
الفصل 5 من 26
الحكاية الرابعة: الببغاء والمينا
Tale 4: The Parrot and the Maina
چوتھی کہانی
چوتھی کہانی
راجا وہاں جا پھر بیتال کو باندھ کر لے چلا، تب بیتال بولا کہ اے راجا! بھوگوتی نام ایک نگری ہے، وہاں کا راجا روپ سین، اور چوڑامن نام ایک طوطا اس کے پاس ہے۔ ایک دن اس طوطے سے راجا نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہے؟ تب سگا بولا کہ مہاراج! میں سب کچھ جانتا ہوں۔ راجا نے کہا جو تو جانتا ہے تو بتلا کہ میرے برابر سندر نائکا کہاں ہے؟ تب اس طوطے نے کہا مہاراج! مگدھ دیس میں مگدھیشور نام راجا ہے، اور اس کی بیٹی کا نام چندراوتی، تمہاری شادی اس کے ساتھ ہووے گی۔ وہ اتی سندر ہے اور بڑی پنڈت۔ راجا نے اس طوطے سے یہ بات سن ایک چندرکرانت نام جوتشی کو بلا کر پوچھا کہ ہمارا بیاہ کس کنیا سے ہووے گا؟ اس نے بھی اپنے نجوم کے علم سے معلوم کر کے کہا، چندراوتی نام ایک کنیا ہے، اس کے ساتھ تمہاری شادی ہووے گی۔
یہ بات راجا نے سن، ایک برہمن کو بلوا، سب کچھ سمجھا، راجا مگدھیشور کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا، "اگر ہمارے بیاہ کی بات پکی کر آؤ گے تو ہم تمہیں خوش کریں گے۔" یہ بات سن برہمن رخصت ہوا اور وہاں مگدھیشور راجا کی بیٹی کے پاس ایک مینا تھی کہ اس کا نام مدن منجری تھا۔ اسی طرح سے اس راج کنیا نے بھی ایک دن مدن منجری سے پوچھا کہ میرے لائق شوہر کہاں ہے؟ تب سارکا بولی، بھوگ وتی نگری کا راجا روپ سین ہے سو تیرا پتی ہوگا۔ غرض ان دیکھے ایک کا ایک فریفتہ ہوا تھا کہ چند روز کے عرصے میں وہ برہمن بھی وہاں جا پہنچا اور اس راجا سے اپنے راجا کا سندیسا کہا۔ اس نے بھی اس کی بات مانی، اور اپنا ایک برہمن بلوا اسے ٹیکا اور سب رسوم کی چیزیں سونپ، اسی برہمن کے ساتھ بھیجا، اور یہ کہہ دیا کہ تم ہماری طرف سے جا کر بنتی کر، راجا کو تلک دے کے جلدی چلے آؤ۔ جب تم آؤ گے، تب ہم شادی کی تیاری کریں گے۔
القصہ یہ دونوں برہمن وہاں سے چلے۔ کتنے ایک دنوں میں راجا روپ سین کے پاس آن پہنچے، اور سب احوال وہاں کا کہا۔ یہ سن راجا خوش ہو، سب تیاری کر، بیاہ کرنے کو چلا۔ بعد چند روز کے اس دیس میں پہنچ، شادی کر، دان دہیز لے، راجا سے بدا ہو، اپنے دیس کو چلا۔ راج کنیا نے بھی چلتے وقت مدن منجری کا پنجرہ ساتھ لے لیا۔ کتنے دنوں کے پیچھے اپنے دیس میں آن پہنچے، اور سکھ سے اپنے مندر میں رہنے لگی۔ ایک دن کی بات ہے کہ دونوں پنجرے طوطے مینا کے گدی کے پاس دھرے ہوئے تھے کہ راجا رانی آپس میں کہنے لگے، "اکیلے رہنے سے کسو کا دن نہیں کٹتا، اس سے بہتر یہ ہے کہ طوطے مینا کی باہم شادی کر، دونوں کو ایک پنجرے میں رکھیے تو یہ بھی سکھ سے رہیں۔" آپس میں اس طور کی باتیں کر، ایک بڑا سا پنجرہ منگوا، دونوں کو اس میں رکھا۔
چند روز کے بعد راجا رانی آپس میں بیٹھے کچھ باتیں کرتے تھے کہ طوطا مینا سے کہنے لگا کہ دنیا میں بھوگ اصل ہے، اور جن نے جگت میں پیدا ہو کے بھوگ نہیں کیا، اس کا جنم ناحق گیا، اس لیے تو مجھے بھوگ کرنے دے۔ یہ سن کے سارکا بولی، مجھے پرش کی اچھا نہیں۔ تب اس نے پوچھا کس لیے؟ مینا بولی کہ پرش پاپی ادھرمی، دغاباز، ستری ہتیا کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ سن کے طوطے نے کہا، کہ ناری بھی دغاباز جھوٹی بے وقوف، لالچی، ہتیارن ہوتی ہے۔
