
Chapitre 8 sur 22
The Beginning of the Tale of Masih-ul-Mulk, a Merciless Nobleman
مسیح الملک ایک بے رحم امیر کی حکایت کا آغاز
مسیح الملک ایک بے رحم امیر کی حکایت کا آغاز
لال کنویں[۱] پر جو نواب بدل بیگ خاں ایک مشہور نواب رہتے ہیں، ان کے بزرگوں میں کوئی نواب مسیح الملک[۲] ہو گزرے ہیں۔ اسم تو ان کا بادشاہی طبیبوں میں تھا، مگر بادشاہ کے مزاج میں کچھ ایسا درخور[۳] ان کو ہو گیا تھا کہ سلطنت کے کل معاملات ان کے اختیار میں تھے۔ ایسا اختیار پا کر مسیح الملک کو لازم تھا کہ متوسلان[۴] شاہی کی دلجوئی، غریبوں کی پرورش، اور مظلوموں کی دادرسی[۵] کرتے؛ لیکن انہوں نے تو کچھ ایسے ہاتھ پاؤں نکالے کہ تھوڑے ہی دنوں میں ایک دنیا کو شاکی اور ایک عالم کو فریادی بنا لیا۔ جس سے سنو شکایت، جس سے پوچھو گلہ۔ صدہا آدمی جو دس دس پشت[۶] کے ملازم اور موروثی نمک خوار ہونے کی وجہ سے دل و جان سے خیر خواہ بادشاہ تھے، نہ خطا نہ گناہ، موقوف کرا دیے۔ مسیح الملک کے آدمیوں[۷] کے سوائے کوئی شخص ایسا نہ بچا جس کی تنخواہ میں تھوڑی بہت کمی نہ ہوئی ہو، یا ہوئی تنخواہ چھٹے چھ مہینے ملا کرتی تھی۔ حکیم گردی[۸] میں تو برسوں کی نوبت پہنچنے لگی، اور اس میں بھی کچھ ایسی کاٹ چھانٹ لگائی جاتی کہ دس والے کو چھ اور چھ والے کو چار بمشکل پلے پڑتے[۹]۔ بیواؤں اور یتیموں اور اپاہجوں کی معافیاں[۱۰] بے دریغ[۱۱] ضبط کر لیں۔ بادشاہ تک ان سب باتوں کی فریادیں پہنچتی تھیں؛ جب کبھی پوچھتے تو مسیح الملک یہ سمجھا دیتے کہ "حضور والا، خزانے میں ٹکا نہیں رہا، کروڑوں کا قرضہ ہو گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے قرضہ چکا دوں؛ دو چار برس میں سب انتظام ہوا جاتا ہے۔ عمر بھر حضور کا نمک کھاتے رہے اور اس سرکار کی بدولت ہزاروں چین کیے؛ چند روز کے لیے اگر سب مل کر تھوڑی تکلیف جھیل لیں تو حضور بار قرض سے سبکدوش[۱۲] ہوئے جاتے ہیں۔"
اس پر بھی بادشاہ یہی فرماتے کہ "لوگوں کو بے دل مت کرو۔ بلا سے میرے مصارف[۱۳] میں کمی ہو تو ہو، لیکن نوکروں کی تھوڑی اوقات[۱۴] ہے، ان کو مت ستاؤ۔ قرضہ چار برس میں نہیں تو دس برس میں ادا ہو رہے گا؛ لیکن یہ تھوڑی اوقات کے لوگ زیادہ سختی کرنے سے تمام ہو جائیں گے۔ خدا نخواستہ اگر ان میں سے ایک بھی کھسکا تو ہزاروں روپے خرچ کرنے سے بھی ایسا آدمی ملنا دشوار ہے۔ ان میں کا ایک ایک آدمی جانا بوجھا اور آزمایا ہوا ہے۔ اور دیکھو، جو چاہنا سو کرنا، خیرات کی رقموں میں خبردار جو تم نے کمی کی۔ اول تو وہ خیرات ہی کیا ہے؛ حساب کیا جائے تو پہاڑ کے آگے رائی۔ مگر خیر، جس قدر ہے، نہایت ضروری ہے۔" مسیح الملک کے دل پر تو نیکی کا پرتو[۱۵] بھی نہیں پڑا تھا؛ فیاضی اور نفع رسانی خلائق اور رحم سے وہ بالکل بے نصیب تھا۔ بادشاہ کی باتوں کا اس پر مطلق اثر نہ ہوتا۔ آخر ظالم کی عمر کوتاہ، بیچارے کی شامت آئی۔ . . . . . .
