Urdu in Translation
搜索

第 12 章,共 22 章

The Pull of the Earth

زمین کی کشش

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

زمین کی کشش[۱]

محمودہ: "جتنی چیزیں ہیں، سب کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جو چیز اوپر کو پھینکتے ہیں، کچھ دور تک تو پھینکنے والے کے زور اور زبردستی سے اوپر کو چلی جاتی ہے، پھر آخر کو زمین کی کشش اس کو نیچے کھینچ لاتی ہے۔ پتھر کو اوپر پھینکو اور دیکھتی رہو تو ایسا معلوم ہوگا کہ جوں جوں اوپر جاتا ہے، اس کی چال سست اور دھیمی ہوتی جاتی ہے؛ اور پھر جو الٹتا ہے تو تیر کی طرح زمین کی طرف دوڑتا ہے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ چیزیں زمین کی کشش کے مارے اوپر کو نہیں جانا چاہتیں، اور جاتی بھی ہیں تو بڑی زبردستی اور مشکل سے۔ اسی طرح جب آدمی لاٹ کے اوپر جانے لگا تو اس کے بدن کا بوجھ اس کو روکتا ہے، اور یہ زبردستی تمام اپنا بوجھ اچکا اچکا کر اوپر کی طرف لیے جاتا ہے؛ اسی واسطے اوپر جانے میں بڑا زور پڑتا ہے اور آدمی جلدی تھک جاتا ہے۔ پھر جو اوپر سے نیچے اترنے لگتا ہے تو دیکھو کیسے دھم دھم جلدی جلدی نیچے اتر آتا ہے، کیونکہ ایک تو خود اس کا اپنا زور، دوسرے بدن کے بوجھ کے جھکاؤ؛ دہرا بل ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہی ہمارا بالاخانہ کچھ ایسا بہت تو اونچا نہیں، صرف اٹھارہ سیڑھیاں ہیں، پھر بھی جس کو عادت نہیں اس کو چڑھنا کتنا مشکل پڑتا ہے۔ اماں جان جب کبھی ضرورتاً اوپر جاتی ہیں تو کوٹھے پر پہنچتے ہی دم لینے کو بیٹھ جاتی ہیں، اور کہا کرتی ہیں: لے، یہ کوٹھا ہے کہ ایک آفت ہے، ٹانگیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ مگر اترنے میں ہرگز یہ دقت نہیں ہوتی۔ غرض کہ لاٹ کے اوپر جانے میں دم کا چڑھ جانا اس کی ہزاروں کوس کی بلندی کی دلیل نہیں ہو سکتا، جیسا کہ آپ نے کہا۔"

حسن آرا: "خوب صاحب، خوب! یہ تو آج میں نے بالکل ایک نئی بات سنی کہ زمین چیزوں کو کھینچتی ہے۔ مگر یہ تو فرمائیے کہ لڑکے جو کنکوے اڑاتے ہیں، یہ خود بخود زمین سے کیوں دور ہوتے جاتے ہیں؟ ایک مرتبہ ارجمند[۲] نے تکل کو ایسا بڑھایا کہ آسمان میں ملا دیا تھا۔"

محمودہ: "کنکوا ہو یا تکل، زمین کی کشش سب پر اثر کرتی ہے؛ اور اگر پتنگ کو بڑھا کر رہنے دیا جائے تو گو ہوا کے جھکولوں سے دیر میں گرے، مگر گرے گا ضرور۔"

وزن مخصوص

محمودہ: "اس میں بھید یہ ہے کہ کوئی چیز ہلکی ہے، کوئی بھاری۔ جتنی ہلکی چیزیں ہیں، خود بخود اوپر آ جاتی ہیں۔ مثلاً گلاس میں اول تیل ڈال دیجیے، اس کے اوپر پانی؛ تو چونکہ تیل پانی کی نسبت ہلکا ہے، خود بخود اوپر آ جائے گا۔ یا ایک طسلے میں جھاڑو کے تنکے رکھ کر اس کو پانی سے بھر دیجیے؛ تنکے آپ سے آپ اوپر آ جائیں گے۔ اور اسی بنیاد پر دریاؤں میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں، کیونکہ لکڑی پانی کی نسبت ہلکی ہوتی ہے اور اس کے نیچے بیٹھ نہیں سکتی، بلکہ اس کو پانی کے نیچے رہنے سے اتنی نفرت ہے کہ تھوڑا بوجھ بھی ہو تاہم وہ اس کو سہارے رہتی ہے۔"

حسن آرا: "کشتیاں ڈوب بھی جاتی ہیں۔"

