
Глава 3 из 22
Husn Ara's Bad Temper and Mischief
حسن آرا کی بدمزاجی اور شرارت
حسن آرا کی بدمزاجی اور شرارت
حسن آرا کے مزاج کی افتاد[۱] ایسی بری پڑی تھی کہ اپنے ہی گھر میں سب سے بگاڑ تھا: نہ ماں کا ادب، نہ آپا کا وقر[۲]، نہ باپ کا ڈر، نہ بھائیوں کا لحاظ۔ نوکر ہیں کہ آپ نالاں[۳] ہیں، لونڈیاں ہیں کہ الگ پناہ مانگتی ہیں۔ غرض حسن آرا سارے گھر کو سر پر اٹھائے[۴] رہتی تھی۔
شاہ زمانی بیگم کے آنے سے چاہیے تھا کہ بڑی خالہ سمجھ کر حسن آرا گھڑی دو گھڑی کو چپ ہو کر بیٹھ جاتی۔ کیا ذکر! شاہ زمانی بیگم کو پالکی سے اترے دیر نہ ہوئی تھی کہ لگاتار دو تین فریادیں آئیں۔ نرگس روتی ہوئی آئی کہ "بیگم صاحب، دیکھیے، چھوٹی صاحبزادی نے اس زور سے پتھر مارا کہ میری آنکھ پھوٹتے پھوٹتے بچ گئی۔" سوسن نے آ فریاد کی کہ "بیگم صاحب، چھوٹی صاحب[۵] نے مجھ سے کہا، دیکھوں سوسن تیری زبان۔ جوں ہی میں نے دکھانے کو زبان نکالی، نیچے سے ٹھوڑی میں ایسا مکا مارا کہ سارے دانت زبان میں بیٹھ گئے۔" گلاب بلبلا اٹھی کہ "ہائے، میرا کان خونا خون ہو گیا۔" دائی چلائی کہ "دیکھیے، میری لڑکی کم بخت کے ایسے زور سے لکڑی ماری کہ بازو میں بدھی پڑ گئی۔" باورچی خانے سے ماما نے دہائی دی کہ "اچھی، کوئی ان کو سمجھانا۔ سالن کی پتیلیوں میں مٹھیاں بھر بھر کر راکھ جھونک رہی ہیں۔"
شاہ زمانی بیگم نے آواز دی کہ "حسنا! یہاں آؤ۔" خالہ کی آواز پہچان، بارے حسن آرا چلی تو آئی، نہ آداب نہ سلام، ہاتھوں میں راکھ، پاؤں میں کیچڑ، اسی طرح بھری لتھڑی دوڑ خالہ سے لپٹ گئی۔ خالہ نے کہا کہ "حسنا، تم بہت شوخی کرنے لگی ہو۔"
حسن آرا نے کہا، "اس سنبل چڑیل نے فریاد کی ہوگی۔" یہ کہہ کر خالہ کی گود سے نکل، لپک، بے خطا بے قصور سنبل کا سر کھسوٹ لیا۔ بہتیرا خالہ ایں ایں کرتی رہیں، ایک نہ مانی۔
حسن آرا کو مکتب میں بٹھانے کی صلاح اور استانی صغریٰ کا مختصر حال
تب تو شاہ زمانی بیگم اپنی بہن کی طرف مخاطب ہو کر بولیں، "بوا سلطانہ! اس لڑکی کے لیے تو از برائے خدا کوئی استانی رکھو۔" سلطانی بیگم نے کہا، "باجی اماں، کیا کروں، مہینوں سے استانی کی تلاش میں ہوں، کہیں نہیں ملتی۔" شاہ زمانی بیگم بولیں، "اوئی بوا، تمہاری بھی وہی کہاوت ہوئی: ڈھنڈورا شہر میں، لڑکا بغل میں۔ خود تمہارے محلے میں مولوی محمد فاضل کی چھوٹی بہو لاکھ استانیوں کی ایک استانی ہے۔" سلطانہ نے کہا، "مجھ کو آج تک اطلاع نہیں ہوئی۔ دیکھو، میں ابھی آدمی بھیجتی ہوں۔"
