اس کی شادی کی فکر پیدا ہوئی۔ بڑے بڑے نام برآوردہ، روسائے ذوالاقتدار کے یہاں سے پیغام آنے لگے۔ دور، دور تک اس کے حسن و جمال کی شہرت ہوئی۔ آخر کار ایک رئیس دالا تبار و جم اقتدار کے ساتھ نسبت قرار پائی پھر کیا تھا طرفین سے تیاریاں ہونے لگیں۔ اب شوق کی اس درجہ افزائش ہے کہ جی چاہتا ہے سب جمع جتھا لٹا دیں۔ آنکھ بند کر کے خرچنے لگیں۔ ایک نے اسّی ہزار روپے قرض لیے، دوسرے نے تعلقے کے کوٹرے کیے۔ دونوں لنگوٹی میں پھاگ کھیلنے لگے۔ جوڑے بنے۔ خدمت گاروں، ماماؤں اصیلوں نوکروں چاکروں نے بیش بہا جوڑے بھڑکائے۔ خوب انعام و خلعت پائے برات کے دن بڑے کر و فر سے برات سجی گئی۔ دونوں طرف خوب ٹھاٹھ تھے:

الماس کے داں تھے جھاڑ و فانوسیاں جلوہ فروش تختِ طاؤس

مہتاب سے چاندنی کا داں فرشیاں چرخی سے چرخ میں سرِ عرش

گلگوں تھا کسی کا بادر فتارگلرنگ کسی کا تھا ہوا دار

ہاتھی تھے تو مستیوں کی دھت تھیگھوڑے تھے توچابکی کی لت تھی

وہ ماہ کر تھا سوارِ شبدیزتھا پابر کاب شوقِ مہمیز

سب سے پہلے نشان کا ہاتھی شبِ رنگ، مست، صورت دیکھے انسان ڈر جائے۔ اس کے بعد بڑی دور تک جلوس کی بہار، اور سانڈنیوں کی قطار تھی۔ عربی، ترکی، تازی، دبلاکیپ انواع و اقسام کے بہوار بادر فتار خوش خرام دتیز گام، سازدار، سجے بجائے۔ برے کے برے جائے چاندی کا گہنا پہنے دُھن کی ایسی صورت بنائے چھم چھم کرتے چمکتے جاتے ہیں۔ آرائش کے تخت بڑے صناعانِ چابکدست کے بنائے ہوئے لطف جلوس دو بالا کیا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا گلزار ارم کے پھول پھولے ہیں۔ سرو بنا یا تو نقل کو اصل کر دکھایا۔ چاند و بازوں کا تخت قابلِ دید تھا۔ کوئی نشے میں جھوم رہا ہے کوئی نئے میں جھوم رہا ہے۔ کوئی گرمٹ تھامے غین ہے۔ کوئی کتارا چوستا ہے۔ لعینہ چاند خانہ کی تصویر کھینچ دی۔ خربزے کا بتلی کا تخت، رہس منڈل دیکھنے سے دل کو سرور ہوتا تھا۔ سواروں کا تخت ستم ڈھاتا تھا۔ سوار خاکی کی وردیاں پہنے کرچ لٹکائے گھوڑے کی باگ اٹھائے، دھادا بولا ہی چاہتے ہیں۔ قدم قدم پر آتش بازی چھوٹ رہی ہے۔ انار آسمان کی خبر لاتے ہیں۔ بھلجھڑی کی تعریف میں اچھے اچھے آتش زبانوں کی زبان لال ہے۔ چرخی کا چرخ دیکھ کر عقل چرخ تھی۔ کامل فن آتش باز دَر نے بڑی دسوزی سے آتش بازی بنائی تھی۔ انار سے تختۂ زمردیں نظر آتا تھا۔ باجے والوں کی جماعت، ڈھول کی دھوم، تماشائیوں کا ہجوم، گوروں کی لال لال وردیوں سے گل لالہ کھلا تھا۔ تلنگوں کی کالی کالی کرتیوں سے، حاسدوں کا منھ کالا تھا۔ ایک سمت چوبدار عصائے نقرئی بے گھگھریاں جمائے گھوم رہے تھے۔ دوسرے سمت خاص بردار رنگین جھنڈیاں اٹھائے، پھرتے تھے، رئیس، شریف، عائدِ لا تعداد، غیر محدود تھے جملہ سامانِ لطف و مذاق موجود تھے۔ نوشہ حسین و مرجبین خلعتِ بیش بہا زیبِ تن، کیے بعد طنطنہ و دبدبہ گلگوں، خوش عنان پر سوار تھا۔ گھوڑا ایسا شائستہ کہ دو دھ پیتا بچہ تک سوار ہو جائے۔ پاؤں کی مہندی نے دلہن بنا دیا تھا:

ست کر جنا زیب فزای تن اوستکو ہیست کر لالہ زار در دامن اوست

نے نے غلغم کر آسمان دگر ستدر رنگِ حنا شفق بہ پیرا ہن اوست

نوشہ کے گھوڑے کے بعد کئی ہاتھی تھے۔ مکنا اور اک دنتا اور دُم کٹا اور پٹھان پر دس دس، بارہ بارہ، چودہ چودہ، برس کے لڑکے سوار تھے۔ بیٹھے ہاتھی پر ہیں، نظر کمروں پر ہے۔ ڈو ڈو چوہیں لڑتے چلے آتے ہیں۔ الغرض خوب چکر کھا کر، اور سوتوں کو جگا کر برات دلہن کے مکان سے تھوڑی ہی دور پر تھی کہ آتشبازی سے ایک ہاتھی بھڑکا دوسرے نے اس کا ساتھ دیا۔ فیلبان لاکھ تدبیریں کرتا ہے۔ آنکس پر آنکس لگتا ہے مگر وہ بُری دھت میں ایک نہیں سنتے۔ تیسرا ہاتھی پکا تو ایک بڑھیا کچل گئی۔ ایک پنشن والا پس گیا۔ دس دکانیں تہ و بالا ہو گئیں۔ گھبراہٹ اور بد حواسی سے پندرہ بیس آدمی زخمی ہوئے۔ اتنے میں آرائش لٹنے لگی۔ ہلّڑ ہو گیا۔ برقندازوں کی ایک نہیں چلتی۔ آدھے تخت لٹ گئے چھ ٹوپیاں اُتر گئیں۔ تین لڑکوں کا زیور اچکوں نے ہتھیا لیا۔ ایک کا کان کٹ گیا۔ چلو ناک توپچی۔ مبارک باد ے خدا خدا کر کے دُھن کے مکان پر برات پہنچی:

در تک جو برات اُدھر سے آئیکی سب نے ادھر سے پیشوائی

باران گلاب و بارشِ گلہو کر بڑھے آگے باتجمل

قلیان پئے مشکبو دھواں دھاربیڑے چھکے پان کے مزیدار

جب عقد کی ان کی ساعت آئیدور شتوں میں اک گرہ لگائی

زلفیں ہوئیں چہرے کی بلا چینٹوٹ ہ، نگاہیں سحر آگیں

میاں آزاد گھنٹوں یہ کیفیت چپکے چپکے دیکھا کیے، اور یہ سوچنے لگے، کہ اس قدر زر کثیر بیوجہ، بلا سبب مفت، بیکار، ضائع ہوا۔ اور ہزاروں روپیے غارت کیے۔ اگر یہی زخیطر امورِ رفاہ عام اور فائدہ انام میں صرف ہوتا تو سبحان اللہ! افسوس صد افسوس کہ ہندی اس آرائش پر لٹو ہیں۔ ہم نے کہیں سنا ہی نہیں کہ، اس فضول دھوم دھام سے کسی ملک کو فائدہ پہنچا ہو:

ادبار کا کھٹکا ہے شمِ دجاہ میں ہےبھاگو بھاگو کہ خوف بس راہ میں ہے

جاگو جاگو یہ خوابِ غفلت کیسادیکھو دیکھو اجل کمیں گاہ میں ہے

یہ بھٹتے کی براتیں اور یہ دھوم دھام، یہ رسومِ مذموم، دردانگیز، حسرت خیز ہیں مگر اہلِ ہندان ہی کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ وہ اسی کو بڑا عروج سمجھتے ہیں، کہ تمام عمر کی آمدنی ایک برات کی نذر کر دیں۔ دو گھڑی کی واہ واہ اس کے بعد حالِ تباہ، عیاذاً باللہ۔ شادی کو غم سے مبدل کرنا کون دانائی ہے۔ لیکن حیف صد حیف کہ ان امور پر نظر ہی نہیں ڈالتے۔

لکھنؤ کا محرم الحرام

سینوں میں جگر پر تیرِ غم چلتے ہیںرخساروں پہ اشکِ شمع ساں ڈھلتے ہیں

کیوں تعزیہ خانوں میں نہ رونق ہو زیاددل بھی تو چراغوں کی طرح جلتے ہیں

میاں آزاد سیلانی آدمی سیر سپاٹے پر ادھار کھائے ہوئے مرگ گشتی کی دھن جو سمائی توریل کے انجن کی طرح چل کھڑے ہوئے۔ اور سوچے کر چل کے محرم لکھنؤ کا دیکھیں۔ دیکھتے کیں ہیں کہ گھر گھر شیون و شَن، گھر گھر بکا و بین، گریہ وزاری۔ اشکباری، جمِ غفیر، مجمعِ کثیر۔ ایک جلے تن بول اٹھے اور کیوں نہ ہو، مجالسِ عزا کی دھوم دھام ہے۔ لکھنؤ کا محرم الحرام ہے۔ لکھنؤ کی سوز خوانی، لکھنؤ کی خوش بیانی، لکھنؤ کی عزاداری، لکھنؤ کی سوگواری، از شام تا روم، مشہور ہر مرز بوم ہے۔ تعزیہ خانوں میں دھوم، امام باڑوں میں ہجوم ہے۔ اوران سب میں حسین آباد مبارک کا بدر فی النجوم ہے۔ ان کے ساتھ ان کے ایک دوست بھی ہو لیے تھے۔ ان کی بے قراری کا حال کچھ نہ پوچھیے، وہ لکھنؤ سے واقف نہ تھے۔ لوٹے جاتے ہیں، کہ شہیدِ کربلا کا واسطہ، آلِ مصطفیٰ کا صدقہ، ہمیں لکھنؤ کا محرم دکھا دو۔ مگر کوئی جگہ چھوٹنے نہ پائے۔ ایک شخص نے ایک آہ سرد کھینچ کر کہا کہ میاں اب وہ لکھنؤ کہاں، وہ دل کہاں، وہ لوگ کہاں، لکھنؤ کا محرم رنگیلے پیا جانِ عالم کے وقت میں دیکھتا توارنی گوئے او ج طو، بھی غش کر جاتا، بانکوں کی شمشیر و پیکر، جب دیکھو میاں سے دو انگل باہر کسی نے ذرا تیکھی چتون کی، اور انھوں نے کھٹ سے سروہی کا تلا ہوا ہاتھ چھوڑا۔ بھنڈار اکھل گیا۔ ایک ایک گھنٹے میں بیس بیس خانہ جنگیوں کی خبر آتی تھی۔ دکاندار جوتیاں چھوڑ چھوڑ کر سٹک جاتے تھے۔ وہ دھم دھکا، وہ بھیڑ بھڑکّا، ہوتا تھا کہ واہ جی واہ۔ انتظام کرنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ ادنیٰ ادنیٰ آدمی ہزاروں لٹا تا تھا۔ اب کوئی چوں بھی نہیں کرتا۔ اب کوئی بھی نذرِ حسین نہیں لگاتا ہے۔ اب انیس ہیں نہ دبیر موانس ہیں نہ مشیر۔ ضمیر ہیں نہ دستگیر:

