
Глава 5 из 22
Mahmuda Explains to Husn Ara the Saying "The Richest Are the Neediest"
محمودہ کا حسن آرا کو "آنانکہ غنی ترند محتاج ترند" کا مضمون سمجھانا
محمودہ کا حسن آرا کو "آنانکہ غنی ترند محتاج ترند" کا مضمون سمجھانا
محمودہ: "محتاج کے سر میں کیا سینگ ہوتے ہیں؟ اس سے بڑھ کر محتاجی اور کیا ہوگی کہ آپ کا ایک دن بھی بے نوکروں کے نہیں کٹ سکتا؟ بھلا میں پوچھتی ہوں، ماما نہ ہو تو کھانا کون پکائے؟ لونڈیاں نہ ہوں تو پانی کون پلائے؟ منہ کون دھلائے؟ پنکھا کون جھلے؟ چیز کون اٹھا کر دے؟ چارپائی کون بچھائے؟ بچھونے کون کرے؟ گھر میں جھاڑو کون دے؟ یہ تو روزمرہ کے کام ہیں۔ کھانا، کپڑا، برتن، زیور، اور ضرورت کی کل چیزیں، چھوٹی یا بڑی، یہاں تک کہ پانی پینے تک کا مٹی کا آبخورہ، کنگھی، سوئی، سلائی، کیا آپ نے اپنے ہاتھوں بنائی ہیں یا لوگوں نے آپ کو بنا کر دی ہیں؟ اس پر بھی آپ کہتی ہیں کہ خدا نہ کرے، ہم کسی کے محتاج کیوں ہونے لگے!"
حسن آرا: "بے شک ضرورت کی سب چیزیں اور لوگ بناتے، اور ٹہل خدمت بھی اور لوگ کرتے ہیں؛ مگر کیا کوئی چیز ہم کو مفت دے جاتا ہے، اور کیا بے لیے کوئی ٹہل خدمت کرتا ہے؟ ہر چیز اور ہر کام کے لیے ہم روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ روپے کے لالچ سے لوگ خود بخود چیزیں لیے دوڑے چلے آتے ہیں، بے بلائے ٹہل خدمت کرنے کو حاضر ہوتے ہیں۔ روپیہ ہو تو گھر بیٹھے دنیا بھر کا سامان لے لو، اور نوکر تو ایک صبح رکھو، ایک شام۔ میں تو یہ جانتی ہوں کہ دولت بڑی چیز ہے؛ جس کے پاس دولت ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں، اور تمام دنیا اس کی محتاج ہے۔"
محمودہ: "آہا، بیگم صاحب، آپ بڑی غلطی کرتی ہیں۔ بھلا اگر لوگ آپ کی دولت کی قدر نہ کریں اور کوئی روپے کا خواہاں[۱] نہ ہو، تب آپ کیا کیجیے؟"
یہ سن کر تو حسن آرا چپ ہوئی، اور سوچ کر کہا تو یہ کہا کہ "ایسی صورت میں سوائے مر رہنے کے اور کیا تدبیر ہے؟ کام کاج ہم سے کچھ ہو نہیں سکتا۔ اور فرض کیا کہ اپنے اوپر جبر سہا اور آپ اٹھ کر پانی پی لیا، بچھونا اپنے ہی ہاتھوں کر لیا؛ تب بھی کھانا پکانا تو ممکن نہیں؛ اور مانا کہ کوئی سہج سا کھانا مر گر کر پکا لیا، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اماں جان سویاں اور خشکہ ابال لینا جانتی ہیں؛ مگر ضرورت کی اور ہزار چیزیں ہیں: کپڑا کون بنے گا؟ زیور کون گھڑے گا؟ لیکن کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ دولت کی قدر روپے کی خواہش نہ ہو؟"
محمودہ: "بے شک ممکن ہے۔ بہت دن ہوئے، مجھ کو استانی جی نے ایک کتاب پڑھائی تھی، اس میں لکھا تھا کہ ابتدائے دنیا میں بہت مدت تک اشرفی روپیہ پیسے کا چلن کچھ بھی نہ تھا۔ اس زمانے میں لوگ کھیتی کے کام سے بھی، اور جس طرح اب ہر طرح کا غلہ اور انواع و اقسام کی ترکاریاں اور میوے اور پھل پھول لوگ محنت کر کے زمین سے پیدا کرتے ہیں، ان دنوں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ سمندر کی مچھلیاں اور جنگل کے جانور مار لاتے، اور ان ہی کے گوشت سے اپنا پیٹ بھر لیتے؛ یا جنگل میں جو ساگ پات از خود جم اٹھتا ہے، جانوروں کی طرح اس کو کھا لیتے۔ یہ زرق برق اور تکلف کے کپڑے جو اس زمانے میں ایسے سستے ہیں کہ ہر ایک غریب آدمی کو بھی میسر آ جاتے ہیں، پہلے ان کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ جانوروں کے چمڑے اور ڈھاک وغیرہ کے پتوں سے بدن کو ڈھانکنے، اور عالیشان محلوں کی جگہ درختوں کی چھاؤں اور پہاڑوں کی کھوؤں میں پانی اور سردی گرمی سے پناہ لیتے۔ جوں جوں دنیا کی عمر زیادہ ہوتی گئی، آدمی اپنے آرام کے لیے نئے نئے پیشے اور نئی نئی چیزیں ایجاد کرتے گئے۔ یہ تو ممکن نہ تھا کہ ایک آدمی ہر طرح کا کام آپ اکیلا کر لیتا اور ہر طرح کی چیز آپ بنا لیتا؛ اس سبب سے کسی نے ایک کام لیا اور کسی نے دوسرا۔ کوئی کھیتی کرنے لگا، کوئی لوہار بنا، کوئی بڑھئی، کوئی سنار، کوئی جولاہا، کوئی موچی۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ کھیتی والا سب کے لیے کھانے کا غلہ پیدا کرے؛ لوہار چاقو، مقراض وغیرہ لوہے کی چیزیں بنائے؛ بڑھئی ہل، چارپائی، چوکی، کرسی وغیرہ لکڑی کی چیزیں؛ سنار زیور گھڑا کرے؛ جولاہا ہر قسم کے کپڑے بنے؛ اور آپس میں ضرورتوں اور چیزوں کا مبادلہ[۲] کر لیا کریں۔ چندے[۳] اسی طرح بے روپے بے سکے دنیا کا کام چلا، مگر آخر کار مشکلیں پیش آنے لگیں، جس کو کتاب والے نے یوں لکھا ہے کہ اب فرض کرو کہ مثلاً موچی کو کپڑے کی ضرورت ہوئی، اور وہ ایک بہت طرحدار[۴] جوتی بنا کر جولاہے کے پاس لے گیا: گردن کا دانہ دار چمڑا، بیٹھی ہوئی نوک، کھڑی ہوئی ایڑی، کیمخت کے پان، اونچی دیواریں، کمایا ہوا تلا، بخیے کی دوخت[۵]۔ اور کہا، "دیکھو تو شیخ جی، کیا جوتی بنا کر لایا ہوں! کیچڑ میں پھرو، پکی سڑک پر دوڑو، نہ تلا گھسے گا نہ صورت بگڑے گی۔ بھراؤ[۶] کا نام نہیں۔ برس روز سے کم چلے تو الٹی میرے سر مارنا۔ مگر مجھ کو گاڑھے کا ایک تھان چاہیے، آٹھ سے[۷] نہ ہو تو چھ سے، پون گز کا پنہا[۸]۔" جولاہا بولا کہ "جوڑی جوتی تمہاری سر[۹]، اور تھان بھی جیسا تم چاہتے ہو موجود۔ سوت بھی گول، راچھ[۱۰] بھی پیچے دار، خوب ٹھوک ٹھوک کر بنا ہے، مانڈی[۱۱] کا نام نہیں۔ مگر وہ پہلی جوتی جو تم نے بنا دی ہے، ابھی تک بنی[۱۲] ہے۔" موچی: "ارے شیخ جی، تین برس کی جوتی اب تک!" جولاہا: "کیوں؟ دن بھر تو کارگاہ[۱۳] میں بیٹھا رہتا ہوں، آٹھویں دن کبھی پینٹھ[۱۴] میں جانے کا اتفاق ہوا؛ جوتی پر ایسی زد[۱۵] کیا پڑتی ہے۔ دوسرے، بھائی، میں غریب آدمی ہوں، پاؤں بھی ہولے ہولے رکھتا ہوں۔" موچی بیچارہ ناامید ہو کر چلا آیا، اور پہنچا سنار کے پاس کہ "کیوں لالہ، تم کو جوتی کی ضرورت ہے؟"
سنار: "ہاں بھائی، اچھے آئے۔ دس دن سے ننگے پاؤں پڑا پھرتا ہوں؛ اور اس کے بدلے زیور بھی وہ بنا کر دوں کہ تمام برادری میں کسی کے یہاں نہ نکلے۔"
موچی: "اجی شاہ جی، کہاں ہم اور کہاں زیور! مجھ کو تو دیکھو کہ چیتھڑے لگائے پھرتا ہوں۔ گھر میں بچوں کے پاس ٹوپی تک نہیں۔ گھر والی پیوند گانٹھتے گانٹھتے ہار گئی۔ کپڑے کی ضرورت ہے۔"