یہ کہہ کر اپنے گھر کی داروغہ کو بلایا کہ "مانی جی[۶]، کوئی مولوی صاحب اس محلے میں رہتے ہیں، باجی اماں کہتی ہیں ان کی چھوٹی بہو بہت پڑھی لکھی ہیں۔ دیکھو، اگر استانی گری کی نوکری کریں تو ان کو بلوا لاؤ۔ کھانا کپڑا، دس روپے پان زردے کا خرچ ہم دینے کو حاضر ہیں۔ اور جب لڑکی پہلا سپارہ ختم کر لے گی اور ادب قاعدہ سیکھ جائے گی تو تنخواہ کے علاوہ بھی ان شاء اللہ ہم استانی جی کو خوش کر دیں گے۔"
مانی جی مولوی صاحب کے گھر آئیں۔ محمد کامل[۷] کی ماں سے صاحب سلامت ہوئی اور پوچھا، "اچھی بی، مولوی صاحب کی بی بی تم ہی ہو؟" ماما دیانت: "ہاں، یہی ہیں۔ آؤ بیٹھو، کہاں سے آئیں؟" مانی جی: "تمہاری چھوٹی بہو کہاں ہیں؟" محمد کامل کی ماں: "کوٹھے پر ہیں۔" مانی جی: "میں ان کے پاس اوپر جاؤں؟" دیانت: "آپ اپنا پتہ نشان بتلائیے، بہو صاحب یہیں آ جائیں گی۔" مانی جی: "میں حکیم صاحب کے گھر سے آئی ہوں۔"
یہ سن کر محمد کامل کی ماں نے نام بنام سب چھوٹے بڑوں کی خیر و عافیت پوچھی، اور مانی سے کہا، "تمیز دار بہو سے کیا کام ہے؟" مانی جی: "وہی آئیں تو کہوں۔" تمیز دار کے نیچے اترنے کا وقت بھی آ گیا تھا، کیونکہ عصر کی نماز پڑھ کر اصغری نیچے اتر آتی تھی اور مغرب اور عشا دونوں نمازیں نیچے پڑھا کرتی تھی۔ اصغری کو مانی جی نے دیکھا تو استانی گری کی نوکری کے واسطے کہتے ہوئے تامل کیا۔ باتوں ہی باتوں میں اتنا البتہ کہا کہ "بیگم صاحب کو اپنی چھوٹی بیٹی کا تعلیم کرانا منظور ہے۔ بڑی بیگم صاحب نے آپ کا ذکر کیا تو بیگم صاحب نے مجھ کو بھیجا۔"
اصغری نے کہا، "دونوں بیگم صاحبوں کو میری طرف سے بہت بہت سلام کہنا، اور یہ بھی کہنا کہ جیسا کچھ برا بھلا مجھ کو آتا ہے، مجھے کسی سے دریغ نہیں۔ اسی واسطے انسان پڑھتا لکھتا ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ اور بڑی بیگم صاحب کو معلوم ہوگا کہ میں اپنے میکے میں کتنی لڑکیوں کو پڑھاتی تھی۔ میرا جی تو بہت ہی بہت چاہتا ہے کہ بیگم صاحب کی لڑکی کو پڑھاؤں، لیکن کیا کروں، نہ تو بیگم صاحب لڑکی کو یہاں بھیجیں گی اور نہ میرا جانا وہاں ہو سکتا ہے۔"