جب اس طرح سے دونوں جھگڑنے لگے، تو راجا نے پوچھا، تم کس واسطے آپس میں جھگڑتے ہو؟ مینا بولی مہاراج! پرش پاپی ستری گھاتک ہوتے ہیں، اس واسطے مجھے پرش کی چاہ نہیں۔ مہاراج! میں ایک بات کہتی ہوں آپ سنیے، کہ مرد ایسے ہوتے ہیں۔ ایلا پور نام ایک نگر اور وہاں مہادھن نام ایک سیٹھ تھا، کہ اس کے اولاد نہ ہوتی تھی۔ وہ اس واسطے ہمیشہ تیرتھ برت کرتا اور نت پران سنتا، براہمنوں کو بہت سا دان دیا کرتا۔
غرض کتنی مدت میں بھگوان کی مرضی سے اس ساہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا، ان نے بڑی دھوم سے اس کی شادی کی اور براہمنوں کو بھاٹوں کو بہت سا دان دیا اور بھوکے پیاسے کنگالوں کو بھی بہت کچھ دیا۔ جب کہ وہ پانچ برس کا ہوا تو اسے پڑھنے کو بیٹھایا۔ وہ یہاں سے تو پڑھنے کو جاتا اور وہاں جا کر لڑکوں میں جوا کھیلا کرتا۔ بعد چند روز کے وہ ساہ مر گیا اور یہ مختار ہو دن کو تو جوا کھیلا کرتا اور رات کو رنڈی بازی۔ اسی طرح سے کئی برس میں اپنا سارا دھن کھو، لاچار ہو، دیس سے نکل، خراب ہوتا ہوا، چندر پور نگر میں جا پہنچا۔
وہاں ہیم گپت نام ایک ساہوکار تھا کہ اس کے بہت دولت تھی، یہ اس کے پاس گیا اور اپنے باپ کا نام نشان بتایا۔ وہ سنتے ہی خوش ہوا، اس سے اٹھ کر ملا اور پوچھا تمہارا آنا کیونکر ہوا؟ تب یہ بولا کہ میں جہاز لے ایک دیپ میں سوداگری کو گیا تھا اور وہاں جا اس مال کو بیچ اور مال کی بھرتی کر، جہاز لے، اپنے دیس کو چلا۔ ناگہاں ایک ایسا طوفان آیا کہ جہاز تباہ ہو گیا اور میں ایک تختے پر بیٹھا رہ گیا۔ سو بہتا بہتا یہاں تلک آن پہنچا ہوں، لیکن شرم آتی ہے کہ مال دولت تو سب جاتی رہی، اب میں اس حالت سے اپنے شہر کے لوگوں کو کیا منہ جا کر دکھاؤں۔ غرض جب اسی طرح کی باتیں اس نے اس کے آگے کہیں، تب وہ بھی من میں بچارنے لگا کہ میرا فکر بھگوان نے گھر بیٹھے ہی مٹا دیا اور ایسا سنجوگ بھگوان ہی کی کرپا سے بن پڑتا ہے، اب دیر کرنی مناسب نہیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کنیا کے ہاتھ پیلے کر دیجیے، جو کچھ اس وقت ہو سو بہتر ہے اور کل کی کسے خبر ہے۔ ایسا کچھ اپنے جی میں منصوبہ باندھ، سٹھانی پاس آ، کہنے لگا کہ ایک سیٹھ کا لڑکا آیا ہے، جو تم کہو تو رتناوتی کا بیاہ اس سے کر دیں۔
وہ بھی سن، خوش ہو، بولی کہ ساہ جی! ایسا سنجوگ جب بھگوان بناتا ہے، تب بنتا ہے۔ کیونکہ گھر بیٹھے من کی کامنا پوری ہوئی، اس سے بہتر یہ ہے کہ دیر مت کرو اور جلد پروہت کو بلوا، لگن سدھوائے شادی کر دو۔ تب اس سیٹھ نے براہمن کو بلوا سبھ لگن مہورت ٹھہرائے کنیا، دان کر، بہت سا دہیز دیا۔ غرض جب بیاہ ہو چکا تو وہیں باہم رہنے لگے۔ پھر کتنے ایک دنوں کے پیچھے ساہ کی بیٹی سے ان نے کہا، ہمیں تمہارے دیس میں آئے ہوئے بہت دن ہوئے، اور اپنے گھر بار کی کچھ خبر نہیں، اس سے ہمارا چت بہت اداس رہتا ہے، ہم نے سب احوال اپنا تم سے کہا، اب تمہیں یہ چاہیے کہ اپنی ماں سے اس طرح سمجھا کر کہو کہ وے راضی ہو ہمیں بدا کریں تو ہم اپنے شہر کو واپس جاویں، تمہاری اچھا ہو تو تم بھی چلو۔
