
Chapter 26 of 26
Рассказ 25: Неразрешимая загадка и конец йога
Tale 25: The Insoluble Riddle and the Yogi's End
پچیسویں کہانی
پچیسویں کہانی
تب بیتال بولا اے راجا! دکشن دسا میں دھرم پور نگر ہے، وہاں کے راجا کا نام مہابل۔ ایک سمے اسی دیس کا ایک اور راجا فوج لے چڑھ آیا، اور اس کا نگر آن گھیرا۔ کتنے ایک دنوں لڑتا رہا، جب سینا اس کی مل گئی اور کچھ کٹ گئی، تب لاچار ہو، رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے، جنگل میں نکل گیا۔ جب کئی ایک کوس بن میں پہنچا تو پربھات ہوئی، اور ایک گاؤں نظر آیا۔ تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بٹھلا، آپ گاؤں کی طرف کھانے کا کچھ سامان لینے چلا تھا کہ اس میں بھیلوں نے آن گھیرا، اور کہا، ہتھیار ڈال دے۔ یہ سن کے راجا نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انہوں نے۔
اس طرح ایک پہر لڑائی رہی، اور کتنے ایک لوگ بھیلوں کے مارے گئے، اتنے میں ایک تیر راجا کے کپال میں ایسا لگا کہ بھیرا کے گر پڑا، اور ایک نے آ راجا کا سر کاٹ لیا۔ جب رانی اور راج کنیا نے راجا کو موا دیکھا تو روتی پیٹتی الٹی بن کو چلیں۔ اسی طرح سے کوس دو ایک چل ماندی ہو کے بیٹھیں، اور انیک انیک بھانتی کی چنتا کرنے لگیں، اس میں چندر سین نام راجا اور اس کا بیٹا، دونوں شکار کھیلتے ہوئے اسی جنگل میں آ نکلے، اور دونوں کے پاؤں کے چنہ دیکھ، راجا نے اپنے پتر سے کہا، کہ اس مہابن میں آدمی کے پاؤں کے نشان کہاں سے آئے؟ راج پتر نے کہا مہاراج! یہ چرن چنہ ستری کے ہیں، پرش کا پاؤں ایسا چھوٹا نہیں ہوتا۔ راجا نے کہا سچ ایسا کومل چرن پرش کا نہیں ہوتا۔ پھر راج پتر نے کہا، اسی سمے گئی ہیں۔ راجا نے کہا کہ چلو اس بن میں ڈھونڈھیں، جو ملیں تو جس کا یہ بڑا پاؤں ہے سو تجھے دوں گا اور دوسری میں لوں گا۔
اس طرح سے آپس میں بچن بند ہو، آگے جا، دیکھیں تو دونوں بیٹھی ہوئی ہیں۔ انہیں دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھوڑے پر بیٹھا گھر لے آئے۔ رانی کو راج کمار نے رکھا، اور راج کنیا کو راجا نے۔ اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا بکرم! ان دونوں کے لڑکوں کا آپس میں کیا ناتا ہوگا؟ یہ سن راجا اگیان ہو چپ رہا۔ پھر بیتال خوش ہو بولا کہ اے راجا! میں دھیرج اور ساہس دیکھ اتی پرسن ہوا، پر ایک بات میں کہتا ہوں سو تو سن، کہ جس کے شریر کے روم سمان کانٹوں کے، اور دیہ کاٹھ سی، اور نام شانت شیل، سو تیرے نگر میں آیا ہے، اور تجھے ان نے میرے لینے کو بھیجا ہے۔ آپ بیٹھا مرگھٹ میں منتر جگا رہا ہے۔ اور تجھے مارا چاہتا ہے۔ اس لیے میں جتا دیتا ہوں کہ جب وہ پوجا کر چکے گا، تب تجھ سے کہے گا کہ اے راجا! تو اشٹانگ ڈنڈوت کر۔ تب تو کہیو کہ میں سب راجاؤں کا راجا ہوں، اور سب راجا آن کے مجھے ڈنڈوت کرتے ہیں، میں آج تک کسو کو ڈنڈوت نہیں کی، اور میں نہیں جانتا۔ آپ گرو ہیں مجھے کرپا کر سکھا دیجیے تو میں کروں۔ جب وہ ڈنڈوت کرے، تب ایسا کھڑگ ماریو کہ سر جدا ہو جائے، تد تو اکھنڈ راج کرے گا۔ اور جو یہ تو نہ کرے گا، تو وہ تجھے مار اچل راج کرے گا۔
اتنی بات راجا کو جتا بیتال اس مردے کے قالب سے نکل کر چلا گیا، اور کچھ رات رہتے وہ مردہ لا، راجا نے جوگی کے آگے رکھ دیا۔ جوگی نے اس کو دیکھ کر خوش ہو راجا کی بہت سی بڑائی کی۔ پھر منتر پڑھ، اس مردے کو جگا، ہوم کر بل دیا، اور دکشن کی طرف بیٹھ جتنا کچھ وہاں سر انجام تیار کیا تھا، سو اپنے دیوتا کو چڑھا دیا۔ اور پان، پھول، دھوپ، دیپ، نیویدیا دے، پوجا کر، راجا سے کہا تو ڈنڈوت کر، تیرا بڑا تیج پرتاپ ہوگا، اور اشٹ سدھی نو ندھی سدا تیرے گھر میں رہے گی۔ یہ سن، راجا نے بیتال کی بات یاد کر، ہاتھ جوڑ، نپٹ ادھینتا سے کہا کہ مہاراج! میں پرنام کرنا نہیں جانتا۔ پر آپ گرو ہیں جو کرپا کر کے سکھائیے تو میں کروں۔ یہ سن جوگی نے جیونہی ڈنڈوت کرنے کو سر جھکایا، تیونہی راجا نے ایک کھڑگ مارا کہ سر جدا ہو گیا، اور بیتال نے آن پھولوں کا مینہ برسایا۔
ایسا کہا ہے کہ جو اپنے تئیں مارا چاہے، اس کے مارنے سے ادھرم نہیں۔ اس سمے راجا کا ساہس دیکھ، اندر سمیت سب دیوتا اپنے اپنے بمانوں پر بیٹھ وہاں جے جے کار کرنے لگے۔ اور راجا اندر نے پرسن ہو راجا بیر بکرماجیت سے کہا کہ بر مانگ۔ تب راجا ہاتھ جوڑ کر کہا، مہاراج! یہ کتھا میری سنسار میں پرسدھ ہو۔ اندر نے کہا کہ جب تک چاند، سورج، پرتھوی، آکاش، استھر ہے، تب تک یہ کتھا پرسدھ رہے گی، اور تو سرب بھومی کا راجا ہوگا۔
اتنا کہہ راجا اندر اپنے استھان کو گیا، اور راجا نے ان دونوں لوتھوں کو لے اس تیل کے کڑاہے میں ڈال دیا۔ تب یہ دونوں بیر آ حاضر ہوئے، اور کہنے لگے کہ ہمیں کیا آگیا ہے؟ راجا نے کہا جب میں یاد کروں تب تم آنا۔ اس طرح سے ان سے بچن لے، راجا اپنے گھر آ، راج کرنے لگا۔ ایسا کہا ہے کہ پنڈت ہو یا مورکھ، لڑکا ہو یا جوان، جو بدھی وان ہوگا اسی کی جے ہوگی۔
اتی بیتال پچیسی سمپورن۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.