Urdu in Translation
搜索

第 14 章,共 22 章

The Size, Shape and Division of the Earth

زمین کی جسامت اور ہیات اور تقسیم

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

زمین کی جسامت[۱] اور ہیات[۲] اور تقسیم[۳]

محمودہ: "اور زمین بتاؤں میلوں کے حساب سے کتنی بڑی ہے؟ چوبیس ہزار میل اس کا دورہ ہے۔ مردوں میں بارہ کوس کی منزل مقرر ہے، یعنی مرد لوگ جو سفر کرتے ہیں تو بارہ کوس روز چلے جاتے ہیں؛ اور واقع میں آرام کے ساتھ سفر کیا جائے تو بارہ کوس دن بھر کے چلنے کو بہت ہے۔ اس حساب سے اگر کوئی آدمی ناک کی سیدھ چلنا شروع کرے تو پانچ برس میں جہاں سے چلا تھا وہیں آ کھڑا ہوگا، اور زمین کے گرد اگرد اس کا صرف ایک پھیرا پورا ہوگا۔"

حسن آرا: "اللہ اکبر! اب جو میں خیال کرتی ہوں تو زمین بہت بڑی ہے۔ بھلا تم نے کیونکر جانا کہ چوبیس ہزار میل کا دورہ ہے؟"

محمودہ: "کتابوں سے جانا۔ ہمت والے لوگوں نے محنت اٹھا کر برسوں سفر کیا اور تمام دور ناپ ڈالا۔ خشکی کی راہ تو سیدھا چلنا مشکل ہے؛ کہیں بڑے بڑے دو دو تین تین کوس کے اونچے پہاڑوں کی چڑھائی کے دشوار گزار[۴] رستے ہیں؛ کہیں سینکڑوں کوس کے جنگل ہیں، جن میں نہ کہیں ٹھہرنے کا ٹھکانا ہے، نہ پانی کا آسرا، نہ سڑک۔ مگر سمندر میں جہازوں پر لوگوں نے سفر کیا ہے، اور قطب نما کے سہارے سے سیدھ لگائے چلے گئے، اور آخر کو وہیں موجود ہوئے جہاں سے چلے تھے۔ کیا اب بھی زمین کے گول ہونے میں کچھ شک و شبہ ہے؟"

حسن آرا: "دو دو تین تین کوس اونچے پہاڑوں کی چڑھائی کے پہاڑ ہیں تو زمین گول کہاں رہی؟"

محمودہ: "ہاں، زمین ایسی گول نہیں ہے جیسی ڈھلی ہوئی گولی ہوتی ہے؛ ٹھیک نارنگی کی طرح گول ہے، اتر دکھن دونوں سرے پچکے ہوئے؛ اور جیسے نارنگی کے چھلکے پر دانے سے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں، اسی طرح زمین پر یہ پہاڑ ہیں۔ جو شخص پہاڑوں کو دیکھ کر زمین کے گول ہونے میں شک کرے، اس کو زمین کی بڑائی کا ٹھیک تصور نہیں۔ ایک مٹکی پر ایک رائی کا دانہ رکھ دو تو اس کی گولائی میں کیا فرق آ جائے گا؟"

حسن آرا: "زمین کو تو میں پہلے سے بڑی نہیں جانتی تھی، مگر ٹھیک اندازہ معلوم نہ تھا۔"

محمودہ: "تم تو خاک بھی بڑی نہیں جانتی تھیں۔ ایک میرٹھ اور پانی پت آپ کیا گئیں کہ آپ نے سمجھا، تمام روئے زمین کی سیر کر لی۔"

حسن آرا: "زمین اتنی بڑی ہے تو ہزاروں لاکھوں شہر اس پر بسے ہوں گے۔"

محمودہ: "بے شک؛ مگر اس سے یہ مت سمجھو کہ تمام روئے زمین پر آبادی ہے۔ تین حصے میں تو سمندر ہے؛ ایک حصہ جو کھلا ہے، اسی میں کل نوے کروڑ آدمی بھی جا بجا بسے ہیں، اور جنگل اور پہاڑ اور دریا بھی ہیں۔"

تمدن کی وجہ

حسن آرا: "سب لوگ مل کر ایک جگہ کیوں نہیں رہتے؟ ایک بڑا شہر بسا لیں اور سب اسی میں رہیں تو بڑا مزہ ہو۔"

محمودہ: "مزہ کیا خاک ہو؛ سب بھوکے مرنے لگیں۔" حسن آرا: "کیوں؟"