محمودہ: "جب بے اندازہ بوجھ لاد دیتے ہیں تو ناؤ ڈوبا ہی چاہیے۔ مگر لکڑی اپنی ذات سے کبھی پانی کے نیچے نہیں ٹھہر سکتی؛ بوجھ سے پانی کی تہ میں بیٹھ گئی تو کیا ہوا، بوجھ الگ ہوا اور لکڑی تیر کر اوپر آئی۔ غرض کہ کنکوا ایسے پتلے کاغذ کا بناتے ہیں کہ اگر گولی بنا کر اس کاغذ کو تولیں تو ایک یا دو ماشے سے زیادہ نہ ہوگا؛ مگر اتنا پھیلا دیتے ہیں کہ ڈاک کا کاغذ جس پر خط لکھتے ہیں، آدھا دستہ، یعنی بارہ تختے، مشکل سے ایک تولے کے ہوتے ہیں۔ بس ایک تختہ کاغذ لے کر پھر تو جگہ ٹھہر لی، مگر اتنی جگہ میں جو ہوا بھری ہے، اگر تختے کے وزن کو اس پر تقسیم کر کے دیکھو تو سیر بھر ہوا پر کوئی خشخاش کے دانے سے بھی کم بوجھ ہوا۔ لیکن تختے کی گولی بنا لو تو کاغذ کا سارا بوجھ اکٹھا ہو گیا، اور گولی کی کیا بساط، اتنی جگہ میں ہوا کتنی؟ اس سبب سے کنکوا اوپر جاتا ہے اور اسی کے برابر گولی نیچے گر پڑتی ہے۔ دانشمندوں نے زمین کی کشش پر جو بہت غور کیا تو یہ معلوم ہوا کہ فاصلے اور جسامت پر اس کا مدار ہے، یعنی چیز جتنی ٹھوس ہوگی، اسی قدر اس پر زمین کی کشش بہت ہوگی؛ اور جتنی زمین سے پاس ہوگی، اس پر کشش کا اثر زیادہ ہوگا۔ کوٹھے پر سے اگر ایک پتھر نیچے کو لڑھکا دو تو جتنا وہ زمین سے قریب ہوتا جائے گا، اس کی رفتار تیز ہوتی چلی جائے گی۔ اسی طرح ایک پیسہ اور پیسہ بھر کاغذ کی گولی باندھ کر ایک ساتھ دونوں کو اوپر سے گراؤ، تو ظاہر میں کاغذ کی گولی پیسے کی نسبت قد و قامت میں بڑی ہوگی، مگر چونکہ ٹھوس نہیں ہے، پیسہ ہمیشہ پہلے ہی گرے گا۔ دھواں بھی اسی قاعدے کے مطابق ہمیشہ اوپر کو جاتا ہے؛ اس واسطے لکڑی وغیرہ کے اجزائے لطیف جو آگ کی گرمی کے سبب سے باہر نکلتے ہیں، ان ہی کا نام دھواں ہے، اور چونکہ ہوا سے ہلکے ہوتے ہیں، اس واسطے اوپر کو چڑھتے ہیں۔"

حسن آرا: "کیا ہی خوب بات آپ نے مجھ کو بتائی! مگر آپ کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہوا کو بھی وزنی سمجھتی ہیں۔"

محمودہ: "ضرور، اور بے شک ہوا میں بھی بوجھ ہے۔"

ہوا کا داب

حسن آرا: "ہوا نگوڑی بالکل پھول ہے؛ اس میں بوجھ کہاں سے آیا؟"

محمودہ: "اس میں تو اتنا بوجھ ہے کہ تم سنو تو حیران ہو جاؤ۔ روپیہ بھر جگہ میں پانچ سیر سے کم ہوا کا بوجھ نہیں ہوتا؛ اس حساب سے تمہارے بدن پر کئی ہزار من کا بوجھ ہوگا۔"

حسن آرا: "اے ہے، نوج! خدا نہ کرے کہ اتنا بوجھ ہو؛ پھر تو دب کر بھرکس ہو جائے گا۔"

محمودہ: "یہ بات غلط نہیں ہے؛ عقلمندوں نے ہوا کو تولا ہے اور تول کر دریافت کیا ہے۔"

حسن آرا: "جو بات آپ کہتی ہیں، ایسی ہی کہتی ہیں کہ کسی کی عقل میں نہ سما سکے۔"

محمودہ: "البتہ بے علم لوگوں کی عقل میں یہ باتیں نہیں سما سکتیں، مگر یہ ان کی عقل کا قصور ہے۔"

حسن آرا: "بھلا ہوا بھی کسی کے تولے تولی جاتی ہے؟"

محمودہ: "اس کی تدبیر سنیے، کہ ایک خالی بوتل لی اور اس کو تولا۔ وہ بوتل خالی تو ہے، مگر پھر بھی اس میں ہوا ہے۔ اس تولنے سے جو وزن ٹھہرا، بہت بوجھ تو اس میں بوتل کا ہے، اور کچھ یونہی سا ہوا کا۔ پھر بوتل سے ہوا نکال کر تولا تو دیکھا کہ وزن گھٹ گیا؛ آخر اس کا سبب کیا ہے؟"

حسن آرا: "بوتل سے ہوا کیونکر نکالی جائے؟"