تب ان نے اپنی ماں سے کہا کہ بالم ہمارے اپنے دیس کو بدا ہوا چاہتے ہیں، اب تم بھی وہ کرو کہ جس میں ان کے جی کو دکھ نہ ہووے۔ سٹھانی نے اپنے سوامی کے پاس جا کر کہا، تمہارا داماد! اپنے گھر جانے کی بدا مانگے ہے۔ یہ سن کر ساہ بولا، اچھا بدا کر دیں گے، کیونکہ برائے پوت پر کچھ زور نہیں چلتا، جس میں اس کی خوشی ہو گی وہی ہم کریں گے۔
یہ کہہ اپنی بیٹی کو بلا کر پوچھا تم اپنی بات کہو، سسرال جاؤ گی یا پیہر میں رہو گی؟ اس میں لڑکی نے شرما کے جواب نہ دیا، الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آن کے کہا، ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہیں کہ جس میں ان کی خوشی ہو گی وہ ہم کریں گے، تم ہمیں مت چھوڑ جائیو۔
غرض اس سیٹھ نے اپنے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولا ایک داسی سمیت ساتھ کر دیا تب یہ وہاں سے چلا۔ جب ایک جنگل میں پہنچا، ان نے ساہ کی بیٹی سے کہا، یہاں بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا ہمیں اتار دو تو ہم اپنی کمر میں باندھ لیں۔ پھر آگے جب شہر آوے گا تو تم پہن لینا۔ ان نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اس نے زیور لے، کہاروں کو بدا کر، داسی کو مار کنویں میں ڈال دیا اور اس کو بھی زور سے کنویں میں دھکیل، سب گہنا لے، اپنے دیس کو چلا گیا۔
اتنے میں ایک مسافر اس راہ میں آیا اور رونے کی آواز سن کر کھڑا ہوا اپنے جی میں کہنے لگا کہ اس جنگل میں آدمی کے رونے کی آواز کہاں سے آئی؟ یہ بچار کر اس رونے کی آواز کی اور کو چلا کہ ایک کنواں نظر آیا۔ اس میں جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ستری روتی ہے۔ تب اس عورت کو نکال، احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اس میں گری؟ یہ سن کے اس نے کہا میں ہیم گپت سیٹھ کی بیٹی ہوں، اور اپنے بالم کے ساتھ اس کے دیس کو جاتی تھی کہ اس میں چوروں نے آ گھیرا اور میری داسی کو مار، مجھے کنویں میں ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لے گئے، نہ ان کی مجھے خبر ہے نہ میری انہیں۔
یہ سن وہ بٹوہی اسے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے دوارے پر پہنچا گیا۔ یہ اپنے ماں باپ کے پاس گئی، وے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گتی ہوئی؟ اس نے کہا ہمیں راہ میں آن کے چوروں نے لوٹا اور داسی کو مار، کنویں میں ڈال، مجھے ایک اندھے کنویں میں دھکیل دیا اور میرے شوہر کو گہنے سمیت باندھ کے لے چلے۔ جب اور دھن مانگنے لگے، تب اس نے کہا جو کچھ تھا سو تم نے لیا، اب میرے پاس کیا ہے؟ آگے یہ مجھے خبر نہیں کہ اسے مارا یا چھوڑا۔ تب اس کا باپ بولا دھیا! تو فکر مت کر تیرا سوامی جیتا ہے، بھگوان چاہے تو تھوڑے دنوں میں آن ملے، کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہیں، جیو کے گاہک نہیں۔