سنار: "کپڑے کی ضرورت ہے تو شیخ نمازی[۱۶] کے پاس جاؤ۔"
موچی: "گیا تھا، اس کے پاس جوتی موجود ہے۔"
سنار: "چلو، دیکھیں شیخ نمازی کو کچھ گہنا بنوانا ہو۔ سنا تھا کہ بیٹی کا بیاہ کرنے والا ہے۔ تو میں اس کو گہنا بنا دوں گا، تم مجھ کو جوتی دینا، اور میں اس سے تھان لے کر تم کو دے دوں گا۔"
اب سنار اور موچی دونوں پھر جولاہے کے پاس گئے۔
سنار: "شیخ جی، کہو بیٹی کا بیاہ کب کرو گے؟"
جولاہا: "چودھری، وہ بات تو بگڑ گئی۔" سنار: "کیوں؟" جولاہا: "وہ لڑکا بڑا خراب نکلا: چور، جواری، بھانگ[۱۷] پیتا ہے۔" سنار: "کچھ تم کو گہنا بنوانا ہے؟"
جولاہا: "ابھی تو نہیں؛ جب پھر نسبت ناتا ٹھہرے گا، دیکھ لیا جائے گا۔"
غرض کہ پھر بیچارے موچی کی جوتی اینڈ[۱۸] رہ گئی۔ جب ہر ایک شخص کو ایسی دقت پیش آنے لگی تو سب نے مل کر یہ تجویز کی کہ چیز کا مبادلہ چیز سے ٹھیک نہیں؛ ایک ایسی چیز ٹھہراؤ کہ ہر کوئی ہر ایک چیز کے بدلے اس کو لے لیا کرے، موچی اپنا بنایا ہوا جوتا اس کی عوض دیا کرے، سنار اپنا گھڑا ہوا زیور، جولاہا اپنا بنا ہوا تھان۔ تب سکہ چلا۔ پہلے لوہے کا سکہ تھا، اور ایسا بھاری تھا کہ شاید سو روپے کی مالیت کے واسطے چھکڑا بھر بوجھ ہوتا تھا۔ پھر تانبے اور چاندی اور سونے کے سکے چلے۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں چمڑے کا روپیہ چلا تھا، اس میں بھی سونے کی کیل تھی۔ اب انگریزوں نے وہ انتظام بٹھایا ہے کہ کاغذ کا سکہ چلاتے ہیں: ایک ورق کاغذ دس، سو، ہزار، لاکھ روپے کا ہوتا ہے، جتنا روپیہ کاغذ میں لکھا ہے جہاں چاہو بھنا لو، نہ بٹہ ہے نہ دستوری۔ بس روپیہ اپنی ذات سے کسی کام کا بھی نہیں: نہ اس کو نان خطائی[۱۹] کی طرح کھاتے، نہ اس کا ہار بنا کر گلے میں پہنتے ہیں۔ مگر جو چیز چاہو، روپیہ کے بدلے البتہ لے سکتے ہو۔ پس حقیقت میں درکار ہوتی ہے وہ چیز، اور روپیہ اس کے حاصل کرنے اور بہم پہنچانے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے اس روپیہ کی جس پر امیروں اور دولتمندوں کو اس قدر ناز ہے۔"
حسن آرا: "کیا ہی اچھی بات آپ نے مجھ کو بتائی! مگر یہ تو فرمائیے کہ جب روپیہ ہر ایک چیز کا عوض ہو سکتا ہے تو جس کے پاس روپیہ ہے گویا وہ ہر ایک چیز کا مالک ہے، اور ہر ایک چیز اس کے اختیار میں ہے؛ تو ضرور روپیہ بڑی قدر و منزلت[۲۰] کی چیز ہے، اور روپیہ والوں کو جتنا ناز اور جتنا گھمنڈ ہو، سب بجا اور درست ہے۔"
محمودہ: "گھمنڈ کی کوئی وجہ نہیں پاتی۔ روپیہ بے شک چیز کا بدل ہے، مگر خود اس چیز کا کام نہیں دے سکتا۔ مثلاً فرض کرو کہ ہم کو ایک جوتی کی ضرورت ہے، تو دو باتیں ہیں: ایک یہ کہ جوتی درکار تھی اور جوتی موجود ہے؛ اور دوسری یہ کہ جوتی تو موجود نہیں، مگر روپیہ ہے جس کے بدلے ہم جوتی مول لے سکتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں، غور کیجیے، ہرگز یکساں نہیں۔ پھر بھی روپیہ والے کو اتنی حاجت باقی ہے کہ روپیہ لے کر بازار جائے اور جوتی مول لائے۔ فرض کیجیے کہ جوتی نہ ملی، یا ملی اور قیمت نہ ٹھہری، تو آخر روپیہ والا مجبور رہے گا یا نہیں؟ اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جب روپیہ والا جوتی لینے جاتا ہے، یہ جوتی کا محتاج ہے؛ مگر جوتی والا حقیقت میں روپیہ کا محتاج نہیں، بلکہ وہ اس چیز کا محتاج ہے جس کے بدلے جوتی کی قیمت خرچ کرے گا۔ غرضیکہ روپے والا زیادہ محتاج ہے، اور اگر زیادہ نہیں تو جوتی والے کے برابر سہی[۲۱]۔ پھر اس کو گھمنڈ کس بات کا ہے؟ ایک چیز کا یہ خواہشمند ہے، یعنی جوتی کا، اور دوسری چیز یعنی روپے کا دوسرا۔"
حسن آرا: "لیکن روپے کے بدلے ہر وقت چیز میسر آ سکتی ہے۔"
محمودہ: "یہ غلطی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیسے کی جگہ دو دینے کو موجود ہیں اور چیز نہیں ملتی۔ میری اماں جان کبھی غدر[۲۲] کے حالات بیان کیا کرتی ہیں کہ سب لوگ بھاگ کر سلطان جی[۲۳] میں جا رہے تھے۔ روپے کا سیر بھر آٹا تلاش کرتے تھے اور نہیں ملتا تھا۔ دن بھر مردوئے روپے لیے لیے پھرتے تھے اور شام کو ہار کر خالی ہاتھ چلے آتے تھے۔ غدر کے سبب رسد کا باہر سے آنا بالکل بند تھا۔ گاؤں والوں کے پاس جو رسد تھی، وہ کہتے تھے کہ روپیہ لے کر ہم کیا کریں گے؟ گھر میں تھوڑا بہت اناج رکھا ہے تو بال بچوں کا سہارا تو ہے۔"
حسن آرا: "البتہ اگر ایسا اتفاق پیش آ جائے تو روپیہ محض نکما ہے؛ مگر کیا روز روز غدر ہوتا پڑا ہے؟ یہ بھی خدا جانے کیا بات تھی۔ اب تو جس کے پاس دولت ہے، وہی آسودہ[۲۴] ہے۔"
حواشی
[۱] چاہنے والا، یعنی اس کو روپیہ درکار نہ ہو۔
[۲] بدلہ۔
[۳] چند روز۔
[۴] خوش قطع۔
[۵] سیون، سلائی۔
[۶] جوتی کے تلے میں بعضے دری یا ٹاٹ کے ٹکڑے بھر دیا کرتے ہیں؛ بھراؤ سے یہاں یہ ٹکڑے مراد ہیں۔
[۷] جس کے تانے میں آٹھ سو تار ہوں اس کو آٹھ سے، اور چھ سو ہوں تو چھ سے کہتے ہیں۔
[۸] چوڑی، عرض دار۔
[۹] عوض۔
[۱۰] راچھ جلاہوں کا ایک اوزار ہے، اس میں تانے کے تار دوڑاتے ہیں۔
[۱۱] کلپ۔
[۱۲] موجود ہے۔
[۱۳] جس گڑھے میں پاؤں لٹکا کر جولاہا بنتا ہے اس کو کارگاہ یا کرگاہ کہتے ہیں۔
[۱۴] بازار۔
[۱۵] مار، رگڑ۔
[۱۶] جولاہے بیچارے اکثر نمازی ہوتے ہیں، تو یہ جولاہے کا نام بہت [illegible: the rest of the note is cut off at the foot of the scanned page]
[۱۷] بھنگ، صحیح بنگ۔
[۱۸] یعنی نہ بکی۔
[۱۹] ایک قسم کی مٹھائی کی ٹکیاں ہوتی ہیں۔
[۲۰] قدر اور منزلت دونوں ہم معنی ہیں۔
[۲۱] محمودہ نے باتوں ہی باتوں میں دولتمندوں کو جوتی والے کے برابر کر دیا۔
[۲۲] غدر سے مراد وہ ہنگامہ ہے کہ ۱۸۵۷ء میں کچھ سرکاری فوج نمک حرامی کر کے سرکار سے پھر گئی تھی؛ آخر چند مہینوں کی شورش کے بعد سرکار نے باغیوں کو خوب سزا دی، ہنگامہ فرو ہو گیا۔
[۲۳] دلی کے دکھن کی طرف پانچ میل کے فاصلے پر ایک گاؤں ہے؛ چونکہ وہاں حضرت سلطان الاولیا نظام الدین کا مزار ہے، اس سے اس بستی کا نام سلطان جی پڑ گیا ہے۔ ربیع الثانیہ کی سترھویں کو بڑا بھاری عرس ہوتا ہے، اور یہ عرس دلی کے مشہور میلوں میں ہے۔
[۲۴] آرام سے ہے۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.