مانی جی نے تنخواہ کا نام صاف تو نہ لیا، لیکن دبی زبان[۸] سے اس قدر کہا کہ "بیگم صاحب ہر طرح خرچ پات کی ذمہ داری کرنے کو بھی موجود ہیں۔" اصغری نے کہا، "یہ سب ان کی مہربانی ہے، ان کی ریاست کو یہی بات زیبا ہے؛ لیکن ان کے زیر سایہ ہم غریب بھی پڑے ہیں، تو خدا ننگا بھوکا نہیں رکھتا۔ بے داموں کی لونڈی بن کر خدمت کرنے کو تو میں حاضر ہوں، اور تنخواہ دار استانی درکار ہو تو شہر میں بہت ملیں گی۔" اس کے بعد مانی جی نے اصغری کا حال پوچھا، اور جب یہ سنا کہ یہ تحصیلدار کی بیٹی ہے اور مولوی محمد فاضل بھی پچاس روپیہ ماہوار کے نوکر ہیں، تو مانی کو ندامت ہوئی کہ نوکری کا اشارہ ناحق کیا۔ مانی ہر چند نوابی کارخانے دیکھے ہوئے تھی، لیکن اصغری کی شستہ[۹] تقریر سن کر دنگ[۱۰] ہو گئی، اور معذرت کی کہ "بی، مجھ کو معاف کرنا۔"
اصغری نے کہا کہ "کیوں تم مجھ کو کانٹوں گھسیٹتی[۱۱] ہو؟ اول تو نوکری کچھ گناہ نہیں، عیب نہیں؛ اور نوکری بھی حکیم صاحب کی لڑکی کے پڑھانے کی۔ اور پھر ناواقفیت کے سبب اگر تم نے پوچھا تو کیا مضائقہ۔"
غرض مانی جی رخصت ہوئیں، اور وہاں جا کر کہا کہ "بیگم صاحب، استانی تو واقع میں ہزار استانیوں کی ایک استانی ہے، جس کی صورت دیکھنے سے آدمی بن جائے، پاس بیٹھنے سے انسانیت حاصل کرے، سایہ پڑ جانے سے سلیقہ سیکھے، ہوا لگ جانے سے ادب پکڑے۔ لیکن نوکری کرنے والی نہیں؛ تحصیلدار کی بیٹی ہے، رئیس لاہور کے مختار کی بہو۔ گھر میں ماما نوکر ہے، دالان میں چاندنی[۱۲] بچھی ہے، چاندنی پر شوزنی[۱۳]، اوپر سے گاؤ تکیہ[۱۴] لگا ہوا ہے۔ اچھی خوش گزران زندگی، بھلا ان کو نوکری کی کیا پروا ہے!"
شاہ زمانی: "سچ ہے بوا سلطانہ، تم نے مانی جی کو بھیجا تو تھا، لیکن مجھ کو یقین نہ تھا کہ وہ نوکری کریں گی۔"
مانی جی: "لیکن وہ تو ایسی اچھی آدمی ہیں کہ مفت پڑھانے کو خوشی سے راضی ہیں۔" سلطانہ: "یہاں آ کر؟" مانی جی: "بھلا بیگم صاحب، جو نوکری کی پروا نہیں رکھتا وہ یہاں کیوں آنے لگا؟"
سلطانہ: "کیا پھر لڑکی وہاں جایا کرے گی؟" شاہ زمانی بیگم: "اس میں قباحت کی کیا بات ہے؟ استانی کا گھر کچھ ایسا دور نہیں کہ ڈولی میں بیٹھ کر جانا پڑے۔ پانچ نہیں، خدا تمہیں نیکی دے، چھ گھر بیچ، ساتویں میں استانی پاس جا موجود ہوئے۔ اور یہاں سے وہاں تک ایک گھر سے دوسرے میں کھڑکی۔ اور مولوی صاحب کو تم نے ایسا کیا سمجھا[۱۵]؟ بھائی علی نقی خاں کی سگی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہیں۔"
