
Глава 6 из 8
Shah Ji's Story; Revellers and Beauties; a Literary Gathering
شاہ جی کی آپ بیتی؛ صحبتِ رنداں؛ ایک ادبی محفل
میاں آزاد کی کارستانی اور شاہ جی کی پریشانی
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن (غالب)
میاں آزاد ایسے بنے ہوئے شدھا اور رنگے سیار فقیروں کی تہ تک سے واقف تھے۔ معاً تاڑ گئے کہ شاہ صاحب ایک ہی مرشد، بڑے ہی رنگ باز ہیں۔ خرقہ، سالوس ذر برد، اور عمامۂ زور برسر، گو کھوں کو پھانس بھولس کر ہنڈیا چڑھاتے ہیں، اور بیوقوفوں کو اور بھی اتو بناتے ہیں۔ ان پڑھ گنوار، چنگ پر چڑھ جاتے ہیں۔ سوچ کر شاہ جی کی قرار داد قعی مرمت کر دینی چاہیے اتنے میں شاہ صاحب نے ایک صاف شفاف چبوترے پر ٹنگی بچھائی، اور اس پر دراز ہو کر مناجات پڑھنے لگے۔ مگر پڑھے لکھے تو تھے ہی نہیں، صرف حافظے پر دار و مدار تھا۔ شین قاف تک درست نہیں۔ شاعری کا خوب دل کھول کر خون کیا۔ اور اناپ شناپ بکنے لگے:
خدایا جہاں بادشاہی تراستنماخد بآمدائی تراست
ہماں آفریدی بالا و پستتوئی آفریں ندوالا وکشت
توئی کاسماں رازیں ساکتیزمین راز مان وزیں ساکتی
نیائی زماجو بس بجز کردنیدگر خفنی بار آپے خوردنی
دکا نست بافر خندگیخدا وند ما از تو بندگی
شاہ جی بڑے سوز و گداز سے لہرا لہرا کر حضرت نظامی گنجوی علیہ الرحمۃ والغفران کے کلام نظام کا خون اپنی گردن پر لیے رہے تھے کہ میاں آزاد سے نہ رہا گیا۔ ایک دفعہ ہی بول اُٹھے کہ یاد وحشت تیرا ہی آسرا ہے۔ اب تو شاہ جی چکر میں آئے۔ یہ آوازہ کس نے کسا۔ یہ حریف کون پیدا ہوئے۔ یہ پھبتی کس نے کہی۔ اِدھر اُدھر دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔ مگر آدم نہ آدم زاد۔ انسان نہ انسان کا سایہ۔ یا الٰہی یہ کون بولا۔ یا خدا یہ کس نے ٹوکا۔ سمجھے کہ یہ آسمانی دھیلا ہے۔ خدا کھوپڑی کو بچائے۔ ڈر پوک ضعیف الاعتقاد تو تھے ہی ڈرے، کہ کوئی بلائے ناگہانی، یا آفت آسمانی ہے۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے، بدن تھر تھرانے لگا، ہاتھ پائؤں پھول گئے۔ کشف و کمال سب بھول گئے۔ جو اس بلا اجازت سپا ٹو بر بھو رہے۔ ہوش قلا بازی کھانے لگے دفع بلا کی آیتیں پڑھنا شروع کیں۔ آخر میں با واز بلند چلا اُٹھے، کہ (یا مظہر العجائب) ادھر یہ بول اُٹھے (لنگی مع شاہ جی غائب)۔ اب شاہ جی کی گھبراہٹ کا حال نہ پوچھیے، کچھ چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ع۔ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