افسوس جہاں سے دوست کیا کیا نہ گئےاس باغ سے کیا کیا گل رعنا نہ گئے

تھا کون سائل جس نے دیکھی نہ خزاںوہ کون سے گل کھلے جو جھانہ گئے

دبیر مبرد کی تربت کو خدا عنبریں کرے والله خدائے سخن تھا سر مبر:

جب قفلِ دہن کھلا جو ہر بنکلےگویا کہ زبان کلیدِ گنجینہ ہے

ایک ہی رباعی پڑھی اور سامعین چار موجۂ حیرت میں غرق ہو گئے۔ کہ اللہ اللہ یہ فصاحت یہ بلاغت:

مداحِ امیر ابنِ امیر آتا ہےدربار میں شاہوں کے فقیر آتا ہے

مشاقانِ سخن، خلق چلی آتی ہےلو مرثیہ پڑھنے کو دبیر آتا ہے

اور انیس مغفور کو خدا بخشے بااللہ العظیم کلام کیا جواہرات کے ٹکڑے، قند و نبات کے ریزے، نور کے مرثیے ہیں:

جوہر شناس ہے تو انھیں موتیوں میں تول

فصحائے خطۂ پاک ایران تک کہتے ہیں کہ کجا انیس کجا فردوسی، کجا کمر بند مرصع کجا شال طوسی، بزم میں وہ ڈھنگ رزم میں وہ رنگ کہ:

مضمونِ انیس کا نہ چربا اترااترا بھی تو بگڑ کر نقشا اترا

نقاش نے سو طرح کی خفت کھینچیتصویر نہ کھنچ سکی تو چہرا اترا

لیکن ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ اب بھی اس شہر کی ایسی عزاداری ہفت اقلیم میں نہیں ہوتی۔ اب کہیے کہاں کی سد ھیاں ہیں۔ نجفِ اشرف، کربلا کا ظمین، میر باقر کے امام باڑے چوپٹیاں۔ جہاں چلو داخلِ حسنات ہو۔ والله بہشت کی بھی کیا سیدھی راہ ہے:

دربارِ جنابِ مصطفیٰ کو دیکھاان آنکھوں سے شانِ کربلا کو دیکھا

فردوس میں پہنچے جو نجف میں پہنچےجنت دیکھی جو کربلا کو دیکھا

رنگ رلیاں مناتے پو قدمے چلے جاتے تھے، راہ میں وہ بھیڑ، وہ ریل پیل، کہ عیاذاً باللہ شانے سے شانہ چھلتا تھا۔ ہوا جب بعد خرابی بصرہ کہیں گذر پائے توضیق النفس ہو جائے بانکے ترچھے تیکھے؛ منقاتِ مقدس کس و ناکس، غریب و امیر، برنا و پیر، اُمڈے چلے آتے ہیں۔ جدھر دیکھو نرالی سج دھج مومنِ پاک، مثلِ کعبہ سیاہ پوش۔ کوئی ماتمِ حسین میں برہنہ سر چلا جاتا ہے۔ کوئی حُلّہ پوشانِ بہشت کی طرح ہرا ہرا جوڑا پھڑکاتا ہے۔ حسینانِ عنبریں مو اور مرجبینانِ توس ابرو کی ستم ناز چال، ماتمی پوشاک، بکھرے ہوئے بال، واہ واہ ناز۔ وہ نگاہِ غلط انداز، وہ چھپ چھپ کر کترا جانا، کبھی لجانا، کبھی مسکرانا۔ بے فکروں کی سو سو چک پھیریاں۔ تماشائیوں کی زور آزمائیاں۔ عاشق تنوں کی گھاتیں۔ رمز و کنایہ کی باتیں۔ دیہاتنیں، گنوارنیں، بیندی لگائے پھریا پھڑکائے، گوندسے پٹیاں جمائے، حیرت سے بائم پر سر گوئیاں کر رہی ہیں:

