Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 7 из 22

Early Rising

صبح خیزی

Назир Ахмад

Письмо
Размер

صبح خیزی

حسن آرا: "مگر سویرے تڑکے تو میں نہیں آ سکتی۔ میں تو کوئی پہر دن چڑھے سو کر اٹھتی ہوں۔" پہر دن چڑھے کا نام سن کر محمودہ بے اختیار ہنس پڑی۔

محمودہ: "کیا ہر روز آپ پہر دن چڑھے اٹھا کرتی ہیں؟" حسن آرا: "ہر روز۔"

محمودہ: "آپ سوتی کس وقت ہیں؟" حسن آرا: "سر شام[۱]۔" محمودہ: "بلا کی نیند آپ نے بڑھا رکھی ہے!" حسن آرا: "میں نے بڑھا رکھی ہے؟ نیند بھی کوئی اپنے اختیار کی بات ہے؟ میری آنکھیں تو کچھ دن رہے سے بند ہونے لگتی ہیں۔ اماں جان کھانے کے واسطے مجھ کو بہلاتی رہتی ہیں؛ جب دیکھتی ہیں کہ سوئے ہی جاتی ہے تو ناچار کھانا کھلوا دیتی ہیں۔ پہر دن چڑھے بھی میری آنکھ آپ سے نہیں کھلتی؛ سوتی کو زبردستی اٹھا بٹھاتی ہیں۔ کچی نیند[۲] جو جگا دیتی ہیں تو گھنٹوں نیند کا خمار[۳] رہتا ہے۔ اسی واسطے دوپہر کو پھر دو چار گھڑی کے واسطے سو رہتی ہوں۔"

دوپہر کے سونے کا نام سن کر محمودہ پھر ہنسی اور کہنے لگی کہ "اگر آپ کو جی بھر کر سونے دیا جائے تو شاید آپ رات دن سویا ہی کریں۔"

حسن آرا: "کیا کہوں، نیند کم بخت ایسی ٹوٹ پڑی ہے کہ کسی طرح مجھ کو سونے سے سیری[۴] ہی نہیں ہوتی۔ گھر بھر مجھ کو چھیڑا کرتا ہے، اور چاہے کوئی بیماری ہو، ابا جان ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ تمام تر سونے کا فساد ہے۔ مگر کیا کروں، نیند پر قابو نہیں چلتا۔ ہر روز ارادہ کرتی ہوں کہ آج سب کے ساتھ سوؤں، مگر جب وقت آتا ہے تو نیند کے غلبے سے ایسا جی خراب ہونے لگتا ہے کہ کچھ بن نہیں پڑتا۔ نیند کے آثار[۵] شروع ہوتے ہیں تو مجھ کو خیال ہوتا ہے کہ آج بڑا پکا وعدہ کر چکی ہوں، ابھی سے سو رہوں گی تو لوگ چھیڑیں گے؛ اور اس شرمندگی کے مارے جی مضبوط کر کے تھوڑی دیر سنبھلی بھی رہتی ہوں۔ مگر جب نیند آ کر گھیرتی ہے تو نہیں بیٹھا جاتا۔ میں پلنگ پر جھکی، اور ادھر سے اماں جان بولیں، ادھر سے ابا جان؛ لیکن ان کی بات پوری بھی نہیں ہونے پاتی کہ بندی لیٹنے کے ساتھ خراٹے لینے لگی۔ میرے لیٹے پیچھے جو کچھ یہ لوگ کہتے سنتے ہوں، مجھ کو مطلق خبر نہیں ہوتی۔"

محمودہ: "اگر آپ دل سے نیند کا گھٹانا چاہیں تو کچھ مشکل بات نہیں۔ میں آپ کو بہت سہل[۶] تدبیر بتا سکتی ہوں۔"

حسن آرا: "ہاں، اس نظر سے کہ گھر بھر مجھ کو سونے کے واسطے چھیڑا کرتا ہے، میں بھی چاہتی ہوں کہ زیادہ نہیں تو سب کے ساتھ سوؤں اور سب کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوا کروں۔"