محمودہ: "ہوا کے نکالنے کی ایک کل ہوتی ہے جس کو پمپ کہتے ہیں؛ اس کے ذریعے سے چاہو تو چٹکی بھر . . . . میں سارے مکان کو ہوا سے خالی کر دو۔ اور یوں بوتل کی ہوا تو منہ سے بھی چوس لی جا سکتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ بوتل کے منہ سے منہ نہ ہٹنے پاوے۔"

حسن آرا: "تو بوتل کو تولیں کیسے، اور ہمیں کیونکر یقین آئے کہ بوتل میں ہوا نہیں رہی؟"

محمودہ: "یقین کرا دینا تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ اچھا، ایک بوتل کو لبالب پانی سے بھر دو؛ اب تو بوتل میں ہوا نہیں یا ابھی ہے؟"

حسن آرا: "میں تو سمجھتی ہوں کہ ہوا نہیں۔" محمودہ: "اب کیوں؟" حسن آرا: "یہ تو خبر نہیں۔"

محمودہ: "اس کا سبب میں بتاؤں کہ ہوا پانی سے ہوتی ہے ہلکی؛ جوں جوں پانی بوتل میں بھرتا گیا، ہوا نکلتی گئی۔ خیر، بوتل کو لبالب پانی سے بھر کر اوپر سے اچھی طرح بھینچ کر کے ڈاٹ لگا دو؛ پھر ایک پتیلی میں پانی بھر کر بوتل کو اس میں الٹی کھڑی کر دو، اور اندر ہی اندر ڈاٹ نکال لو۔ بوتل کے پیندے کی طرف سے پانی نیچے اتر کر کچھ جگہ خالی ہو جائے گی۔ اب اس جگہ میں یقیناً ہوا نہیں، کیونکہ ہم نے کسی طرف سے ہوا کو اندر جانے کا رستہ نہیں دیا۔ یا اتنا بکھیڑا بھی کیوں کرو؛ ربڑ کا پھکنا جس سے لڑکے کھیلا کرتے ہیں، پہلے اس کو توس موس کر تول لیا؛ اب تو اس میں ہوا نہیں۔ پھر پھونک کر ہوا بھر دی؛ جب خوب تن گیا تو سرا باندھ دیا اور پھر تولا۔ ضرور تول میں کچھ فرق ہوگا؛ اور اچھا کانٹا ہوگا تو صاف معلوم ہو جائے گا۔ جب چاہو، آزما لو۔"

حسن آرا: "مگر ہوا کا جتنا بوجھ آپ بتاتی ہیں، وہ تو بالکل خلاف قیاس ہے۔"

محمودہ: "ہوا کا بوجھ جو ہم لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا، اس کا بھی سبب ہے؛ وہ یہ کہ ہر جگہ اور ہر چیز میں ہوا ہے؛ اندر کی ہوا باہر کی ہوا کی روک کرتی ہے؛ اگر باہر ہوا نہ ہو تو بدن پھٹ پڑے۔ اور بعض دفعہ لوگ جو غباروں میں بہت اونچے چڑھ گئے ہیں، ان کو بخوبی اس کا تجربہ ہوا ہے، کیونکہ زمین کے آس پاس جو ہوا ہے وہ بہت وزنی ہے، اور جس قدر اوپر چڑھتے جاؤ، ہوا ہلکی ہوتی جاتی ہے۔ یہ بات تم کو میں ایک بہت موٹی مثال میں سمجھا دوں: اگر روئی کا بڑا انبار لگا دیا جائے تو اوپر کی روئی ضرور ہلکی ہوگی، اور نیچے کی دب کر ٹھس ہو جائے گی۔ بعینہٖ یہی حال ہوا کا ہے۔ ہم لوگ زمین پر رہتے ہیں؛ جیسی ٹھس ہوا ہمارے اوپر اور آس پاس ہے، ویسی ہی ہمارے بدن میں بھی بھری ہوئی ہے، اور باہر کی ہوا کا دباؤ اور اندر کی ہوا کا زور برابر ہے۔ جب بہت اونچے جاؤ تو اندر وہی ٹھس ہوا ہے، مگر باہر کی ہوا ہلکی ہے، جس کا دباؤ اندر کی ہوا کے زور کی نسبت بہت کم ہے؛ اسی وجہ سے بدن پھٹنے لگتا ہے۔ تاکہ تم اس بات کو بخوبی سمجھ لو، میں دو مثالیں اور بیان کرتی ہوں۔ یہ تو مانتی ہو کہ پانی وزنی چیز ہے، یا اس میں بھی کچھ کلام ہے؟" حسن آرا: "پانی کے وزنی ہونے میں کس کو کلام ہے؟ مجھ سے دھیلے والی ٹھلیا بھی نہ اٹھائی جائے۔" محمودہ: "خیر، کبھی حوض میں نہائی ہو؟"

حسن آرا: "سینکڑوں دفعہ۔ ہمارے گھر خود زنان خانے میں بڑا لمبا چوڑا حوض ہے، لوہے کا جال پڑا ہے، رنگ رنگ کی مچھلیاں پلی ہیں۔"

محمودہ: "پانی کے اندر کچھ پانی کا بوجھ بدن پر معلوم ہوتا ہے؟"