سلطانہ: "آہا، تو ایک حساب سے ہماری برادری ہیں۔" شاہ زمانی: "لو، خدا نہ کرے کچھ ایسے ویسے ہیں! پہلے ان کا کام خوب بنا ہوا تھا، جب سے رئیس بگڑا بیچارے غریب ہو گئے ہیں، پھر بھی گھر میں ماما ہمیشہ رہی۔ ڈیوڑھی پر بھی ایک دو آدمی برابر رہتے ہیں۔" سلطانہ: "تو خیر، حسن آرا وہیں چلی جایا کرے گی۔"
اگلے دن شاہ زمانی بیگم اور سلطانہ بیگم دونوں بہنیں حسن آرا کو لے کر اصغری کے گھر آئیں۔ باوجودیکہ اصغری کے یہاں غریبانہ[۱۶] سامان تھا، لیکن اس کے انتظام اور سلیقے کے سبب بیگموں کی شان کے مطابق ان کی مدارات[۱۷] ہوئی۔ دو چار طرح کا عطر، چوگھڑا[۱۸] الائچی، چکنی ڈلی، ہر طرح کی چیز وہیں بیٹھے بیٹھے موجود ہو گئی؛ گھبراہٹ میں باہر سے منگوانی نہیں پڑی۔ آخر دونوں بہنوں نے اصغری سے کہا کہ "مہربانی کر کے ذرا اس لڑکی کو دل سے پڑھا دیجیے۔" اصغری نے کہا کہ "اول تو خود مجھ ہی کو کیا آتا ہے، مگر جو دو چار حرف بزرگوں کی عنایت سے آ گئے ہیں، ان شاء اللہ ان کے بتانے میں اپنے مقدور بھر دریغ نہ کروں گی۔" چلتے ہوئے سلطانہ بیگم ایک اشرفی اصغری کو دینے لگیں۔ اصغری نے کہا، "اس کی کچھ ضرورت نہیں۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں پڑھوائی آپ سے لوں؟"
سلطانہ بیگم نے کہا، "استغفر اللہ[۱۹]! پڑھوائی دینے کے واسطے ہمارا کیا منہ ہے؟ بسم اللہ کی مٹھائی ہے۔"
اصغری نے کہا، "شروع میں تبرک کے واسطے مٹھائی بانٹ دیا کرتے ہیں، سو اشرفی کیا ہوگی؟ بچوں کا منہ میٹھا کرنے کو سیر آدھ سیر مٹھائی کافی ہے۔"
یہ کہہ کر دیانت کی طرف اشارہ کیا۔ وہ کوٹھڑی میں سے ایک قاب[۲۰] بھر ٹکیاں نکال لائی۔ اصغری نے خود فاتحہ[۲۱] پڑھ کر پہلے حسن آرا کو دی، اور بھری قاب دیانت کو اٹھا دی کہ بچوں کو بانٹ دو۔ سلطانہ نے کہا، "اچھا، تم نے مجھ کو شرمندہ کیا!" اصغری نے کہا، "ہم بیچارے غریب کس لائق ہیں؟ یہاں جو کچھ ہے وہ بھی آپ ہی کا ہے۔ البتہ میرا دینا یہی ہے کہ حسن آرا کو پڑھا دوں۔ سو خدا وہ دن کرے کہ میں آپ سے سرخ رو ہوں۔" غرض دنیا سازی کی باتیں ہو ہوا کر شاہ زمانی بیگم اور سلطانہ بیگم چلی گئیں اور حسن آرا کو اصغری کے حوالے کر گئیں۔
حسن آرا کا مکتب میں بیٹھنا اور لونڈیوں کی بیجا خوشامد
یوں دیکھنے اور کہنے کو تو حسن آرا اکیلی مکتب میں بیٹھی، مگر کوئی درجن[۲۲] بھر لونڈیاں اس کے ساتھ تھیں اور کوئی کوڑی[۲۳] بھر سہیلیاں۔ لونڈیوں کا تو یہ قاعدہ تھا کہ بے ضرورت بھی ہر دم اور ہر لحظہ چاروں طرف سے حسن آرا کو گھیرے رہتیں، اور کچھ کام نہیں تو بات بات میں خوشامد، بات بات پر تعریف۔ ذرا بیٹھک بدلی تو سب بول اٹھیں "بسم اللہ، بسم اللہ"؛ چھینک لی تو چلائیں "شکر الحمد للہ"۔ مانی جی ہیں کہ چپکے ہی چپکے قل ہو اللہ کی تسبیحیں پڑھ پڑھ کر پھونک رہی ہیں؛ انا ہیں کہ بار بار ان یکاد[۲۴] دم کرتی جاتی ہیں۔