محمودہ: "دو باتوں کا التزام[۷] کیجیے۔ اول تو یہ کہ نیند کو بہلانے کے لیے کچھ مشغلہ[۸] چاہیے کہ طبیعت اس میں مصروف[۹] ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ جو شخص سویرے اٹھنے والا ہو، اس پر تاکید کر دیجیے کہ جس طرح ممکن ہو، جھنجھوڑ کر، پانی کے چھینٹے دے کر، آپ کو ہوشیار کر دیا کرے۔ اور اٹھتے کے ساتھ آپ منہ ہاتھ دھو کر، طبیعت کو سنبھال کر، کسی کام میں لگ جایا کیجیے۔ اول اول آٹھ دس دن خلاف عادت سویرے اٹھنے سے ایک خفیف سی گرانی سر میں معلوم ہوگی، مگر پھر عادت ہو جائے گی؛ خود بخود آنکھ کھلنے لگے گی، اور گرانی سر بھی موقوف ہو جائے گی؛ بلکہ سویرے اٹھنے سے صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھا کر مزاج ایسا باغ باغ ہو جائے گا کہ دن بھر طبیعت بحال رہا کرے گی۔ میں بھی بلا کی سونے والی تھی؛ مردوں سے شرط باندھ کر سوتی۔ استانی جی ہر روز مجھ کو نصیحت کیا کرتیں کہ دنیا میں انسان اس واسطے نہیں آیا ہے کہ سونے اور نکمے پڑے رہنے سے دن تیر کرے۔ خدا نے دن کام کے لیے بنایا ہے؛ رات کیا تھوڑی ہوتی ہے کہ دن کو بھی سویا کریں؟ بہت سونے سے انسان کاہل اور غبی[۱۰] اور ذہن موٹا اور کند ہو جاتا ہے۔ آدمی کا وقت بڑی قیمتی چیز ہے۔ فرصت کا ایک ایک لمحہ بس غنیمت ہے۔ اس وقت میں ہو سکے تو لگ لپٹ کر علم و ہنر حاصل کر لیں کہ جس سے دنیا اور عاقبت دونوں درست ہوں۔ چنانچہ میں نے رفتہ رفتہ سونا کم کر دیا، یہاں تک کہ اب سب کے پیچھے سوتی اور سب سے پہلے اٹھتی ہوں، اور بہ نسبت سابق کے میں اپنے تئیں زیادہ تندرست بھی پاتی ہوں۔ مگر مکتب کی لڑکیاں غضب کرتی ہیں؛ گھر بھی ان کے چار چار چھ چھ پیسے ڈولی پر ہیں، اندھیرے منہ یہاں آ جاتی ہیں۔ آپس میں شرط لگا رکھی ہے کہ دیکھیں سب سے پہلے کون مکتب میں پہنچتا ہے۔"

حسن آرا: "دیکھیے، ان شاء اللہ اب میں بھی ضرور اس کا انتظام کروں گی، اور جس طرح بن پڑے گا، خدا نے چاہا تو کل کڑھائی چڑھنے نہ پائے گی، مجھ کو یہاں پہنچا دیکھنا۔"

محمودہ اور حسن آرا آپس میں یہ باتیں کر رہی تھیں کہ اتنے میں استانی جی نے آواز دی: "محمودہ، تم تو نئی سہیلی سے اس قدر جلد بے تکلف ہو بیٹھیں کہ کون وقتوں سے باتیں کر رہی ہو، اب تک تمہاری باتیں ہو نہیں چکیں۔ پہلے ہی دن ایسا کیا مشورہ ہونے لگا؟"

محمودہ: "بیگم صاحب تو نہایت اچھی آدمی ہیں۔ دو ہی باتوں میں میرا دل ان سے مل گیا۔ میں نے ان کو اپنی گڑیاں دکھائیں، مرآۃ العروس، چند پند وغیرہ سے محنت شعاری[۱۱] اور صبح خیزی کے فائدے سنائے۔"

استانی جی: "تم نے ایسی ایسی باتیں کہہ کے حسن آرا بیگم کو کہیں ناخوش تو نہیں کیا؟"

حسن آرا: "استانی جی، ایسی ایسی عقل اور نصیحت اور فائدے کی باتیں محمودہ بیگم نے بیان کی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں سنی تھیں، اور میرا جی ان کی باتوں سے نہایت خوش ہوا۔ ان کی صرف ایک بات البتہ میں کسی قدر ناپسند کرتی ہوں، کہ یہ امیروں کی بہت مذمت کرتی ہیں۔"

استانی جی: "امیروں کی، یا ان کے کردار کی؟"

حسن آرا: "کردار کی مذمت ہوئی تو امیروں کی ہوئی، وہ ایک ہی بات ہے۔"

استانی جی: "نہیں، ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ اگر مطلق امیروں کی مذمت کی جائے تو اس سے مطلق دولت کی مذمت نکلتی ہے، حالانکہ دولت بڑی قدر و منزلت کی چیز ہے (یہ سن کر حسن آرا نے محمودہ کی طرف دیکھا)؛ لیکن اگر دولت پا کر آدمی گھمنڈ اور غرور کرے، اور یہ سمجھے کہ وہی سب میں بڑا ہے اور جتنے غریب ہیں حقیر اور ذلیل اور اس کی ٹہل خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ وہ آپ ہاتھ نہ ہلائے اور دوسروں کی محنت سے آرام حاصل کرے، اور دولت اس کو صرف اسی کے آرام و آسائش کے لیے دی گئی ہے، اور غریبوں کو دینا اور محتاجوں کی مدد کرنا اپنا فرض نہ سمجھے، تو ایسی دولت دنیا کا جنجال ہے اور عاقبت کا وبال۔"