اری دیدی تنک مہکا بتا دےیہ کندیلیں جو لٹکت ہیں یہ ذرماں

حسین آباد تو پھر بھرے ہے بکنٹھبرت ہے یاں دیا لکرن کے گھر ماں

لیجیے آغا باقر کے امام بارہ میں کھٹ سے داخل۔ اوہو ہو خدا کی قدرت مجسم نظر آتی ہے۔ واہ میاں باقر کیوں نہ ہو۔ نام کر گئے چھکا چوند کا عالم ہے۔ لیکن گلی تنگ، تماشائیوں کی عقل دنگ۔ ع جائے تنگ ست مردماں بسیار:۔ مگر خلقت گھس پیٹھ کر دیکھ ہی آتی ہے۔ ناک ٹوٹے یا سر پھوٹے، آغا باقر کا امام باڑہ ضرور دیکھیں گے۔ وہاں سے جو طرارہ بھرا تو کچے پل پہنچے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک پیرِ فرتوت دقیا نوس کے ہم عمر بیٹھے، اگلے وقتوں کے لوگوں کو رو رہے ہیں۔ والله لکھنؤ کے کہار بڑے نادرہ کار ہیں۔ ایسا بڈھا بنایا کہ معلوم ہوتا ہے۔ بول پلے منھ سے اب بولا اور اب بولا۔ وہی سن کے سے بال۔ وہی سفید بھویں۔ وہی چتون، وہی پیشانی کی شکن، وہی ہاتھوں کی جھریاں، وہی کمر خم، وہی سینہ جھکا ہوا۔ واہ رے کاری گر، تو بھی اپنے فن میں یکتا ہے۔ اور تیرا ابڑھوا تو اللہ ہی اللہ۔ وہاں سے جو چلے تو داروغہ میر واجد علی صاحب مرحوم کے امام باڑہ میں آئے۔ یہاں سورج مکھی پردۂ جوبن تھا کہ آفتاب اگر ایک نظر چھپ چھپا کر، وہ دیکھ پاتا تو مارے غیرت کے بحرِ ظلمات میں غوطے کھاتا۔ بے تکلف کرسیوں پر جا دھڑٹے۔ اہلکارانِ سلیقہ شعار نے الائچی، چکنی ڈلی، پیش کش کی۔ وہاں سے حسین آباد مبارک میں پہنچے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ یہ امام بارہ ہے یا روضۂ رضوان۔ الٰہی یہ مکان ہے یا باغِ جناں۔ ہر در و دیوار سے محمد علی شاہ فردوس آرام گاہ کا نام روشن ہے۔ امام باڑہ سجا سجایا۔ دلہن کا ایسا جوبن ہے۔ برجوں پر ضیائے موفور۔ تو منار نورِ علی نور۔ حیرت تھی کہ یہ کوہ ہے یا شعلۂ طور ہے۔ سُرخ قندیل پر یاقوتِ احمر ہیرا کھائے۔ چراغاں کی قطار پر مہتاب پروانہ ہو جائے۔ پھر نہرِ مصفا جو نظر آئی، تو آنکھوں نے عجب طراوت پائی:

منور ہمچو چشمِ تیز بینانمصفّا چوں دلِ خلوت گزینان

رسیدہ عمق او تا گاؤ ماہینمودہ ہمچو عینک در سیاہی

پئے کسبِ لطافت آبِ حیواںدر دکشتہ چو در دراز تہ نشیناں

بتوں کی گلی چھوڑ کر کون جاوےیہیں سے ہے کعبہ کو سجدہ ہمارا

اب ان کے دوست کو شوق چرایا، کہ اربابِ نشاط کے امام باڑوں کی زیارت کریں تو میاں میاں آزاد جھجکے۔ اے حضرت خدا خدا کیجیے۔ بندہ ایسی جگہ نہ جانے کا، اپنی وضع کے خلاف ہے۔

دوست: بھئی واللہ کتنے روکھے پھیکے آدمی ہو۔ ارے میاں حیدر کی نازک آوازی، مشتری کی جاد و طرازی، گوہر کی چمک دمک آبادی کے رخِ انور کی جھلک سے کانوں کو سرور، آنکھوں کو نور، نہ حاصل ہوا تو لکھنؤ کا محرم کیا خاک دیکھا۔ اور پیرِ مرشد خدا اور خدا کا رسول آگاہ ہے، کہ انھیں دس دن تو مزے سے جہاں چاہیے جائیے۔ رنگین کمروں پر دو گال ہنس بول آیئے۔ بچے اور بوڑھے سب پہنچتے ہیں۔ مضمون واحد ہے۔

آزاد: یہ کہیے تو خیر۔ چلیے بندہ بھی ہو مل کر شہیدوں داخل ہو جائے۔ پہلے گوہر کے یہاں پہنچے۔ اللہ اللہ دماغ عرشِ بریں پر ہے۔ اچھے رئیس زادے فخریہ مصاحبت کر رہے ہیں۔ ایک بڑے مالدار جوہری صاحب مشکتے ہوئے آئے۔ دس روپیہ کی کار چوبی ٹوپی، زیبِ سر، فاسی، طلس کا نوق البھڑک دگلہ، زیب بر، سنہری لیس ٹکی ہوئی۔ یک رنگ جوڑا۔ خاصے مرغِ زریں بنے ہوتے۔ خدمت گار کے کاندھے پر زنگاری دوشالہ۔ یہ وضع یہ قطع بکر بیٹھتے ہی ٹوک گئے۔ بیٹھے تو ضریح کی طرف پشت کر کے۔ صاحب خانہ نے ایک عجیب ادائے دلربا سے جھڑک دیا۔ اے واہ بڑے خوش تمیز ہو۔ ضریحِ مبارک کی طرف پشت سیدھے بیٹھے آدمیت کے ساتھ۔