حسن آرا: "نہیں تو۔" محمودہ: "کیا سبب؟" حسن آرا: "کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔"

محمودہ: "سبب یہی کہ اوپر کا پانی داب کرتا ہے، اور نیچے کا پانی اوپر کو اچھالتا ہے، اس واسطے کہ آدمی کا بدن پانی سے ہلکا ہے؛ بس اوپر کا داب اور نیچے کا اچھال برابر سرابر، کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔ اسی پر ہوا کو قیاس کر لو۔ اور دوسری مثال یہ ہے کہ آئینہ تو بڑی نازک چیز ہے؛ استانی جی کے سنگاردان کا آئینہ دیکھا ہے؟"

حسن آرا: "وہی نا جس کے بیچوں بیچ باریک سی دراڑ پڑی ہے؟"

محمودہ: "ہاں، وہ دراڑ مجھ ہی سے پڑ گئی ہے۔ میں ایک دن سر میں کنگھی کر رہی تھی؛ بال کی لٹ جو الجھی، میں جھٹک کر لگی سلجھانے؛ کنگھی ہاتھ سے چھوٹ تڑ سے آئینے میں جا لگی؛ دیکھوں تو آئینے میں بال آ گیا۔ اور بھلا اسی آئینے پر تم کھڑی ہو جاؤ اور خبر نہ ہو۔"

حسن آرا: "عجب ہے!" محمودہ الماری کھول آئینہ نکال لائی اور برابر جگہ میں رکھ، حسن آرا سے کہا کہ "لو، اس پر بسم اللہ کر کے دونوں پاؤں سے کھڑی تو ہو جاؤ۔"

حسن آرا: "نہ بوا، کہیں ٹوٹ ٹاٹ جائے تو آئینے کا آئینہ غارت ہو، استانی جی خفا [illegible: the last line of the page is cut off in the scan]" محمودہ: "احتیاط کی بات تو یہی ہے، مگر اس وقت علم کا ایک مسئلہ حل ہوتا ہے۔ لاؤ، میں ہی سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہو جاؤں[۳]۔" یہ کہہ کر بے تکلف آئینے پر جا کھڑی ہوئی، اور آئینے پر ذرا آنچ نہ آئی۔ حسن آرا تو دیکھ کر حیران رہ گئی، اور بار بار آئینے کو ہاتھ میں اٹھا اٹھا کر غور سے دیکھا کی۔

محمودہ: "خوب دیکھ لیجیے؛ ٹوٹنا کیسا، بال تک بھی نہیں آیا۔ اور کیوں آنے لگا تھا؟ جیسا اوپر سے میرا بوجھ، ویسا ہی نیچے سے زمین کا سہارا؛ آئینے پر گزند[۴] کیا تھا؟"

حسن آرا: "اب تو مجھ کو بھی یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔"

کشش اتصال

محمودہ: "زمین پر کیا منحصر ہے، کل چیزیں ایک دوسرے کو کھینچتی ہیں۔"

حسن آرا: "زمین کا کھینچنا تو اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز پھینکو، زمین پر گرتی ہے؛ مگر یہ کیونکر دریافت ہوا کہ کل چیزیں ایک دوسرے کو کھینچتی ہیں؟"

محمودہ: "کئی باتوں سے اس کی شناخت ہوتی ہے۔ اول تو یہ کہ پانی میں انگلی ڈبو دو تو پانی کی بوند انگلی کے سرے میں لٹکتی رہتی ہے؛ اگر انگلی کی کشش نہیں ہے تو بوند گر کیوں نہیں پڑتی؟ اس کے سوائے ایک اولا تھوڑے پانی میں ڈالیے، تو دیکھیے گا کہ پانی نیچے سے اولے کے اوپر تک پیوست ہو جاتا ہے؛ اگر اولا پانی کو نہیں کھینچتا تو پانی الٹا کیوں چڑھتا ہے؟ ایک بات اور بتاؤں کہ کوٹھے پر چلیے، اور میں کچی سوت کا ایک باریک سا دھاگا لٹکاؤں اور اس کو تانے رہوں؛ چاہیے کہ سیدھا رہے، مگر دیوار کی کشش سے ضرور بیچ لچکا ہوا معلوم ہوگا۔ غرض کہ کشش کی قوت خدا تعالیٰ نے ہر چیز میں پیدا کی ہے، اور اس خاصیت پر غور کرتے کرتے دانشمندان فرنگ نے ہزاروں باتیں ایسی عجیب عجیب نکالیں کہ جن کے پڑھنے سے عقل کو تیزی اور"

حسن آرا: "بھلا اگر سب چیزیں ایک دوسرے کو کھینچ رہی ہیں تو سب مل جل کر ایک ڈھیر کیوں نہیں بن جاتیں؟"

محمودہ: "کھینچ تو رہی ہیں، مگر وہ کشش ایسی زور کی نہیں ہے جیسی مقناطیس میں ہوتی ہے۔"