زبیدہ نے یہاں تک کہانی کو پڑھا تھا کہ استانی جی نے ہاتھ اٹھا کر کہا، "ذرا صبر کرو،" اور لڑکیوں سے پوچھا، "بھلا یہ تو بتاؤ کہ بادشاہ اور مسیح الملک تمہارے عندیے میں کیسے تھے؟"
رابعہ: "دونوں برے۔ مسیح الملک تو بے رحم تھا ہی؛ بادشاہ اس واسطے برا تھا کہ اس نے ایسے بے رحم کو ایسا اختیار کیوں دے رکھا تھا۔"
حسن آرا خفا ہو کر بولی، "نوج! اس مکتب کی لڑکیوں کی کیا بری زبان ہے! نہ بادشاہ دیکھیں نہ وزیر، جو چاہا بک دیا۔" اور رابعہ کی طرف خطاب کر کے کہا، "اپنا منہ دیکھو اور بادشاہ وزیر کو برا کہنا دیکھو! کچھ نہ ہوگا تو تم جیسی ہزاروں لونڈیاں ان کے آگے ہر دم ہر لحظہ ہاتھ باندھے کھڑی رہا کرتی ہوں گی۔"
رابعہ: "پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟ بادشاہ وزیر ہوئے، یا بہت سی لونڈیاں رکھنے سے آدمی کو زور ظلم معاف ہو جاتا ہے؟"
حسن آرا: "زور ظلم کیسا؟ اپنے نوکروں اور اپنی رعیت پر جس طرح جی میں آیا حکم چلایا؛ کسی کی کیا مجال تھی کہ ان کے آگے بات کر لیتا۔ اب مرے پیچھے تم ہی ہو؛ ان کے ہوتے تمہارے بڑے بھی کوئی رہے ہوں گے تو حضور حضور کہتے منہ خشک ہوتا ہوگا۔"
رابعہ: "تو آپ کے نزدیک بادشاہ وزیر نوکروں اور رعیت کو چاہیں جتنا ستائیں، بلکہ جان سے بھی مار ڈالیں، تو ان کو روا ہے؟" حسن آرا: "بے شک؛ اور جس بادشاہ کا دبدبہ نہ ہو، وہ بادشاہ کیا؟"
محمودہ بیگم: "صاحب، برا نہ مانیے گا۔ اگر بادشاہ ناحق میں بیٹھے بٹھائے آپ کے گھر بار کا تعلیقہ[۱۶] کر لے، اور عورت مرد سب کو پکڑ کر قید کرے، تو پھر بھی آپ یہی کہیے گا کہ بادشاہ نے واجب کیا؟"
حسن آرا: "ہمارا تعلیقہ کیوں کرے اور ہم کو کیوں قید کرے؟"
محمودہ: "کیوں، آپ رعیت نہیں؟"
حسن آرا: "اجی، تو رعیت رعیت میں فرق ہے۔"
محمودہ: "تو آپ کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ غریبوں پر زور ظلم ہو تو مضائقہ نہیں۔"
حسن آرا: "اور کیا؟" محمودہ: "غریبوں نے ایسا کیا قصور کیا ہے؟ کیا غریبوں کی جان نہیں؟"
حسن آرا: "جان تو کیوں نہیں، مگر غریب سختی کی برداشت کر سکتے ہیں۔"
استانی جی: "بھلا بوا حسن آرا بیگم، اگر خدا نخواستہ تم غریب ہو جاؤ تو پھر تم کو ستانا درست ہو جائے؟"
حسن آرا: "نہیں۔" استانی جی: "یہ تو غضب کی ناانصافی ہے کہ اور غریب تو ستائے جائیں، اور حسن آرا بیگم اگر خدا نخواستہ غریب ہو جائیں تو معاف رہیں۔"
حسن آرا: "امیر اگر غریب ہو جائے تو بھی امیری کی بو کئی پشت نہیں جاتی۔"
استانی جی: "یہ کیونکر ثابت ہے کہ دنیا میں بالفعل[۱۷] جتنے غریب ہیں، یہ سدا کے غریب ہیں؟ دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے؛ امیر غریب ہوتے رہتے ہیں، غریب امیر ہو جاتے ہیں۔ شہر میں کیا، دنیا میں کوئی خاندان ایسا نہ ہوگا جو سدا کے امیر اور سدا کے غریب ہوں۔ دو چار پشتیں امیر ہو گزری ہیں تو دو چار غریب بھی گزری ہوں گی۔"
