
Chapitre 6 sur 22
The Example of a Poor Family's Contented Life
ایک غریب خاندان کی آسودہ زندگی کی مثال
ایک غریب خاندان کی آسودہ زندگی کی مثال دے کر یہ ثابت کرنا کہ تکلفات موجب زحمت ہیں اور آرام طلبی باعث کلفت[۱]
محمودہ: "دولت سے ہرگز ہرگز آسودگی حاصل نہیں ہوتی۔ استانی جی اسی ہمسائی کا حال دکھا دکھا کر مجھ کو سمجھایا کرتی ہیں کہ دیکھو، کیا آزاد آسودہ زندگی اس کی ہے۔ ایک آپ ہے، ایک میاں ہے، اور چار پانچ بچے ہیں تو بہت چھوٹے چھوٹے ہیں۔ کچھ کام کاج کرنے جوگ نہیں۔ میاں کہیں نہر پر مٹی ڈھویا کرتا ہے، آپ پسائی کا پیستی ہے۔ مکان پر جا کر دیکھو، نہ تخت ہے نہ فرش؛ شاید ٹوٹی پھوٹی تین چار بانوں کی چارپائیاں ہیں، بے تکلف کھری[۲] چارپائیوں پر سب سوتے ہیں۔ برتنوں میں مٹی کے گھڑے، مٹی کی ہنڈیاں، مٹی کے پیالے اور رکابیاں، اور لکڑی کی ڈوئی۔ اللہ اللہ خیر صلاح[۳]۔"
حسن آرا: "یہی آزاد اور آسودہ زندگی ہے؟ خدا دشمن کو بھی یہ عیش نہ دکھائے! دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کیا مصیبت ہوگی؟ وہ اپنی جان سے ہلاک ہے آپ کو، اور استانی جی کو اس کی آسودگی پر رشک ہے!"
محمودہ: "پہلے مجھ کو بھی استانی جی کے کہنے پر اچنبھا ہوا تھا، مگر مدتوں میں ہمسائی اور اس کے بچوں کی حالت میں غور کرتی رہی۔ آخر میں نے بھی سمجھا کہ استانی جی سچ کہتی ہیں۔ سوچنے سے یہ معلوم ہوا کہ جسمانی[۴] آرام اور جسمانی تکلیفیں سب عادت پر موقوف ہیں۔ جس کو محنت کی عادت ہے، وہ اسی میں ایسا خوش رہتا ہے کہ ہم نکمے پڑے رہنے میں ہرگز وہ خوشی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی ہمسائی، میں نے دیکھا ہے کہ برسات کی چپچپی[۵] گرمی پڑ رہی ہے اور ہوا بند ہے کہ پتا تک نہیں ہلتا؛ میں باہر کے صحن میں کھڑی برابر پنکھا اپنے تئیں ہلائے جاتی ہوں، اور ندیوں پسینہ نکلا چلا آتا ہے، دم الٹا الٹا اٹھتا ہے؛ اور خدا سلامت رکھے بی ہمسائی ہیں کہ دالان کے اندر اکیلی چکی پیس رہی ہیں۔ اور میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ آپ خیر سے ایسی خوش ہیں کہ مزے میں کچھ گا بھی رہی ہیں۔ مجھ کو پہلے تو شبہ ہوا کہ اس حالت میں اس کو کیا خاک گانا سوجھا ہوگا؛ لیکن جب میں نے کھڑکی میں سے آواز دی تو بہت بشاش[۶] ہو کر بولی، "کیا ہے بیٹا؟ استانی جی سے کہو، دو چار گلے[۷] اور رہ گئے ہیں، آٹا میں اب لائی کی لائی[۸]۔" ایسی کراری آواز سے جواب دیا کہ کوئی بات تکلیف کی نہ معلوم ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد دیکھتی کیا ہوں کہ آپ آٹا لیے ہنستی چلی آتی ہیں۔ آٹے کے ساتھ باٹ ترازو لے، آٹا تولا، چھانا، مٹکے میں بھرا۔
استانی جی نے کہا، "ہمسائی، آٹے کا مٹکا خوب اچھی طرح ڈھک دیا یا نہیں؟"
