Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 4 из 22

The Girls of the School

مکتب کی لڑکیوں کا حال

Назир Ахмад

Письмо
Размер

مکتب کی لڑکیوں کا حال

یہ لڑکیاں کچھ حسن آرا کی طرح سب کی سب امیر زادیاں تو تھیں ہی نہیں؛ اکثر تو پیشہ وروں کی بیٹیاں تھیں، اور بعض خوش باش[۱] نوکری پیشہ لوگوں کی۔ اگرچہ حسن آرا کے مقابلے میں سب کی سب غریب تھیں، مگر بمقابلۂ یک دگر کوئی زیادہ خوشحال تھی، کوئی متوسط الحال[۲]، کوئی نہایت غریب؛ اور جس طرح ان کی حالتیں متفاوت[۳] تھیں، ان کی صورتیں اور سیرتیں بھی ضرور ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ مگر مکتب کی تعلیم نے سیرتوں کے اختلاف کو بالکل مٹا دیا تھا۔ یہ لڑکیاں باوجودیکہ کئی گھروں کی تھیں، تاہم آپس میں ایسی ہلی ملی رہتیں کہ گویا سب کی سب سگی بہنیں ہیں۔ نہ ان میں کبھی لڑائی ہوتی، نہ کبھی کسی طرح کی رنجش پیدا ہوتی۔ صورتوں کے اختلاف کا رفع[۴] کر دینا تو اصغری کے اختیار میں نہ تھا؛ اتنا البتہ کر دیا تھا کہ کسی کے نزدیک اختلاف صورت کی کچھ وقعت باقی نہیں رہی تھی۔ جو رنگ کی اجلی اور گوری چٹی تھی، وہ کبھی سیاہ فام[۵] کالی بھٹ[۶] کو نظر حقارت سے نہ دیکھتی، نہ اپنی صباحت[۷] پر ناز کرتی؛ اور جس کا نقشہ اچھا تھا وہ کم رو سے نفرت نہ کرتی اور نہ اپنے چہرے مہرے کو دیکھ کر خوش ہوتی۔ امیری غریبی سے تو یہاں کچھ بحث ہی نہ تھی؛ کوئی نہیں جانتی تھی کہ امیری کیا بلا ہے اور غریب ہونا بھی کچھ حقارت کی بات ہے۔

حسن آرا کا مکتب میں بیٹھنا تھا کہ صورت شکل اور امیری غریبی کے مضمون تازہ ہو گئے۔ اور حسن آرا آتے کے ساتھ ہی غریبوں کو دیکھ کر لگی تیوری چڑھانے اور منہ بنانے۔ پاس بیٹھنا تو در کنار، سرے سے غریب لڑکیوں کا مکتب میں ہونا ہی اس کو ناگوار ہوا۔ اور صورت شکل پر تو حسن آرا کو اس بلا کا گھمنڈ تھا کہ بعض لڑکیوں کو دیکھ کر بے اختیار ہنس دیتی، اور بے تامل کہہ بیٹھتی، "صورت نہ شکل، بھاڑ میں سے نکل۔" محمودہ اور حسن آرا سے ایک طرح کی پہلی جان پہچان تھی؛ دو چار دفعہ کسی کے شادی بیاہ میں دیکھنے بلکہ بات چیت کرنے کا بھی اتفاق ہوا تھا۔ سو قاعدہ ہے کہ آدمی جو کسی نئی جگہ جاتا ہے تو وہاں کے لوگوں کا حال اپنے کسی جان پہچان سے پوچھتا ہے۔ حسن آرا محمودہ کے پاس تو بیٹھتی ہی تھی، چپکے چپکے مکتب کی لڑکیوں کا حال محمودہ سے پوچھنے لگی۔