محمودہ: "کھانے کو اناج میدان میں پیدا ہوتا ہے؛ اس سبب سے لوگ دنیا میں الگ الگ بسے ہیں۔ ہر ایک بستی کے آس پاس کچھ میدان جوتنے اور بونے اور اناج پیدا کرنے کے واسطے لگا رکھتے ہیں۔ سب ایک جگہ بسیں تو ہزاروں کوس کا لمبا چوڑا شہر ہو جائے؛ جوتنے بونے کہاں جائیں؟ مگر آدمی زندگی کی ضروریات اکیلا بہم نہیں پہنچا سکتا، اس واسطے ہمیشہ تھوڑے بہت . . . . . آدمی مل کر رہتے ہیں۔ جہاں تھوڑے آدمی بسے ہوں، وہ گاؤں ہے؛ اس سے بڑھ کر قصبہ؛ اس سے بڑھ کر شہر؛ اس سے بڑھ کر ملک اور ولایت۔ بعضے گاؤں صرف چار چار پانچ پانچ گھر کے بھی ہوتے ہیں، اور بڑے شہروں میں تو لاکھوں آدمی ہوتے ہیں۔"

حسن آرا: "جہاں صرف چار چار پانچ پانچ گھر ہیں، وہ لوگ کیونکر گزر کرتے ہوں گے؟"

محمودہ: "ہم سب سے بہتر طور پر گزر کرتے ہیں۔"

حسن آرا: "کیا خاک گزر کرتے ہوں گے! نہ حلوائی، نہ عطار، نہ گندھی، نہ منہیار، نہ بزاز، نہ کوئی نہ کوئی۔"

محمودہ: "یہ چیزیں امیرانہ زندگی کے لا یعنی تکلفات اور شیخی اور نمود اور ڈینگ کے سامان ہیں؛ [illegible: the last line of the page is cut off in the scan] پیٹ بھر لینے کو دال دلیا کچھ غذا چاہیے، اور تن بدن ڈھک لینے کو موٹا جھوٹا کپڑا؛ بس اتنا تو ضرور ہے، اور اس کے علاوہ سب انسان کی خود بینی[۵] اور تن پروری[۶] اور آرام طلبی کے ڈھکوسلے ہیں۔ سو جو چیزیں حقیقت میں ضرور ہیں، گاؤں والے اپنے ہاتھوں پیدا کر لیتے ہیں۔ کھانے کا غلہ اور میوے اور ترکاریاں، روئی، تنباکو، کسم، نیل، سب ہی کچھ تو کھیتوں میں ہوتا ہے؛ بلکہ کھانے پینے کی چیزیں جیسی عمدہ اور صاف گاؤں میں میسر آتی ہیں، ہم شہر والے خواب میں بھی نہیں دیکھتے۔"

حسن آرا: "بھلا اگر گاؤں میں آدمی بیمار پڑے تو دوا کہاں سے ملے، علاج کس سے کر لیتے؟"

محمودہ: "گاؤں والے خدا کے فضل سے دوا اور علاج کے محتاج ہی نہیں ہوتے۔"

حسن آرا: "اس کا سبب؟" محمودہ: "سبب صفائی، آب و ہوا کی عمدگی، اور روز کی محنت۔"

آب و ہوائے شہر و دیہات کا مقابلہ

حسن آرا: "آب و ہوا تو ساری دنیا میں ایک ہی ہوگی؟"

محمودہ: "ایک تو ہے، مگر جہاں بکثرت آدمی رہتے ہیں، وہاں غلاظت[۷] بھی جمع ہوتی ہے، اور عفونت[۸] کی وجہ سے آب و ہوا بگڑ جاتی ہے۔ آئے دن وبا آتی رہتی ہے، اور وبا نہیں بھی ہوتی تو بھی شہر کے لوگ اکثر بیمار رہتے ہیں۔"

حسن آرا: "گاؤں والے بیمار نہیں ہوتے تو مرتے کیوں کر ہیں؟" محمودہ: "مرنا اور بات ہے۔ گاؤں والے زندگی کا لطف تو پاتے ہیں؛ نہ شہر والوں کی طرح دائم المریض[۹]۔ اور یوں کبھی کبھار دکھ درد ہوتا ہے تو گاؤں والے سہج سا علاج بھی کیوں نہیں کرتے؟ جنگل کی بوٹی، درختوں کی چھال اور پتے، گھسے رگڑے، پی گئے، اچھے ہو گئے۔ یہ نہیں کہ ہفتوں منضج[۱۰] پیا کریں، مہینوں ماء الجبن[۱۱] میں پڑے گھلتے رہیں۔ لاکھ دوا کی ایک دوا تو تازی ہوا ہے، جو شہر والوں کو عمر بھر نصیب نہیں ہوتی اور گاؤں والوں کو ہر وقت میسر ہے۔"

