
Chapitre 21 sur 26
Cuento 20: Tres que murieron de amor
Tale 20: Three Who Died of Love
بیسویں کہانی
بیسویں کہانی
بیتال بولا کہ اے راجا! بسال پور نام ایک نگر ہے، وہاں کے راجا کا نام بپولیشور، اس کے نگر میں ایک بنیا تھا تس کا نام ارتھ دت، اور اس کی بیٹی کا نام اننگ منجری، شادی اس کی کنول پور کے منی نام بنیے سے کر دی تھی۔ کتنے ایک دنوں کے پیچھے وہ بنیا سمدر پار بنج کو گیا۔ اور یہاں جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنے چوبارے پر کھڑی ہوئی رستے کا تماشا دیکھتی تھی، کہ اس میں ایک برہمنیٹا کملاکر نام چلا آتا تھا، ان دونوں کی چار نظریں ہوئیں، اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے۔ پھر گھڑی ایک کے پیچھے صورت سنبھال برہمنیٹا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا، اور یہاں وہ بھی اس کی جدائی کی پیر سے نپٹ بے چینی میں تھی، کہ اتنے میں سکھی نے آن کے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی سدھ نہ تھی۔ پھر اس نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئیاں سنگھائیں، کہ اس میں اسے ہوش آیا، اور بولی کہ اے کام دیو! مہادیو نے تجھے جلا کر بھسم کیا، تس پر بھی تو اپنی کھٹائی سے نہیں چوکتا، اور بن اپرادھ کے اولاؤں کو آن کے دکھ دیتا ہے۔
یہ باتیں کہہ رہی تھی کہ سانجھ ہوئی، اور چاند نظر آیا۔ تب چاندنی کی طرف دیکھ کے بولی کہ، ہے چندرماں! ہم سنتے تھے کہ تم میں امرت ہے، اور کرنوں کی راہ سے امرت برساتے ہو، سو آج میرے پر تم بھی بش برسانے لگے۔ پھر سکھی سے کہا کہ، یہاں سے مجھے اٹھا کر لے چل، کہ میں چاندنی سے جلی مرتی ہوں۔ تب وہ اسے اٹھا کر چوبارے پر لے گئی، اور کہا تجھے ایسی باتیں کہتے لاج نہیں آتی۔ تد ان نے کہا کہ اے سکھی! میں سب جانتی ہوں، پر من متھ نے مجھے مار کے نلجا کیا، اور میں دھیرج بہتیرا کرتی ہوں، پر برہ کی آگ سے جوں جوں جلتی ہوں، توں توں مجھے گھر بش سا نظر آتا ہے۔ سکھی بولی کہ تو خاطر جمع رکھ، میں تیرا سب دکھ دور کروں گی۔
اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی۔ اور ان نے اپنے جی میں بچارا کہ اس شریر کو اس کے کارن تجوں، اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کروں۔ یہ کامنا کر گلے میں پھانسی ڈال چاہے کہ کھینچے، اتنے میں سکھی آ پہنچی، اور اس نے جھٹ اس کے گلے سے رسی نکال کر کہا، جینے سے سب کچھ ہے، مرنے سے نہیں۔ وہ بولی، کہ ایسے دکھ پانے سے مرنا بھلا ہے۔ سکھی نے کہا کہ ایک گھڑی سستا، کہ میں اسے جا کر لے آتی ہوں۔
اتنا کہ وہاں گئی جہاں کملاکر تھا۔ پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی برہ سے بیاکل ہو رہا ہے، اور اس کا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس گھس اس کے بدن میں لگاتا ہے، اور کیلے کے کومل کومل پتوں سے پون کر رہا ہے۔ تس پر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے، اور متر سے کہتا ہے، کہ زہر لا دے میں اپنے پران تیاگ کر اس کشٹ سے چھوٹوں۔ اس کی یہ اوستھا دیکھ اس نے اپنے جی میں کہا، کیسا ہی ساہسی، پنڈت، چترا، وویکی دھیر منش ہو، پر کام دیو اسے ایک چھن میں بے کل کر دیتا ہے۔
اتنا اپنے من میں بچار سکھی نے اس سے کہا، اے کملاکر! تیرے تئیں اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آ کے مجھے جی دان دے۔ ان نے کہا یہ تو آن نے مجھے جی دان دیا۔ اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا، اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اس کے پاس گئی۔ یہ وہاں جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے۔ پھر ان نے بھی ایک آہ کا نعرہ مارا کہ اس کے ساتھ اس کا دم نکل گیا۔ اور جب صبح ہوئی، اس کے گھر کے لوگ ان دونوں کو مرگھٹ میں لے گئے، اور چتا چن کر انہیں رکھ کے آگ لگائی تھی، کہ اس میں اس کا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نکلا، تب لوگوں کے رونے کی آواز سن کر یہ وہاں گیا، تو دیکھتا کیا ہے کہ اس کی ستری پر پرش کے ساتھ جلتی ہے۔ یہ بھی برہ سے بیاکل ہو اسی آگ میں جل کے مر گیا۔ یہ خبر نگر کے لوگ سن کے آپس میں کہنے لگے کہ ایسا اچرج نہ آنکھوں دیکھا نہ کانوں سنا۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ، اے راجا! ان تینوں میں سے کون سا ادھک کامی ہوا؟ راجا بولا کہ اس کا خاوند ادھک کامی ہوا۔ بیتال نے کہا کس کارن؟ راجا نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئے دیکھ کرودھ تیاگ کر اس کے پریم میں مگن ہو جی دیا، وہ ادھک کامی ہوا۔ یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا۔ راجا بھی ونہیں جا، اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.