حسن آرا کا مکتب کی لڑکیوں کو نظر حقارت سے دیکھنا اور محمودہ کا اس کو قائل کرنا

زبیدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا، "کیوں بوا محمودہ بیگم، یہ سامنے والی چیچک رو لڑکی تبارک کی روٹی[۸] کا سا منہ بنائے ہوئے کون ہے؟" یہ کہہ کر حسن آرا آپ ہی آپ ہنسی، اور اس امید سے کہ محمودہ بھی ایسی پھبتی سن کر پھڑک جائے گی، محمودہ کا منہ دیکھنے لگی۔ یہاں محمودہ پر اس کا بالکل الٹا اثر ہوا۔ منہ سے تو کچھ نہ کہا، مگر حسن آرا کی بات کو اس قدر حقارت سے سنا کہ اس کے چہرے سے یہ بات ظاہر ہو گئی، اور بے رخ ہو کر جواب دیا کہ "یہ امیر خاں کی حویلی میں رہتی ہیں، زبیدہ ان کا نام ہے، ان کے ابا رفو کا کام کرتے ہیں۔"

حسن آرا: "اچھی، کیسے رفوگر ہیں؟ بیٹی کے چہرے میں پاؤ بھر قیمہ لے کر رفو نہیں کرتے؟"

محمودہ: "بیبی، چیچک رو ہے، منہ پھٹ[۹] نہیں ہے؛ منہ پھٹ ہوتی تو رفو کرتے۔"

حسن آرا: "اور ان کے پہلو میں یہ دوسری کالی کالی کون ہے، جیسے سیہ تابے کا میر فرش رکھا ہو؟"

محمودہ: "یہ بیچاری ایک غریب قلعی گر کی بیٹی ہے۔"

حسن آرا: "گھر کے گھر میں چہرے پر قلعی نہیں کرا لیتی؟"

محمودہ: "امیروں[۱۰] کے گھر قلعی کرنے سے فرصت نہ ملتی ہوگی۔"

حسن آرا: "اچھی، یہ کونے میں کون لڑکی بیٹھی ہے؟ اے ہے، رونے میں اس کی صورت کیسی بدرونق ہو جاتی ہے۔"

محمودہ: "رونے میں سب ہی کی صورت بگڑ جاتی ہے۔"

حسن آرا: "ہماری تو نہیں بگڑ جاتی۔"

محمودہ: "آپ نے کیونکر جانا؟" حسن آرا: "میں نے روتے میں اپنا منہ آئینے میں دیکھا تھا تو خاصی پیاری پیاری صورت تھی، بلکہ لال منہ ہو جانے سے چہرہ اور بھی گرم گرم نکل آتا تھا۔"

محمودہ: "روتی صورت کی تعریف میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔ خیر، آپ کو آپ کا بسورتا ہوا حسن مبارک رہے، یہاں کوئی اس کا خواہاں نہیں۔"

اسی طرح حسن آرا نے اور دو چار پھبتیاں کسیں، مگر دیکھا تو محمودہ نے کچھ داد نہ دی[۱۱]۔ آخر حسن آرا کھسیانی ہو، اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ مگر پہلے ہی دن سے امیری کے زعم[۱۲] میں حسن آرا نے مکتب میں اپنا ایسا تسلط[۱۳] بٹھانا شروع کیا کہ گویا سب لڑکیاں اس کی لونڈیاں ہیں، اور لگی بے تکلف سب پر حکم چلانے۔ اصغری خانم کو ابتدا میں اس کا اہتمام[۱۴] ضرور تھا کہ حسن آرا کو مکتب سے بے دلی نہ ہونے پائے، کیونکہ ان کو بخوبی معلوم تھا کہ اگر کہیں اس کا جی اچاٹ ہوا تو پھر ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے[۱۵] گی مگر یہ خدا کی بندی مکتب کی طرف رخ نہ کرے گی۔ مکتب کی لڑکیاں تو حسن آرا کا طرز مدارات[۱۶] دیکھ کر کھٹک چلی تھیں، اور ایک عام نفرت حسن آرا کی طرف سے سب کو ہو گئی تھی۔ جتنا حسن آرا اپنے تئیں کھینچتی، لڑکیاں اس سے کنارہ کشی کرتیں؛ اور جس قدر وہ بڑائی کی لیتی، لڑکیاں اس کو ذلیل سمجھتیں۔ اصغری نے اشارے سے سب کو روک دیا، اور محمودہ سے کہا کہ "حسن آرا بہت اچھی لڑکی ہے اور بڑی عمدہ سہیلی تم کو ہاتھ لگی ہے۔ تھوڑے دن صبر کرو اور اس کو بے دل مت ہونے دو۔ بیچاری طائر وحشی[۱۷] کی طرح تازہ گرفتار قفس[۱۸] ہے۔ اگر کہیں تم نے اس کو بھڑکا دیا تو پھر پھڑ پھڑا کر اڑ جائے گی، اور پھر نہ پکڑائی دے گی۔ اور اگر پرچا[۱۹] لیا تو دیکھنا کیسی کیسی صفیریں[۲۰] سناتی اور لبھاتی ہے۔"