مقناطیس

حسن آرا: "مقناطیس کیا؟" محمودہ: "کیا تم مقناطیس بھی نہیں جانتیں؟ مقناطیس ایک قسم کا لوہا ہوتا ہے؛ بعض لوگ اس کو غلطی سے پتھر جانتے ہیں اور چمبک پتھر کہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے اس لوہے میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ وہ دوسرے لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ایک اور عمدہ اور مفید خاصیت اس میں یہ ہے کہ اگر مقناطیسی لوہے کی سوئی بنائی جائے تو ایک سرا اس سوئی کا ہمیشہ اتر کو رہے گا، اور دوسرا دکھن کو۔"

حسن آرا: "یہ سب باتیں آپ سنی ہوئی کہتی ہیں یا دیکھی ہوئی؟"

محمودہ: "اپنی آنکھوں دیکھی اور اپنے ہاتھوں آزمائی ہوئی۔ بوا آمنہ، وہ تمہاری لوہے کی مچھلی کہاں ہے جو پانی میں تیرتی ہے اور بچے کی لینڈ دوڑتی رہتی ہے؟" آمنہ: "ہے تو سہی، میرے جزدان میں ہے؛ نکال لاؤں؟" آمنہ دوڑی دوڑی جا، وہ مچھلی اور بچہ نکال لائی، اور محمودہ نے مچھلی حسن آرا کے ہاتھ میں دی کہ "آپ اس کو بخوبی غور سے دیکھ لیجیے؛ نہ کہیں تار ہے، نہ کوئی کل لگی ہے۔" حسن آرا نے مچھلی کو اوپر تلے سے خوب دیکھا۔ پھر آمنہ نے کہا، "اب مچھلی کو الگ رکھ دو، لو اس کے بچے کو دیکھو۔"

حسن آرا: "اچھی، مچھلی کو الگ کیوں رکھ دوں؟"

آمنہ: "بوا، بچہ ماں کو دیکھے گا تو پیار کے مارے ماں سے لپٹ جائے گا، اور پھر چھڑانا چاہو گی تو رونے لگے گا[۵]۔"

محمودہ: "اچھا آمنہ، اماں کو اس کے تیرنے کی سیر تو دکھاؤ۔" آمنہ چینی کے ایک پیالے میں پانی بھر لائی اور مچھلی کو پانی میں چھوڑ دیا؛ وہ مزے میں تیرنے لگی۔ جب اس کا بچہ دکھاتی، وہ اس کی طرف دوڑتی۔ حسن آرا کی عقل دنگ تھی کہ کیا ماجرا ہے، اور بار بار پوچھتی، "اچھی، اس میں ہے کیا؟" محمودہ: "کچھ بھی نہیں؛ مچھلی لوہے کی ہے اور بچہ مقناطیس کا ہے؛ جب بچے کو پاس لائے، دوڑی آئی۔ ابھی دونوں کو ملا دو، ایک دوسرے کو چمٹ جائیں گے۔"

حسن آرا: "یہ تو بڑے اچنبھے کی چیز ہے!"

محمودہ: "اب دوسرا اچنبھا دیکھیے۔ ہاجرہ، دیکھنا بوا، وہ کھونٹی میں سامنے استانی جی کی تسبیح[۶] لٹک رہی ہے؛ اچھی، ذرا تمہارا ہاتھ لمبا ہے، اتار تو لینا۔" ہاجرہ تسبیح اتار لائی۔ امام[۷] کے ساتھ ایک چھوٹا سا کیری[۸] کا عطردان تھا؛ اسی میں قبلہ نما[۹] لگا تھا۔ محمودہ نے ڈبیا کھول حسن آرا کو دکھایا کہ "دیکھیے، لال مرغ جو آپ دیکھتی ہیں، اس کا یہ خاصہ ہے کہ پچھم کو منہ، پورب کو دم، اور داہنا بازو اتر کو، اور بایاں دکھن کو رکھتا ہے؛ جب جاتے اس کا رخ پھیر دیجیے۔" حسن آرا نے بہتیرا ڈبیا کو گھمایا، الٹا سیدھا کیا؛ اصیل مرغے کی ایک ٹانگ، جب ذرا ڈبیا سیدھی ہوئی، مرغا جھٹ پچھم کو منہ پھیر کھڑا ہو گیا۔

حسن آرا: "اے ہے، کم بخت کیسا ضدی مرغا ہے! اس کی ڈھب ماننا ہی نہیں؛ موئے کے حلق پر چھری پھیر دو! کیوں بوا محمودہ بیگم، آخر یہ سب کھلونے ہی ہیں؟"

