Urdu in Translation
搜索

第 6 章,共 26 章

Conte 5 : Mahadevi et le char volant

Tale 5: Mahadevi and the Flying Chariot

پانچویں کہانی

Mazhar Ali Khan Vila

文字
字号

پانچویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! اجین نام ایک نگر ہے، اور وہاں کا راجا مہابل، اور اس کا ہری داس نام ایک دوت تھا۔ اس دوت کی بیٹی کا نام مہادیوی، وہ اتی سندر تھی۔ جب وہ بر جوگ ہوئی، تو اس کے پتا کو چنتا ہوئی کہ اس کا بر ڈھونڈ بواہ کر دیا چاہیے۔

غرض ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا! جو سب گن جانتا ہو مجھے اسے دیجو۔ تب اس نے کہا کہ جو سب علم سے واقف ہو گا، تیری شادی میں اس کے ساتھ کر دوں گا۔ پھر ایک دن اس راجا نے ہری داس کو بلا کر کہا، کہ دکشن دسا میں ہری چند نام راجا ہے، اس کے پاس تم جا کر میری طرف سے کشیم کشل پوچھو، اور ان کی کشیم کشل کے سماچار لے آؤ۔ یہ راجا کی آگیا پائے، بدا ہو، اس راجا کے پاس کتنے ایک دنوں میں جا پہنچا، اور اس سے اپنے راجا کا سب سندیسا کہا، اور ہمیشہ اس راجا کے نکٹ رہنے لگا۔

غرض ایک دن کی بات ہے کہ اس راجا نے اس سے پوچھا اے ہری داس! ابھی کل جگ کا آرنبھ ہوا کہ نہیں؟ تب ان نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج! کلی کال برتمان ہے، کیونکہ سنسار میں جھوٹھ بڑھا ہے، اور ست گھٹ گیا ہے۔ لوگ منہ پر بات میٹھی کہتے ہیں، اور پیٹ میں کپٹ رکھتے ہیں۔ دھرم جاتا رہا، پاپ بڑھا، پرتھوی پھل کم دینے لگی۔ راجا ڈانڈ لینے لگے۔ براہمن لالچی ہوئے۔ ستریوں نے لاج چھوڑ دی۔ بیٹا باپ کی آگیا نہیں مانتا۔ بھائی بھائی کا اعتبار نہیں کرتا۔ متروں سے مترائی جاتی رہی۔ خاوندوں سے وفا اٹھ گئی۔ سیوکوں نے سیوا چھوڑ دی۔ اور جتنی نالائق باتیں تھیں وے سب نظر آتی ہیں۔

جب راجا سے یہ سب کہہ چکا، تب راجا اٹھ کر محل میں گیا، اور یہ اپنے ستھان پر آن کے بیٹھا، کہ اتنے میں ایک باہمنیٹا اس کے پاس آ کہنے لگا، کہ میں تجھ سے کچھ مانگنے آیا ہوں۔ یہ سن کے ان نے کہا، مانگ کیا مانگتا ہے۔ ان نے کہا کہ اپنی بیٹی مجھ کو دے۔ ہری داس بولا کہ جس میں سب گن ہوں گے، میں اس کو دوں گا۔ یہ سن کے وہ بولا، کہ میں سب بدیا جانتا ہوں۔ پھر اس نے کہا، کچھ اپنی بدیا مجھے دکھلا تو میں جانوں کہ تجھے بدیا آتی ہے۔ تب اس باہمنیٹے نے کہا، میں نے ایک رتھ بنایا ہے، اس میں یہ سامرتھ ہے کہ جہاں جانے کا ارادہ کرو، تہاں وہ ایک چھن میں لے پہنچاوے۔ تب ہری داس نے کہا اس رتھ کو فجر کے وقت میرے پاس لے آئیو۔

غرض وہ بھور کو رتھ لے، ہری داس پاس آیا۔ پھر یہ دونوں رتھ پر سوار ہو، اجین نگر میں آن پہنچے۔ پر یہاں اتفاقاً اس کے آنے سے پہلے کسی اور براہمن کے لڑکے نے اس کے بڑے بیٹے سے آ کر کہا تھا کہ تو اپنی بہن مجھے دے، اور اس نے بھی یہی کہا تھا کہ جو سب بدیا جانتا ہوگا اس کو دوں گا۔ اور اس باہمن کے پتر نے بھی کہا تھا کہ میں سب گیان بدیا جانتا ہوں، یہ سن کے اس نے کہا تھا کہ تجھے ہی دیں گے۔ ایک اور براہمن کے پتر نے اس لڑکی کی ماں سے کہا تھا کہ تو اپنی بیٹی ہمیں دے، اس نے بھی اسے یہی جواب دیا تھا کہ جو سب بدیا جانتا ہوگا اسی کو اپنی لڑکی دوں گی۔ اس براہمن کے لڑکے نے بھی کہا تھا کہ میں سمپورن شاستر بدیا جانتا ہوں، اور شبد ویدھی تیر مارتا ہوں۔ یہ سن کے ان نے بھی کہا تھا کہ میں نے قبول کیا تجھے ہی دوں گی۔

اسی طرح سے تینوں بر آن کے اکٹھے ہوئے۔ ہری داس اپنے من میں چنتا کرنے لگا کہ ایک کنیا اور تین بر، کسے دوں کسے نہ دوں۔ اسی فکر میں تھا کہ رات کو ایک راکشس آن کے اس کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پربت کے اوپر لے گیا۔ کہا ہے کہ بہتات کسی چیز کی اچھی نہیں، اتی روپ وتی ستیا تھی راون نے ہری۔ راجا بل نے اتی دان کیا، سو دلدری ہوا۔ راون نے اتی گرب کر کے اپنے کل کی کشئے کی۔

غرض جب بھور ہوئی اور سب گھر کے لوگوں نے کنیا کو نہ دیکھا، تب انیک پرکار کی چنتا کرنے لگے، اور یہ بات وے تینوں بر بھی سن کے وہاں آئے۔ ان میں ایک گیانی تھا۔ اس سے ہری داس نے پوچھا اے گیانی! تو بتا کہ وہ کنیا کہاں گئی؟ ان نے گھڑی ایک میں بچار کر کے کہا، تمہاری لڑکی کو راکشس نے پربت میں لے جا کے رکھا ہے۔ اس میں دوسرا بولا کہ راکشس کو مار کے میں اسے لے آؤں گا۔ پھر تیسرا بولا، ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ سنتے ہی وہ جھٹ سے اس کے رتھ پر سوار ہو، وہاں پہنچ، اس دیو کو مار، ترنت اسے لے آیا اور تینوں آپس میں جھگڑنے لگے۔ تب اس کے باپ نے من میں چنتا کر کے کہا، کہ سبھوں نے احسان کیا ہے، کسے دوں کسے نہ دوں۔ اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا بکرم! ان تینوں میں سے وہ کنیا کس کی ستری ہوئی؟ راجا بولا، وہ جورو اس کی ہوئی جو راکشس کو مار کر لایا۔ بیتال نے کہا سب کا گن برابر ہے، کس طرح سے وہ اس کی جورو ہوئی؟ راجا نے کہا، ان دونوں نے احسان کیا، اس سے ان کو ثواب ہوا۔ اور یہ لڑ کر اسے مار کے لایا ہے، اس واسطے وہ اس کی جورو ہوئی۔ یہ بات سن بیتال پھر چلا گیا اور اسی درخت پر جا لٹکا، اور راجا بھی وہیں جا، بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح لے چلا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。