جوہری: ماجلا (معاذ اللہ) بیوی مجھے بیٹھ نہیں آتا۔

میاں آزاد نے چپکے سے دوست کے کان میں کہا۔ لاحول ارے میاں یہ با ا بنہمہ ٹیم ٹام گھڑکے گئے۔ اور ذرا چیں بجبیں نہ ہوئے۔ پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔

دوست: بھائی جان! گوہر جان، لکھنؤ شان، لکھنؤ آن بان، لکھنؤ ر دِ ج رواں، لکھنؤ ہے۔ رگ رگ میں شوخی:

قد و قامت آفت کا ٹکڑا تمامقیامت کرے جس کو جھک کر سلام

ایسا خوش قسمت کوئی ہو تو ہے، کہ اس بتِ عربدہ جو کی گھڑ کی سہ۔ حاضرین ادب سے گردن جھکائے بیٹھے ہیں۔ جسے دیکھو دزدیدہ نگاہ سے محوِ نظارہ بازی ہے۔ لیکن رعبِ حسن سے بات کرتے کلیجہ لرزتا ہے۔

غرورِ حسن اجازت نگر ندا دائے گلکہ پرسنی بکنی عندلیب شیدا را

یہاں سے دردی کی طرح اٹھے تو فرنگی محل میں حیدر جان کے یہاں پہنچے:

نکلے خیمہ سے جو ہتھیار لگائے عباسچڑ ھکے رہوار پہ میدان میں آتے عباس

اس سوز کو ایسی نازک آوازی سے، سارنگ کی مانجھ میں ادا کیا کہ سامعین لوٹن کبوتر ہوئے جاتے تھے۔ راگ اور راگنی تواس کی لونڈیوں کا نام ہے۔ او ہو، ہو، ہو، کی صدا ہر در و دیوار سے بلند تھی۔ والله کیا پیارا گلا پایا ہے۔ میاں آزاد کی باچھیں کھلی جاتی تھیں۔ اور گردن تو گھڑی بھر کا کھٹکا ہو گئی تھی۔

اب پھدک کر بی منجھو مشتری کے کمرے پر پہنچے۔ ان کی لفاظی ان کی جادو طرازی، ان کی خوش بیانی، ان کے طرزِ سوز خوانی کی دھوم ہے۔ اربابِ صافی مذاق کا ہجوم ہے۔ کہ تل رکھنے کی جگہ نہیں:

خنجر جو بوسہ گاہِ پیمبر پہ چل گیا

اس کو جھنجھوٹی کی دھن میں اس لطف سے پڑھا کہ سامعین سر دھننے لگے۔

دوست: کیوں یار کیا لکھنؤ میں زیور پہننے کی قسم ہے؟

آزاد: لاحول ولا قوة تم بالکل ہی گنوار ہو۔ ماتم میں زیور کا کیا ذکر، گورے گورے کانوں میں، کالے کالے کرن پھول۔ ہاتھوں میں سیاہ سیلی بس کافی ہے:

سیاہ سیلی بدست آں نگاریبشاخِ صندلی پیچیدہ ماری

لیکن یہ سادگی بھی عجب لطف دکھاتی ہے۔ چلیے ذرا مجالسِ عزا کا رنگ ڈھنگ بھی تو دیکھیں۔

نواب باقر حسین خان بہادر اور داروغہ میر واجد علی صاحب مرحوم اور جناب سید العلما مہر شرع و دیندار ی سید ابراہیم صاحب، اور جناب آغا علی خان صاحب سابق ناظم کی مجلسوں میں گئے۔ ماتم دارانِ جناب سید الشہدا علیہ التحیۃ والثنا اور زائرینِ مصائبِ خاص آلِ عبا کی اشکباری اور گریہ و زاری سے یقین کامل ہو گیا کہ ماتم داریِ لکھنؤ پر ختم ہے۔ عاشورا کی رات تو نچوڑ کا دن تھا۔ آزاد نے لکھنؤ کے محرم کا خوب لطف اٹھایا:

الوداع اے اشکبار دالوداعآخری یہ شب ہے یارو الوداع

عشرۂ ماہِ عزا کا ختم ہےسر کو پیٹو اور پکار و الوداع

جدھر جاتے ہیں آواز گریہ و زاری۔ جسے دیکھتے ہیں صرفِ اشکباری رات تو زیارت میں بسر ہوئی:

پیدا شعاعِ مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازی پرِ طاؤس شب ہوئی

اور قطعِ زلفِ لیلی زُہرہ لقب ہوئیمجنوں صفت قبائے سحر چاک جب ہوئی (انیس)

یعنی عاشورہ کے دن پوپھٹنے کے وقت تعزیے نکلے۔ رانگے کا تعزیہ، جو کا تعزیہ، موم کا تعزیہ۔ کھیلوں کا تعزیہ، روئی کا تعزیہ، پیپل کے پتوں کا تعزیہ، انڈوں کا تعزیہ، نوگزہ تعزیہ، لاکھوں تعزیے تالکٹورے کی کربلا میں دفنائے جاتے ہیں۔ اربابِ نشاط برہنہ سر، برہنہ پا، سیاہ ماتمی پوشاک نے ان کے جوبن کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیا لیکن:

رومال نہ اشکوں سے بھگونے پائےمنھ آبِ گہر سے بھی نہ دھونے پائے

کیا جلد ہوا ماہِ محرم آخرجی بھر کے حسین کو نہ رونے پائے

تندرستی ہزار نعمت ہے

لکھنؤ کے محرم کی چہل پہل۔ علم اٹھانے والوں کا زور، دربل، امام باڑوں کی تیاریاں صناعوں کی کلگاریاں۔ نازک اندامو کی بہار جوانی، صادق علی خاں کی سوز خوانی۔ اربابِ نشاط کی بناوٹ، دکانوں کی سجاوٹ، تنبولیوں کی سر خروئی، دلبر میوہ فروش کی دلجوئی، تعزیہ خانوں کی دھوم، تالکٹورے کی کربلا معلی کا ہجوم، حسین آباد مبارک کا نور، نجفِ اشرف کا لطفِ موفور، ماتم دارانِ سید الشہدا کی گریہ و زاری، مومنوں کی اشکباری، دیکھ کر حضرت آزاد بادلِ شاد طاؤس مست کی طرح جھومتے چوک میں آنکلے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ پندرہ بیس کمسن لڑکے جزدان لٹکائے، سلیٹیں دبائے، پرے جمائے، پو قدمے آتے ہیں۔ پندرہ پندرہ، بیس بیس، برس کا سن، اٹھتی جوانی کے دن، مگر کمر بہتر جگہ سے خم، جیسے تیغِ ریختہ دم۔ گالوں پر کچے پل کے بڈھے کی طرح جُھریاں۔ آنکھیں گڈھے میں دھنسی ہوئی منھ پر ہوائیاں چلنا محال ہے۔ یا الٰہی یہ جھکا ہوا سینہ، یہ شانے، یہ ڈنڈ اور تین کانے، اسس نئی جوانی میں قبلہ پیری و صد عیب بن بیٹھے۔ پیرانہ سالی میں تو شاید اٹھ کر پانی پینا بھی دبال جان ہو جائے گا۔ بڑھ کر:

پوچھا تم لوگ خیل کے خیلآتے ہو کدھر سے صورت سٹیل

میاں صاحبزادو ہمیں اس وقت والله حیرت ہے۔ کہ عنفوانِ شباب اور کمزوری۔

طالب علم: یہ بے چارے طاقت توانائی اور کس بل کس کے گھر سے لائیں۔ زور دو اتو ہے نہیں، کہ عطار کی دکان پر جائیں۔ دُعا نہیں کہ کسی شاہ جی سے رجوع لائیں۔ ان کی تو جان عذاب میں ہے۔ دس برس کے سن میں تو بیوی چھم چھم کرتی ہوئی گھر میں آئیں۔ چلیے اسی دن سے پڑھنا لکھنا چھپر پر رکھا۔ نظارہ بازی کا سبق نوک زبان کیا۔ جب دیکھیے چاہتی بیوی کے مصحفِ رخ پر نظر ہے۔ نئی دھن ہے۔ کچھ اور ہی اڈھیڑ بن ہے۔ تیرھویں ہی برس ایک چھوکری کے باپ یا چھوکرے کے ابا جان ہوتے۔ فکرِ معاش نے دامن پکڑا۔ کھلائی، دائی، ماما چھوچھو کی فکر ہوئی۔ یہ دبلے پتلے نہ ہوں تو کون ہو۔ اس کو بھی جانے دیجیے۔ ورزش سے طبیعت نفور، ڈنڈ گدرے منزلوں دور کشتی سے اجتناب۔ غذا مقوی نہیں، طرزِ معاشرت بھونڈا۔

میاں آزاد اس تقریر پُر تنویر سے باغ باغ ہو گئے۔ دل میں سوچنے لگے کہ ہائے ان کی جوانی کیسی برباد جاتی ہے۔ اس روس میں کہیں حضرت گنج، دلکشا، سکندر باغ کی طرف بکل گئے۔ دیکھتے کیا ہیں ایک فرح بخش دنزہت انتاد دلکش و خوشنا۔ بنگلے میں دس دس پندرہ برس کی انگریزوں کی لڑکیاں، اور لڑکے، صاف ستھری پوشاک زیبِ تن کیے ہوئے۔ کھیل رہے ہیں۔ سب سیم بدن غنچہ دہن۔ ایک پیڑی ٹہنی پر جھولتا ہے دوسرا دیوار کو رہوار بنائے مزے سے اس پر دوندنا تا ہے۔ ٹخ ٹخ ٹخ دس بیس، دو دو میل سے رپ رپ کرتے آتے ہیں۔ چار پانچ گیند کھیلنے پر لٹو ہیں۔ ایک مقام پر دیکھا کہ رتسی کا سرا ایک لڑکے نے ادھر اور دوسرے لڑکے نے ادھر سے لیا، اور کئی فٹ زمین سے بلند کیا۔ اور ایک پیاری لڑکی بدن تول کر زمین سے اس پار اچک گئی۔ دوسری طرف سے ایک لڑ کا چھپٹ کر کئی گز رسّی سے اونچا کو گیا۔ کوئی دوڑ تا ہے، کوئی کرکٹ کھیلتا ہے۔ سب صحیح و تندرست خوش و خرم دوڑ دھوپ میں طاق۔ جس سڑک پر جاتے ہیں اور جس طرف بار پاتے ہیں۔ یہی تماشا۔ اس وقت حضرت آزاد نے ان ہونہار لڑکوں، اور گل اندام لڑکیوں، کو دل سے دعا دی۔ اور ہندوستان کے ادبار پر لاحول پڑھتے ہوئے گھر آئے۔