محمودہ: "وہ مچھلی تو کھلونا ہے، مگر قبلہ نما کھلونا نہیں ہے؛ بڑے کام کی چیز ہے۔ جنگل ہو، نئی جگہ ہو، رات ہو، برسات ہو، اس کے ذریعے سے سمت معلوم ہو جاتی ہے۔ سمندر میں جب جہاز چلتے ہیں تو چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے؛ نہ سڑک، نہ راہ، نہ کوئی درخت، نہ پہاڑ؛ کچھ معلوم نہیں ہوتا کدھر جاتے ہیں، کہاں ہیں۔ تو اگلے زمانے میں ناخدا ستاروں کی شناخت سے کام نکالتے تھے؛ لیکن جب کبھی رات کو بادل ہوا، تارے نظر نہ آتے، بڑی دقت ہوتی تھی؛ جہاز سینکڑوں کوس کہیں سے کہیں چلے جاتے تھے اور آخر تباہ ہو جاتے تھے۔ جب سے مقناطیس کا خاصہ دریافت ہوا، بڑا اطمینان ہو گیا ہے۔ ہے تو ذرا سی سوئی، مگر لاکھوں روپے کا کام دیتی ہے؛ کروڑوں روپے کا مال تجارت[۱۰] جو سمندر کی راہ انگریزوں کی ولایت سے آتا جاتا ہے، اس سوئی کی بدولت ڈوبنے سے بچتا، اور لاکھوں آدمی جو سمندر پر سفر کرتے ہیں، بے خوف و خطر آتے جاتے ہیں۔ ہاں، تو زمین کا چیزوں کو کھینچنا یا چیزوں کا آپس میں ایک دوسرے کو کھینچنا ایسے زور سے نہیں ہوتا جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔

زمین گول ہے اور آفتاب کے گرد گھومتی ہے

محمودہ: "مگر کیا خدا کی قدرت ہے کہ اسی کشش کی وجہ سے زمین گیند کی طرح لڑھکیاں کھاتی ہوئی آفتاب کے گرد چکر لگا رہی ہے۔"

حسن آرا: "زمین گیند کی طرح لڑھکیاں کھاتی ہوئی اور آفتاب کے گرد چکر لگا رہی ہے؟"

محمودہ: "جی ہاں، گیند کی طرح لڑھکیاں کھاتی ہوئی اور آفتاب کے گرد چکر لگا رہی ہے۔"

حسن آرا: "تم لگیں غضب ڈھانے اور دنیا جہان اندھا بنانے!"

محمودہ: "کیوں، کیا غلط کہتی ہوں؟" حسن آرا: "اب کہوں گی تو برا مانو گی؛ ایک زبان کا ڈنڈا خدا نے حوالے کر دیا ہے؛ چاہو زمین کو گیند بناؤ، لڑھکاؤ، گھماؤ، جو چاہو سو کرو۔ اور جو کہیں سچ مچ زمین گیند بن کر لڑھکنے لگے تو ایک ہی پلٹے میں بیوی صاحب کا جھوٹ سچ سب نکل جائے۔"

محمودہ: "بھلا اگر زمین کا گول ہونا اور لڑھکنا اور آفتاب کے گرد چکر کھانا ثابت ہو جائے، تب تو مانیے گا؟"

حسن آرا: "میں تو کچھ باولی نہیں ہوئی؛ تمام زمانہ اس کا قائل ہو جائے تو بندی ماننے والی نہیں۔ مجھ سے تو آنکھوں پر ٹھیکری نہیں رکھی جاتی؛ صریحاً دیکھ رہی ہوں کہ اچھی خاصی طرح زمین چوڑی چکلی نظر آ رہی ہے، پھر ناحق کیونکر گول سمجھ لوں؟"

محمودہ: "بس اسی واسطے آپ زمین کو گول نہیں سمجھتیں نا، کہ آنکھ سے چوڑی چکلی نظر آتی ہے؟"

حسن آرا: "دنیا میں آنکھوں دیکھی بات کا سب سے بڑھ کر اعتبار ہے، مگر آپ اس کو بھی جھٹلا دیجیے۔ دو چار باتوں میں آپ نے مجھ کو قائل کر دیا تو گویا اب مجھ کو ایسی بے وقوف بنا لیا ہے کہ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتی۔"

محمودہ: "بھلا اگر آنکھ غلطی کرتی ہو؟" حسن آرا: "میری، یا سب کی؟" محمودہ: "سب کی۔"

حسن آرا: "ہاں، تو مجھ کو اس سرمے کا نسخہ نہیں معلوم کہ لگاتے ہی زمین گول نظر آنے لگے۔"

محمودہ: "وہ نسخہ میں آپ کو بتاؤں گی۔ بوا زبیدہ، ذرا وہ خوردبین[۱۱] شیشہ تو استانی جی سے میرا نام لے کر مانگ لاؤ؛ دیکھنا، ذرا سنبھال کر لانا۔"

خوردبین

زبیدہ خوردبین لے آئی۔ محمودہ: "یہ لیجیے، ذرا اس شیشے کو تو دیکھیے۔"

حسن آرا: "یہی شیشہ ہے جس میں زمین گول دکھائی دیتی ہے؟"

محمودہ: "نہیں، زمین تو گول نہیں دکھائی دیتی، مگر اور بہت سے تماشے نظر آتے ہیں۔" حسن آرا نے دیکھا تو بولی، "اے ہے، یہ سر کے بال ایسے لاؤ کی برابر موٹے! اچھی دیکھنا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بال بیچ میں نلکی[۱۲] کی طرح سے کھوکھلا کھوکھلا ہے۔"

