
Chapitre 13 sur 22
A Proof That the Earth Is Round
زمین کے گول ہونے کی دلیل
زمین کے گول ہونے کی دلیل
حسن آرا: "بھلا پھر ان باتوں سے زمین کا گول ہونا ثابت ہو گیا؟"
محمودہ: "ابھی نہیں، ذرا صبر کرو۔ ایک بات اور بتاؤ، کہ جب تم قطب صاحب گئی تھیں تو لاٹ تم کو کتنی دور سے نظر آنی شروع ہوئی تھی؟"
حسن آرا: "اجی، ہمایوں کے مقبرے سے ذرا آگے بڑھو اور لاٹ نظر آنے لگتی ہے۔ اور اگر درختوں اور مکانوں کی آڑ نہ ہو تو لاٹ، اللہ اکبر، اتنی اونچی ہے کہ شاید اس کی چوٹی یہاں سے بھی دکھائی دے تو کچھ اچنبھا نہیں۔"
محمودہ: "صرف چوٹی؟" حسن آرا: "اور اب آپ چاہتی ہیں کہ گھر بیٹھے ساری لاٹ دیکھ لوں؟" محمودہ: "نہ دیکھ لینے کا کیا سبب؟"
حسن آرا: "سبب یہی دوری، اور کیا؟" محمودہ: "دوری کی وجہ سے لاٹ بلا سی چھوٹی دکھائی دے، مگر ساری دکھائی دے۔ اس کا کیا سبب کہ پہلے صرف چوٹی دکھائی دیتی ہے؟ اس کا نیچے کا دھڑ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟"
حسن آرا: "کچھ کسی چیز درخت وغیرہ کی آڑ پڑتی ہوگی۔"
محمودہ: "مگر درخت کی آڑ ہوتی تو درخت تو نظر آتا۔ میں بھی تو قطب صاحب چھ سات مرتبہ سے کم نہیں گئی۔ ہمایوں کے مقبرے سے آگے اچھا خاصا کف دست میدان پڑا ہے، اور سڑک تاک کی سیدھ عین لاٹھ کی جڑ میں لگی ہے۔ اور لاٹ پر کیا موقوف ہے؛ یوں سڑک پر دور کے بہت سے درخت صاف سامنے نظر آتے ہیں، جن کے بیچ میں کچھ بھی آڑ نہیں؛ مگر پھر بھی پہلے ہی اوپر کی ٹہنیاں نظر آتی ہیں، اور جوں جوں پاس ہوتے جاؤ، رفتہ رفتہ نگاہ نیچے تک پہنچی جاتی ہے، یہاں تک کہ سارا درخت چوٹی سے جڑ تک سموچا[۱] نظر آنے لگتا ہے۔"
حسن آرا محمودہ کا یہ اعتراض سن کر بغلیں جھانکنے[۲] لگی۔ محمودہ: "اس کا سبب میں عرض کروں؟" حسن آرا: "فرمائیے۔"
محمودہ: "وہی زمین کی گولائی کی آڑ۔" یہ کہہ کر محمودہ نے حسن آرا کو پانی کے مٹکے کے پاس لے جا گولائی کا آڑ کرنا، اور لوگوں کا زمین کے گرد اگرد گھوم آنا بخوبی ثابت کر دیا۔
حسن آرا: "زمین کے گول ہونے پر یہی ایک دلیل ہے؟"
محمودہ: "نہیں، اور بہت دلیلیں ہیں، لیکن ابھی آپ کو ان کا سمجھنا مشکل ہے؛ مگر جب آپ کی معلومات زیادہ ہو جائیں گی تو میں زمین کے گول ہونے کی سب دلیلیں ضرور آپ سے بیان کروں گی۔"
حسن آرا: "اچھا، اگر زمین گول ہے تو ہم لوگ اس پر سے پھسل کیوں نہیں پڑتے؟"