اور جو کہیں حسن آرا نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو کوئی جلدی جلدی پنکھا جھلنے لگی، کوئی چوری یا رومال ہلانے کھڑی ہو گئی، کوئی بولی "واری جاؤں، گلوری کھا لو"، یا گوڑی کی دو دانے ڈال لو، دیر ہوئی، منہ بدمزہ ہو گیا ہوگا۔ کوئی کہنے لگی، "صدقے گئی، ایک گھونٹ شربت پی لو، نگوڑے ہونٹ ہیں کہ سوکھے چلے جاتے ہیں، پپڑیاں بندھ گئی ہیں۔ بھاڑ میں جائے ایسا پڑھنا اور آگ لگے ایسے مکتب کو! لڑکی کا منہ تو دیکھو کیسا ذرا سا نکل آیا۔" جلدی سے لپک، چٹا چٹ بلائیں لے، حسن آرا کو گلے سے لگا لیا۔
جس شخص پر حسن آرا کی طرح ایسی لونڈیوں کا عذاب الٰہی اور ایسے نوکروں کی بلا مسلط[۲۵] ہو، اس کے مزاج کا درست رہنا عجب کی بات ہے۔ فرشتہ بھی ہو تو ایسی صحبت میں توبہ توبہ، بھوت سے بدتر ہو جائے۔
حسن آرا کی عادات
حسن آرا بیچاری بھی اسی آفت میں مبتلا تھی۔ کوئی خرابی نہ تھی کہ اس کے مزاج میں نہ ہو، اور کوئی بگاڑ نہ تھا کہ اس کی عادتوں میں نہ ہو۔ مکتب گئی تو شرارت، بدمزاجی، بدزبانی، خود پسندی[۲۶]، بیباکی[۲۷]، جنگجوئی[۲۸]، حسد[۲۹]، دروغ گوئی[۳۰]، غیبت[۳۱]، بدلحاظی، لالچ، بے صبری، سستی، بے ہنری، بدسلیقگی، اپنی قدیمی سہیلیوں کو ساتھ لیتی گئی۔ چونکہ استانی جی خود ماشاء اللہ امیر گھر کی بیٹی اور امیروں کے دستور قاعدے سے بخوبی واقف تھیں، ان کو تو حسن آرا کے چوچلے اور اس کے نوکروں کی ناز برداریاں دیکھ کر کچھ بھی اچنبھا نہیں ہوا؛ مگر مکتب کی لڑکیوں کو اچھا خاصہ تماشا مل گیا۔ کیسا پڑھنا اور کس کا سبق یاد کرنا، سب کی سب لگیں ٹکٹکی باندھ حسن آرا اور اس کے ساتھ والیوں کو دیکھنے۔ اصغری نے دیکھا کہ اسی سنگت نے حسن آرا کو پیٹ بھر[۳۲] بگاڑا ہے۔ اگر اب بھی یہ سنگ ساتھ موجود رہا تو تعلیم و تربیت کا اثر ہونا معلوم۔ مانی جی سے کہا کہ "اب لوگوں کو اجازت دیجیے کہ گھر کا کام کاج دیکھیں۔ مکتب کی لڑکیاں ہیں کہ ان ہی میں محو[۳۳] ہو رہی ہیں، اور حسن آرا بیگم کا بھی دل اچاٹ ہوا چلا جاتا ہے۔" مانی جی سمجھدار تو تھی ہی، سنتے کے ساتھ سب کو رخصت کا اشارہ کیا؛ مگر لونڈیاں چلنے کا نام سن کر بے طرح مچلیں۔ ایک نے کہا، "واہ! بھلا بے صاحبزادی کے مجھ کو ایک دم قرار ہوگا؟ گھر میں مجھ سے بیٹھا جائے گا؟" دوسری بولی، "مانی جی، ایسی نوکری کو سلام ہے۔ میں نے کچھ روٹی کپڑے کے لالچ سے نوکری نہیں کی، ایک اس بچی کی محبت؛ تنخواہ ہے تو یہی، اور انعام ہے تو یہی۔"