حسن آرا: "مجھ کو اس میں چند شبہے ہیں۔" استانی جی: "میں تمہارے سب شبہوں کو ان شاء اللہ بخوبی رفع کر دوں گی؛ لیکن اب وقت بہت کم ہے، سب لڑکیاں کہانیوں کی منتظر ہیں۔" کہانیوں کا نام سن کر تو حسن آرا اور بھی خوش ہوئی اور بیتاب ہو کر پوچھنے لگی، "اچھی، کون کہانیاں کہے گا؟ آپ یا محمودہ بیگم؟"

استانی جی: "نہ میں اور نہ محمودہ، بلکہ جس کی باری ہوگی۔"

حسن آرا: "کیا ان سب لڑکیوں کو کہانیاں یاد ہیں؟" استانی جی: "یاد تو شاید کسی کو بھی نہیں۔" حسن آرا: "پھر کہیں گی کہاں سے؟"

استانی جی: "بہت اچھی اچھی کہانیاں کتابوں میں لکھی ہیں۔ پڑھنا ان سب کو آتا ہے؛ اس کی باری ہوئی، وہی کتاب میں سے پڑھ پڑھ کر کہانی کہنے لگے گی۔"

پڑھنے کے فائدے سن کر حسن آرا کے دل میں شوق کا پیدا ہونا

حسن آرا: "جس کو پڑھنا آتا ہو، وہ کہانیاں کہنے لگے؟" استانی جی: "بے شک۔"

حسن آرا: "تو پڑھنا اچھی چیز ہے۔ ایک پڑھنا آ جائے تو سینکڑوں ہزاروں کہانیاں آ جائیں۔"

استانی جی: "پڑھنے کا یہ تو ایک ادنیٰ فائدہ ہے۔ سینکڑوں فائدے اور بڑے بڑے عمدہ ہیں جن سے پڑھا لکھا آدمی مزے لیا کرتا ہے۔ کہانیوں ہی کو دیکھو کہ بعض مرتبہ جی چاہتا ہے کہ کوئی اچھی سی نئی کہانی کہتا تو سنتے، اور ایسا اتفاق پیش آ جاتا ہے کہ یا تو کسی کو نئی کہانی نہیں آتی، یا آتی ہے تو اس کو فرصت نہیں؛ بس دل کا شوق دل ہی میں رہ جاتا ہے۔ پڑھنا آتا ہو تو کتاب اٹھا لی، اور بیسیوں افسانہ خواں ہاتھ جوڑ کر آ موجود ہوئے۔ اور نگوڑی کہانیاں بھی کسی فائدے کی گنتی میں ہیں؟ اجی، پڑھنا تو وہ چیز ہے کہ اس سے ہر طرح کی ہوشیاری آتی ہے۔ جن کے منہ پر آنکھیں نہیں، وہ تو ظاہر ہی کے اندھے ہیں؛ دل کے اندھے وہ ہیں جن کو علم نہیں۔ دنیا اور دین دو ہی چیزیں ہیں، سو علم کے بدون دنیا بھی اکارت ہے اور دین بھی خراب۔ آدمی کسی حالت میں کیوں نہ ہو، علم سے اس کو فائدہ ہی ہوگا۔ اگر مصیبت میں ہے تو علم اس کی ایسی غمگساری کرے گا جو کسی دردمند سے نہ ہو سکے؛ اور اگر خوشی میں ہے تو علم اس خوشی کو بے خرخشہ اور پائدار کر دے گا۔ آسودگی ہو تو [illegible] اور استغنا اور سیر چشمی جیسی علم سے حاصل ہوتی ہے، نہ دولت سے ہوتی ہے نہ حکومت سے۔ واری جائیے پڑھنے کے اور قربان کتاب کے! فرصت کا مشغلہ، دل کا بہلاؤ، گھر بیٹھے کی سیر، استانی کی استانی، سہیلی کی سہیلی۔ جو عورتیں پڑھنا نہیں جانتیں، کیسی بری طرح ان کا وقت کٹتا ہے کہ معاذ اللہ[۱۲]: اس کی غیبت، اس کی بدی، مجھ سے لڑ، تجھ سے لڑ، یا اٹواٹی کھٹواٹی[۱۳] لے پڑ رہیں۔ پڑھنا آتا ہو تو کتاب ہاتھ میں لی، جس ملک کی چاہا سیر کر آئے۔ پڑھنا حاضرات[۱۴] کا ایک عجیب عمل ہے، جس کو چاہا پکڑ بلایا اور اسی سے باتیں کرنے لگے۔"

حسن آرا: "اچھی استانی جی، پڑھنے سے یہ کرامت بھی حاصل ہو جاتی ہے؟"