محمودہ: "ہاں، میں نے دیکھا ہے، اندر سے بال کھوکھلا ہوتا ہے۔"

حسن آرا: "یہ اور سیر دیکھو! بدن کے رونگٹے رونگٹے میں چھید۔ مکھی کو دیکھو: ہزاروں لاکھوں آنکھیں، اور پروں میں اتنے رنگ! اوفوہ، ہوا میں اتنے بھنگے! اللہ اکبر[۱۳]! پانی میں یہ بلا کے کیڑے! شیشہ تو عجیب طلسمات[۱۴] کا شیشہ ہے۔"

محمودہ: "اسی شیشے میں تو آنکھ کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے۔"

حسن آرا: "آنکھ کی کوتاہی کیا ثابت ہوتی ہے؟ خدا جانے اس میں کیا بلا بھری ہے؛ کچھ جادو کا شیشہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک سفید شیشے کا سہ پہل ٹکڑا میرے پاس بھی ہے، اس میں اور ہی خواص ہیں: جس چیز کو دیکھو ہے تو سفید، مگر اس میں دیکھنے سے گوٹ کی طرح نیلی، ہری، لال دھاریاں نظر آتی ہیں۔"

محمودہ: "وہ تمہارا سہ پہل شیشہ بھی سچا ہے۔ ایک کتاب میں میں نے رنگوں کا تھوڑا سا بیان پڑھا ہے . . . . . . ."

رنگ

محمودہ: "اس میں لکھا ہے کہ دنیا میں بہت سے رنگ ہیں، مگر اصلی رنگ تین ہیں: زرد، سیاہ، سرخ؛ اور باقی سب رنگ ان ہی رنگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ کوئی رنگ نہ ہو تو سفید کہا جاتا ہے، لیکن عقلمندوں نے جو چھان بین کی تو دریافت ہوا کہ سب رنگ مل کر سفید رنگ ہوتا ہے۔ اور اگرچہ اس بات کی اور بہت دلیلیں ہیں، مگر سہ پہل شیشے میں آنکھوں سے دیکھ لیا۔ برسات میں جو ایک رنگین کمان آسمان میں نکلا کرتی ہے، اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ ہوا میں جو پانی کی ننھی ننھی بوندیں رہ جاتی ہیں، جب آفتاب سامنے آیا، اس کی شعاع[۱۵] بوندوں میں رنگین نظر آنے لگی۔ ایک مرتبہ میں سر دھو کر اٹھی؛ بال نم تھے؛ میں نے ہاتھ سے جھٹکے، بوندیں جو اڑیں تو عجیب عجیب رنگ دکھائی دینے لگے۔ میں اس تماشے میں ایسی محو ہوئی کہ جب تک بالوں میں ذرا نمی رہی، میں بالوں کو برابر جھٹکتی رہی۔ کہیں استانی جی کی نظر جو پڑ گئی تو بولیں، 'اے محمودہ، آج کیا ہے کہ برابر نگوڑے بالوں کو جھٹکے جاتی ہو؟ روکھے بال ہیں، نوکیں ٹوٹ جائیں گی۔' تب میں نے استانی جی سے بیان کیا کہ میں یہ نئی سیر دیکھ رہی ہوں، اس کا سبب کچھ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ استانی جی نے الماری میں سے ایک کتاب نکال مجھ کو رنگوں کا بیان دکھایا: 'اس کو پڑھ لو، اور جہاں سمجھ میں نہ آئے، پوچھ لو۔'"

حسن آرا: "کیا بتاؤں، میری تو سدھ بدھ یہاں آ کر کچھ جاتی سی رہی۔ جو بات سنتی ہوں، مجھ کو اچنبھا ہوتا ہے، اور اپنے جی ہی جی میں کہتی ہوں کہ میں نے دنیا میں آ کر کیا دیکھا اور کیا سیکھا۔ خیر، زمین کا گول ہونا تو ثابت کیجیے؛ وہ بات ہی رہی جاتی ہے۔"

محمودہ: "ہاں، خوردبین سے ہم کو اپنی نظر کا نقصان معلوم ہوتا ہے۔ دو باتیں میں اور بھی کہوں گی: ایک یہ کہ تم تو اپنے تئیں بڑی جہانیاں جہاں گشت[۱۶] جانتی ہو؛ پلٹا جی، قطب صاحب، میرٹھ، پانی پت، نہیں معلوم کہاں کہاں کہتی تھیں کہ گئی ہو۔" حسن آرا: "ہاں، خدا رکھے، جہانیاں جہاں گشت تو ہوں؛ تھوڑا ملک میں نے دیکھا ہے؟ باہر میدان میں صاف نظر آتا تھا کہ تھوڑی دور چل کر زمین آسمان کے کنارے سے مل گئی ہے؛ مجھ کو کیا، سب کو ایسا ہی دکھائی دیا کہ آسمان سرپوش کی طرح زمین پر ڈھکا ہوا ہے۔ میں تو جانتی ہوں کہ کوئی شہر میرے دیکھنے سے نہیں چھوٹا۔"