ان نوکروں کا مطلب یہ تھا کہ حسن آرا کے حیلے سے گھر کے کام دھندے سے بچیں۔ یہ سن کر اصغری نے کہا، "بوا، بیگم صاحب سے بڑھ کر محبت کا دعویٰ تو دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ وہی کہاوت ہے: ماں سے زیادہ چاہے پھاپھا کٹنی کہلائے۔ اور خدا نخواستہ رخصت نہیں، وداع نہیں، چار قدم پر گھر لگا ہے۔ مکتب میں دیکھتی ہو جگہ کی کتنی کوتاہی ہے۔ لڑکیوں میں تم سب کا اٹھنا بیٹھنا ان کے پڑھنے لکھنے میں ضرور حرج ڈالے گا۔ بہتر ہے کہ اس وقت چلی جاؤ، اپنا اپنا کام دیکھو۔" اس پر بھی دو چار نے عذر کیا کہ "صاحبزادی کو پنکھا جھلنے، پانی پلانے کو ایک دو آدمیوں کا رہنا ضرور ہے۔" اصغری نے جواب دیا کہ "آخر ہم سب لوگ اپنا اپنا کام کاج اپنے ہاتھوں کرتے ہی ہیں۔ اتنا کام بوا حسن آرا بیگم کا کر دیں گے تو ہاتھ گھس نہیں جائیں گے۔" غرض کہ زبردستی اصغری نے سب کو باہر دھکیلا۔ مانی جی بغدادی قاعدہ اور عم کا سپارہ بھی ایک کمخواب کے جزدان میں رکھ، بغل میں دبا، لائی تھیں؛ چلنے لگیں تو وہ جزدان حسن آرا کو دینے لگیں۔ اصغری نے پوچھا کہ "یہ کیا ہے؟"
مانی جی: "بغدادی قاعدہ اور عم کا سپارہ ہے۔ دیکھیے تو سہی، کیا پاکیزہ خط ہے۔" اصغری: "مگر بالفعل اس کی ضرورت نہیں۔" مانی جی: "آخر صاحبزادی کو کیا شروع کرائیے گا؟" استانی جی: "ابھی تو کچھ بھی نہیں۔" مانی جی: "کچھ بھی نہیں تو پھر مکتب میں بیٹھنے سے حاصل؟"
اصغری: "مجھ کو تو ہتھیلی پر سرسوں[۳۴] جمانی نہیں آتی۔ حاصل حصول جو کچھ ہوگا، چند روز میں آپ ہی نظر آ جائے گا۔ خلاف خواہش پڑھانا میرا دستور نہیں۔ پڑھنا پڑھانا بھی تب ہی فائدہ دیتا ہے جب پڑھنے والا خواہش کرے، ورنہ مارے باندھے کچھ پڑھا پڑھایا بھی تو کیا۔ اول تو ایسا پڑھایا نہیں رہتا؛ دوسرے، جب دل نہیں چاہتا تو زبردستی کرنے سے الٹا ذہن کند ہو جاتا ہے۔"
مانی جی: "سچ ہے، مگر بچوں کی خواہش پر ملتوی رکھا کریں تو پڑھنا لکھنا سب نیست و نابود ہو جائے۔"
اصغری: "میں یہ نہیں کہتی کہ سب بچے شوق ہی سے پڑھا کرتے ہیں؛ مگر میں نے اپنا یہی دستور رکھا ہے کہ اول علم کا شوق دل میں پیدا کر دیتی ہوں، تب پڑھنا شروع کراتی ہوں۔"