غرض اس ساہ نے جو جو گہنا اس کا گیا تھا اس کے بدلے اور آبھوشن دے کر بہت سا دلاسا دلبری کی، اور وہ ساہ کا لڑکا بھی اپنے گھر پہنچ سب زیور کو بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے لگا اور جوا کھیلنے لگا۔ یہاں تلک کہ سب روپے تمام ہوئے، تب روٹی کو محتاج ہوا۔ آخر جب نہایت دکھ پانے لگا، تو اپنے میں ایک دن بچار کہ سسرال جا کے یہ بہانہ کیجیے، کہ تمہارے نواسہ پیدا ہوا ہے، اس کی بدھائی دینے آیا ہوں۔ یہ بات اپنے جی میں ٹھان کر چلا، کئی دن میں وہاں جا پہنچا۔ جب اس نے چاہا کہ گھر میں پیٹھے، سامنے سے اس کی ستری نے دیکھا کہ میرا شوہر آتا ہے، ایسا نہ ہو کہ اپنے جی میں ڈر کر پھر جاوے۔ اس میں ان نے نزدیک آ کر کہا سوامی! تم اپنے جی میں کسی بات کی پروا مت کرو، میں نے اپنے باپ سے کہا ہے کہ چوروں نے آن داسی کو مارا اور میرا زیور اتروا، مجھے کنویں میں ڈال، میرے خاوند کو باندھ لے گئے، یہی بات تم بھی کہیو، کچھ چنتا نہ کرو۔ گھر تمہارا ہے اور میں داسی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ گھر میں چلی گئی، یہ اس سیٹھ کے پاس گیا۔ اس نے اٹھ کر گلے لگا، سب احوال پوچھا، جس طرح اس کی جورو سمجھا گئی تھی، اس نے اسی طرح سے کہا۔ سارے گھر میں خوشی ہوئی۔ پھر سیٹھ نے اسے اشنان کروا رسوئی جمائے بہت سا نہورا کر کے کہا کہ یہ گھر تمہارا ہے آنند سے رہو، یہ وہاں رہنے لگا۔
غرض کتنے ایک دنوں کے بعد رات کے وقت وہ ساہ کی بیٹی گہنا پہنے ہوئے اس کے پاس سونے کو آئی اور سو گئی۔ جب دو پہر رات ہوئی، ان نے دیکھا کہ یہ غافل سو گئی ہے، تب ایک چھری ایسی اس کے گلے میں ماری کہ وہ مر گئی، اور سارا گہنا اس کا اتار اپنے دیس کی راہ لی۔
اتنی بات کہہ مینا بولی مہاراج! یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس واسطے مجھے مرد سے کچھ کام نہیں۔ مہاراج دیکھو تو پرش کی ذات ایسی بٹ پار ہوتی ہے، کون ایسے سے دوستی کر، اپنے گھر میں سانپ پالے۔ مہاراج! آپ اسے بچاریے کہ رنڈی نے کیا گناہ کیا تھا۔ یہ سن کے راجا نے کہا اے طوطے! رنڈی میں عیب کیا ہے تو مجھ سے کہہ۔ تب وہ کیر بولا مہاراج! سنیے۔
کنچن پور ایک نگر ہے، وہاں ساگر دت نام ایک سیٹھ، اس کے بیٹے کا نام شری دت، اور ایک نگر کا نام جے شری پور۔ وہاں کا سوم دت نام ایک سیٹھ تھا اور اس کی بیٹی کا نام جے شری۔ وہ اس سیٹھ کے بیٹے سے بیاہی تھی، اور لڑکا کسی ملک میں سوداگری کے واسطے گیا تھا، وہ اپنے ماں باپ کے یہاں رہتی تھی۔
غرض جب اسے سوداگری میں بارہ برس گزر گئے، اور وہ یہاں جوان ہوئی تو ایک روز سکھی سے کہنے لگی، اے بہن! میرا جوبن یونہی جاتا ہے، سنسار کا سکھ میں نے اب تلک کچھ نہیں دیکھا۔ یہ بات سن کے سکھی نے اس سے کہا، تو اپنے جی میں دھیرج دھر، بھگوان چاہے تو تیرا شوہر جلد آ ملتا ہے۔ اس بات کو سن کر، غصے ہو، اٹاری پر چڑھ، جھروکے سے جھانکی تو دیکھتی کیا ہے، کہ ایک جوان چلا آتا ہے، جب نزدیک آیا تو اس کی اور اس کی ایکا ایک چار نظریں ہوئیں، دونوں کا دل مل گیا، تب ان نے اپنی سکھی سے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آ۔ یہ سن سکھی نے اسے جا کر کہا کہ سوم دت کی کنیا نے تمہیں ایکانت میں بلایا ہے، پر تم میرے گھر آئیو۔ پھر اپنے گھر کا پتہ اس کو بتا دیا۔ ان نے کہا کہ رات میں آؤں گا۔ سکھی نے یہ سیٹھ کی لڑکی سے آ کر کہا کہ ان نے رات کو آنے کا کہا ہے۔ یہ سن کے جے شری نے سکھی سے کہا کہ تو اپنے گھر میں جا، جب وہ آوے مجھے خبر کرنا، تو میں بھی گھر سے سچت ہو کے چلوں گی۔ سکھی اس کی بات سن کے اپنے گھر گئی، دوارے پر بیٹھ کے اس کی راہ تاکنے لگی، اتنے میں وہ آیا، ان نے اسے اپنی ڈیوڑھی میں بیٹھا کر کہا، تم یہاں بیٹھو میں جا کر تمہاری خبر کرتی ہوں، اور آ کر جے شری سے کہا، تمہارا پریتم آن پہنچا ہے۔