حسن آرا: "سب کچھ تو ہے، مگر گاؤں میں جی کیسا گھبراتا ہوگا؛ نہ محلہ، نہ ہمسایہ؛ کس سے بات کیجیے، کس کے پاس جائیے؟"

محمودہ: "شہر میں روز کے روز کون کس کے پاس جاتا ہے؟ جس طرح شہر والے گھر کے کام کاج میں لگے رہتے ہیں، گاؤں والوں کو کھیتی باڑی اور مویشیوں[۱۲] کی خبر گیری کیا کم ہے؟ اس سے فرصت ہوئی تو وہ لوگ بھی گھروں میں کام کرتے اور آپس میں جی بہلاتے ہیں۔"

حسن آرا: "یہ گاؤں والے نرے اجڈ اور اکھڑ اور بے سلیقہ کیوں ہوتے ہیں؟"

محمودہ: "بوا خیر النسا، دیکھو، حسن آرا بیگم گاؤں والوں کو اجڈ اور اکھڑ اور بے سلیقہ کہتی ہیں؛ تم بھی باہر والی ہو، جواب دو۔"

خیر النسا: "بیگم صاحب کو گاؤں والوں کا حال معلوم نہیں؛ سنے سنائے برا کہہ اٹھیں، اس کا کیا جواب دوں؟" حسن آرا: "خیر النسا، تم کہاں کی رہنے والی ہو؟"

خیر النسا: "مراد آباد کے ضلع میں شریف پور نام ایک گاؤں ہے، وہیں میرا غریب خانہ ہے۔"

حسن آرا: "شہر میں کب سے ہو؟" خیر النسا: "کوئی ڈیڑھ برس سے۔"

حسن آرا: "تمہارے گھر میں کیا کام ہوتا ہے؟"

خیر النسا: "کوٹنا، پیسنا، پکانا، ریندھنا، کاتنا، سینا، پرونا، گھر کی جھاڑو بہارو، بال بچوں کا نہلانا دھلانا۔"

حسن آرا: "میرا یہ مطلب نہیں ہے؛ میں پوچھتی ہوں کہ تمہارے گھر کے مرد کیا کیا کرتے ہیں؟"

خیر النسا: "جو لڑکے ہیں، پڑھتے ہیں؛ جو جوان ہیں، کمائی کرتے ہیں؛ جو بڈھے ہیں، گھر کے لڑکے لڑکیوں کو پڑھاتے ہیں اور نماز روزے میں مصروف رہتے ہیں۔"

حسن آرا: "اے ہے، میں پوچھتی ہوں کہ تمہارے گھر ہوتا کیا ہے؟"

خیر النسا: "دن کو دن، رات کو رات۔"

حسن آرا: "پتھر پڑیں ایسی موٹی سمجھ پر! کوئی معقول جواب نہیں۔"

خیر النسا: "آگ لگے ایسی بھونڈی تقریر کو! کوئی بات ٹھکانے کی نہیں۔"

حسن آرا: "نگوڑی گنواری شامت ماری! کوئی تیری کم بختی آئی ہے؟ بے تمیز، زبان سنبھال کر نہیں بولتی؛ ابھی مارتے مارتے کچلا کر ڈالوں گی۔"

خیر النسا: "چل چل شہری بے تھری[۱۳]! امیر بیگم ہوگی تو اپنے واسطے؛ ہم کیا خدا نہ کرے کسی کی لونڈی باندی ہیں؟ ایک کہے گی تو دس سنے گی، اور مارے گی تو مار کھائے گی بھی۔ لو صاحب، کیا مجھ کو بھی شہر کی لڑکی بنایا ہے کہ دھمکا لے گی؟"