امیر زادوں کو فکرِ معاش اور نوکری کی تلاش

ساقیا ہے ہلا کے ٹھیلیا دےسوندھی مٹی کی بھر کے کلھیا دے

ساقیا تجھ سے اتجا یہ ہےسچ جو پوچھے تو مدعا یہ ہے

گھول کر اک ذری پلا افیونتا کر بھر نشتے میں گھٹے مضمون

حظ اٹھایا بہت مسہری کااب تماشا دکھا کچہری کا

میاں آزاد صبح منھ اندھیرے تاروں کی چھاؤں میں بستر استراحت سے اٹھے معادل میں ٹھان لی۔ چلو بھائی ادھر ادھر کے تو خوب سیر سپاٹے کیے۔ اب ذری عدالت اور کچہری کی بھی دو گھڑی سیر کر آئیں۔ پہنچے تو دیکھتے کیا ہیں کہ ایک لق و دق باغ ہے اور سہانی چھاؤں میں میلا سا جمع ہے کوئی حلوائی سے۔ میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے۔ کہیں خوانچے والا بیٹھا ہے۔ (گلابی حلوا سو ہن) مدارہے حقے ایک سمت تازے کیے جاتے ہیں۔ وہ تڑ اقا کے واہ واہ۔ میں آ تو آ۔ یہ آ وہ آ۔ آدمیوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ بیسیوں منشی متعددی چٹائیوں پر بیٹھے عرضیاں لکھ رہے ہیں۔ مستغیث ہیں کہ ایک ایک کے پاس دس دس جھرمٹ کیے بیٹھے قانون چھانٹ رہے ہیں۔ (ارے منشی جی یو کا انٹ سنٹ چنگھٹیاں سی کھچائے دیکھو۔ ہم تو آپن مجمون بتادت ہیں آ دُتم اپنے اڑھائی چاول اگلے چور ادت ہو۔ اے مور منشی جی تنک اُس سوچ بچار کر لکھو تاکہ پھر یک ثانی کیا، مکدمہ ڈھسمسائے جائے، تو ہار گوڑ دھرت ہے۔ دو ہی کچا اور رے ایو) یہ زبان سنتے ہی میاں آزاد ہنس پڑے۔ گواہ گھر کی طرف جو رخ کیا تو سبحان اللہ۔ سبز مندیلیں اور فوق البھڑک چھنے ہی چھنے نظر آتے ہیں۔ دکلا ادھر اُدھر بیٹھے مقدمے چکارہے ہیں۔ ہیں تو میرزا منشی، لیکن یہ چکو تا کیسا ادھر اُدھر دیکھا۔ یار نہ غمگسار، نہ کوئی ہاں ہوں سے شریک، نہ کوئی پرسان حال، اکیلا باؤ لانتیل مشہور ہے۔ پیچھے پھر کر دیکھا۔ کہ ایک دوست کھڑے گوریاں بنوار ہے تھے۔ جان میں جان آئی۔ مارے خوشی کے باچھیں کھل گئیں۔ فرطِ ابتہاج سے بول اٹھے۔ کہ اے حضرت! ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں، آخاہ آپ ہیں؟ آیئے۔ کہاں بھول پڑے۔ جی یوں ہی چلا آیا۔ دوست نے کہا آیئے کچہری کے اندر چلیے۔ دو قدم بڑھے تھے، کہ چپراسی نے کڑک کر آواز لگائی۔ سیتا بیگ حاضر ہے! ایک افیمی کے پاؤں لڑکھڑائے۔ سیڑھیوں سے لڑھکتے ہوئے دھم سے نیچے۔ یا علی ایک ٹھنٹول نے کہا۔ واہ قبلہ دیکھیے یہ شرط نہ تھی۔ گرے تو، مگر بندہ درگاہ سے پوچھ نہ لیا۔ اٹھے تو یار لوگوں نے گرد جھاڑ دی۔ اتنے میں ایک اپریٹس (امیدوار) اور آیا اور کرسی پر ڈٹ گیا۔

امیدوار: کہاں سے آنا ہوا۔

دوست: جی اسی شہر میں رہتا ہوں۔

امیدوار: کچہری میں کھڑے رہنے کا حکم نہیں ہے۔ ہمارے کمرے میں سے آپ جایئے۔ ورنہ چپراسی کو آواز دیتا ہوں۔

دوست: بگڑیے نہیں بس صرف یہ تو بتا دیجیے، کہ آپ کا عہدہ کیا ہے؟

امیدوار: ہم امیدواری کرتے ہیں۔ تین مہینے سے روز یہاں کام سیکھتے ہیں۔ اب فراتے اڑاتا ہوں۔ آٹھوں گانٹھ کیست، ڈاکٹ ٹرٹے نکھ لوں۔ نقشہ چٹکیوں میں بناؤں۔ کسی کام میں بند نہیں۔ پندرہ روپیہ کی اسامی، ہمیں صبح و شام ملاہی چاہتی ہے۔ مگر پہلے تو والله گھانس چھیلنا مشکل معلوم ہوتا تھا، اب بقراط بن گیا۔