مانی جی: "سبحان اللہ! شوق ہو تو پڑھنا کیا بڑی بات ہے۔ بے شوق سے جو برسوں میں ہو، اور شوق والا مہینوں میں کر دکھائے۔ مگر صاحبزادی تو پڑھنے کے نام سے کوسوں بھاگتی ہیں۔ ان کو تو خدا ہی شوق دے گا تو ہوگا۔" اصغری: "مانی جی، ان شاء اللہ یہی حسن آرا بیگم پڑھنے کے لیے ہاتھ جوڑیں، پاؤں پڑیں، منتیں کریں، تب تو سہی۔"
غرض کہ ساتھ والیاں تو سب رخصت ہوئیں، اب حسن آرا اکیلی اصغری خانم کے پاس رہ گئی۔ اصغری اول تو خود بڑی زیرک[۳۵] تھی، حسن آرا کے قیافے[۳۶] اور تھوڑی ہی دیر کے طرز انداز سے سمجھ گئی؛ دوسرے، ایک محلے کا واسطہ، بہت پہلے سے سن چکی تھی۔ غرض جو دقتیں[۳۷] حسن آرا کی اصلاح[۳۸] میں پیش آنے والی تھیں اصغری کو سب معلوم تھیں۔ خیریت[۳۹] اتنی تھی کہ حسن آرا کے مزاج میں جہاں دنیا بھر کی خرابیاں تھیں، ایک یہ اچھائی بھی تھی کہ ذہین اور سمجھدار ہونے کے علاوہ نیک ذات بھی تھی۔ فوراً اس کا دل اچھی بات کا اثر قبول کر لیتا تھا؛ اور اگر اس سے کوئی خطا ہو جاتی اور نرمی سے اس کو متنبہ[۴۰] کر دیا جاتا تو قائل اور نادم ہو کر اپنی حرکت پر تاسف[۴۱] اور تلافی مافات[۴۲] میں کوشش کرتی۔ اتنی ہی بات کا سہارا تھا کہ اصغری خانم نے ان کی تعلیم کا بیڑا اٹھا لیا[۴۳]۔ اصل میں حسن آرا کا مزاج نہایت نیک تھا؛ ناز پروردگی[۴۴] اور دولتمندی سے جن خرابیوں کا پیدا ہونا ممکن ہے، وہ البتہ بدرجۂ غایت[۴۵] اس کے مزاج میں اثر کر گئی تھیں۔ حسن آرا جب مکتب میں بیٹھی تو اصل خیر سے گیارہویں برس میں تھی۔ اور ہر چند اس وقت تک مکتب میں لڑکیوں کی کچھ بہت بھیڑ بھاڑ نہ تھی، تاہم اصغری کی نند محمودہ، زبیدہ، آمنہ، رابعہ، کلثوم، کنیز فاطمہ، خیر النسا، ہاجرہ، شہر بانو، دس لڑکیاں مکتب میں بیٹھی تھیں۔
حواشی
[۱] ابتدائی جو ڈھنگ پڑ جاتا ہے اس کو افتاد کہتے ہیں۔
[۲] وقر بھی ادب کے قریب قریب ہے۔
[۳] یعنی حسن آرا کے ہاتھوں سے رو رہے ہیں۔
[۴] یہ محاورہ ہے، یعنی بڑا غل مچاتی تھی، بہت دنگا کرتی تھی۔
[۵] یعنی حسن آرا۔
[۶] [illegible: the foot of this page is cut off in the scan; only a few words of the note survive: "... کا کام ... بلا کر بلائی جاتی ہے"]
[۷] محمد کامل مولوی محمد فاضل کا چھوٹا بیٹا اور استانی اصغری خانم کا شوہر ہے۔ اصغری کا سسرالی خطاب تمیز دار بہو بھی ہے۔ دیانت ان لوگوں کے گھر کی ماما۔ ان سب لوگوں کا قصہ کتاب مرآۃ العروس میں مفصل بیان کیا گیا ہے۔