بادشاہ رعیت کا خدمتگزار[۱۸] ہے اور اس کے اختیارات محدود[۱۹] ہیں
حسن آرا: "بھلا مسیح الملک کا تو قصور تھا ہی، لیکن بادشاہ بیچارے نے کیا کیا تھا؟"
رابعہ: "میں تو پہلے ہی بیان کر چکی ہوں کہ مسیح الملک کو ایسا ذی اختیار رکھنا بادشاہ کا قصور رہے۔"
حسن آرا: "بادشاہ کے ساتھ تمہارے منہ سے قصور کا لفظ سن کر مجھ کو بے اختیار ہنسی آتی ہے۔"
رابعہ: "آتی ہوگی، لیکن نہ اتنی کہ جتنی مجھ کو بادشاہ کے ہوتے مسیح الملک کا اختیار سن کر۔"
حسن آرا: "دنیا جہان کے بادشاہ تھے؛ ایک بات ان کے کان تک نہ پہنچی۔"
محمودہ: "یہی بادشاہ کا قصور تھا۔ ان کو اپنے کان ایسے کھلے رکھنے چاہیے تھے کہ منزلوں[۲۰] سے نالش فریاد کی بھنک[۲۱] سنتے۔ اسی واسطے لوگوں نے ان کو بادشاہ بنا رکھا تھا۔"
حسن آرا: "لو اور سنو! لوگوں نے بادشاہ بنا رکھا تھا!"
استانی جی: "حسن آرا بیگم، افسوس ہے کہ تم نے کچھ پڑھا نہیں۔ جب تک تم کو پڑھنا نہ آئے گا، اسی طرح ہزاروں باتوں میں تم کو تعجب ہوگا۔ جتنے بادشاہ ہیں، سب لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ جب دنیا میں آدمی بہت ہو گئے تو آپس میں لڑائی جھگڑا بھی ہونے لگا۔ بعض کم بخت ایسے برے تھے کہ قابو پایا کہ آدمی کو مار ڈالتے، مال چرا لیتے، بھلے مانسوں کو بے عزت کر ڈالتے۔ تب صلاح کر کے یہ تجویز ٹھہرائی کہ آؤ، آپس میں کسی شخص کو سردار بنا لیں؛ سب اس کا حکم مانیں اور اس کی اطاعت[۲۲] کریں، اور اس سردار کا یہ کام ہو کہ وہ لوگوں کے جھگڑے طے کر دیا کرے اور رعایا کی جان و مال و آبرو کا نگہبان رہے۔ اسی کا نام بادشاہ ہوا۔ لوگوں کا کام ہے اس کی اطاعت کرنا، اور بادشاہ کا کام ہے رعایا کو آرام دینا تاکہ کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے۔ ہاں صاحب، کہانی آگے چلے۔"
ہاجرہ: "جناب، مجھ کو تو بڑی دور جانا ہے، اور چھ گھڑی کی توپ اب چلی کی چلی[۲۳]؛ پھر رستہ بند ہو جائے گا۔ مجھ کو تو اجازت ہو۔"
استانی جی: "اچھا، اب ملتوی کرو؛ ان شاء اللہ پھر دیکھا جائے گا۔"
حسن آرا کو کہانیاں سننے کا اس قدر شوق تھا کہ کہانی کا ملتوی کیا جانا اس کو ناپسند ہوا۔ ہاجرہ سے کہنے لگی، "اے ہے، ذرا ٹھہر جاؤ، کہانی تو ختم ہونے دو؛ جہاں سے چھوٹی تھی، ابھی وہاں تک بھی تو نہیں ہوئی۔"
ہاجرہ: "نہیں بوا، دیر بہت ہو گئی ہے، میں تو نہیں ٹھہر سکتی۔"
حسن آرا: "اے، پھر آج کی رات یہیں رہ جانا، نہیں ہمارے گھر چلی چلنا۔"
ہاجرہ: "بھلا یہ بھی کوئی موقع ہے کہ کہانی کے لالچ سے میں رہ جاؤں؟ میری اماں راہ دیکھ رہی ہوں گی۔"