آزاد: کیوں میاں صاحبزادے تمہارے والد کہاں نوکر ہیں۔

امیدوار: نوکر؟ تو بہ تو بہ کیجیے۔ وہ دس گاؤں کے زمیندار ہیں۔

آزاد: کیا تم کو گھر سے نکال دیا یا عاق کر دیا۔ یا کچھ کھٹ پٹ ہے؟

امیدوار: ہم ہونہار لڑکے ہیں۔ اس سن میں نوکری کی فکر ہوئی۔

آزاد: حضرت جسے کھانے کو روٹیاں نہ ہوں وہ ستو باندھ کر نوکری کے پیچھے پڑے، تو مضائقہ ندارد۔ تم خدا کے فضل سے خوش وخرم، مرفہ حال، فارغ البال، زمیندار روپیہ والے ہو۔ تم کو کیا سوجھی کہ دس پانچ کی نوکری کے لیے ایڑیاں رگڑتے ہو۔ اسی سے تو ہندوستان خراب ہے۔ ہائے اسی سے ہندوستان خراب ہے۔ واہ رے ادبار۔

جسے دیکھو نوکری پر ہزار جان سے عاشق۔ میاں صاحبزادے کہا ماں تو اپنے گھر جاؤ، اپنا کام دیکھو۔ اس پھیر میں نہ پڑو۔ عمامہ باندھا اور کچہری میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ محرری پر لوٹ۔ امانت پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں۔ اور رگھر میں سونے کی اینٹیں بھری ہیں۔ لاحول ولا قوة۔

دوسرے امیدوار کی نسبت معلوم ہوا کہ ایک مہاجن لکھپتی کا لڑکا امیدواری کرتا ہے۔ باپ کی کوٹھی چلتی ہے۔ لاکھوں کا وار انیارا۔ بیٹا بارہ روپیہ کی نوکری کے لیے سو سو چکر لگاتا ہے۔ چوتھے درجہ سے مدرسہ چھوڑا اور اپرینٹس ہوتے کام خاک نہیں جانتے ہیں۔ ڈاکٹ میں لکھتے انڈ سر۔ باہر جاتے ہیں تو منفرم صاحب سے پوچھ کر۔ مولوی صاحب اگر اجازت باشد، آب خوردہ بیایم؟ اس وقت جب سب دفتر دائے اپنے اپنے گھر جانے لگے۔ تو حضرت پوچھتے کیا ہیں۔ کیوں جی یہ سب چلے جاتے ہیں، اور ابھی چھٹی کی گھنٹہ تو بجی ہی نہیں۔ اسکول کی گھنٹی یاد آگئی۔

میاں آزاد دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ کمسن لڑکے، مسیں بھیگتی ہوئی، نوجوان، امیروں کے لڑکے، ابھی گھبرو، نام خدا پندرہ پندرہ، سولہ سولہ، برس کا سن، پڑھنے لکھنے کے دن، مدرسہ چھوڑا، کالج سے منھ موڑا۔ امیدواروں کے زمرے میں شامل، اپرینٹسوں کی ٹکڑی میں داخل۔ الغرض ایف اے نگاڑا اعلم و ہنر کو چننے کے کھیت میں بچھاڑا۔ ہائے ستم، دائے ستم! محنت کرنا دبال، درس و تدریس میں جی لگانا دشوار، دو چار برس جم کر پڑھنا محال۔ لاحول ولا۔ یہ سب ہندوستان کے ادبار پر دال ہے۔ یورپ میں دیکھیے کہ ایک ایک پیر زال تک تربیت یافتہ و بدیع الخیال ہے۔ افسوس اپنی تو یہ کیفیت کہ جہاں کسی کمسن مرفہ حال کو قبل تکمیل مدرسہ چھوڑتے دیکھا، سینہ پاش پاش ہو گیا۔ دل کر اپنے لگا۔ اکثر لوگوں سے پوچھا کہ بھئی صاحبزادے مدرسہ کیوں چھوڑ بیٹھے۔ تو جواب یہی پایا کہ اقلیدس کی شکل سے نفرت ہے۔ جبر و مقابلہ سیکھنا طبیعت پر جبر کرنا تھا۔ تاریخ یاد کسے رہے۔ یہاں تو خدا جھوٹ نہ بلائے، گھر کے بچوں کا نام یاد نہیں آتا۔ لہٰذا پڑھنے کی دُم میں ندا باندھا۔ بھئی الگ بھی کرو چلتا دھندا کرو۔ اور لطیف سنیے! مدرسہ چھوڑا، اور نوکری کی فکر ہوئی، عمامہ ادنٹ پٹانگ باندھا اور کچہری میں غرپ موجود۔ اس لپٹی دستار کے قربان اور اس وحشت کے صدقے۔ زمیندار کے لڑکے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کھیتی کو یک قلم القط کرے اور کچہری میں گھس بیٹھ کر داخل ہووے۔ تاجوئے صاحبزادے کو جی سے لگی ہے کہ کالج سے چیت ہوں، اور کچہری کی کرسی پر جا ڈٹوں۔ متعدی محرر منشی اہل قلم کے صاحبزادوں کی تو گھٹی ہی میں نوکری ہے۔ علما، فضلا، عقلا، کملا، معزز حکام اور افسرانِ ذوی الاحترام کہتے کہتے تھک گئے، کہ پڑھ لکھ کر اپنا اپنا پیشہ کرو، اور اسی کو چمکاؤ، مگر بابو بننے کا شوق اور اہلِ دفتر کہلانے کا عشق ایسا چرّاتا ہے کہ عقل بالائے طاق، وحشت گلے کا ہار ہوتی ہے۔ مگر دیکھیے تو سہی رفتہ رفتہ سب سیدھے ڈھرّے پر آ جائیں گے اور چار وانگ ہند میں تربیت یافتہ ہی نظر آئیں گے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.