غرض ادھر تو لڑکیاں دلداری پر آمادہ ہوئیں، ادھر استانی جی نے پڑھنے لکھنے کا نام تک منہ سے نہ نکالا؛ پھر حسن آرا کو وحشت کی کیا وجہ تھی؟ تھوڑے ہی دنوں میں لڑکیوں سے ایسی بے تکلف ہو گئی کہ گویا مدتوں ساتھ کھیلی ہوئی ہے، اور خود فرمائش اور تقاضا کر کے محمودہ کی گڑیاں کھلوائیں۔

محمودہ کی گڑیوں کا گھر دیکھ کر حسن آرا کا متعجب ہونا

اگرچہ حسن آرا کے گھر گڑیوں کا بڑا سامان تھا، مگر یہاں محمودہ کی گڑیوں کو دیکھ کر نہایت ششدر[۲۱] ہوئی۔ حسن آرا کی گڑیاں بازاری گڑیاں تھیں: صورت دیکھو تو تہنگم[۲۲]، جوڑے دیکھو تو بھدے، جھوٹا مصالح، کھوٹا کام، نہ سلائی درست، نہ ٹنکائی ٹھیک۔ مگر محمودہ کی گڑیاں سر سے پاؤں تک اس کے اپنے ہاتھ کی کاڑھی بنائی تھیں۔ کہاں وہ بازاری بیگاری کام، کہاں یہ خانہ ساز[۲۳]! حسن آرا نے گڑیوں کے لیے بنا بنایا لکڑی کا دو منزلہ گھر پندرہ روپیہ کو مول لیا تھا اور اسی پر اتراتی تھی؛ محمودہ نے تیلیوں اور پنی کا نہایت خوبصورت، خوش قطع مکان خود بنایا تھا۔ حسن آرا کو محمودہ کی گڑیاں دیکھ کر اول مرتبہ یہ خیال ہوا کہ ہنر اور سلیقے کے آگے مال دولت ہیچ ہے؛ اپنے ہاتھ کے ہنر سے ہم وہ کام لے سکتے ہیں جو دولت سے نہیں نکل سکتا۔ بار بار حیران ہو ہو کر محمودہ سے پوچھتی، "اے ہے، یہ ننھا سا کارچوبی[۲۴] بٹوا بھی تم ہی نے سیا ہے؟ اچھی، سچ کہنا، یہ پلنگ کے تکیے تم ہی نے بنائے ہیں؟ اس دھانی جوڑے میں تو مصالح تمہارا ٹانکا ہوا نہیں لگتا۔ اس چھنی[۲۵] کا کرتا تو ضرور استانی جی نے قطع کیا ہوگا۔ بھلا سب تو سہی، یہ پٹاپٹی کے پردے کہاں سے لیے؟ یہ گنگا جمنی تاروں بھرا دوپٹہ کس نے دیا؟ بلا کے سوباف ہیں، غضب کے ازار بند ہیں۔ اے لو اور سنو: ابرک کے جھاڑ، کاغذ کے پنکھے، ایری کی دریاں! اجی یہ تو دیکھو، سینکوں کی چلمنیں، سرکنڈوں کے کھمبے!"