دم بخود، میاں آزاد نے بھانپ لیا کہ شاہ صاحب پر رعب چھا گیا، جھٹ نکل کر ٹیٹوں کو خوب پاؤں سے کھڑ کھڑایا شاہ جی کانپ اٹھے کہ پریوں کا لشکر کا لشکر ان کھڑا ہوا اب گئے ہی گذرے۔ آزاد نے بلمن داؤ دی، خاص اہل عجم کے لہجے میں ایک غزل پڑھی، گو شاہ جی الف کے نام بے بھی نہیں جانتے تھے، مگر رات خوب ہی بھیگی تھی اور چاندنی نکھری تھی۔ ہوائے سرد پھولوں کی بو باس کو منتشر کر رہی تھی۔ آزاد نے ایسی سریلی آواز سے اُس حقانی غزل کو گایا کہ کندۂ ناتراش تک کو وجد آیا۔ شاہ جی مست ہو گئے سمجھے کہ کوئی درویش با کمال آنکلے۔ اب تو جان میں جان آئی۔ میاں آزاد کے قدم لیے۔ انھوں نے پیٹھ ٹھونکی۔ شاہ جی اس وقت دو آتشہ شراب اڑائے ہوئے تھے۔ نشہ کی ترنگ میں خیال بندھ گیا، کہ کوئی آسمان سے اتراہے۔
آزاد: کیستی نواز کجائی، د بامنت چہ کارست؟ سکوت تاے ما سُنگ، انت تسبیح او سید۔ بلغنا المرا و زال العباد لک الحمد والشکر یا ربنا۔ اللہ بس باقی ہوس۔ شاہ جی کے رہے سہے حواس اور بھی غائب ہو گئے۔ زبان سمجھ میں نہ آئی، سمجھے کہ بیشک فرشتہ آسمان ہے۔ ہماری روح کو قبض کرنے کو نازل ہوا، دبے دانتوں فرماتے کیا ہیں، کہ میں علم سے نا محروم ہوں گا۔ سمجھتا نہیں ہوں گا، کہ آپ اس وقت کیا حکم دیتے ہیں۔ ہم نے بہت گناہ کیے، اب ماف (معاف) فرماؤ۔ کچھ دن اور جینے دو۔ تو توبہ کروں، یہ ٹھگ بدیا چھوڑ دوں۔ میں سمجھ گیا تھا کہ آپ فرشتہ ہو۔ رو ح قبض کرنے آئے ہو۔
آزاد: یہ پیرانہ سالی اور یہ بد اعمالی۔ یہ سن دسال اور یہ چال ڈھال! یاد رکھ کہ تعر جہنم میں پڑے گا اور نار دوزخ میں جلایا جائے گا۔ حسن فرشتہ، آسمانی، نہ ملک روحانی۔ میں حکیم بلنیاس کی روح پاک، عالم ہوں، حکیم ہوں، خدا ترس ہوں، رحیم ہوں، ملکوتی صفات ہوں، صاحب طلسمات و نیرنجات ہوں۔ شجاعت میں رستم سیستانی، حکمت میں ارسطوئے ثانی، مصوری میں مشک بہزاد و مانی، سکندر نامہ میں نظامی نے یہ شعر میری ہی شان میں کہا ہے:
بلیناس فرزانہ راپیش خواندبنزدیک جام جہاں میں نشاند
میری تعریف و توصیف میں بڑے بڑے شعرائے بلند پایہ، و سخنورانِ گرانمایہ، اُطب اللسان ہیں۔ میرا مزار اسی جگہ پر تھا۔ جہاں تیرا چبوترہ ہے۔ اور جہاں تو ناپاک رہتا ہے، اور شراب انڈیلتا ہے، خیر تیری نا واقفیت کے سبب سے، تجھے میں نے چھوڑ دیا۔ لیکن اب آپ نے یہ نیا ہتھکنڈہ سیکھا، کہ اُس زن جادو جمال، زہرہ تمثال کو پھانسا۔ اور اس سے کچھ اینٹھنا چاہتے تھے۔ وہ اس زمانہ میں میری منکوحہ اور مطبوعہ بیوی تھی۔ لے اب یہ ہتھکنڈے چھوڑ دو۔ مگر وریا سے مجھ مور ڈورنہ تم ہو، اور ہم۔ ابھی ابھی ٹھیک بناؤں گا، اور ناچ نچاؤں گا، مفراسی میں ہے کہ اپنا کل حال پوست کندہ، راست، براست، بے کم و کاست، کہہ چلو۔ نہیں خود ہی بھگتو گے۔ میرا کچھ نہ جائے گا۔ شاہ جی نے شراب کی ترنگ میں مارے ڈر کے اپنی بیتی صاف صاف کہہ سنائی جس کو ہم اپنی زبان میں ادا کرتے ہیں ذرا کان دھر کر سنیے۔
شاہ جی کی آپ بیتی