یہ سن کے ان نے کہا ذرا ٹھہر جا، گھر کے لوگ سو جاویں تو میں چلوں۔ پھر کتنی ایک دیر بعد جب آدھی رات کا عمل ہوا، اور سب سو گئے، تب یہ چپکے سے اٹھ کر اس کے ساتھ چلی، اور ایک چھن میں وہاں آن پہنچی اور بے اختیار دونوں نے اس کے گھر میں ملاقات کی۔ جب چار گھڑی رات باقی رہی، یہ اٹھ کر اپنے گھر میں آن کے چپ چپاتی سو رہی اور وہ بھی بھور کے وقت اپنے گھر گیا۔
اسی طرح سے کتنے ایک دن بیت گئے، ندان اس کا خاوند بھی بدیس سے اپنی سسرال میں آیا جب ان نے اپنے شوہر کو دیکھا، جی میں چنتا کر کے سکھی سے کہا، اس سوچ میں میرا جی ہے کیا کروں؟ کدھر جاؤں؟ میری نیند، بھوک، پیاس، سب بسر گئی، نہ ٹھنڈا رچے ہے نہ گرم، اور جو کچھ احوال اپنے چت کا تھا سو سب کہا۔
غرض جوں توں کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اس کا شوہر بیالو کر چکا، تب اس کی ساس نے ایک جدا چوبارے میں سیج بچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہاں جا کر آرام کرو، اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جا کر اپنے شوہر کی سیوا کر۔ وہ بات کو سن ناک بھوں چڑھا چپکی ہو رہی، پھر اس کی ماں نے ڈانٹ کے اس کے پاس بھیجا، بے بس ہو کے وہاں گئی اور منہ پھیر پلنگ پر لیٹ رہی۔ وہ جوں جوں اس سے نیہ کی باتیں کہتا تھا، توں توں اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا، پھر طرح بطرح کے بستر آبھوشن جو جو ہر ایک مکان سے اس کے واسطے وہ لایا تھا، سو سب دیے، اور کہا کہ اسے پہن، تب تو ان نے اور خفا ہو بھویں تان منہ پھیر لیا، اور یہ بھی ناچار ہو سو رہا، کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا۔ پر اسے اپنے یار کی یاد میں نیند نہ آئی۔
جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے اچیت ہوا، تب وہ ہولے ہولے اٹھ، اسے سوتا چھوڑ، اندھیری رات میں نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ میں ایک چور نے اسے دیکھ کر اپنے من میں چنتا کی کہ یہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہاں جاتی ہے۔ یہ بات اپنے جی میں کہہ اس کے پیچھے ہو لیا۔ غرض جوں توں وہ اپنے یار کے مکان میں پہنچی اور وہاں اسے سانپ کاٹ گیا تھا، وہ موا پڑا تھا۔ ان نے جانا کہ سوتا ہے، اس کے برہ کی آگ کی جلی ہوئی جو تھی بے اختیار اسے لپٹ گئی، اور چور دور سے تماشا دیکھنے لگا۔
وہاں ایک پیپل کے درخت پر ایک پشاچ بھی بیٹھا یہ تماشا دیکھتا تھا۔ اچانک اس کے من میں آیا کہ اس کے بدن میں پیٹھ، اس سے بھوگ کیجیے۔ یہ بچار کر اس کے قالب میں آ، بھوگ کر، آخر دانتوں سے اس کی ناک کاٹ، اسی درخت پر جا بیٹھا۔ چور نے یہ سب احوال دیکھا، اور وہ لاچار اسی رنگ لہو سے چہچہاتی ہوئی سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا۔ تب سکھی بولی، کہ تو اپنے شوہر پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہاں جا کر ڈاڑھ مار کر روئیو، جو کوئی تجھے پوچھے تو کہنا کہ ان نے میری ناک کاٹ لی ہے۔