حسن آرا: "اے ہے، کہانی کے ناتمام رہنے سے تمہارا جی نہیں کڑھتا؟"
ہاجرہ: "جی کڑھنے کی کیا بات ہے؟ ایسا ہی مجھ کو کہانی کا سننا ہو تو کیا میں آپ نہیں پڑھ سکتی؟" غرض لڑکیاں سب رخصت ہوئیں۔
حسن آرا نے پڑھنا شروع کیا
حسن آرا چلنے لگی تو اس نے محمودہ کو الگ لے جا کر کہا کہ "محمودہ بیگم، بھلا اتنا پڑھنا کہ میں کہانی کی کتاب آپ پڑھ لیا کروں، کتنے دنوں میں آ جائے گا؟"
محمودہ: "جی لگا کر پڑھو تو چار مہینے میں، بلکہ شاید اس سے بھی کچھ کم میں۔"
حسن آرا: "اچھی، تو مجھ کو کل سے شروع کرا دو۔"
محمودہ: "استانی جی سے کہو۔" حسن آرا: "کہا تو تھا۔"
محمودہ: "پھر؟" حسن آرا: "استانی جی نے کہا، ابھی جلدی کیا ہے۔"
محمودہ: "استانی جی کو ابھی تمہارے شوق کی طرف سے اطمینان نہ ہوا ہوگا۔"
حسن آرا: "کچھ ایسی ہی بات ہے۔"
محمودہ: "تو چند روز صبر کرو۔" حسن آرا: "نہیں، میں تو کہتی ہوں، آج مجھ کو کہانیوں کی کتاب پڑھنی آ جائے۔"
محمودہ: "پھر میں استانی جی سے کہہ دوں گی۔" حسن آرا: "اس میں کچھ قباحت ہے کہ تم چپکے سے مجھ کو پڑھا دیا کرو؟"
محمودہ: "قباحت کی کیا بات ہے؟" حسن آرا: "استانی جی خفا نہ ہوں۔"
محمودہ: "ہرگز نہیں۔ اور ایسا ہی خیال ہے تو خود استانی جی سے کیوں نہیں شروع کرتیں؟"
حسن آرا: "مجھ سے چھوٹی چھوٹی لڑکیاں فرفر کتابیں پڑھتی ہیں؛ مجھ کو اتنی بڑی ہو کر الف بے پڑھتے ہوئے شرم آتی ہے۔"
محمودہ: "بہت خوب، آپ کو کوٹھے پر لے جا کر میں اس طرح چپکے سے پڑھا دیا کروں گی کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو۔"
حسن آرا: "ضرور؟" محمودہ: "ضرور۔"
حسن آرا: "اچھی، استانی جی سے بھی نہ کہنا۔" محمودہ: "نہیں۔" غرض یہ باتیں ہو ہوا کر حسن آرا چلنے لگی تو استانی جی نے دو عورتوں کو ساتھ کر دیا۔ گھر تو پاس تھا ہی، بات کی بات میں جا پہنچی۔
سلطانہ بیگم: "آہا حسنا! میں نے تو جانا آج تم وہیں رہیں۔"
حسن آرا: "نیند آتی تو رہ جانے میں کیا تھا؟"
سلطانہ بیگم: "تعجب ہے کہ تم کو اب تک نیند نہیں آئی؛ ورنہ تمہاری ہمیشہ کی عادت ہے کہ ادھر دن ڈوبا اور ادھر تم سوئیں۔"
حسن آرا: "یہ مجھ کو آج معلوم ہوا ہے کہ بے شغلی کی وجہ سے میری نیند بڑھتی جاتی ہے۔ دیکھیے، آج ہی نہ سوئی، اور نہ کچھ کسل[۲۴] معلوم ہوا۔"
سلطانہ: "آج ایسے کس کام میں تھیں؟"
حسن آرا: "کام تو کچھ بھی نہیں تھا، مگر وہاں کی باتوں میں ایسا جی لگتا ہے کہ بس دن رات بیٹھے سنا کیجیے۔"
سلطانہ: "ہم کو بھی تو کچھ سناؤ۔"
حسن آرا: "اب تو رات زیادہ ہو گئی ہے اور مجھ کو سویرے اٹھنا ہے۔ جلدی نہ ہو سوؤں گی تو تڑکے[۲۵] آنکھ کا کھلنا مشکل ہوگا۔"
سلطانہ: "اب تم سویرے اٹھ چکیں!"