ہمسائی: "ہاں بی، بڑا طباق ڈھک، اوپر سے پنسیری رکھ دی ہے۔" استانی جی: "اچھا، رخصت۔" ہمسائی: "کیا اور پیسنی[۹] نہ دو گی؟" استانی جی نے کتاب[۱۰] دیکھ کر کہا، "نہیں، ابھی ضرورت نہیں، چار پانچ دن کا آٹا ہے۔ برسات کے دن ہیں، جہاں ذرا دیر ہوئی، آٹے میں سرسریاں[۱۱] پیدا ہو جاتی ہیں، تلخانے لگتا ہے۔"
ہمسائی: "نہ بی بی، پیسنی تو دے ہی دو۔" استانی جی: "کم بخت، ایک دن تو آرام لیا کر! یہ بلا کی گرمی پڑ رہی ہے، تیرا جی نہیں گھبراتا؟"
ہمسائی: "کیا کہوں، کچھ ایسی عادت ہے، جس دن پیسنا نہیں ہوتا، تمام بدن دکھا کرتا ہے، اور کھانا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھاتی پر دھرا ہے۔ خالی بیٹھے کچھ آلکسی سی معلوم ہوتی ہے کہ جی نہیں لگتا۔"
محمودہ: "میں نے اپنے جی میں کہا کہ یہ دیکھو، مصیبت کی کیا کیا کچھ شکایتیں ہو رہی ہیں۔ استانی جی: "پیسنے کو تو دوں، مگر ہمسائی، گیہوں جھکتے ہوئے دیتی ہوں، آٹا اڑتا ہوا کیوں ہوتا ہے؟"
ہمسائی: "گیہوں سیلے ہوئے تھے؛ پہلے ہی گلے میں دلیا نکلنے لگا تو میں نے ذرا آنچ دکھا دی تھی۔ نہیں تو میں باہر ہوا میں بھی نہیں پیستی؛ دالان کے اندر پیسا کرتی ہوں جہاں ہوا کا گزر نہیں۔"
استانی جی: "کیا بتاؤں، کئی دن سے راہ دیکھتی ہوں، کوئی گدھے والا گلی میں بولے تو دو بورے مٹی لے لوں۔ دالان بھی لپ جائے، اور چولھے بھی ٹوٹ گئے ہیں، پھر سے لیپ پوت ہو جائے۔ مٹی ہوتی تو میں تم سے چولھے بنوا لیتی۔"
ہمسائی: "مٹی کا ملنا کیا مشکل ہے؟ ہمت باپ کے پاس تھوڑی دیر میں روٹی لے کر جائے گا، ادھر سے ایک ٹوکرا مٹی بھی بھر لائے گا۔ نہر کی مٹی چکنی اور پائدار بھی ہوتی ہے۔"
استانی جی: "اگر مٹی آ جائے تو کل پسائی کے بدلے یہی کام کرو۔" ہمسائی دعائیں دینے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ ہمت کی چھوٹی بہن، کوئی دس برس کی، ایک بڑا ٹوکرا سر پر رکھے آگے آگے، اور بی ہمسائی پیچھے پیچھے چلی آتی ہیں۔ نگوڑی لڑکی کو دیکھ کر تو مجھے بہت ہی ترس آیا۔ مجھ کو نہیں معلوم تھا کہ یہ کیا لائی ہے، لیکن میں نے جلدی سے دوڑ، دروازے سے ٹوکرا اتروا لیا۔ دیکھوں تو نہر کی گیلی مٹی ہے۔
میں نے کہا، "اری، تجھ کو خدا کی سنوار! یہ تو نے کیا غضب کیا! نگوڑی، اتنا بوجھ!" اتنے میں ہمسائی بھی آ پہنچی، اور میں اس سے لڑنے لگی کہ "ہمسائی، ذرا تمہارے دل میں رحم نہیں! اس لڑکی کی بساط دیکھو، اور اتنے بوجھ کا گھر سے یہاں تک لانا دیکھو! لڑکی ایسی ہی دوبھر ہے تو بلا سے، نگوڑی کو ایک دن زہر دے کر سلا رکھو۔ واہ، کوئی سوتیلی ماں بھی ایسا نہ کرتی ہوگی!" ٹوکرا میں نے اتروایا تھا، ایسا بھاری بوجھل پتھر تھا کہ آدھی ہی دور پر ہاتھ سے چھوٹ پڑا۔ نہر کی گیلی مٹی، خدا کی پناہ، لوہا بھی ہلکا ہوتا ہے۔ میرا تو اتنی ہی دیر میں دم پھول گیا۔ میں نے تو کس شد و مد[۱۲] سے ہمسائی کو الزام دینا چاہا، لیکن ہمسائی نے سرسری[۱۳] طور پر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ "بیوی، ہم غریب آدمی ہیں اور یہ غریب گھر کی بیٹی ہے، ہم کو تو رات دن بوجھ اٹھاتے گزرتی ہے۔ مٹی کی ٹوکری کی کیا حقیقت ہے، یہ تو اکیلی چارپائیاں اٹھا لاتی ہے۔ پرسوں رہانے[۱۴] کے لیے چکی کا پاٹ دروازے پر خمرے[۱۵] کو دے آئی تھی۔ ہمارے بچے امیرزادیوں کی طرح یار ریک جان اور نازک بیگم اور مہین خانم ہوں تو ایک دن بھی کام نہ چلے۔" ہمسائی کی یہ بات سن کر مجھ کو ایسی ندامت[۱۶] ہوئی کہ پسینے پسینے ہو گئی، اور جی میں سوچا کہ الٰہی کیا بات ہے، ان لوگوں کو پیٹ بھر کھانا تو نصیب نہیں ہوتا، پھر اتنے قوی اور مضبوط کیوں ہیں؟ ایک دن میں نے استانی جی سے پوچھا تو انہوں نے کہا، "یہ سب زور اور سب توانائی سارا بل محنت کا ہے۔ ہم لوگ دن رات احدیوں[۱۷] کی طرح نکمے پڑے رہتے ہیں؛ کھانا جیسا کھایا ویسا ہی پیٹ میں رکھا رہا؛ نہ ہضم درست ہے، نہ کھل کر بھوک لگتی ہے۔ سدا کے روگی، ہمیشہ کے دکھیا: کبھی قبض، کبھی بدہضمی؛ آئے دن آدمی حکیم کے یہاں موجود؛ علاج کی عادت، دوا کا معمول۔ ہم لوگوں کے مزاج ہیں کہ چھوئی موئی کے درخت ہیں: ذرا ٹھیس لگی اور کمھلا کر رہ گیا۔ کوئی موسم ہو، ہم کو کچھ نہ کچھ شکایت ضرور رہتی ہے۔ گرمی ہے تو کہیں درد کے مارے سر پھٹا پڑتا ہے، آنکھیں جلتی ہیں، ہتھیلیوں اور تلوؤں سے آگ نکلتی ہے؛ یوں ہی عمر بھر بھوک کو ترستے رہے۔ گرمیوں میں رہی سہی اور بھی گئی گزری ہوئی: نہ برف اور شورے کے پانی سے تسکین ہوتی ہے، نہ انار اور فالسے اور عناب اور نیلوفر کے شربتوں سے تسلی۔ برسات آئی تو مکھیوں اور مچھروں کے واسطے وہ وہ اہتمام ہو رہے ہیں کہ گویا کسی بادشاہ کے ملک پر غنیم[۱۸] چڑھ آیا۔ پروا ہوا کے سبب قوت ہاضمہ[۱۹] بالکل معطل[۲۰]، ریح[۲۱] کا درد صبح کو شانوں[۲۲] میں تھا تو دوپہر کو کمر میں اور شام کو پسلیوں میں۔ جاڑا آیا تو زکام اور کھانسی اور نزلے کو ساتھ لایا۔ اب سر ہے کہ کہے[۲۳] میں نہیں۔ ایک آرام طلبی نے ہم کو سب نعمتوں کے مزے اور سب آسائشوں کی لذت سے بے نصیب کر رکھا ہے۔ کھانے میں لاکھ لاکھ تکلف کیے، مگر وہ ذائقہ نہ ملا جو غریب آدمیوں کو روکھی روٹی اور نمک مرچ کی چٹنی میں ہر روز میسر ہے۔ نیند سدا اچاٹ رہی؛ دن اور رات کوشش کرتے ہیں کہ گھڑی دو گھڑی کو آرام سے سو رہیں، مگر نیند ہے کہ ذرا کھٹکا ہوا اور کوسوں دور۔ مجھ کو اس ہمسائی کا حال دیکھ کر بڑی حیرت ہوا کرتی ہے۔ ایک دن کا مذکور ہے کہ میں گرمی کے مارے رات کے وقت کوٹھے پر گھبرائی گھبرائی پھر رہی تھی؛ دیکھتی کیا ہوں کہ ہمسائی کے پانچوں بچے ایک کے اوپر ایک، نہ بچھونا ہے نہ تکیہ نہ پنکھا، کھری چارپائی پر مزے میں پڑے خراٹے لے رہے ہیں۔ چھ برس میرے بیاہ کو ہوئے، میرے منہ میں خاک، میں نے تو کسی دکھ یا بیماری کی شکایت ہمسائی سے سنی نہیں۔ فصل بدلنے کو ہوتی ہے تو قاعدہ ہے کہ اچھے بھلے آدمی کو بھی بخار ہی آ جاتا ہے؛ مگر ماشاء اللہ نہیں آتا تو ہمسائی اور ہمسائی کے بچوں کو۔ یہ تو غریبی ہے کہ چولھا کبھی دو وقت نہیں سلگتا، مگر بچوں کو دیکھو چونچال، توانا۔ بھلا یہ چھوٹی لڑکی تمہارے عندیے میں کے برس کی ہوگی؟"