شاہ جی: چودہ برس کے سن سے مجھے چوری کی لت پڑی۔ وہ مشاق بہم پہنچائی کہ آنکھ چوکی اور گھٹری اُڑائی۔ غافل ہوا، اور ٹوپی کھسکائی۔ پہلے کچھ دن تو لیٹا چور رہے۔ مگر یہ تو کرنی بدیا ہے۔ چند ہی روز میں چوروں کے دلی کھنگر ہو گئے۔ سیندھ لگانا کوئی ہم سے سیکھے۔ چھت کی کڑیوں میں یوں چپٹ رہوں، جیسے چھپکلی۔ اُچک پھاند میں بندر، میرے مقابلے میں گردیں۔ دبے پاؤں کوسوں نکل جاؤں، ممکن کیا کسی کو آہٹ معلوم ہو۔ شہر بھر کے بد معاش، او باش، لقے، پنے، شہدے، گرگے، ہماری ٹکڑی میں شامل ہوئے۔ بڑے بڑے مہاجن، ساہو کار، جھک کر سلام کرنے لگے۔ جس نے ہیکڑی کی لی۔ اس کو نچا دکھا دیا۔ جو ٹپرھا ہو، اس کو سید ھا بنا دیا۔ خوب چوریاں کرنے لگے۔ آج اس کا مال مارا۔ کل اس کی چھت کاٹی۔ پرسوں کسی نواب کے گھر میں سیندھ دی۔ دفنہ رفتہ ڈاکے مارنے لگے۔ سڑکوں پر لوٹ مار شروع کر دی۔ تھانگ میں دنیا بھر کے بیفکرے جمع ہیں۔ ایک طرف یاران سرپل، چانڈو اڈا ر ہے ہیں۔ دوسری طرف چرس کے دم لگار ہے ہیں۔ گانجا، بھنگ، ٹھڑے سب کا مشغل ہے۔ تاپیں اُڑ رہی ہیں۔ شراب کی بوتلیں چنی ہوئی ہیں۔ گنڈیریوں کے انبار لگے ہیں۔ مکھیاں بھن بھن کرتی ہیں۔ سب کو یہی فکر ہے کہ کسی کا مال تاکیں۔ کوئی زر دار کورانہ بچ نکلے دائی ضرور ہو۔ ایک دن شامتِ اعمال سے ایک نواب صاحب ذی مقدرت کے یہاں چوری کرنے کا شوق چرایا۔ ان کے خدمت گار کو بلایا۔ ماما چھوچھو کو پھچ چٹایا۔ ایک بجے کے وقت گھر سے نکلے۔ اسی محلے میں ایک مہینے قبل مکان کرایہ پر لیا۔ اسی مکان میں بیٹھے نواب کا ایوان عالیشان کوئی پچاس ہی قدم کے فاصلے پر ہوگا۔ تین آدمی دس قدم پر، اور پانچ بیس قدم پر کھڑے ہوئے۔ ہم اور خدمت گار اور ایک چور ساتھ چلے کہ گھر میں دھنس پڑیں۔ قریب گئے تو ڈیوڑھی پر چوکیدار نے پکارا۔ کون؟ سن سے جان نکل گئی۔ عمر بھر میں یہی خطا ہوئی کہ چوکیدار کو پہلے سے نہیں ملالیا۔ اب کیا کریں۔ مشتے کہ بعد از جنگ یا دآید بر کلہ خود باید زد۔ قہر درویش بر جان درویش۔ پھر چوکیدار نے للکار اکون آتا ہے؟ ہم نے کہا ہم ہیں۔ بھئی (چوکیدار) ہم کی ایک ہی کہی۔ ہم کا کچھ نام بھی ہے۔ آخر کار ہم نے چوکیدار کو اسی دم کچھ چٹا کر سیندھ دی۔ گھر میں گھسے تو دیکھتے کیا ہیں، کہ نواب صاحب پلنگ پر سوتے ہیں، اور ان کی بیگم دوسرے پلنگ پر خواب ناز میں ہیں۔ مگر شمع روشن ہے۔ اپنے ساتھی سے اشارہ کیا کہ شمع کو گل کر دے۔ اتفاق وقت سے وہ ایسا گھبرایا کہ بڑے زور سے پھونک ماری۔ میں نے کہا خدا ہی خیر کرے، ایسا نہ ہو کہ نواب جاگ اُٹھیں تو لینے کے دینے پڑیں۔ آگے بڑھ کے میں نے بتی کو تیل میں کھسکا دیا۔ چلیے چراغ گل، پگڑی غائب بیگم صاحب کے سرہانے زیور کا صندوق رکھا تھا۔ مگر اڑیں۔ ہم تو ماما کی زبانی کچا چٹا سن چکے تھے۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ فوراً صندوق اٹھا۔ اور دوسرے ساتھی کو دیا کہ باہر پہنچا دے وہ کچھ ایسا گھبرایا کہ مارے بو کھلاہٹ کے کانپنے لگا، اور ایک دفعہ ہی اڑ ا ڑا گر دھم۔ دھماکے کی آواز سنتے ہی نواب چونک پڑے۔ شیر بچہ سرہانے سے اٹھا پلنگ سے اٹھ بیتر بے بدل بدل کر پھبتی کے ہاتھ دکھانے لگے۔ میں نے ایک چاکی کا ہاتھ دیا اور جھٹ کمرے سے نکل دیوار پر چڑھ پچھواڑے کو دا۔ اور چور چور پکارتا ہوا ناکے باہر، وہ دونوں سرلو جھیے نوسیکھیے تھے۔ دھر لیے گئے۔ مگر واہ رے نواب، واللہ جری آدمی ہے۔ دونوں کو گھیر لیا۔ وہ تو جیلخانہ گئے۔ بندہ نلوہ بچا۔ اب ہم نے یہ پیشہ چھوڑا۔ اور سفاکی پر کمر باندھی۔ ایک مہینے میں کئی خون کیے۔ پہلے ایک سود اگر کو گھر میں گھس کر چار پائی پر ڈھیر کر دیا۔ اور جمع جتھا ہمارے باپ کی ہوگئی۔ پھر ریل پر ایک مالدار جوہری کا گلا گھونٹ ڈالا، اور جواہرات صاف اڑا لیے۔ تیسری دفعہ دو بنجارے سرائے میں اُترے تھے ہمیں خبر ملی کہ ان کے پاس سونے کی اینٹیں ہیں۔ ان کو سرائی میں اٹھا عفیل کرنا چاہا۔ بھٹیاری نے ہمیں دیکھ لیا۔ غل چایا پکڑے گئے۔ چالان ہوا۔ مجسٹریٹ نے قید خانہ دکھایا۔ وہاں آٹھ دن رہے تھے، کہ نویں دن آزادی یاد آئی۔ رات کو موقع پا کر کال کوٹھری کا دروازہ توڑا۔ ایک کنجی بردار کا سراینٹ سے پھوڑا۔ پہرے کے کانسٹبل کو اسی بندوق سے شہید کیا۔ صاف نکل بھاگے۔ اب ہم سوچے کہ کوئی نیا پیشہ اختیار کریں۔ اس گاؤں میں آئے، تو عجب ہتھکنڈے سے درویش با کمال بن بیٹھے۔ قبروں کا بھیس بدل کر ایک پیڑ کے نیچے بستر جا دیا۔ بچنے لگے ایک دن اس گاؤں کے ٹھاکر کا لڑکا بیمار ہوا۔ یہاں طبیب نہ ڈاکٹر۔ کسی نے کہہ دیا کہ ایک وبی اللہ بکریا کے نیچے بیٹھے، یاد خدا کیا کرتے ہیں۔ چہرے سے نور برستا ہے۔ کسی سے لیتے ہیں نہ دیتے ہیں۔ ٹھاکر نے سنتے ہی اپنے بھائی کو بھیجا۔ ہم ساتھ گئے۔ چہرہ بشاش کر آج پالا ہمارے ہاتھ رہا۔ تو عمر بھر چین سے گذرے گی۔ ہمارا پہنچنا تھا کہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم کسی سے بولے نہ چالے (قدم درویشاں رد بلا بہ آواز بلند کہہ کر لڑکے کے پاس بیٹھ گئے، اور کچھ بڑ بڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ لڑکے کا برا حال ہے، بچنا محال ہے۔ ٹھاکر قدموں پر گر پڑا۔ ہم نے بیٹھ بھٹوکی، اور لبے لبے ڈگ بڑھائے چل دیے۔ اتفاق سے ایک دن ایک یورپین ڈاکٹر دورہ کرتے ہوئے اس گاؤں میں آئے۔ اور ان کے معالجے سے مریض چنگا ہو گیا۔ اب لطف دیکھیے کہ ڈاکٹر کا تو کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ سب ہماری تعریف کرتے ہیں۔ کوئی بیٹے بناتا ہے۔ کوئی خدار سیدہ کہتا ہے۔ ٹھاکر نے ہمیں ایک ہاتھی اور ہزار روپیہ دیا۔ وہ ہم نے قبول نہ کیا۔ سبحان اللہ بھر تو ہوا بندھ گئی۔ اب چو طرفہ ہم ہی ہم ہیں۔ کوئی بیمار ہو تو ہم پوچھے جائیں۔ کوئی مرے تو ہم بلائے جائیں۔ میاں بیوی کی شکر رنجی میں ہم قاضی بنتے ہیں۔ باپ بیٹے کا جھگڑا فیصل کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک ڈالیوں پر ڈالیاں، اور نعمتوں پر نعمتیں ہمارے سامنے چنی رہتی ہیں۔