حسن آرا نے عمر بھر کبھی جواب پایا نہ تھا، اور جواب بھی ایسا سخت۔ خیر النسا کی بات سنتے ہی بے اختیار ہو گئی؛ مارنا اور کچلا کرنا تو نری دھمکی ہی دھمکی تھی، مگر سیدھی اٹھ استانی جی سے جا فریاد کی اور رونے لگی۔ اتنا روئی کہ گھگھی بندھ گئی۔ جب تک روتی رہی، استانی جی چپ بیٹھی رہیں؛ اور اگر کہیں دلجوئی کی ایک بات بھی ان کے منہ سے نکلتی تو حسن آرا بندی شام تک بھی نہ سنبھلتی۔ آخر کو سسکیاں لے کر خود بخود تھم گئی۔ اس درمیان میں محمودہ چند بار آئی، اور قصداً حسن آرا کے پاس سے ہو کر نکلی، مگر حسن آرا نے منہ پھیر لیا۔ یہ دیکھ کر محمودہ کو جرأت نہ ہوئی کہ حسن آرا سے بات کرے، ورنہ وہ رفع ملال[۱۴] کر بھی دیتی۔ اب شام قریب تھی؛ استانی جی نے کہا، "لڑکیو، وہ مسیح الملک کی کہانی کن مدتوں سے ناتمام پڑی ہے، اسے تو ختم کر لیتیں؛ کس کی باری ہے؟"

محمودہ: "خیر النسا کی باری ہے۔"

استانی جی: "کیوں بوا حسن آرا بیگم، خیر النسا کہانی کہیں، تم سنو گی؟"

حسن آرا آنکھیں نیچی کر کے مسکرانے لگی اور بولی، "کیوں، سننے کو کیا ہوا؟ یہی نا کہ میں بیچ میں نہ بولوں گی۔"

محمودہ: "کیوں نہ بولو گی؟ جب بیچ بیچ میں بات ہی نہ ہوئی تو کہانی کیا، وہ تو خاصا سبق ہو گیا؛ مزہ خاک ملا۔ شوق سے بولو، بات کرو۔"

حسن آرا: "واہ، آپ بھی بڑی حضرت ہیں؛ اب پھر لڑائی دیکھنے کو جی چاہا ہوگا؟" محمودہ: "ایسی بھی کوئی کم بخت ہوگی جس کو دو آدمیوں کی لڑائی میں مزہ ملتا ہوگا؟ آدمی تو آدمی، جانوروں کا لڑانا بھی بڑا گناہ لکھا ہے۔"

حسن آرا: "آپا، کیوں مکرتی ہو؟ تم نے ہی خیر النسا کو مجھ سے بھڑایا۔"

محمودہ: "میں نے بھڑایا یا گفتگو کی تقریب کی؟ آپ شروع سے دیہاتیوں کی مذمت اتارو بیٹھیں؛ لمحہ دو لمحہ بھی ضبط نہ ہو سکا، لڑ پڑیں۔"

حسن آرا: "میں لڑی؟" محمودہ: "آپ تو منصف مزاج ہیں، آپ ہی فرمائیے، سخت کلامی پہلے کس نے شروع کی؟"

حسن آرا: "جو جیسا ہوتا ہے، کہنے میں آتا ہے۔ دیہاتیوں کو کیا میں اکیلی اجڈ اور اکھڑ اور بد سلیقہ کہتی ہوں؟ شہر بھر کہتا ہے؛ خیر النسا کس کس کا منہ بند کرتی پھریں گی؟"

خیر النسا: "آپ اپنی تعریف کرنے سے کوئی اچھا نہیں بن جاتا، اور کسی کے برا کہنے سے کوئی برا نہیں ہوا جاتا۔ شہر والے دیہاتیوں کو اجڈ اور اکھڑ اور بے سلیقہ کہتے ہیں؛ دیہات والے شہریوں کو احدی، نکمے، کم محنت، پست ہمت[۱۵]، ظاہر پرست[۱۶] جانتے ہیں۔"

استانی جی: "جب تم دونوں اس امر پر بحث کرتی تھیں، بس دوسروں کی لڑائی کا فیصلہ کرتے کرتے آپس میں کیوں لڑنے لگیں؟"

خیر النسا: "جناب، بیگم صاحب نے چھوٹتے ہی دیہاتیوں کو اجڈ، اکھڑ، بے سلیقہ کہا؛ مجھ کو برا تو بہت لگا، مگر میں چپ ہو رہی، اور . . . . . . ."