میں: "کوئی دس برس کی۔"
استانی جی: "میرا چوتھا چالا تھا، میرے آئے پر ہوئی ہے؛ خیر سے چھ برس پورے ہو چکے، ساتویں میں لگی ہے۔ ماشاء اللہ کیا اچھا اٹھان ہے! محمودہ، دیکھو، تم سے بھی نکلتی ہوئی ہے۔"
حسن آرا: "یہ بات بہت ٹھیک ہے۔ ہمارے گھر بھی لونڈیاں اور نوکروں کا یہی حال ہے؛ کھا کھا کر ایسے موٹے ہوئے ہیں کہ پہچان نہیں پڑتے۔"
محمودہ: "بھلا کیا سبب ہے کہ آپ لوگ گھر کے مالک مختار، خدا کا دیا سب کچھ موجود، سب کچھ میسر، اور بدن پر دیکھو تو بوٹی نہیں؛ لونڈیاں لاکھ چوری کریں، پھر بھی گھر والیوں کی برابری نہیں کر سکتیں۔"
حسن آرا: "البتہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ محنت کا ہی سبب ہے۔ مگر یہ تو فرمائیے، جو کام لونڈیوں کے کرنے کے ہیں، ہم کیونکر کرنے لگیں؟ اول تو ہو نہیں سکتے؛ اور جو جان مار کر ایک آدھ کام کیا بھی، تو اپنے ہی کمینے والے حقیر سمجھنے لگیں۔"
محمودہ: "ہو سکنے اور نہ ہو سکنے کی کچھ نہ پوچھیے، آدمی کے برابر سخت نہیں، اور آدمی کے برابر کوئی چیز نرم بھی نہیں۔ ہم ہی جیسی عورتیں ہیں جو چکی پیستی ہیں، اور وہ وہ کام کرتی ہیں جو شہر کے بعضے مردوں سے نہ ہو سکیں؛ اور یہی عورتیں ہیں جن کو اپنی ہی جان دوبھر ہے۔ کام کا کیا ذکر اور محنت کا کیا مذکور، جیسی عادت ڈالو ویسی ہی پڑ جاتی ہے۔ اور کمینے والوں کو حقیر سمجھنے کی تو کوئی وجہ نہیں؛ نوکر چاکر ہوتے رہتے اپنے ہاتھوں کام کرنے سے تو میرے نزدیک لوگوں کی نظروں میں اور عزت زیادہ ہونی چاہیے۔ کتنی خوبی کی بات ہے کہ ٹہل کو نوکر، خدمت کو لونڈیاں ہوں، اور اپنے ہاتھوں کام کرنا آدمی عار[۲۴] نہ سمجھے۔ استانی جی کو دیکھو، ماما بھی ہے، اوپر کے کام کو بھی ایک عورت نوکر ہے؛ اتنی لڑکیاں مکتب میں بیٹھتی ہیں، جھوٹوں کہیں تو سبھوں کام کو دوڑیں؛ مگر پانی تک آپ اٹھ کر پیتی ہیں۔ یہ بات خدا کو کیسی بھلی لگتی ہوگی کہ دیکھو، ہم نے اس بندے کو کیسا بڑھایا اور ایسا نوازا کہ اسی کے ہم جنس اس کی خدمت اور تابعداری کو دیے، مگر یہ کیسا نیک بندہ ہے کہ اس کو غرور چھو نہیں گیا؛ یہ اپنے تئیں اسی طرح ناچیز سمجھتا ہے۔"
حسن آرا: "بھلا جو کام اپنے سے ہو ہی نہ سکے تو آدمی کیا کرے؟"