استانی جی: "بے شک۔ دیکھو، اب یہ لڑکیاں کتابیں پڑھتی ہیں، گویا ان کے مصنفوں سے جنہوں نے یہ کتابیں بنائی ہیں، باتیں کر رہی ہیں۔ غرض کہ علم جنت کا میوہ ہے؛ جس نے کھایا ہے، وہی اس کی لذت خوب جانتا ہے؛ کہنے اور بیان کرنے سے اس کی کیفیت ظاہر نہیں ہوتی۔ ہزاروں برس پہلے کی باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ گویا آنکھوں کے سامنے سماں بندھا ہوا ہے۔"

حسن آرا: "استانی جی، مجھ کو پڑھنا آ جائے گا؟" استانی جی: "تم کو اور تمہاری لونڈیوں کو، کرتے کی بدیا[۱۵] مشہور بات ہے؛ علم کچھ کسی کی میراث نہیں، جو کرے گا اس کو آئے گا۔"

حسن آرا: "کتنے دنوں میں؟" استانی جی: "لوگوں نے عمریں صرف کر دیں، مگر علم کی تھاہ نہ ملی۔ پڑھتے پڑھتے ایسی چاٹ بڑھتی جاتی ہے کہ انسان سے صبر نہیں ہو سکتا اور رہا نہیں جاتا۔ کوئی مزہ ہو، کبھی نہ کبھی دل اس سے بھر ہی جاتا ہے؛ اور نہیں بھرتا تو علم سے۔"

حسن آرا: "کیا کچھ بڑی محنت کرنی پڑے گی؟"

استانی جی: "ذرا بھی نہیں۔ تھوڑے دنوں، جب تک تم کو عبارت پڑھنی نہ آئے، البتہ طبیعت اکتائے گی؛ اور عبارت پڑھنی آئی اور چلیں، پھر تم کو مزہ ملنے لگے گا، اور بے پڑھے تم کو ایک لحظہ چین نہ پڑے گا۔"

حسن آرا: "عبارت پڑھنی کتنے دنوں میں آ سکتی ہے؟" استانی جی: "تم ماشاء اللہ ذہین ہو؛ اگر خوب جی لگا کر سیکھو تو چار مہینے میں۔"

حسن آرا: "اچھی، تو مجھ کو پڑھنا شروع کرا دیجیے۔" استانی جی: "پڑھنا، ابھی جلدی کیا ہے؟" حسن آرا: "یہ دن ناحق ضائع ہو رہے ہیں۔" استانی جی: "تم تو بہت سے برس ضائع کر چکی ہو، چند دن اور سہی۔"

حسن آرا: "اچھی استانی جی، خدا کے لیے مجھ کو پڑھنا شروع کرائیے۔" استانی جی: "اچھی، جلدی کیا ہے؟ شروع کرنا، چند روز اور مکتب کا رنگ ڈھنگ دیکھو۔ جب تم کو خوب یقین ہو جائے گا کہ پڑھنا فائدے کی چیز ہے، تو پڑھنے کی کیا کمی ہے؟ مکتب اسی واسطے ہے، اور میں اسی واسطے ہوں۔ اچھا لڑکیو، کس کی باری ہے، اور کون سی کہانی ہے؟"

زبیدہ: "میں، اب میری باری ہے، اور نواب مسیح الملک کی بیٹی کی کہانی ہے۔ وہاں تک ہو چکی ہے کہ جس بدو کی قید میں یہ لڑکی تھی، اس کی بیٹی ضمیران کا بیاہ قرار پایا۔ اگر ارشاد ہو تو آگے کہہ چلوں۔" حسن آرا: "اچھی استانی جی، اللہ، سرے سے۔"

استانی جی: "ہاں بی زبیدہ، حسن آرا بیگم کی خاطر پھر سرے سے خوب سمجھا کر کہہ چلو۔" زبیدہ نے کہانی شروع کی۔

حواشی

[۱] اول شام۔

[۲] نیند جو اچھی طرح بھری نہ ہو۔

[۳] نشہ۔

[۴] میری طبیعت نہیں بھرتی۔

[۵] نشان۔

[۶] آسان۔

[۷] اپنے اوپر لازم کیجیے۔

[۸] شغل۔

[۹] مشغول۔

[۱۰] کند ذہن۔

[۱۱] محنت کشی۔

[۱۲] خدا کی پناہ۔

[۱۳] منہ لپیٹ کر پڑ رہنے کو اٹواٹی کھٹواٹی کہتے ہیں۔

[۱۴] حاضرات ایک عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے سے جنات اور ارواح اور موکل عمل پڑھنے والے کے پاس حاضر ہوتی ہیں۔

[۱۵] یہ ہندی کی کہاوت ہے کہ علم اس کا جو اس کو پڑھے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.