غرض کہ محمودہ کی گڑیاں دیکھ کر حسن آرا ایسی حیرت زدہ[۲۶] ہو گئی تھی کہ متعجب ہو ہو کر محمودہ ہی کو دکھاتی تھی۔ محمودہ نے حسن آرا کے تمام تر تعجب کا یہی جواب دیا کہ "یہ سب کچھ میرا ہی کیا دھرا اور میرا ہی سیا پرویا ہے، اور کچھ بڑی بات نہیں۔ اگر آپ دو مہینے بھی سینے پرونے پر جی لگائیں تو اس سے کہیں بہتر بنا سکتی ہیں۔ مجھ کو تو گڑیاں کھیلنے کا شوق بھی نہیں؛ استانی جی جب کوئی نیا کام سکھاتی ہیں تو میں پہلے گڑیوں پر ہاتھ صاف کرتی ہوں۔ پس جو کچھ آپ نے دیکھا ہے، یہ میری شروع شروع کی مشق ہے۔"

حسن آرا: "دو مہینے میں اس سے بہتر بنا سکتی ہوں؟" محمودہ: "بے شک، بلکہ اس سے بھی کم میں۔"

حسن آرا: "بس اس میں سلائی ہی سلائی ہے؟" محمودہ: "اور کیا، اور سلائی بھی نری تیپچی[۲۷]۔"

حسن آرا: "بھلا اتنا سینا مجھ کو دو مہینے میں کیونکر آ جائے گا؟" محمودہ: "اگر آپ جی لگائیے تو میرا ذمہ، دو مہینے میں خاصی طرح فراغت سے سیکھ جائے گا۔"

حسن آرا: "ابھی تو مجھ کو دھاگا پرونا بھی نہیں آتا۔ لو، کل شام کی تو بات، انا دیر سے سوئی میں دھاگا پرو رہی تھی؛ آپ خیر سے عینک بھی ہر دم چڑھائے رہتی ہیں، پھر بھی خاک نہیں سوجھتا۔ میں جو کھیلتی کھیلتی جا نکلی تو مجھ ہی سے گڑگڑا کر کہنے لگی، 'اچھی بیٹی، اپنی انا کا ایک کام نہیں کر دیتیں؟ ذرا دھاگا پرو دو۔ رعشے کے مارے میری انگلیاں تو کہے میں نہیں ہیں۔' حرمت گلے سے ننگی پھرتی ہے، کسی طرح گوٹ کا ٹانکا کر کھڑا کیا ہے، گریبان رہ گیا ہے۔ میں نے بہتیرا کوشش کی، دھاگا تو ناکے کے منہ پر آ جاتا تھا، مگر پرویا نہ گیا۔ تب تو میرا جی جل گیا اور میں نے سوئی اٹھا کر دور پھینک دی۔"

محمودہ: "کیسا ہی آسان کام ہو، تھوڑی بہت محنت ضرور چاہتا ہے؛ اور خاص کر سینا تو بڑی پتہ ماری کا کام ہے۔ دھاگا پرو لینا تو کچھ بھی مشکل نہیں؛ بلکہ کھل جانے سے دھاگے کے سرے پر جو ریشے نکل آتے ہیں، ان کو چٹکی سے مروڑ دے کر دبا دینا چاہیے، پھر تو شاید پرونے میں دیر نہ ہو۔"

حسن آرا: "ہاں، ضرور یہی بات تھی؛ مجھ کو انا نے یہ حکمت نہیں بتلائی۔ بھلا ایک سوئی دھاگا تو دو، دیکھوں مجھ سے پرویا جاتا ہے یا نہیں۔" محمودہ نے ایک بہت باریک ناکے کی سوئی اور بہت مہین پیچک کا دھاگا دیا۔ حسن آرا نے دھاگے کے سرے کو چٹکی سے مروڑ کر جوں ہی ناکے کے برابر لگایا، جھٹ سے آ گیا۔ تب تو حسن آرا خوشی کے مارے اچھل پڑی اور بولی، "آہا جی! ہم نے دھاگا پرو دیا! آہا جی! ہم نے دھاگا پرو دیا! مجھ کو سینا آ گیا۔" محمودہ: "نہیں، سینا تو ابھی نہیں آیا، مگر ذرا ہی سی کسر ہے۔"