محمودہ: "کیوں جھوٹ بولتی ہو؟ بھلا جھجر اپنی سسرال گئی ہو؟" حسن آرا نے جھجر کا نام سن کر آنکھیں نیچی کر لیں اور بولی کہ "نگوڑے گاؤں، نہ جاڑے دھوپ نہ گرمی چھاؤں؛ کا کیا نام لینا تھا؛ نوج، میں وہاں کیوں جانے لگی تھی؟"

محمودہ: "بھلا تم پانی پت، میرٹھ کس سواری میں گئی تھیں؟"

حسن آرا: "پالکی گاڑی کی ڈاک تھی۔" محمودہ: "راہ میں تم نے ادھر ادھر تو ضرور دیکھا ہوگا۔"

حسن آرا: "دیکھتی تو سہی، مگر ذرا ایک پیک[۱۷] تھوکنے کو منہ نکالا تھا، دیکھتی کیا ہوں کہ سرسر[۱۸] زمین پاؤں کے تلے سے نکلی جاتی ہے؛ یہ دیکھ کر مجھ کو ایک چکر سا آنے لگا، جھٹ میں نے منہ اندر کر لیا۔"

متحرک چیزوں میں آنکھ کا غلطی کرنا

محمودہ: "یاد رکھیے کہ یہ آنکھ کی دوسری غلطی ہے: چلے تو گاڑی، اور نظر آئے کہ زمین چل رہی ہے۔ بھلا دوسری بات اور پوچھوں، کہ کبھی پھٹے ہوئے بادل میں چاند کو بھی بھاگتے ہوئے دیکھا ہے؟" حسن آرا: "سینکڑوں دفعہ؛ ہم تو ہمیشہ چاندنی رات میں چندا ماموں[۱۹] کھیلا کرتے ہیں۔"

محمودہ: "تم کیا سمجھتی ہو کہ چاند اتنی جلدی بھاگتا ہے؟" حسن آرا: "اور کیا؟"

محمودہ: "بھلا جب بادل نہیں ہوتا، تب چاند اس طرح بھاگتا ہوا کیوں نہیں نظر آتا؟ اگر حقیقت میں چاند چلتا ہوتا تو کھلی راتوں میں اس کا چلنا اور بھی صاف دکھائی دیتا۔" حسن آرا: "کچھ سبب سمجھ میں نہیں آتا۔"

محمودہ: "میں بتا دوں، یہ بھی آنکھ کی ایک غلطی ہے۔ ہوا بادل کو اڑائے لیے چلی جاتی ہے اور بادل چل رہا ہے؛ ہم کو ایسا نظر آتا ہے کہ گویا چاند بھاگ رہا ہے۔"

حواشی

[۱] سر آئزک نیوٹن ایک بڑا دانشمند انگریز ہو گزرا ہے؛ اس نے علم کے زور سے پہلے ہی پہل اس بات کو دریافت کیا۔

[۲] حسن آرا کے چھوٹے بھائی کا نام ہے۔

[۳] یہ ایک مثل ہے؛ ایسے مقام پر بولتے ہیں کہ بڑا آدمی بچوں کی سی حرکت کرے۔

[۴] زد، ضرب۔

[۵] آمنہ نے یہ ایک بات ہنسی کے طور پر کہی، مگر تھی سچی۔

[۶] کسی قسم کے منکے ایک دھاگے میں پرو کر ان پر خدا کا نام پڑھتے ہیں، اس کو تسبیح کہتے ہیں۔

[۷] تسبیح کے دانوں میں اگلا اور سرے کا لمبا دانہ امام ہوتا ہے۔

[۸] کچے آم کی شکل کا بنا ہوا۔

[۹] جدھر کو منہ کر کے [illegible: the rest of the notes on this page are cut off in the scan]

[۱۰] سوداگری۔

[۱۱] ایک قسم کا شیشہ ہوتا ہے جس میں ننھی ننھی چیزیں بڑی دکھائی دیتی ہیں۔

[۱۲] نلکی۔

[۱۳] اللہ بہت بڑا ہے؛ تعجب کی جگہ بولتے ہیں۔

[۱۴] جادو کی طرح، جس کا بھید سمجھ میں نہ آتا ہو۔

[۱۵] کرن، سنگیے۔

[۱۶] ایک بڑے مشہور ولی اللہ نے ملکوں ملکوں پھر کر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھا؛ ان کا یہی نام پڑ گیا، یعنی ساری دنیا میں گشت لگانے والا۔

[۱۷] پان کا عرق۔

[۱۸] چلتی ہوئی۔

[۱۹] سر شام چاندنی راتوں میں چھوٹے چھوٹے بچے جمع ہو کر آپس میں کھیلتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں: چندا ماموں [illegible: the rest of the note is cut off in the scan]

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。