محمودہ: "گول تو ضرور ہے، مگر اس کو بھی تو سمجھ لیجیے کہ گول جس قدر چھوٹی، اسی قدر اس میں گولائی زیادہ۔ مثلاً رائی کا دانہ، چنے کا دانہ، بیر، آڑو، انڈا، آبخورہ، ٹھلیا، مٹکا، گنبد، گول تو سب ہیں، مگر چھوٹی چیز کی گولائی فوراً ظاہر ہو جاتی ہے۔ بیر میں سے ناخن برابر بھی چھلکا لو تو گول ہوگا؛ اور بڑے مٹکے میں سے آپ ایک بالشت کی برابر ٹھیکرا توڑ لیا جائے تو سپاٹ ٹھیرا معلوم ہوگا۔ بھلا ایک اچھا گول بیر انڈے پر رکھنا چاہو تو لاکھ حکمت کرو، ہاتھ ہٹایا اور گرا؛ لیکن مٹکے پر جس جگہ چاہو، دس پندرہ بیر رکھ دو۔ جب مٹکے کا یہ حال ہے تو گنبد کا اس سے زیادہ؛ اور زمین تو ان گنبدوں اور مٹکوں کے آگے خدا جانے کے کروڑ کے لاکھ دفعہ بڑی ہے۔ اور جب کشش زمین . . . . ہم کو تھام رہی ہے تو ہم گر کر جائیں تو کدھر جائیں؟ زمین کی بڑائی کی اٹکل کرا دینا آسان نہیں ہے، مگر یوں سمجھیے کہ یہ ہمارے گھر کی انگنائی آپ دیکھتی ہیں، کیسی لمبی چوڑی ہے؟"
حسن آرا: "انگنائی ہے کہ شیطان کی آنت ہے! کم بخت اس سرے سے اس سرے تک جاؤ تو ٹانگیں ٹوٹ پڑیں۔ بھلا اتنا میدان کیوں چھوڑ رکھا ہوگا؟ صحن کیا ہے، جنگل معلوم ہوتا ہے۔"
محمودہ: "بیچ میں بارہ دری بننے والی ہے، اسی کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ بھلا خیر، اس دالان سے ڈیوڑھی تک کتنا فاصلہ ہوگا؟"
حسن آرا: "مجھ کو تو نہیں معلوم۔" محمودہ: "اٹکل سے۔" حسن آرا: "کوئی بیس اور بیس؛ اے ہے، خدا جانے کے بیسی گز کا ہوگا۔"
محمودہ: "پورا پچاس گز ہے۔" حسن آرا: "پچاس کتنے ہوتے ہیں؟"
محمودہ: "بیس اور بیس اور دس۔" حسن آرا: "افوہ، بڑا لمبا صحن ہے!"
محمودہ: "بھلا کتنے پھیرے آپ صحن کے اس سرے سے اس سرے تک کر سکتی ہیں؟"
حسن آرا: "کتنے پھیرے! اجی، ایک بھی ہو جائے تو بہت ہے۔"
محمودہ: "بس اتنا ہی زور ہے؟"
حسن آرا: "ہاں، میری ٹانگوں میں تو اتنا ہی بوتا ہے۔ کچھ خدا نہ کرے میں کہاری تھوڑی ہی ہوں؛ میں خاصی امیر زادی ہوں . . . . . . . امیر زادیاں بس اپنے پاؤں سے اتنا ہی چلا پھرا کرتی ہیں۔ جس دن استانی جی نہیں سامنے بیٹھی ہوتی ہیں، لحاظ کے مارے چبوترے کے پاس دوا کی گود سے اتر پڑتی ہوں، مگر دالان تک پہنچتے پہنچتے دم ہی تو چڑھ جاتا ہے؛ اور جو کبھی استانی جی سامنے نہیں ہوتیں، یا نیچی آنکھیں کیے ہوئے کسی کو پڑھاتی ہوتی ہیں، تو میں دوا کو بیچ دالان میں اپنی جگہ لا کر چھوڑتی ہوں۔"
محمودہ: "اگر اپاہج ہونا بھی امیری کا ہنر ہے تو شاباش، آپ بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ مگر میں ان شاء اللہ ایک دم سے سو پھیرے تو کر جاؤں، اور نہ دم چڑھے اور نہ ٹانگیں دکھیں۔"
حسن آرا: "منہ سے یا ٹانگوں سے؟" محمودہ: "اجی، ان ہی ٹانگوں سے؛ اور آپ کو یقین نہ ہو تو چلیے، استانی جی سے پوچھوا دوں۔"