[۸] یعنی آہستہ آہستہ، بات کو چھپا کر۔
[۹] لفظی معنی دھوئی ہوئی، اور مرادی معنی صاف۔
[۱۰] حیران۔
[۱۱] یہ ایک محاورہ ہے، یعنی گنہگار یا شرمندہ کرتی ہو۔
[۱۲] سفید کپڑا جو فرش پر بچھایا جائے اس کو چاندنی کہتے ہیں۔
[۱۳] سفید کپڑے کی دوہری پتلی توشک جس میں تھوڑی سی روئی بھر کر خوبصورت ٹکندوں سے سی دیتے ہیں۔
[۱۴] بڑا موٹا تکیہ جس سے پیٹھ لگا کر بیٹھتے ہیں۔
[۱۵] یعنی خدا نخواستہ کچھ بے آبرو یا ہلکے لوگ ہیں کہ ہماری لڑکی کو ان کے گھر جا کر پڑھنا عار کا موجب ہو۔
[۱۶] غریب لوگوں کی طرح کا۔
[۱۷] خاطر داری۔
[۱۸] بڑی، دانے بھرے ہوئے، جس میں چار خانے ہوں؛ اس طرح کی الائچی عمدہ ہوتی ہے۔
[۱۹] میں اللہ سے معافی چاہتی ہوں۔ عربی کا محاورہ ایسی جگہ بولتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا نہیں سمجھا، لیکن اگر سمجھا ہو تو خدا معاف کرے۔
[۲۰] اصل میں قاب بڑے طباق (طبق) کو کہتے ہیں۔
[۲۱] سورۂ [illegible: the rest of this note is cut off at the foot of the scanned page]
[۲۲] بارہ کا ایک درجن ہوتا ہے؛ یہ انگریزی لفظ ہے، صحیح ڈزن۔
[۲۳] بیس کی ایک کوڑی۔
[۲۴] ان یکاد اشارہ ہے طرف ایک آیت قرآن مجید کے جو دفع نظر بد کے واسطے پڑھ کر پھونک دیا کرتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارہم لما سمعوا الذکر ویقولون انہ لمجنون۔
[۲۵] سر پر سوار۔
[۲۶] اپنے تئیں سب سے بہتر سمجھنا۔
[۲۷] بے دھڑک ہونا۔
[۲۸] ہر ایک سے لڑنا۔
[۲۹] کسی سے جلنا۔
[۳۰] جھوٹ بولنا۔
[۳۱] پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہنا۔
[۳۲] اچھی طرح، بہت کچھ۔
[۳۳] گم۔
[۳۴] یہ ایک محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک کام کو جلدی وقت سے پہلے کر دیا جائے۔ کہتے ہیں کہ سرسوں بہت ہی جلد جم کھڑی ہوتی ہے، یہیں سے یہ محاورہ نکلا۔
[۳۵] دانشمند، بات تاڑ جانے والی۔
[۳۶] صورت شکل۔
[۳۷] مشکلیں۔
[۳۸] درستی۔
[۳۹] محاورے کی رو سے یہاں خیریت ایسے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ اتنا غنیمت تھا۔
[۴۰] خبردار، آگاہ۔
[۴۱] افسوس۔
[۴۲] جو بات بگڑی یا رہ گئی اس کا بدلہ۔
[۴۳] اپنے ذمے لیا۔
[۴۴] لاڈ و پیار۔
[۴۵] حد کے درجے کو۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.