حسن آرا: "ان شاء اللہ[۲۶] ایسے سویرے اٹھوں گی کہ آپ دیکھیے گا۔ انا، تم کہا کرتی ہو کہ میں اٹھتی ہوں تو تارے چھٹکے[۲۷] ہوتے ہیں؛ بس ضرور ضرور مجھ کو اسی وقت اٹھا بٹھانا۔ دیکھو، خبردار، بھولنا مت۔"
انا: "جگا تو میں دوں گی، اٹھنا نہ اٹھنا تمہارے اختیار میں ہے۔"
حسن آرا: "اگر میں نہ اٹھوں تو ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار دینا۔"
انا: "یہ تو مجھ سے نہ ہوگا کہ غفلت کی نیند میں تم کو حیران کروں۔"
حسن آرا: "میں کہتی ہوں کہ جگا دینا، پھر تم کو میری حیرانی کا خیال ناحق ہے۔"
انا: "بیٹی، تم کہتی تو ہو، لیکن میری ایسی کیا شامت ہے کہ صبح سویرے تم کو چھیڑ کر اپنا برا دھاڑا[۲۸] کراؤں۔"
حسن آرا: "نہیں بی، خدا کی قسم، میں ہرگز برا نہ مانوں گی، ضرور جگا دے نا۔"
سلطانہ: "آخر تم کو ایسے سویرے اٹھنے کی ضرورت کیا ہے؟ یہی نا کہ معمول سے ذرا پہلے اٹھ جانا۔"
حسن آرا: "واہ، میں نے شرط کر لی ہے۔ اگر میں نہ بھی اٹھوں تو سوتی کو بڑے تڑکے اندھیرے منہ مکتب میں پہنچا دینا۔" انا: "دیکھو، پھر کہے دیتی ہوں، ضرور ضرور اٹھا دینا، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔"
حواشی
[۱] دلی میں ایک مشہور محلے کا نام ہے۔
[۲] بادشاہوں کی طرف سے امیروں کو خطاب ملا کرتے ہیں، یعنی بادشاہ اپنی طرف سے کچھ نام رکھ دیا کرتے ہیں؛ اسی طرح کا نام مسیح الملک ہے۔ مسیح حضرت عیسیٰ کو کہتے ہیں؛ ان کو خدا نے یہ کرامت دی تھی کہ جس بیمار کو چھو دیتے، اچھا ہو جاتا؛ اس سے بادشاہ نے مسیح الملک کو یہ خطاب دیا ہوگا کہ تم سارے ملک کے مسیح ہو۔
[۳] دخل۔
[۴] جو لوگ بادشاہ کی سرکار کا وسیلہ رکھتے تھے، یعنی ان کے نوکر چاکر۔
[۵] انصاف کر کے ناحقدار کو اس کا حق دلوانا۔
[۶] جو لوگ باپ دادوں سے بادشاہی نمک کھاتے چلے آتے تھے۔
[۷] متوسل، سفارشی۔
[۸] زمانے کی گردش جس میں حکیم کی عملداری تھی۔
[۹] وصول ہوئے۔
[۱۰] جس زمین میں سے بادشاہ محصول نہ لے۔
[۱۱] بے تامل۔
[۱۲] قرض کے بوجھ سے کندھا ہلکا ہو۔
[۱۳] خرچ؛ مصرف کی جمع۔
[۱۴] تھوڑی تنخواہ، تھوڑی آمدنی۔
[۱۵] سایہ۔
[۱۶] ضبطی کرنا۔
[۱۷] اب، اس وقت۔
[۱۸] ٹہل کرنے والا، یعنی خدمتگار۔
[۱۹] یعنی اس کے اختیار کی ایک حد ہے، یہ نہیں کہ جو جی چاہے کر گزرے۔
[۲۰] یعنی کئی کئی دن کے راستے جیسے بڑی دوری سے۔
[۲۱] ہلکی اور پتلی آواز جیسے بھنبھناہٹ۔
[۲۲] حکم برداری۔
[۲۳] چلی کی چلی؛ یہ ایک محاورہ ہے، یعنی ابھی چلنا چاہیے، کچھ دیر نہیں۔
[۲۴] [illegible: the note is not legible in the scan; کسل means sluggishness]
[۲۵] صبح سویرے۔
[۲۶] اگر خدا نے چاہا۔
[۲۷] بکھرے ہوئے۔
[۲۸] برا درجہ، برا احوال، برے گنہ۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.