یہ سکھی کی بات سنتے ہی ترنت جا ڈاڑھیں مار مار رونے لگی۔ اس کے رونے کی آواز سن، سارے کٹمب کے لوگ آئے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ اس کی ناک نہیں، نکٹی بیٹھی ہے۔ تب وے بولے کہ اے نلجے پاپی نردئی کوڑھ ماتی! بنا اپرادھ کیے اس کی ناک کیوں کاٹی؟ وہ بھی یہ سوانگ دیکھ، چنتا کر، اپنے جی میں کہنے لگا کہ چنچل چت کا، کالے سانپ کا، شستر دھاری کا، دشمن کا، وسواس نہ کیجیے۔ اور تریا چرتر سے ڈریئے۔ کویشور کیا برنن نہیں کر سکتا؟ اور جوگی کیا کچھ نہیں جانتا؟ متوالا کیا کچھ نہیں بکتا؟ رنڈی کیا کچھ نہیں کر سکتی؟ سچ ہے، گھوڑے کا عیب، بادل کا گرجنا، تریا کا چرتر اور پرش کا بھاگ، یہ دیوتا بھی نہیں جانتے، آدمی کا تو کیا مقدور ہے۔
اتنے میں اس کے باپ نے کوتوال کو یہ خبر دی، وہاں سے پیادے چبوترے کے آئے، اور اسے باندھ، کوتوال کے پاس لائے۔ کوتوال نے راجا کو خبر کی۔ راجا نے اس سے یہ احوال بلوا کے پوچھا تو ان نے کہا میں کچھ نہیں جانتا، اور سیٹھ کی لڑکی سے بلوا کر جو پوچھا تو ان نے کہا مہاراج! عیاں دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ پھر راجا نے اس سے کہا، تجھے کیا سزا دیں؟ یہ سن کے بولا، آپ کے نیاؤ میں جو ٹھہرے سو کیجیے۔
راجا نے کہا، اسے لے جا کے سولی دو۔ لوگ راجا کی آگیا پا کے اسے سولی دینے لے چلے۔ یہ سنجوگ دیکھو، وہ چور بھی وہاں کھڑا تماشا دیکھتا تھا، جب اسے یقین ہوا کہ یہ ناحق مارا جاتا ہے، تب ان نے دہائی دی۔ راجا نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے؟ بولا کہ مہاراج! میں چور ہوں اور یہ بے گناہ ہے، ناحق اس کا خون ہوتا ہے، آپ نے کچھ نیاؤ نہ کیا۔ تب راجا نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا تو اپنے دھرم سے سچ کہہ کہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے۔ تب چور نے بیورے وار احوال کہا، اور راجا بھی اچھی طرح سے سمجھا۔ ندان ہرکارے بھیج اس رنڈی کا یار جو موا ہوا پڑا تھا، اس کے منہ میں سے ناک منگوا کے دیکھی۔ تب جانا کہ یہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے۔ پھر چور بولا کہ مہاراج! نیکوں کا پالنا اور بدوں کا سزا دینا راجوں کا برابر دھرم چلا آتا ہے۔
اتنی بات کہہ کر چوڑامن طوطا بولا مہاراج! ایسے گنوں کی پوری ناریاں ہوتی ہیں۔ راجا نے اس رنڈی کا منہ کالا کروا، سر منڈوا، گدھے پر چڑھوا، نگری کے پھیرے دیوا، چھڑوا دیا۔ اس چور کو اور ساہوکار بچے کو بیڑے دے رخصت کیا۔ اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا! ان دونوں میں سے کسے زیادہ پاپ ہوا؟ تب راجا بیر بکرماجیت بولا، کہ ستری کو۔ پھر بیتال بولا کہ کس طرح سے؟ یہ سن کے راجا نے کہا، مرد کیسا ہی دشٹ کیوں نہ ہو پر اسے دھرم کا بچار رہتا ہے اور ستری کو دھرم ادھرم کا کچھ دھیان نہیں رہتا، اس سے ناری کو بہت پاپ ہوا۔ یہ بات سن، بیتال پھر چلا گیا، اور اسی درخت پر جا لٹکا۔ پھر راجا جا، اس کو پیڑ سے اتار، گٹھڑی باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.