استانی جی: "حسن آرا بیگم نے تم کو تو اجڈ، اکھڑ، بے سلیقہ نہیں کہا؛ ان کا مطلب تھا کہ شہر والے دیہاتیوں کو ایسا سمجھتے ہیں۔" خیر النسا: "کیا ہوا؟ پھر بھی ایسے کریہہ[۱۷] الفاظ بیگم صاحب کو زیبا نہ تھے، اور میں اس بات پر تو کچھ بولی ہی نہیں۔"

استانی جی: "کیا اس سے زیادہ کوئی اور سخت بات حسن آرا بیگم نے خاص تم کو کہی تھی؟ ان کی ایسی عادت تو معلوم نہیں ہوتی۔"

خیر النسا: "خیر، اب اس کا اعادہ[۱۸] آپ کے روبرو کرتے ہوئے مجھ کو شرم آتی ہے۔ میرا ہی قصور تھا؛ آخر میں بے تمیز گنواری ہی تو ہوں، اور سلیقہ آئے تو کہاں سے آئے؟ اس میں شک نہیں کہ جواب میں نے بھی سخت دیا؛ پیچھے میرا دل بہت کڑھا۔"

استانی جی: "اگر تمہارا قصور تھا تو تم نے معذرت کیوں نہ کی؟"

خیر النسا: "میں سو مرتبہ معذرت کرنے کو موجود ہوں؛ ہاتھ جوڑنے اور پاؤں پڑنے میں مجھ کو عذر نہیں۔ مگر ذرا اتنا بیگم صاحب کو بھی سمجھا دیجیے کہ بات بات میں لڑکیوں سے نہ الجھا کریں؛ ان کی شان کو یہ بات ہرگز زیبا نہیں۔"

حسن آرا: "تم یہ چاہو کہ میں سب کے برابر ہو کر رہوں، تو یہ بات نہ مجھ سے ہوئی اور نہ ہو۔ تم لوگوں کو بھی تو کچھ خیال کرنا چاہیے کہ میں امیر زادی ہوں اور مجھ کو خدا نے بڑا کیا ہے۔"

استانی جی: "یہ بات تمہاری غیر واجب ہے۔ مکتب کی لڑکیاں کچھ تمہاری لونڈیاں نوکر ہیں؟ یا تم اپنی دولت ان کو بانٹ دیتی ہو؟" حسن آرا: "نوکر نہ سہی، غریب تو ہیں۔"

استانی جی: "غریب ہیں تو ہونے دو؛ تمہاری دولت کی تو کچھ پروا نہیں کرتیں۔"

حسن آرا: "ہم کب ان کی پروا کرتے ہیں؟" استانی جی: "چلو، نہ تم کو ان کی پروا، نہ ان کو تمہاری؛ برابر سرابر۔"

حسن آرا: "کیا ہوا، پھر بھی ان کو میری تعظیم کرنی لازم ہے۔"

استانی جی: "بے ضرورت، بے غرض کیوں لازم ہے؟ اور نہ کریں تو ان کا کیا نقصان؟"

حسن آرا: "اے، ہے لازم نہیں، مناسب ہے؛ اور نقصان آپس کا رنج۔"

استانی جی: "اس اعتبار سے تم پر بھی لازم ہے۔"

حسن آرا: "کیا؟" استانی جی: "ان کی تعظیم۔"

حسن آرا کھلکھلا کر ہنس پڑی، اور اس کے ساتھ سب ہنسے۔ استانی جی: "سنو بوا حسن آرا بیگم، ہم عمری میں تعظیم تکریم کا کیا مذکور؛ تم سب کو آپس میں محبت رکھنی چاہیے آپس میں، اور ہر ایک لڑکی کو اس کا اہتمام ہو کہ آپس میں بگاڑ کی کوئی بات نہ ہو۔"

حسن آرا: "کیا خدا نہ کرے مجھ سے خیر النسا سے کچھ بگاڑ ہے؟ نہیں نہیں، آپس میں لڑیں لوگوں نے جانا، بیر پڑے۔" یہ کہہ کر حسن آرا خیر النسا کے گلے سے جا لپٹی۔

حواشی

[۱] موٹائی۔

[۲] صورت۔

[۳] بانٹ۔

[۴] جس میں سے ہو کر گزرنا مشکل ہے۔

[۵] شیخی۔

[۶] اپنے بدن کو پالنا۔

[۷] گندگی۔

[۸] بدبو، سڑاہند۔

[۹] ہمیشہ بیمار۔

[۱۰] جلاب سے پہلے جو دوائی پی جاتی ہے اس کو منضج کہتے ہیں۔

[۱۱] ایک طرح کا جلاب ہے جو چالیس دن میں جا کر پورا ہوتا ہے۔

[۱۲] گائے بھینس بکری کی قسم کے جانور۔

[۱۳] بے نصیب۔

[۱۴] رنج کو مٹا دیتی۔

[۱۵] سست، کاہل۔

[۱۶] ظاہر دار۔

[۱۷] سخت، مکروہ۔

[۱۸] دوہرانا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。