محمودہ نے حسن آرا کو سینا سکھایا

غرض کہ محمودہ نے سیدھی تیپچی لگا دی اور آدھے بالشت کے قریب حسن آرا سے سلوایا۔ اس میں تین چار مرتبہ حسن آرا کے سوئی بھی چبھی۔ اس سے ذری اس کی ہمت پست[۲۸] ہو گئی؛ اور جیسے دھاگا پرونے پر اچھلی کودی تھی، تیپچی تھوڑی ہی سی تھی کہ جلدی سے محمودہ کو پکڑا دی اور کہا، "بوا، یہ تو بڑا مشکل کام ہے۔"

محمودہ: "میں نے پہلے ہی آپ سے کہا تھا کہ سینے میں بڑی دیدہ ریزی[۲۹] اور محنت کی ضرورت ہے۔ لیکن دنیا میں اکثر عورتوں کو بڑی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔ دیکھیے، چکی پیسنا کیسی سخت محنت کا کام ہے، مگر آخر سینکڑوں ہزاروں ہم ہی جیسی عورتیں کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں سینا تو کچھ بھی محنت کا کام نہیں۔ اس کے علاوہ یہ دستور کی بات ہے کہ کیسا ہی آسان کام ہو، مبتدی[۳۰] اور نو آموز[۳۱] کو مشکل معلوم ہوا کرتا ہے۔ یہ صرف آپ کی بے مشقی تھی کہ آپ نے چند بار سوئی ہاتھ میں چبھو لی۔ دیکھیے، مجھ کو سیتے سیتے ایسی مشق ہو گئی ہے کہ اگر فرمائیے، آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتی جاؤں، ٹانکا بھی درست بیٹھتا چلا جائے، سیون میں ذرا فرق نہ آئے؛ اور سوئی کے چبھنے چبھانے کا تو کیا ذکر!" یہ کہہ کر باقی ماندہ تیپچی محمودہ نے دونوں کپڑے برابر کر کے سوئی جو لگائی تو یا ادھر تھی، یا دم کے دم میں اس سرے جا نکالی۔

حسن آرا: "دیکھوں، کہیں سوئی تو نہیں لگی؟" محمودہ: "نہیں تو۔" یہ کہہ کر ہاتھ دکھا دیا۔

حسن آرا: "یہ آپ کی بیچ کی انگلی کھردری کیوں ہے؟" محمودہ نے ہنس کر کہا کہ "سوئیوں کے چبھنے کے نشان تو نہیں ہیں؛ مگر میں اس سے انکار نہیں کر سکتی کہ یہ سینے ہی کی بدولت ہے۔ مجھ کو انگشتانے کی عادت نہیں۔ بعض کپڑا کلپ[۳۲] دار یا دبیز[۳۳] ہوتا ہے کہ سوئی آسانی سے نہیں نکلتی، تب ایک طرف سوئی کی چٹکی سے کھینچنا پڑتا ہے، اور بیچ کی انگلی سے ناکے کو سہارا لگانا ہوتا ہے؛ یہ اسی کے نشان ہیں۔"

حسن آرا: "تو پھر کچھ مبتدی پر موقوف نہیں، سینے میں سب ہی کی انگلیاں لہولہان رہتی ضرور ہیں۔"

محمودہ: "بڑا تعجب ہے کہ آپ ایسی ذرا سی بے معلوم تکلیف کو بڑی مصیبت خیال کرتی ہیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی تکلیفیں نہ معلوم کتنی صبح سے شام تک پہنچ جایا کرتی ہیں۔ کھیلنے ہی میں کہیں چوٹ چپیٹ لگ جاتی ہے؛ پھوڑے پھنسی ہوتے رہتے ہیں؛ آنکھیں ہی دکھنے آ جاتی ہیں؛ سردی گرمی کی ایذا سے زکام ہو جاتا ہے، بخار آنے لگتا ہے۔"

