Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 4 из 9

Gazales 61–89 (radifs nun, vav y he)

Ghazals 61–89 (Radifs Nun, Vav and He)

غزلیں ۶۱ تا ۸۹ (ردیف ن، و، ہ)

Mirza Asadullah Khan Ghalib

Письмо
Размер

ردیف ن

۶۱۔ لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے

لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولےغالب یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

۶۲۔ وہ فراق اور وہ وصال کہاں

وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصّور سےاب وہ رعنائیِ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشقواں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبوہ عناصر میں اعتدال کہاں

۶۳۔ آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں

آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتابذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

کیا کہوں تاریکئِ زندانِ غم اندھیر ہےپنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

زخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں

بس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوئےجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں

ہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں

تھی وطن میں شان کیا غالب کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں

۶۴۔ عہدے سے مدِح ناز کے باہر نہ آ سکا

عہدے سے مدِح ناز کے باہر نہ آ سکاگراک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں

حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بہ سوئے دلہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں

میں، اور صد ہزار نوائے جگر خراشتو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں

ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہہَے ہَے خُدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں

۶۵۔ ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن

ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

غرّۂِ اوجِ بِنائے عالمِ امکاں نہ ہواِس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

نغمہ ہائے غم کو ہی اے دل غنیمت جانیےبے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

دَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

۶۶۔ مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت

مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہےبات کچھ سَر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستمگر، ورنہکیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

۶۷۔ مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو،کہ جہاںجادہ غیر از نگہِ دیدۂِ تصویر نہیں

حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں

رنجِ نو میدیِ جاوید گوارا رہیوخوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائےلذّتِ سنگ بہ اندازۂِ تقریر نہیں

جب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر بجُز خجلتِ تقصیر نہیں

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ’آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں‘

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیں

سلطنت دست بَدَست آئی ہےجامِ مے خاتمِ جمشید نہیں

ہے تجلی تری سامانِ وجودذرّہ بے پر توِ خورشید نہیں

رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائےورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومئ جاوید نہیں

کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امّید نہیں

۶۸۔ برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہئے

برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہئےکھِل گئی ماندِ گلُ سوَ جا سے دیوارِ چمن

اُلفتِ گل سے غلط ہے دعوئ وارستگیسرو ہے باوصفِ آزادی گرفتارِ چمن

۶۹۔ مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں

مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیںہیں جمع سُویدائے دلِ چشم میں آہیں

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا کر اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سےکہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبتماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

۷۰۔ ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

وعدۂِ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوقمژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں

شاہدِ ہستئ مطلق کی کمر ہے عالَملوگ کہتے ہیں کہ ’ ہے‘ پر ہمیں منظور نہیں

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکنہم کو تقلیدِ تُنک ظرفئ منصور نہیں

حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہیعشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ “ ہم حور نہیں“

ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہوتُو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگوائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبمیرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں

۷۱۔ نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں

نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں

عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!ہم کو تسلیم نکو نامئ فرہاد نہیں

کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلطمۂ موج کم از سیلئِ استاد نہیں

وائے مظلومئ تسلیم! وبداحالِ وفا!جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں

رنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں

سَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گلچیں!مژدہ اے مرغ! کہ گلزار میں صیّاد نہیں

نفی سے کرتی ہے اثبات طراوش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد “ نہیں“

کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبتم کو بے مہرئ یارانِ وطن یاد نہیں؟

۷۲۔ قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا ’یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟‘

دلِ نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبنہ کر سرگرم اس کافر کو اُلفت آزمانے میں

۷۳۔ دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا

دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنابارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد، یاں

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تماممہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد، یاں

۷۴۔ ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگرعشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

۷۵۔ تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں

تیری فرصت کے مقابل اے عُمر!برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں

قیدِ ہستی سے رہائی معلوم!اشک کو بے سروپا باندھتے ہیں

نشۂ رنگ سے ہے واشُدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں

غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

اہلِ تدبیر کی واماندگیاںآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

سادہ پُرکار ہیں خوباں غالبہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں

۷۶۔ زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسد

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدوگرنہ ہم تو توقعّ زیادہ رکھتے ہیں

۷۷۔ دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں

دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

بے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاںطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوشصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرفیاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں

ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مانآخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں

دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشیحالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں

اس سادگی پہ کیوں نہ مر جائے اے خُدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

دیکھا اسد کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

۷۸۔ یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

ترے جواہرِ طرفِ کُلہ کو کیا دیکھیںہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

۷۹۔ نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میںہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں

ہُوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا، خانہ ویرانیکفِ سیلاب باقی ہے برنگِ پنبہ روزن میں

ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوںنگینِ نامِ شاہد ہے مرا ہر قطرہ خوں تن میں

بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کیشبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں

نکو ہش مانعِ بے ربطئ شورِ جنوں آئیہُوا ہے خندہ احباب بخیہ جَیب و دامن میں

ہوئے اُس مِہر وَش کے جلوۂ تمثال کے آگےپَرافشاں جوہرآئینے میں مثلِ ذرّہ روزن میں

نہ جانوں نیک ہُوں یا بد ہُوں، پر صحبت مخالف ہےجو گُل ہُوں تو ہُوں گلخن میں جو خس ہُوں تو ہُوں گلشن میں

ہزاروں دل دیئے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کوسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں

اسد زندانئ تاثیرِ الفت ہائے خوباں ہُوںخمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں

۸۰۔ مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

مگر غبار ہُوے پر ہَوا اُڑا لے جائےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں

بھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں

خیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں میکششراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں

ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسوائے حسرتِ تعمیر۔ گھر میں خاک نہیں

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں

۸۱۔ غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں

پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں

رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں

’غیر سے رات کیا بنی‘ یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یُوں

بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں

میں نے کہا کہ “ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی“سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟

مجھ سے کہا جو یار نے ’جاتے ہیں ہوش کس طرح‘دیکھ کے میری بیخودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسیگفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں

ردیف و

۸۲۔ حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہوکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو

بہ قدرِ حسرتِ دل چاہیے ذوقِ معاصی بھیبھروں یک گوشۂ دامن گر آبِ ہفت دریا ہو

اگر وہ سروقد گرمِ خرامِ ناز آ جاوےکفِ ہر خاکِ گلشن، شکلِ قمری، نالہ فرسا ہو

۸۳۔ وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

ہنگامۂ زبونئِ ہمّت ہے، انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسداس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

۸۴۔ واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار

واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمساریعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو

اپنے کو دیکھتا نہیں ذوقِ ستم کو دیکھآئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو

۸۵۔ دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤں

دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤںہیہات کیوں نہ ٹوٹ گیے پیر زن کے پاؤں

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

بھاگے تھے ہم بہت۔ سو، اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دورتن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں

ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں

بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جیکعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پانو

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

غالب مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں

۸۶۔ واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو

دل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہےکس قدر ذوقِ گرفتاریِ ہم ہے ہم کو

ضعف سے نقشِ پئے مور، ہے طوقِ گردنترے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو

جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امّید بھی ہویہ نگاہِ غلط انداز تو سَم ہے ہم کو

رشکِ ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیںنالۂ مرغِ سحر تیغِ دو دم ہے ہم کو

سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہاہنس کے بولے کہ ’ترے سر کی قسم ہے ہم کو!‘

دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ؟ ولیکن ناچارپاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم ہے ہم کو

تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو

لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنیہوسِ سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو

مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم ہے ہم کو

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالبجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

۸۷۔ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہم سایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمار داراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

ردیف ہ

۸۸۔ ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیےدشوارئِ رہ و ستمِ ہمرہاں نہ پوچھ

۸۹۔ از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ

از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہطوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئینہ

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.