جسمانی ریاضت[۳] اور ایام غدر کی ایک حکایت میں اس کے فائدوں کا بیان
محمودہ: "استانی جی کا تو بارہوں مہینے کا معمول ہے کہ کوئی چار گھڑی رات رہے اٹھیں؛ تہجد کی نماز پڑھی؛ اس میں کوئی دو گھڑی کا تڑکا ہو آیا۔ اس وقت سے برابر اسی صحن میں ٹہلا کرتی ہیں اور منزل پڑھتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ جھٹ پٹا[۴] ہونے آیا۔ نماز پڑھی، معمولی وظیفہ کبھی پڑھ چکتی ہیں، کبھی پڑھتی ہوتی ہیں کہ میں جاگتی ہوں۔ پچھلی گرمیوں میں ایک رات یونہی میری آنکھ کھل گئی؛ دیکھا تو استانی جی ٹہل رہی ہیں۔ میرا جاگ اٹھنا جو ان کو معلوم ہو گیا تو کہا: 'محمودہ، اب سویرا ہے، مت سوؤ، طبیعت خراب ہو جائے گی۔ آؤ، دیکھو تو، آخر شب چاندنی میں کیا لطف[۵] ہے! ستارے اس طرح ٹمٹما رہے ہیں کہ گویا رات بھر کے جاگے ہیں؛ اور اب صبح ہوتے اونگھتے ہیں۔ کیسی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے کہ طبیعت باغ باغ ہوتی جاتی ہے! پھول جو کھلے ہیں تو بھینی بھینی خوشبو آ رہی ہے۔ جانور میٹھی میٹھی آوازوں میں خدا کی حمد[۶] گا رہے ہیں۔ نور ظہور کی گھڑی اور برکت کا وقت ہے۔ پورب کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو کہ صبح کا نور کیسا دل کو لبھاتا ہے۔' میں جھٹ پٹ اٹھ کھڑی ہوئی اور ہاتھ منہ دھو استانی جی کے ساتھ ٹہلنے لگی۔ میں نے اس دن خوب دھیان لگا کر گنا تھا تو اسی، یا تم یوں سمجھو کہ چار بیسی پھیرے میرے انگنائی میں ہوئے تھے۔ میں نے استانی جی سے پوچھا کہ 'آپ اس قدر سویرے اٹھ کر کیوں ٹہلا کرتی ہیں؟' تو یہ فرمایا کہ 'دن رات میں اس سے بہتر فرحت کا کوئی وقت نہیں؛ اور ٹہلنے سے میرا اصلی مطلب یہ ہے کہ انسان کو حفظ صحت[۷] کے لیے تھوڑی بہت بدنی محنت اور جسمانی ریاضت بھی چاہیے۔ تم دیکھتی ہو کہ خدا کے فضل سے میں کم تر بیمار پڑتی ہوں؛ اس کا ظاہری سامان میں تو یہی سمجھتی ہوں کہ ہر روز صبح کو اتنا ٹہل لیتی ہوں کہ خاصی طرح بدن میں عرق[۸] آ جاتا ہے۔ اور ایک مرتبہ اس عادت کا ایک خاص فائدہ بھی میں دیکھ چکی ہوں۔ غدر میں جب سارا شہر بھاگ نکلا[۹] تھا، ہم لوگ اس امید پر پڑے رہ گئے تھے کہ اباجان جس رئیس کے نوکر ہیں، وہ سرکار کا بڑا خیر خواہ تھا؛ خود اس کے اپنے بیٹے پوتے سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی پر تھے۔ رئیس کی معرفت اباجان نے سرکار سے یہ اقرار کرا لیا تھا کہ جب دلی فتح ہو تو سرکاری فوج کا کوئی آدمی ہم لوگوں کو نہ ستائے۔ جب شہر میں تھا کر مچی[۱۰]، محلے والوں نے بہتیرا ہم لوگوں سے کہا کہ شہر میں رہ کر کیوں مفت میں جان گنواتے ہو؛ مگر ہم لوگ اس وعدے کے آسرے پر گھر سے نہ نکلے۔ لوگوں سے تو ڈر کے مارے یہ حال ظاہر نہیں کیا، مگر جی ہی جی میں دعائیں مانگ رہے تھے کہ کس دن دلی فتح ہو، اور ہم لوگ آرام سے بیٹھیں۔ خدا کا کرنا، جس دن دلی پر دھاوا ہوا، اے ہے، خدا دشمن کو بھی وہ دن نہ دکھائے، ایک قیامت برپا تھی۔ دن بھر گولیوں کا مینہ برستا رہا، اور گولے، خدا کی پناہ، کان بہرے ہو ہو جاتے تھے، زمین دہل[۱۱] پڑتی تھی۔ شام ہونے آئی تو نہر[۱۲] کے پرلے پار تک انگریز آ گئے تھے، اور عین ہمارے اس دیوار کے نیچے گلی کے نکڑ پر موئے تلنگوں نے توپ لگا رکھی تھی۔ کس کو امید تھی کہ زندوں کو صبح ہوگی؟ جان سے ہاتھ دھو کر تہ خانوں میں چھپ بیٹھے، اللہ اللہ کر رہے تھے۔ کس کا کھانا اور کس کا پکانا؛ ایک ایک کا منہ تکتا تھا۔ کوئی پہر رات گئے کسی مردوے کی آواز آئی؛ اباجان کا نام لے لے کر پکارتا تھا۔ ڈر کے مارے جواب کون دے؟ آخر میں نے بھائی جان سے کہا، خدا کے لیے انگنائی میں نکل کر خبر تو لو، کون وقت ہوا، یہ آدمی برابر چلا رہا ہے؛ شاید سرکاری فوج کا کوئی آدمی ہو اور ہماری حفاظت کے لیے آیا ہو۔ غرض بھائی جان باہر نکلے اور کوٹھے پر چڑھ کر آواز کی آہٹ لی۔ اس وقت لڑائی بھی بند تھی۔ وہ مردوا سڑک میں تھا؛ بھائی جان نے اس کو کوٹھے کے نیچے بلایا اور حال پوچھا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو کپتان صاحب نے بھیجا ہے، اور یہ کہا ہے کہ ہم نے ہر چند چاہا کہ آپ کے مکان کی حفاظت ہو، مگر کوئی تدبیر نہیں بن پڑتی۔ باغیوں نے شہر خالی نہیں کیا؛ نہر کے ادھر وہ لوگ ہیں، اور نہر تک ہماری عملداری ہے۔ رات کے دو بجے ہم لوگ باغیوں پر حملہ کریں گے؛ آپ کا مکان عین زد میں ہے؛ حملے کے وقت سے پہلے تم لوگ اپنی جانیں لے کر نکل جاؤ؛ جب سلطنت بیٹھے گی، دیکھا جائے گا۔ اس خبر کے سنتے ہی سب کو سناٹا ہو گیا۔ کسی نے کہا، جہاں پڑے ہو، پڑے رہو، آخر یوں بھی مرنا، ووں بھی مرنا؛ بے فائدہ عورتوں کو بازار میں لیے لیے پھرنا کیا حاصل؟ ایک آدھ احمق یہ بھی کہنے لگے کہ آؤ، عورتوں پر ہم ہی ہاتھ صاف کریں، پھر جیسا ہوگا، دیکھا جائے گا۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اس گفت و شنود میں آدھی رات گزری۔ بھائی جان نے دیکھا کہ وقت نکلا جاتا ہے اور لڑائی شروع ہونے میں کچھ دیر نہیں، تب تو وہ ذرا اکڑے ہو کر بولے کہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اور نرے نامردی کے خیالات ہیں۔ جان کا بچانا فرض ہے؛ جہاں تک ہو سکے، بھاگنا چاہیے، اور یوں قضا کا تو کچھ علاج نہیں۔ یہ کہہ کر مجھ سے کہا، اٹھ لڑکی، تو تو چل؛ یہ لوگ جانیں اور ان کا کام۔ جانے میں پہلے ہی سے بھاگنا بھاگنا کر رہی تھی؛ چلنے کا نام سنتے ہی میں نے اپنا تمام زیور اپنے ہاتھوں نکال انگنائی میں پھینکا، اور دالان کی چاندنی میں سے دو پاٹ پھاڑ دوپٹہ بنایا، اور کہا: لو صاحب، میں تو چلی۔ میرا چلنا تھا کہ بھیڑوں کی طرح سارا کنبہ پیچھے ہو لیا۔ اس رات تم ہوتیں تو ان کم بخت عورتوں کی سیر دیکھتیں، کہ ایک صاحب ہیں کہ تمام دھن دولت تو گھر چھوڑا، پان کھانے کی پٹاری لادوے لیے چلی جاتی ہیں؛ کسی کی جوتی پاؤں سے نکل نکل پڑتی تھی؛ کسی کا ازار بند پاؤں میں الجھتا ہے۔ اس دن جس کے جتنے بڑے پائنچے تھے، اسی کو چلنے کی بڑی مصیبت تھی۔ بھائی جان اس وقت بھی چھیڑتے کہ کم بختو، اور نین سکھ کے تھان کے دو پاجامے بناؤ، لاہور کے ریشمی ازار بندوں میں پٹیاں لگا لگا کر اور بڑا کرو۔ ہنسی کی ہنسی، مصیبت کی مصیبت۔ ان بیچاریوں کو بازاروں میں چلنے کا کاہے کو اتفاق ہوا تھا؛ گو رات تھی، اور یوں بھی رستہ نہیں چلتا تھا، مگر من من[۱۳] بھر کے پاؤں تھے؛ دو قدم چلیں اور گریں۔ خدا خدا کر کے صبح ہوتے ہوتے کاغذی محلے[۱۴] تک پہنچے۔ یہاں کیا ٹھکانا؛ انگریز کہتے تھے کہ ہم قلعہ لیں تو آج لیں۔ جوں ہی بن چکیوں کے برابر آئے، دیکھا کہ سینکڑوں ہزاروں گورے اور سکھ قطار باندھے چلے آتے ہیں۔ دیکھنے کے ساتھ دم ہی تو فنا ہو گیا؛ کوڑیا پل کی طرف پھر بھاگے۔ بیچاری عورتوں کا برا حال تھا۔ ایک بیوی تو سڑک پر لیٹ گئیں کہ مجھ سے تو آگے نہیں چلا جاتا، خدا کے لیے مجھ کو یہیں رہنے دو۔ تھوڑی دور میں نے ان کو چڈھی چڑھایا؛ اتنے میں دو تین اور گریں؛ اب کس کس کو کندھے پر چڑھائے، اپنی ہی جان بھاری تھی۔ بھائی جان نے کہا کہ لوگو، خدا کے لیے دل مضبوط کر کے ذرا پھول کی منڈی تک تو چلو؛ وہاں ٹھکر ہوگا تو کچھ سواری کا بندوبست کیا جائے گا۔ بہ ہزار دقت کوئی پہر دن چڑھے تک پھول کی منڈی پہنچے۔ سواری یہاں کیا رکھی تھی؛ باہر سے گدھوں پر اناج آیا تھا؛ گدھے والا اپنے گدھے لیے باہر جاتا تھا۔ بھائی جان نے اس سے پوچھا، کہاں کے گدھے ہیں؟ اس نے کہا، سلطان جی کے۔ بھائی جان نے اس سے بہت گڑگڑا کر کہا کہ بھائی میاں، ذرا شہر کے دروازے تک ان عورتوں کو بٹھا لو اور جو کہو سو دیں۔
