
第 4 章,共 26 章
Conte 3 : Birbar, le serviteur fidèle
Tale 3: Birbar the Faithful Servant
تیسری کہانی
تیسری کہانی
بیتال بولا اے راجا! بردوان نام ایک نگر ہے۔ اس میں روپ سین نام ایک راجا۔ ایک روز کا اتفاق ہے کہ وہ راجا اپنی ڈیوڑھی کے متصل کسی مکان میں بیٹھا تھا کہ دروازے کے باہر سے کچھ اوپرے لوگوں کی آواز آنے لگی۔ راجا بولا کہ دروازے پر کون ہے اور کیا شور ہو رہا ہے؟ اس میں دروان نے جواب دیا، مہاراج! آپ نے یہ بھلی بات پوچھی، دولتمند کی ڈیوڑھی جان دھن کے لیے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہیں، اور بھانت بھانت کی باتیں کرتے ہیں، انہی لوگوں کا یہ شور ہے۔ یہ سن، راجا چپ ہو رہا۔
اتنے میں ایک مسافر دکشن دسا سے بیربر نام راجپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجا کی ڈیوڑھی پر آیا۔ دروان نے اس کا احوال معلوم کر کے راجا سے کہا، مہاراج! ایک شخص ہتھیار بند چاکری کرنے کے آسرے پر آیا ہے، سو دروازے پر کھڑا ہے، مہاراج کی آگیا پائے تو وہ روبرو آئے۔ یہ سن راجا نے فرمایا کہ لے آ، یہ اسے جا کر لے آیا۔ تب راجا نے پوچھا اے راجپوت! تیرے تئیں روز خرچ کو کیا کر دوں۔ یہ سن کے بیربر بولا، ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گزران ہو۔ راجا نے پوچھا تمہارے ساتھ لوگ کتنے ہیں؟ اس نے کہا، ایک ستری، دوجا بیٹا، تیجی بیٹی، چوتھا میں، پانچواں ہمارے ساتھ کوئی نہیں۔ اس کی یہ بات سن، راجا کی سبھا کے لوگ سب منہ پھیر پھیر کے ہنسنے لگے۔ پر راجا اپنے جی میں سوچ کرنے لگا کہ بہت دھن اس نے کس واسطے مانگا؟ پھر آپ ہی اپنے من میں سمجھا کہ بہت دھن دیا ہوا کسی روز سپھل ہووے گا۔ یہ بچار کر کے راجا نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولے سونا اس بیربر کے تئیں روز دیا کرو۔ یہ پروانگی سن، بیربر نے ہزار تولے سونا اس دن کا لے، اپنی جگہ لا، دو حصہ کر، آدھا تو برہمنوں کو بانٹا، اور آدھے کے پھر دو بانٹ کر ایک بخرہ اس میں سے اتیت بیراگی بیگھمو، سنیاسیوں کو بانٹ دیا اور باقی جو ایک حصہ رہا اس کا کھانا پکوا غریبوں کو کھلا دیا، باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا۔
اسی طرح سے ہمیشہ جورو لڑکوں سمیت اپنی گزران کرتا تھا۔ لیکن شام کے وقت روز ڈھال تلوار لے راجا کے پلنگ کی چوکی میں جا حاضر رہتا اور راجا جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی حاضر ہے، تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضر ہے، جو حکم۔
اسی بھانتی راجا جب پکارتا تو یہی جواب دیتا، کہ پھر اس میں جو کام فرماتا سو یہی بجا لاتا۔ اسی طرح دھن کے لالچ سے رات بھر سچیت رہتا، بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد میں رہتا۔ ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہے، پر چکریا چاکری کر کے اپنے تئیں آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو تابعدار ہوا، جو پربس ہوا تو اسے سکھ کہاں؟ مشہور ہے، کیسا ہی چتر عاقل پنڈت ہوئے، لیکن جس وقت اپنے خاوند کے سامنے ہوتا ہے، تو ڈر کے مارے گونگے کے برابر چپ ہی رہتا ہے۔ جب تلک تفاوت سے ہے، چین سے ہے۔ اسی واسطے پنڈت لوگ کہتے ہیں کہ سیوا دھرم کرنا جوگ دھرم سے بھی کٹھن ہے۔
القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رنڈی کے رونے کی آواز آئی۔ راجا سن کے پکارا، کوئی حاضر ہے؟ بیربر سنتے ہی بولا حاضر، جو حکم۔ پھر راجا نے یوں حکم کیا، جہاں سے عورت کے رونے کی آواز آتی ہے، وہاں جاؤ اور اس سے رونے کا سبب پوچھ کر جلد آؤ۔ راجا یہ اسے فرما، دل میں کہنے لگا کہ جس کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اسے کام کو کہیے۔ اگر وہ حکم اس کا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو تکرار کرے تو جانیے ناکارہ۔ اور اسی طرح سے بھائیوں کو دوستوں کو برے وقت میں پرکھیے، اور ستری کو ناداری میں جانیے۔
غرض یہ حکم پا کر اس کے رونے کی آواز کی دھن پر گیا، اور راجہ بھی اس کا ساہس دیکھنے کے لیے، کالے کپڑے پہن کر، پیچھے پیچھے بے معلوم چلا، کہ اس میں بیربر جا پہنچا اس مرگھٹ میں جہاں رنڈی روتی تھی۔ دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پاؤں تلک گہنے سے لدی ہوئی، ڈاڑھیں مار مار رو رہی ہے۔ کبھی ناچتی، کبھی کودتی، کبھی دوڑتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو ایک نہیں، لیکن سر پیٹ پیٹ ہائے ہائے کر، زمین پر پٹکنیاں کھاتی ہے۔ اس کا یہ احوال دیکھ بیربر نے پوچھا تو کیوں اس قدر روتی پیٹتی ہے؟ تو کون ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے؟ تب وہ بولی کہ میں راج لکشمی ہوں۔ بیربر نے کہا تو کس کارن روتی ہے؟ پھر اس نے اپنی اوستھا بیربر سے کہنی شروع کی، کہ راجہ کے گھر میں شودر کرم ہوتا ہے، تس سے اس کے گھر میں الکشمی آوے گی اور میں اس کے گھر سے جاؤں گی۔ بعد ایک مہینے کے راجہ نپٹ دکھ پا کے مر جائے گا۔ اس دکھ سے روتی ہوں۔ اور میں نے اس کے گھر میں بہت سکھ کیا ہے، اس واسطے یہ پچھتایا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹھ نہ ہو گی۔ پھر بیربر نے پوچھا اس کا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیے۔ وہ بولی پورب اور ایک جوجن پر دیوی کا مندر ہے۔ جو تو اس دیوی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹ کر دے تو راجا سو برس اسی طرح سے راج کرے، اور کسی طرح کا خلل راجا کو نہ ہوئے۔
یہ بات سنتے ہی بیربر اپنے گھر کو چلا، اور راجا بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ غرض جب وہ گھر میں آیا، تو اپنی جورو کو جگا، سب احوال شرح وار کہا۔ ان نے یہ احوال سن جگایا تو بیٹے کو، پر بیٹی بھی جاگی۔ تب اس عورت نے لڑکے سے کہا کہ بیٹا تمہارے سر دینے سے راجا کا جی بچتا ہے، اور راج بھی قائم رہتا ہے۔ یہ سن وہ بالک بولا، ماتا! ایک تو آپ کی آگیا، دوسرے سوامی کا کاج، تیسرے یہ دیہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا میں نہیں ہے۔ میرے نزدیک اب اس کام میں دیر کرنی مناسب نہیں۔
مثل ہے کہ پتر ہووے تو اپنے بس کا، کایا نروگ، بدیا سے لابھ، متر، چتر، ناری حکم بردار۔ جو یہ پانچ باتیں آدمی کو میسر ہوں تو سکھ کی دینے والی، اور دکھ کی دور کرنے والی ہیں۔ اگر چاکر بے مرضی، اور راجا بخیل، دوست کپٹی، اور جورو بے فرمان ہو، تو یہ چار باتیں آرام کی دور کرنے والی، اور دکھ کی دینے والی ہیں۔ پھر بیربر اپنی ستری سے کہنے لگا، جو تو خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو میں لے جا راجا کے لیے دیوی کے آگے بل دوں۔