عورت مرد، غریب و امیر، برنا و پیر، سب زیارت کو آتے ہیں۔ ہمارے آزاد منش بیباک روش، پاکیزہ مشرب، عالی گوہر، فرخندہ اختر، معزز ممدوح، میاں آزاد اب حکیم بلیناس فرزانہ کی روح بن بیٹھے۔ بھئی کیا کیا نقرے یاد ہیں۔ اچھا روپ بدلا۔ شاہ جی کو وہ گیدڑ بھبکی بتائی کہ آتے حواس غائب ہو گئے۔ شراب کے نشہ نے سمند وحشت پر ایک اور کوڑا جمایا، مکر وزور کا سارا حال مو بمو کہہ سنایا۔ واللہ اچھا سہل نسخہ ہاتھ آیا۔ شاہ صاحب کی قلعی کھل گئی۔ سچ ہے، ہر فرعونے را موسٰی۔ گاؤں بھر حیرہ کھایا تھا۔ خوب دام تزویر پھیلایا تھا۔ اب پھنسنے بچا، میاں آزاد نے جب دیکھا کہ مارے بوکھلاہٹ کے ان کی جان پر بن آئی ہے، تو تشفی دی، اور یوں سمجھایا۔ سنو شاہ جی! سمک سے سما اور ثری سے ثریا تک اپنا راج ہے۔ لیکن ہماری بیعت لاؤ، ہمیں اپنا پیر بناؤ، تو چھوڑ دیں۔ اس وقت تو مزے سے پاؤں پھیلا کر سور ہو۔ کل تڑکے، گجر دم، گاؤں بھر میں غلغلہ ڈال دو۔ کہ ہمارے پیر مقدس نے قدم رنجہ فرمایا ہے۔ مگر ہمار اسن دو سو گیارہ برس بتانا، اور سب سے کہہ آنا کہ ابھی نام خدا سبزہ آغاز ہیں۔ اور جوان طناز ہی معلوم ہوتے ہیں۔ شاہ جی کی با چھیں کھل گئیں، کہ چلو کسی طرح جان تو بچے۔ نور کے تڑکے تمام گاؤں میں اس سرے سے اس سرے تک، پکار آئے۔ کہ ہمارے پیر مقدس آتے ہیں۔ جسے دیکھنا ہے دیکھ لے۔ شاہ جی کی وہاں دھاک بندھی ہی تھی، جب لوگوں نے سُنا کہ ان کے بھی ولی کھنگر آئے ہیں۔ تو شوق چڑ ایا کہ زیارت کو چلیں۔ دو دن اور دو رات میاں آزاد نے کسی کو رُخ تاباں نہ دکھایا۔ تیسرے دن فقیرانہ لباس پہن کر ہرے ہرے پیڑوں کے ٹھنڈے ٹھنڈے سایے میں آن بیٹھے۔ میاں آزاد گلفام، و ناز ک اندام، حسین و مہ جبین تو تھے ہی۔ شنجرنی تہ بند، اور پیرہن نے آتش حسن کو اور بھی بھڑ کا دیا۔ دیکھتے کیا ہیں کہ پو پھٹتے ہی زن و مرد، غریب اور امیر، برنا و پیر زیارت کو آ رہے ہیں۔ ٹھٹ کے ٹھٹ۔ جمع۔ ہندو اور مسلمان کی عورات جوان کو دیکھ کر ان کی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا۔ جوان، کمسن، جادو جمال، زہرہ تمثال، شوخ و طناز، خوش انداز، سراپا ناز، زیور سے مزین لباس گراں بہا، سے مشین، چھما چھم، کرتی چلی آتی ہیں۔ دس دس کوس سے فینسوں پر سوار۔ بعد شوق زیارت کو آئی ہیں لیکن، طرحدار، مہریاں ساتھ، بانکی ادا، فینس کے کونے پر ہاتھ، کوئی بڑے ٹھٹھے سے ڈولی پر، کوئی پیادہ پا۔ غنچہ کھلا ہوا ہے۔ میاں آزاد نے دل ہی دل میں ان کے در شٹا کو خوب صلواتیں سنائیں، کہ فقیر اور با کمال، کا نام سنتے ہی کیا جھٹ سے بھیج دیا۔ خدا کی مار۔ ان کو اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ ذرا دل میں سوچیں کہ ہم بھیجتے کہاں ہیں۔ الٰہی توبہ، الٰہی توبہ! میاں آزاد نے نہایت جوش و خروش، اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ اشعار اور آیات پڑھنا شروع کیں۔ اور خوب ہی بنے۔ بھئی واللہ کیا بھیڑیا دھسان خلقت ہے جس نے کپڑے رنگ لیے وہی خدا رسیدہ بن بیٹھا۔ دنیا بھر کے بے نکرے فقیر کے لباس میں مال مارتے ہیں۔ اور اکثر تربیت یافتہ ثقات حسن تک۔ ان کے با کمال ہونے پر گنگا اور قرآن اُٹھاتے ہیں۔ کوئی ذی عقل سمجھائے تو الٹی اتیر گلے پڑیں:
خیانت سے مکائد سے دغا سےخدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
صحبتِ رندانِ مے آشام و مہوشانِ نازک اندام
گھٹا کالی کالی دھنک لال لالکنھیا کے ابرو پہ جیسے گلال
گھٹا اور بجلی میں ہے آج چوٹہے آبی دوپٹے میں لچکے گی گوٹ
گلستان عالم میں چھائی گھٹاوہ آئی وہ آئی وہ آئی گھٹا
سیہ ابر مغرب سے ایسا اٹھامیں سمجھا کہ کعبہ کا پردہ اٹھا
آزاد دخانہ برباد، مستانہ وار، جھومتے چلے جاتے تھے، کہ ایک کمرے سے آواز آئی، (اتنی ارج مورتی مان)، ہو ہو ہو ٹھوڑی ٹھوڑی بھوہار، سبزۂ نو دمیدہ کی بہار، نھنی نھنی بوندیں۔ ابر طرب خیز نسیم سحری، مشک بیز۔ تڑکے کا وقت، اس صدائے خوش آہنگ کے سنتے ہی میاں آزاد نے اُسی جگہ ایک کیاری میں بستر جمایا۔ پھر آواز آئی، (بیا بیا رے اتنی ارج موری مان)۔ اہو ہو ہو واہ، استاد تم تو اپنے وقت کے میاں شوری نکلے۔ کیا تان سین کی قبر کے پیڑ میں ایک پتی باقی نہ رکھی۔ جڑ سے پھنگی تک، سب چٹ کر گئے۔ ہاں ذرا اُدنچے سروں میں۔ چھڑے چھڑے۔ (سیاں پیارے اتنی ارج موری مان) اتنے میں اس کمرے سے قہقہے کی آواز آئی۔ اور دس پانچ آدمیوں نے گردن نکال کر میاں آزاد کو دیکھا کہ ایک تھانے میں دوزانو بیٹھے موجیں اے رہے ہیں۔
ایک: حضرت یہ خانہ بے تکلف ہے۔ بسم اللہ تشریف لائیے! میاں آزاد نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ دن سے کمرے میں داخل۔ السلام علیکم۔
دوسرا: وعلیکم السلام۔
تیسرا: ع
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں (غالب)
چوتھا: بندہ نواز! ادھر تشریف رکھیے۔ آپ تو کانٹوں میں گھسٹتے ہیں۔ ع صدر ہر جا کہ نشیند صدر است۔
پانچواں: گستاخی معاف۔ آپ کس طریقت میں ہیں۔
آزاد:
از مذہب من مپرس نہ مومن نہ کافرممن رسم ایں دیار ندانم مسافرم
چھٹا: کہیے کبھی جام بھی دیکھا ہے۔
آزاد: اے حضرت یہ نہ پوچھیے۔ صبح ارزق ہو، اور جام مرزوق ہو۔ شراب شیراز ہو، تو عمر دراز ہو:
گویند بہشت و حور کوثر باشدوانجائی ناب دشہد و شکر باشد
پُر کن قدح باده کہ معلوم نیستنقدی زہزار ارنسیہ بہتر باشد
شراب ایک ہے، کوثر کی ہو کہ لندن کیاک اپنے واسطے زاہد حلال کرتے ہیں
گر بندہ محروم ہے۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.