گدھے والا: اجی میاں جی، کیسا کرایہ! دیکھتے ہو، انگریز قلعے میں پہنچ گئے ہیں؛ کم بختی کا مارا رات کو نہ جا سکا، اب دیکھیے کیسے بچتا ہوں۔ گدھے لو، اور جس قدر چاہو لد لو، اور ہانک لاؤ؛ مجھ کو دروازے کے باہر گدھے حوالے کر دینا۔ غرض کہ چار گدھے بھائی جان نے روک لیے اور کہا کہ لو صاحب، جو تھک گیا ہو، اس پر بیٹھ لے، اور دیر کرنا غضب ہے۔ پہلے تو گدھے کی سواری کا نام سن کر سب نے تامل کیا، مگر کرتیں کیا، مجبوراً گدھوں پر سوار ہونا پڑا۔ مجھ سے بھی بھائی جان نے کہا، لڑکی، تو بہت تھک گئی، [illegible: the last line of the page is cut off in the scan; it ends with Asghari answering "I have"] مطلق نہیں تھکی، اور ایسے ایسے دس حصے پا پیادہ اور چل سکتی ہوں۔ بھائی جان: آخر چڑھنا پڑے گا؛ تم جانتی ہو کہ شاید شہر میں چل کر ٹھہریں گے؟ ہرگز نہیں؛ عرب سرائے سے ادھر کہیں ٹھکانا نہیں۔ میں نے کہا، ان شاء اللہ میں سرائے تک بخوبی چلی جاؤں گی۔ غرض خدا نے مجھ کو تو اس فضیحت سے بچا لیا، اور بیویاں چڑھی ہی چڑھیں؛ آج تک ان کی ہنسی ہوتی ہے۔ اور میں خدا کے فضل سے اس چہل قدمی کی بدولت برابر چلی گئی؛ نہ تھکی نہ ماندی ہوئی۔'"
حسن آرا: "اجی، غدر بھی ایک آفت ناگہانی تھی، سو بیت گئی؛ کہیں خدا نخواستہ ہر روز غدر ہوتا پڑا ہے کہ کم بخت عورتیں اس کے واسطے دوڑنے کی عادت اور بھاگنے کی مہارت کریں؟"
محمودہ: "بات میں بات میں نے بیان کی؛ میرا بھی یہ مطلب نہیں کہ عورتیں گھروں میں گھوڑ دوڑ کیا کریں۔ مگر اتنی آلکسی بھی ٹھیک نہیں کہ ڈیوڑھی تک جائیں تو ہانپنے لگیں، کوٹھے پر چڑھیں تو سانس پیٹ میں نہ سمائے۔ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں تو پھرتی رکھنی چاہیے۔"
حسن آرا: "خیر، اب وہ زمین کا گول ہونا تو ثابت کیجیے؛ کیا آپ اس بات کو ٹالنا چاہتی ہیں؟"
محمودہ: "ہاں، یہ تو انگنائی پچاس گز لمبی ہے؛ اس سرے سے اس سرے تک پینتیس، یعنی پانچ کم دو بیسی پھیرے کرو تو ایک میل ہو؛ اور دو میل کا ایک کوس ہوتا ہے۔"
حسن آرا: "افوہ، اتنا بڑا میل اور اتنا بڑا کوس ہوتا ہے!" محمودہ: "اب قطب صاحب کی لاٹ کو فرمائیے کہ کے ہزار کوس لمبی ہے؟"
حسن آرا: "میں تو جانتی ہوں کہ اس حساب سے پوری میل بھر بھی نہ ہوگی۔"
محمودہ: "بے شک؛ میل کیسا، میل کا دسواں حصہ بھی نہیں۔"
حواشی
[۱] سالم، سارا۔
[۲] حیران اور لاجواب رہ گئی۔
[۳] ہاتھ پاؤں بدن کی محنت۔
[۴] اندھیرے میں کچھ یونہی سا چاندنا۔
[۵] مزہ۔
[۶] تعریف۔
[۷] تندرستی کا بچاؤ۔
[۸] پسینہ۔
[۹] لوگ شہر چھوڑ چھوڑ بھاگنے لگے۔
[۱۰] کہتے ہو، فتح کرتے ہو، شور۔
[۱۱] لرز لرز۔
[۱۲] دلی میں سعادت خاں کی نہر تھی جہاں اب سڑک بن گئی ہے۔
[۱۳] یعنی اس قدر بھاری ہو گئے تھے کہ اٹھائے نہیں اٹھتے تھے۔
[۱۴] اب اس محلے کا نام و نشان تک نہیں؛ ریل کی سڑک میں آ گیا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.