وہ بولی کہ مجھے بیٹا، بیٹی، بھائی، بندھو، ماں، باپ، کسو سے کچھ کام نہیں، میری گتی تمہیں سے ہے، اور دھرم شاستر میں بھی یونہی لکھا ہے کہ ناری نہ دان سے سدھ ہوتی ہے نہ برت سے۔ لنگڑا، لولا، گونگا، بہرا، اندھا، کانا، کوڑی، کبڑا، کیسا ہی اس کا سوامی ہو، اس کو اسی کی سیوا کرنے سے دھرم ہے۔ اگر کسی طرح کا دنیا میں دھرم کرم کرے اور خاوند کا حکم نہ مانے تو، دوزخ میں پڑے۔ اس کا بیٹا بولا، پتا! جس آدمی سے خاوند کا کام ہووے، جگ میں اسی کا جینا سپھل ہے اور اس میں دونوں جہان میں بھلا ہے۔ پھر اس کی لڑکی بولی، جو ماں دیوے بش لڑکی کو، اور باپ بیچے پوت کو، اور راجا لے سر بس چھینا، تو پناہ کس کی لے۔ ایسا کچھ وے چاروں آپس میں بچار کر کے دیوی کے مندر کو گئے۔ راجا بھی چھپ کر ان کے پیچھے چلا۔
جب بیربر وہاں پہنچا تو مندر میں جا، دیوی کی پوجا کر، ہاتھ جوڑ، کہنے لگا، ہے دیوی! میرے پتر کے بل دینے سے راجا کی سو برس کی عمر ہووے۔ اتنا کہہ ایک کھانڈا ایسا مارا کہ لڑکے کا سر زمین پر گر پڑا۔ بھائی کا مرنا دیکھ اس لڑکی نے اپنے گلے میں ایک کھڑگ مارا تو رنڈ منڈ جدا ہو کر گر پڑے۔ بیٹے بیٹی کو موا دیکھ بیربر کی ستری نے تلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا۔ پھر ان تینوں کا مرنا دیکھ بیربر اپنے من میں چنتا کر کہنے لگا کہ جب لڑکے ہی مر گئے تو نوکری کس کے واسطے کروں گا اور سونا راجا سے لے کسے دوں گا؟ یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر ماری کہ تن سے سر جدا ہو گیا۔
پھر ان چاروں کا مرنا دیکھ راجا نے اپنے دل میں کہا کہ میرے واسطے اس کے کٹمب کی جان گئی، اب ایسے راج کو لعنت ہے کہ جس راج کے لیے ایک کا سرب ناس ہووے، اور ایک راج کرے، ایسا راج کرنا دھرم نہیں ہے۔ یہ بچار کر راجا نے چاہا کہ کھانڈا مار مروں۔ اتنے میں دیوی نے آن کے ہاتھ پکڑا اور کہا کے پتر! میں تیرے ساہس پر پرسن ہوئی، جو تو مجھ سے بر مانگے سو میں دوں۔ راجا نے کہا ماتا! جو تو پرسن ہوئی ہے تو ان چاروں کو جلا دے۔ دیوی نے کہا۔ یہی ہووے گا۔ اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے امرت لا، چاروں کو جلا دیا، بعد اس کے راجا نے آدھا راج اپنا بیربر کو بانٹ دیا۔
اتنی بات کہہ بیتال بولا، دھنیہ ہے اس سیوک کو کہ جن نے سوامی کے لیے اپنے جیو اور کٹم کا دریغ نہ کیا۔ اور دھنیہ ہے اس راجا کو کہ جس نے راج اور اپنے جیو کا کچھ لالچ نہ کیا۔ اے راجا! میں تم سے یہ پوچھتا ہوں، ان پانچوں میں کس کا ست سرس ہوا؟ تب راجا بکرماجیت بولا کہ راجا کا ست ادھک ہوا۔ بیتال بولا کس کارن؟ تب راجا نے جواب دیا کہ خاوند کے واسطے جی دینا چاکر کو اچت ہے، کیونکہ اس کا یہی دھرم ہے۔ لیکن راجا نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ، جان کو تنکے کے برابر نہ جانا، اس باعث سے راجا کا ست سوائے ہوا۔ اتنی بات سن، بیتال پھر اسی سمشان کے درخت میں جا لٹکا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。