حسن آرا: "ہاں، لیکن ایک مجبوری کی تکلیف جس پر اپنا بس نہیں، اور ایک اپنے ہاتھوں آفت مول لینا۔ بھلا کیا ضرور ہے کہ بیٹھے بٹھائے میں اپنی انگلیوں کو زخمی کروں، آنکھوں کو ستاؤں، گردن کو دکھاؤں؟ جس کی ناک پر ٹکا رکھ دیا، جیسا چاہا سلوا لیا۔"

محمودہ: "کیا دوسرے کا محتاج ہو کر رہنا تکلیف کی بات نہیں؟" حسن آرا: "محتاج ہو کر رہنا کیسا؟ خدا نہ کرے، ہم کسی کے محتاج کیوں ہونے لگے؟"

حواشی

[۱] جو لوگ کہیں کے اصلی رہنے والے نہ ہوں بلکہ نوکری کی ضرورت سے جہاں کہیں کی نوکری ہوئی وہیں رہنے لگے۔

[۲] بیچ کی راس کے۔

[۳] کم بیش۔

[۴] دور کر دینا۔

[۵] فام: رنگ۔

[۶] بہت کالی۔

[۷] رنگت کی پکی سفیدی۔

[۸] روٹی میں برابر کی کھانڈ، برابر کا دودھ ڈال کر روٹی پکائی جاتی ہے، اس پر تبارک الذی کا ختم پڑھ کر مردوں کی فاتحہ دلواتے ہیں؛ وہ تبارک کی روٹی کہلاتی ہے۔ ایک تو وہ روٹی خود روئیدار ہوتی ہے، اور اوپر سے خشخاش لگاتے ہیں۔ حسن آرا نے چیچک رو کو جو تبارک کی روٹی سے تشبیہ دی، پھبتی خوب کہی۔

[۹] جس کی زبان کو روک نہ ہو اور جو جی میں آئے بکا کرے۔ محمودہ نے اس کی بات کو اسی پر الٹ دیا کہ تم منہ پھٹ ہو تو تم کو رفو کرانے کی زیادہ ضرورت ہے۔

[۱۰] یہاں بھی محمودہ نے حسن آرا ہی کو قائل کیا کہ تم امیر ہو تو قلعی گر کو تمہارے گھر قلعی کرنے سے کہاں فرصت۔

[۱۱] یعنی شاباش نہ دی۔

[۱۲] غرور۔

[۱۳] اختیار، دباؤ۔

[۱۴] کوشش؛ کسی کام کے کرنے کو اہتمام کہتے ہیں۔

[۱۵] یہ ایک کہاوت ہے کہ جو بات ناممکن ہوتی ہے، اگر وہ بھی ہو۔

[۱۶] برتاؤ کا طریقہ۔

[۱۷] پرند جو آدمی سے بھاگتا ہو۔

[۱۸] یعنی ابھی پکڑ کر پنجرے میں بند کی گئی ہے۔

[۱۹] جما لیا، مانوس کر لیا۔

[۲۰] بلبل، مینا، لال وغیرہ کی آواز کو صفیر کہتے ہیں۔

[۲۱] حیران۔

[۲۲] نفرت انگیز۔

[۲۳] گھر کا بنا ہوا۔

[۲۴] ایک قسم کا سنہری کام جو کپڑوں پر [illegible: the rest of the note is not printed on this page]

[۲۵] گڑیا کے بچے کو چھنی کہتے ہیں۔

[۲۶] حیران۔

[۲۷] سیدھی سلائی کو تیپچی کہتے ہیں۔

[۲۸] ایسی جگہ ہمت پست ہو گئی بھی بولتے ہیں۔

[۲۹] لفظی معنی آنکھوں کا گرا دینا، اور مرادی معنی آنکھوں کا دکھانا۔

[۳۰] جو شخص کسی کام کو نیا شروع کرے اس کو مبتدی کہتے ہیں۔

[۳۱] نئے سیکھنے والے کو نو آموز کہتے ہیں۔

[۳۲] کپڑے کو چاول یا اسی قسم کی کسی اور چیز میں ڈبو دینے کو کلپ دینا کہتے ہیں۔

[۳۳] موٹا، دلدار۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.