محمودہ: "اس کا جواب میں ابھی دے چکی ہوں کہ جو کام دوسرے آدمی کرتے ہیں، ہر ایک کر سکتا ہے۔ مگر خیر، دنیا میں خدا جس کو دولت و ثروت[۲۵] دے، اور بڑی محنت کے کام اگر وہ نہ بھی کرے، تاہم ہزاروں چھوٹے چھوٹے کام ایسے ہیں کہ بے زحمت ان کو کر سکتا ہے۔ ایسے کاموں میں آپ نہ ہلنا اور ہمیشہ نوکروں اور خدمتگاروں کا محتاج رہنا بڑی بری بات ہے۔ ایک تو انسان آلکس ہو جاتا ہے، آرام طلبی کی عادت چپکے چپکے بڑھتی جاتی ہے؛ دوسرے، کیسا ہی چھوٹا کام ہو، آدمی اپنی مرضی کے موافق جیسا اپنے ہاتھ سے کر سکتا ہے، نوکر کتنا ہی سلیقہ مند[۲۶] اور مزاج شناس[۲۷] کیوں نہ ہو، کبھی نہیں کر سکتا۔ میں نے تو اپنا یہی قاعدہ رکھا ہے کہ لکھنے پڑھنے سے جتنا وقت بچتا ہے، اس میں کچھ نہ کچھ کام کیا کرتی ہوں۔ دو برس ہوئے کہ میں اپنے کپڑے اپنے ہاتھ سے سیتی اور قطع کر لیتی ہوں۔ پکانے میں بہت ربط[۲۸] ہو گیا تھا، اب تین چار مہینے سے ذرا کم ہو گیا ہے، پھر بھی گوشت میں ہی بگھارتی ہوں، اور گھر میں جو کوئی نئی چیز پکے تو میں ہی پکاتی ہوں۔"
حسن آرا: "آپا، تم کو پکانا بھی آتا ہے؟"
محمودہ: "آتا کیا ہے، خیر عزیبا منو بھون بھلس لیا۔ استانی جی کی مہربانی سے ایک آدھ چیز ذرا اچھی پکانی آ گئی ہے؛ اور مجھ پر کیا منحصر ہے، مکتب کی سب لڑکیاں جانتی ہیں۔ سب لڑکیوں نے ساجھا ملایا ہے، کل کڑھائی چڑھے گی، سامان آیا رکھا ہے؛ تلی تو ابھی جاتی، استانی جی نے کہا، دن کے وقت گرمی بہت ہوتی ہے، سویرے تڑکے دھوپ نکلتے نکلتے تل تلا کر فراغت ہو جاؤ؛ سو کل آپ بھی سیر دیکھیے گا۔"
حسن آرا: "سموسے بھی تلنے آتے ہیں؟"
محمودہ: "ان شاء اللہ ایسے سموسے تل کر کھلاؤں، نرم اور خستہ، پتلے پرت، کہ آپ بھی پسند کریں۔ مگر یہ فرمائیے کہ میٹھے، سلونے، سادے، یا قیمہ بھرے ہوئے؟"
حسن آرا: "میٹھے۔" محمودہ: "میٹھے سموسے شہربانو ایسے بناتی ہیں کہ سبحان اللہ!"
حواشی
[۱] تکلف کا سبب، اور موجب زحمت اور باعث کلفت ہم معنی ہیں؛ آرام طلبی: آرام طلب ہونا۔
[۲] جس پر بچھونا نہ ہو۔
[۳] یہ جملہ بس کے موقع پر بولتے ہیں۔
[۴] بدن سے متعلق۔
[۵] چپکتی ہوئی۔
[۶] خوش [illegible: the end of the note is cut off]
[۷] چکی میں ایک دفعہ جتنے دانے ڈالے جائیں ان کو گلہ کہتے ہیں۔
[۸] اب لائی کی لائی، یعنی ابھی لائی۔
[۹] پیسنے کے لیے جتنا اناج دیا جائے اسی کو پیسنی کہتے ہیں۔
[۱۰] معلوم ہوتا ہے کہ اصغری آٹے کا حساب کسی کتاب میں لکھا کرتی تھی؛ اس سے اس کا سلیقۂ خانہ داری ظاہر ہوتا ہے۔
[۱۱] کیڑے جو آٹے میں پیدا ہو جاتے ہیں۔
[۱۲] یعنی لمبی چوڑی۔
[۱۳] آسانی سے، رواروی کے طور پر۔
[۱۴] چکی کے کھردرا کرنے کو رہانا کہتے ہیں۔
[۱۵] چکی کا رہانے والا۔
[۱۶] شرمندگی۔
[۱۷] بادشاہی وقتوں میں جو لوگ بیکار تنخواہ پاتے تھے، احدی کہلاتے تھے۔
[۱۸] دشمن۔
[۱۹] کھانا ہضم کرنے کی طاقت۔
[۲۰] بے کار۔
[۲۱] بائی۔
[۲۲] مونڈھوں۔
[۲۳] قابو میں نہیں۔
[۲۴] عیب۔
[۲۵] امیری۔
[۲۶] شعور والا۔
[۲۷] مزاج کا پہچاننے والا۔
[۲۸] مہارت۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.